آپ کی ترجیحات کیا ہیں- قسط نمبر2

(Zubair Malik, )

 گذشتہ کالم میں شاہرات ، برقیات ، ہائیڈل اور تعلیم کے مسائل پر تفصیل سے بات کی گئی تھی ۔ کچھ بڑے مسائل پر اس کالم میں لکھ رہا ہوں ۔کرپشن کسی بھی معاشرے کو کھوکھلا کر دیتی ہے ۔ کسی بھی مہذب ملک یا معاشرے کے لیے جو برائیاں خطر ناک ہوتی ہیں کرپشن ان میں سے ایک ہے ۔ہم آزاد کشمیر کے پچھلے کچھ سالوں میں کرپشن پر نظر ڈورائے تو اوپر سے لے کر نیچے تک سب نے ہی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں ۔کیل ننگی مالی ہو ،نیلم کے روبی ہو ں یا مظفرآباد دریا کنارئے حفاظتی دیوار ہو یا میر پور ڈوپلمنٹ اتھارٹی ہو ہر جگہ سے کرپشن کی بو آتی ہے ۔ریاست کے بڑے ادارے بھی اس میں پیش پیش رہے ۔محکمہ لوکل گورنمنٹ ، اے جے کے ٹویٹا (آزاد جموں کشمیر ووکیشنل ٹرینگ سنٹر )و دیگر نیم سرکاری ادار وں اور جنرل لا ئن سروسز ڈیپارٹمنٹ میں بھی ہمشیہ کر پشن کی صدائیں سننے میں ملتی ہیں ۔محکمہ تعلیم میں کرپشن چائے پانی کی صورت میں راج کر رہی ہے ۔ایک استاد کو اپنا تبادلہ روکوانا ہو یا کروانا ہو ایک پروفیسر کو ہر چھ ماہ کے بعد اپنی آڈر رینیو کروانا ہوتو اسے چائے پانی پیش کرنا لازمی ہوتا ہے ۔حتی کہ اپنے آپ کو ریاستی باشندے ثابت کرنے کے لیے ڈومیسائل سرٹیفیکٹ لینے کے لیے سب سے بڑے ضلعی آفیسر کے دفتر میں اس لعنت کے بغیر ممکن نہیں ۔اگر کوئی سر پھیرا اس کی وجہ پوچھ لے تو متعلقہ حکام سے کرخت لہجے میں یہ جواب اکثر سننے کو ملتا ہے اس بارے میں صا حب سے بات کیجیے گا ۔اگر اس سے بھی نیچے دیکھے تو اپنی ہی زمین کے ثبوت حاصل کرنے کے لیے ترچھے لہجے کے ساتھ بسم اﷲ کروانی پڑتی ہے ۔ہماری پولیس میں بہت اچھے ایمانداراور بیرون ملک سے پڑھے ہو ئے آفیسر موجود ہیں ۔ لیکن اسی مخکمے میں کچھ کالی بھیڑیں بھی اپنے کام کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں آزاد کشمیر میں لگ بھگ چھیاسی پولیس چوکیا ں وتھانے موجود ہیں لیکن یہ چھیاسی پولیس چوکیا ں و تھانے ان کالی بھیڑوں کی وجہ سے بدنام ہیں ۔ایک غریب آدمی کو پولیس تھانے کا نام سن کر ہی ڈر لگتا ہے ۔لیکن ایک مالدار شخص کا کام بڑی آسانی سے ہو جاتا ہے ۔یہ چھوٹی کرپشن ہے لیکن ہمیشہ کے لیے بڑ رہی ہے ۔یہ اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک آپ کا سسٹم نہ چاہے ۔لیکن اب سسٹم کو تبدیل ہونا چاہیے یا کوپشن کو ختم ہونا چاہیے ۔ہر بڑے پراجیکٹ پر کرپشن کی آواز اٹھنے کے بعد قومی احتساب بیورو یہ کہہ کر اپنی زمہ داری سے مبرا ہو جاتا ہے کہ بروقت ثبوت نہیں ملے ۔ آپ کل چلے جاہیں گے رہنے والے ر ہیں گے ۔آل از ایل یا گڈ ایل کی روپورٹ دینے والوں کو باریک بینی سے دیکھنا ہو گا ۔ورنہ موجودہ حالات آپ کی طرف بھی رخ کر سکتے ہیں ۔ورنہ آپ بھی ان صاحب کے ساتھ ہوں گئے جواپنی بیروزگاری کی وجہ سے آجکل ہر دوسرے دن ریاست میں ایک نئے جنرل الیکشن کی تاریخ دیتے ہیں آپ کو ان دوستوں کی طرف دیکھنا ہو جو ایک دن پہلے ستائیس نشستوں کے ساتھ قانون ساز اسمبلی میں موجود تھے لیکن ایک دن کے بعدتین نشستیں بڑی مشکل سے ملی ۔اداروں کے سربراہان کا تقرر آپ کے لیے ایک چیلنج ہے ۔روالپنڈی سے آنے والے سربراہ ہمارے مسائل کو نہیں سمجھ سکتے ۔ ریاست میں ہی اچھی شہرت کے افراد موجود ہیں ۔اے جے کے آر ایس پی ، پی آر سی ایس ، اے جے کے ٹیوٹا ، و دیگر ترقیاتی اداروں کے سربراہان کا تقرر جلد از جلد ہونا چاہیے اس سلسلے میں آپ اپنے جماعتی /سیاسی کارکنوں پر بھی اعتبار کر سکتے ہیں ۔ریاستی وسائل سے استفادہ تو حا صل کیا جا رہا ہے لیکن ریاست کے مفادات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔منگلا ڈیم کی رئیلٹی ، نیلم جہلم کی سبسٹڈی پر کھل کر بات کرنی ہو گئی ۔ بیروزگاری ریاست کا سب سے بڑا مسلہ ہے ۔ہزاروں نوجوان ڈگریاں اٹھائے مایوس پھر رہے ہیں ۔پاکستان میں ایک نارمل انسان کی عمر کا تناسب ستر سے پچہتر سال تک ہے ۔آپ کو ریٹارمنٹ کی ساٹھ سال کی عمرپر غور کرنا ہو گا۔ اگر اس کو پچاس سے پچپن کیا جائے تو یہ مسلہ حل ہو سکتا ہے ۔ریٹارمنٹ ہونے والے کو پنشن اور نئے آنے والے کو تنخواہ مل جا ئے گئی ۔ریاست کے دو بڑے ڈو یثرن میں پچھلے تین سالو ں سے ٹورزام نے ایک اچھا منظر کھنچا تھا ۔لیکن امن ا امان کے حالات نے ان تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔خود آپ نے لائن آف کنڑول کا دورہ کیا لیکن حا لات جوں کے توں ہی ہیں ۔نیلم اور پونچھ کے اضلا ع میں بے یقینی کی کیفیت ہے ۔ہم مزید حماقتوں کی قربانیاں نہیں دے سکتے ۔ہم واپس نوئے کی دہائی میں کسی بھی صورت نہیں جانا چاہتے ۔امن ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسلہ ہے ۔بہتر ہے اسے زندگی ہی سمجھا جائے ۔ اشیاے خورد نوش کی قیمتں پر ہمارا قابو نہیں ہے ۔ پیڑول کی قیمتں ، ڈیزل کی قیمتں بھی ایسا ہی منظر پیش کرتی ہیں لیکن جن پر ہمارا اختیار ہے ہم ان کو ٹھیک تو کر سکتے ہیں ۔ہمارا دارلحکومت آج بھی باہر سے آنے والے کو ہمار ا آئینہ دکھا دے دیتا ہے ۔کرپشن کا خاتمہ ہم چاہتے ہیں ۔شاہرات کو موت کے کنوں سے تبدیل دیکھنا چاہتے ہیں ۔ہسپاتالوں میں صحت کی بہترین سہولیات ہمارے لیے ہونی چاہیے۔ہم اسلام آباد اور ایبٹ آباد کے ہسپتالوں سے اپنا پیچھا چھوڑانا چاہتے ہیں ۔ہم اپنا معیار تعلیم بہتر چاہتے ہیں ۔لوڈشیڈنگ کے ازیت ناک سائیوں سے پیچھا چھوڑانا چاہتے ہیں ۔ایک بہتر اور اچھا روزگا ر کے متلاشی کو روزگار ملنا چاہیے ۔تھانہ سسٹم کی تبدیلی چاہتے ہیں ۔تھانوں کی عمارتوں اس میں بیٹھنے والوں دونوں کی بہتری چاہتے ہیں ۔بلدیاتی انتخابات کے زریعے اختیارات اور اقتدار کی منتقلی نیچھے تک چاہتے ہیں ۔ آپ کی کابینہ کے بارہ ممبر ہو یا بائیس سب اپنا کام ایماندار ی سے کر یں ۔دس اضلاع پر مشتمل ریاست کو رول ماڈل بنانے میں ستر سال تو گزر چکے کچھ کام خدا پر ڈالنے کے نہیں ہمارے اپنے کرنے کے بھی ہیں ۔نیلم و جہلم سے ہم مستفید بھی نہیں ہو نگے لیکن تین سال سے ہم سے اس کے چارجز لیے جا رہے ہیں ۔ ہم سے ٹیکس پو را لیا جا رہا ہے خقوق پورے کیوں نہیں دیے جا رہے ۔ ان ہی ترجیحات پر کام کرنے کے لیے آپ کو مینڈیٹ ملا ہے ۔ یہی آپ کی ترجیحات ہونی چاہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zubair Malik

Read More Articles by Zubair Malik: 11 Articles with 5382 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Feb, 2017 Views: 350

Comments

آپ کی رائے