آپ کی دنیا ہی بدل جائے گی !!!

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)
ایک لفظ جو ہم نے پڑھا بھی ہوگا اور سنابھی ہوگا اور اس کے نتائج سے بھی ہم آگاہ ہیں ۔جی ہاں لفظ ’’مایوسی ‘‘یعنی ’’شکستہ دلی‘‘ ۔آج معاشرے میں بہت تیزی کے ساتھ مایوسی پھیلتی چلی جارہی ہے ۔امید اور حوصلہ مندی کی قوت زوال پزیر ہوتی چلی جارہی ہے ۔یہ کیفیت انسان کو جسمانی اور روحانی اعتبارسے بہت سے نقصانات پہنچارہی ہوتی ہے ۔سب سے پہلے توہم اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مایوسی میں انسانی کیفیت کیا ہوتی ہے ۔جو انسان مایوس ہوتا ہے وہ اداسی محسوس کرتاہے کسی کام میں دل نہیں لگتا، رونے کو دل کرتاہے مایوسی انسان کوتوڑ کر رکھ دیتی ہے ۔چہروں پرہیجانی کیفیت، ماتھے پر پڑی سلوٹیں ، انگلیوں کے ناخنوں کو دانتوں سے کاٹتاہواانسان،کہیں دفتر میں بیٹھا شخص پاؤں ہلاہلاکر اندر کی اضطرابی کیفیت کو کم کرنے کی کوشش کرتانظر آتا ہے تو کہیں راتوں کی نیند اُڑجاتی ہیں ۔لہجوں کی تلخی ،غصہ اور بات بات پر الجھنے کی کیفیت اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ یہ شخص مایوسی کا شکار ہوچکاہے ۔اس کی امیدوں کا مسکن آتشدان بن چکاہے ۔اندر کا موسم اس قدر پژمردہ ہوچکاہے کہ باہر کا موسم بھی بھلا نہیں لگتا۔

مایوسی کے شکار افراد تقریباً چیزوں میں اُمید سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔اسی طرح ان میں ماضی کی غلطیوں پر پچھتاوے کا احساس بھی بڑھ جاتا ہے۔ ہر سماجی طبقے کے اپنے حالات اور مسائل ہوتے ہیں۔ نفسیاتی مسائل ہر طبقے میں ہر عمر کے لوگوں میں ہوتے ہیں۔ جن میں بچے بھی شامل ہیں ۔پاکستان میں خصوصاً ٹین ایجرز میں ڈپریشن بتدریج بڑھتی جارہی ہے۔جوکہ قابل تشویش امر ہے ۔

آج دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے ۔پل دو پل میں ملک بہ ملک خبریں گردش کرتی چلی جاتی ہیں ۔اگر ہم ٹی وی چینلزدیکھیں یا پھر اخبار نظر سے گزرے ہمیں خودسوزی کرنے یا خود سوزی کی کوشش کی خبریں ملتی ہیں ۔ایسی خبریں انہی معاشروں میں جنم لیتی ہیں جہاں مایوسی عام ہوتی چلی جاتی ہے ۔ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ دس لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں اور ایک سے دو کروڑ افراد خود کشی کی کوشش کرتے ہیں ۔اگر اس باغی فکر کے متعلق تحقیق کریں تو ایک قدر مشترک نظر آتی ہے اور وہ مایوسی ہے ۔جو انھیں اس غلط اقدام کی جانب گامزن کرتی ہے ۔

محترم قارئین!!نہایت ہی آسان اور سہل انداز میں مایوسی کی تعریف سمجھ لیں کہ ’’اگر کوئی شخص کسی چیز کی خواہش کرے اورکسی وجہ سے وہ خواہش وہ تمنا پوری نہ ہوسکے تو اس کے نتیجے میں اس کے دل ودماغ میں جو تلخ احساس پیدا ہوتا ہے، اسے مایوسی کہتے ہیں۔اسے مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔جیسے آپ کسی ادارے میں ملازم ہیں لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود progressنہیں کررہے ۔اب جمود انسان کے اندر ایک تلخ احساس پیداکرتاہے اور پھر بتدریج انسان مایوسیوں کی تاریک وادی کا مسافر بنتا چلاجاتاہے ۔لوگوں سے وابستہ امیدوں کا پورا نہ ہونابھی انسان کو مایوسی کی طرف دھکیل دیتاہے ۔ معاشرتی زندگی پر نظر دوڑائیں تومایوسی کی سینکڑوں مثالیں گردش کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔

آپ اگر مایوسی کا شکار ہیں ۔مایوسی نے شب و روز کا سکھ و چین برباد کردیاہے ۔تو ایسے میں مطالعہ ،مشاہد ہ اور تجربہ کی روشنی میں کچھ چیزیں ہمارے سامنے آتی ہیں جو ہمیں اس بھنور سے نکال سکتی ہیں اس کیفیت کے لیے تریاق ثابت ہوسکتی ہیں ۔

قوتِ ارادی :کسی چیز ،فرد یا مسئلہ کی بنا پر کسی بھی فرد کو مایوسی ہوجائے یہ بشریت کا تقاضا ہے ۔ایسا ہوتا بھی ہے اورجب تک انسان ہے تب تک ایسی کیفیت کا بننایا ہونا کچھ عجب نہیں ۔ہم نے مایوسی کی وجوہات پر غور کرلیااب ہم اس کے حل کی جانب آتے ہیں ۔آپ کسی طور پر بھی مایوسی کا شکار ہیں تو سب سے پہلااقدام قوتِ ارادی ہے ۔مضبوط جذبہ کے ساتھ یہ عزم کرلیجئے کہ جس معاملہ میں مایوسی کا شکار ہوں ہر حال میں مجھے اس احساس سے نکلناہے ۔

لامتناہی خواہشات سے گریز :
کسی خواہش کا جنم لینااور اس میں دلچسپی لیناایک فطری امر ہے ۔لیکن اگر یہی خواہشات لامتناہی ہوجائیں انکی کوئی حد نہ ہوتو کچھ بعید نہیں کہ زیادہ بڑی خواہشات اور نامعقول تمنائیں مایوسی کی چادر وسیع کردیں ۔ہمارے آگے بڑھنے کے جذبات سرد پڑھ جائیں اور خواہشات بھی کرچی کرچی ہوجائیں ۔ایسے میں اپنی زندگی کا یہ اصول بنالیں کہ خواہش پوری ہوجائے تو بہت عمدہ اور اگر نہ پوری ہوں تو ان کے ادھورے رہنے کے عوامل پر غور کریں تاکہ آپ ملنے والے نتائج پرغورکرسکیں اور آپ مایوسی کا شکار بھی نہ ہوں ۔

توقعات اور امیدیں !!
فرد سے افراد اور افراد سے معاشرہ بنتاہے ۔چنانچہ انسان کا انسان سے واسطہ پڑتاہے ۔ کبھی ہم کسی کے ساتھ نیکی کرتے ہیں ۔کسی پر احسان کرتے ہیں ۔کسی کی مشکل گھڑی میں کام آتے ہیں ۔ایسے میں دل و دماغ پر ایک امیدوں کی لمبی فہرست بنتی چلی جاتی ہے ۔جب لوگ ہماری امیدوں پرپورانہیں اترتے تو ہم مایوسی کا شکارہوجاتے ہیں جوکہ کوئی خیر کی خبر نہیں ۔خوش رہناچاہتاہے تو پھر دوسروں سے بڑی بڑی توقعات رکھناترک کردیں ۔آپ نے اگر کسی کے ساتھ بھلاکیااس کی توقع پر پورے اترے تو اسے اﷲ عزوجل کا فضل سمجھتے ہوئے ثواب کی امید رکھئے نہ کہ انسان سے بدلے کی توقع۔

مایوسی پھیلانے والے ذرائع سے دوررہنے کی کوشش !!
انسان جس چیز کا مطالعہ کرتاہے یا کثرت کے ساتھ جو مناظر ملاحظہ کرتاہے یا جیسوں کی صحبت اختیار کرتاہے ۔ وہ چیزیں اس کے دل و دماغ پر گہرے نقوش ثبت کرتی ہیں ۔کوشش کریں سنسنی پھیلانے والے ،ناامیدی پھیلانے والے لٹریچر ،ذرائع اور ایسی صحبت سے بھی اجتناب کریں ۔آپ مضبوط اعصاب انسان ہیں لیکن جب کسی چیز کے متعلق تکرار کے ساتھ کوئی بات ہوتی ہے تو انسان اس کا اثر ضرور لیتاہے ۔ہمارے ارد گرد ایسا طبقہ موجود ہے جو ناامیدی اور مایوسی پھیلاتاہے ۔کبھی ملکی حالات کے نام پر ،کبھی معاشی پسماندگی کے نام پر کبھی نظام کو کوستے ہوئے تو کبھی مذہبی اساسوں کو کریدتے ہوئے ہمارے عزائم کو متزلزل کررہاہوتاہے ۔ہمیں ایسوں کی صحبت سے بچناہوگا۔

خود احتسابی کا ظرف پیداکیجئے!!
دنیا میں ترقی کرنے والے افراد کی فہرست نکالیں تو آپ کو ان میں ایک قدر مشترک نظر آئی گی ۔ان لوگوں نے نہ نظام کو کوسا ،نہ دوسروں پر الزام ڈالابلکہ خوداحتسابی کی ۔اپنے نظریے ،اپنی فکر ،اپنے تجربے میں رہ جانے والی کمی کو دور کرنے کی کوشش اور پھر یہ اپنے وقت کے درخشندہ ستارے بن گئے ۔اگر یہ اپنی ہر ناکامی کو دوسروں سے منسوب کرتے رہتے تو پھر یہ تنقید اور الزامات کے گرداب میں پھنسے رہتے ترقی نہ کرتے ۔ہم اگر چاہتے ہیں کہ ہم مایوسی سے نکل جائیں تو ہمیں ہر معاملے میں سازشی ذہن اور سازشی فکر کو جھٹکناہوگا۔مثبت فکر اختیار کرنا ہوگی ان شاء اﷲ عزوجل یہ طرز زندگی آپ کے اندر امید اور حوصلہ پیداکرے گا۔

مسائل پر مایوس نہ ہوں بلکہ حل تلاش کریں:!!
بیروزگاری ،معاشی مسائل وغیرہ بھی مایوسی کی فضاقائم کرتے ہیں ۔ایک طبقہ ایسا ہے کہ جو ان مسائل پر ہی کڑھتارہتاہے ۔حالانکہ عقل مند لوگ مسائل کا سامناکرتے ہیں اور ان کاحل سوچتے ہیں ۔اگر حالات کے سامنے جھکنے کی عادت بن گئی تو مایوسی اپنا دائرہ وسیع کرتی چلی جائے گی اورکچھ بعید نہیں کہ انسان زندگی سے ہی ہاتھ دھوڈالے ۔ٹی وی چینلز ،اخبارات وغیرہ میں ایسی خبریں ملتی ہیں کہ بیروز گاری سے تنگ آکر فلاں نے خود سوزی کرلی ،فقر و فاقہ کی وجہ سے فلاں نے اپنی بچی یا بچے کا قتل کرکے خود بھی خودکشی کرلی ۔یہ مسائل کاحل نہیں ۔مایوسی کو طاری کرنے سے یہ مستقل طاری ہوتی چلی جاتی ہے۔

خوش رہنا سیکھیں !!!
خوشیوں کا نہ ہی کوئی سائز اور نہ ہی ان کی پیمائش کی جاسکتی ہے ۔خوشی ایک احساس ہے ۔محسوس کرنے والا اسے محسوس کرتاہے ۔اگر ہم یہ سوچیں کہ جو ہماری تمام خواہشات پوری ہوں تو ایساممکن نہیں اور نہ ہی سب کچھ ہمارے تحت قدرت ہے ۔چنانچہ عقلمند اور سمجھدار لوگ جو میسر ہوتا ہے اسی پر خوش ہوتے ہیں اور زندگی کی محرومیوں کے زخموں پر صبر و شکر کا مرحم رکھتاہے ۔اپنی زندگی میں آنے والی ہر اچھی اور خوش کردینے والی بات پر خوش مسکرائیں تحدیثِ نعمت کے طورپر دوسروں سے ذکر بھی کرسکتے ہیں اس سے آپ کی شخصیت میں موجود محرومی و مایوسی ختم ہوتی چلی جائے گی ۔یادرکھیں ایسے لوگوں کی رفاقت اختیار کریں جو ذندہ دل ،حوصلہ مند اور خوش مزاج ہوں ۔

اللّٰہ عزوجل کی رضا پر راضی رہنا سیکھو!!
کسی بھی وقت کسی بھی شخص کو کوئی بھی پریشانی پیش آسکتی ہے ۔لیکن ان پریشانیوں سے حوصلے پست کرکے خودسوزی ،خودکشی مسئلے کا حل نہیں ۔بلکہ یہ سراسر حماقت ہے ۔اس رویہ اس مزاج کی اسلام بارہا تردید کرتاہے ۔بلکہ ایسوں کے لیے سخت وعیدیں ہیں ۔اسلام مکمل دستورِ حیات ہے ۔ہر ہر مقام پر مشفق سائبان کی طرح رہنمائی فرماتاہے ۔ایک مسلمان محرومیوں اور پریشانیوں میں بھی شکر و صبر کرتاہے۔ایک چھوٹی سی مثال سے سمجھیں کہ عقلمند شخص آدھے گلاس میں پانی دیکھ کر شکر کرتا ہے کہ آدھا گلاس پانی تو ہے، اس غم میں نہیں گھلتا کہ باقی آدھا خالی کیوں ہے؟ بات سوچ اور فکر کی ہے ایک معاملہ کو دو انداز میں دیکھاجاسکتاہے اور ان کے دیکھنے کے اعتبار سے نتائج بھی مختلف ہوں گے ۔بس ایک مدنی پھول دل کے گلدستے میں سجالیں کہ اﷲ عزوجل کی رضاپر راضی ہونااپنی عادت بنالیں ۔ان شاء اﷲ عزوجل !کبھی مایوسی آپ کا رخ نہیں کرے گی۔

محترم قارئین :آپ کی خیرخواہی ہماری اوّلین ترجیح ہے ۔زندگی کے کسی بھی مسئلہ میں نفسیاتی حل چاہتے ہیں ۔یا پھر مستقبل کی فکر میں گھلتے چلے جارہے ہیں یا پھرکچھ اور ہم آپ کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں ۔آپ مجھ سے اس میل ایڈریس ([email protected])پررابطہ کرسکتے ہیں۔میری پوری کوشش ہوگی کہ آپ کو وقت مناسب پر جواب دیا جائے ۔یاد رہے ۔میل میں اپنا موبائل نمبر ،نام ،علاقہ ضرور درج کیجئے گا۔
میرا رب آپ کو سلامت رکھے ۔میرے رب نے چاہا تو آپ کی دنیا ہی بدل جائے گی ۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1109 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 217 Articles with 207258 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

yes this is Reall True.
By: Ali, Lahore on May, 02 2017
Reply Reply
0 Like
I am agree with u
By: Alina, Islamabad on Apr, 03 2017
Reply Reply
1 Like
Language: