علاقائی ترقی کے لئے رابطوں کا فروغ

(Raja Tahir Mehmood, Rawat)

دنیا میں بہت سے ممالک نے اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کی خاطر کئی طرح کی تنظیمیں بنائی ہوئی ہیں جو ان ممالک کے لئے بہت ہی اہم کردار ادا کرتی ہیں مسلم دنیا نے بھی اپنے دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ ملکر کئی تنظیمیں تشکیل دی جو اپنے اپنے پلیٹ فارم سے کام کر رہی ہیں گزشہ دنوں اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم کا اجلاس ہوا اقتصادی تعاون تنظیم کی بنیاد 1964ء میں رکھی گئی تھی اس وقت اس کا نام آر سی ڈی تھا پاکستان' ترکی اور ایران اس کے بانی ارکان تھے اس کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان رابطوں کا فروغ اور اقتصادی تعاون تھا ستمبر1964ء میں اس کا پہلا اجلاس ترکی کے شہر ازیر میں منعقد ہوا اگرچہ 1977ء میں رکن ممالک کے درمیان ازیر میں معاہدے کے نام سے ایک معاہدہ ہوا تاہم بعدازاں ایران میں بادشاہت کے خاتمے اور اسلامی انقلاب اور پاکستان میں مارشل لاء حکومت کے باعث تنظیم کی کارروائیاں معطل رہیں بعدازاں 1985ء میں اسے ای سی او کے نام سے فعال کیا گیا1992ء میں اس میں مزید سات ممالک شامل تھے جن میں افغانستان' ازبکستان' تاجکستان' آذربائیجان' ترکمانستان' کرغزستان اور قازقستان شامل ہیں اس طرح اس کے رکن ممالک کی تعداد دس ہوگئی۔اقتصادی تعاون تنظیم کا 13واں سربراہی اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہو ا جس میں تنظیم کے ممبر ممالک کے پانچ صدور تین وزرائے اعظم اور ایک نائب وزیراعظم نے شرکت کی جبکہ افغانستان کی نمائندگی افغانستان کے سفیر نے کی یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ افغانستان کے کسی بڑے کی عدم شرکت سے تنظیم کو کوئی خاص نہیں پڑا البتہ اس سے افغانستان نے اپنی عوام کو ترقی کی جانب گامزن کرنے کا ایک بڑا موقع گنوا دیاتمام دس رکن ملک اور میزبان پاکستان سربراہ نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ چین اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ سربراہی اجلاس کا موضوع تھا علاقائی ترقی کے لئے رابطوں کا فروغ اسلام آباد اجلاس میں 16اکتوبر2012ء کو آذربائیجان کے دارلحکومت باکو میں منعقدہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کی گئی آغاز میں آذر بائیجان اجلاس کی صدارت کی اس کے بعد تنظیم کے چیئرمین کی حیثیت سے وزیراعظم نواز شریف کرسی صدارت پر تشریف فرما ہوئے اسلام آباد سربراہی اجلاس کا فوکس تمام ممبر ممالک کے درمیان رابطوں کو بڑھانا تھا اجلاس میں چار شعبوں توانائی انفرسٹرکچرٹرانسپورٹ اور تجارت کے شعبوں میں تعاون پر غور ہوا یہ اجلاس خطے کے تمام لوگوں کے لئے خوشحالی کا پیغام ہے پاکستان اس حوالے سے مطمئن ہے کہ اسے رکن ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے اور سربراہی اجلاس کا میزبان بھی ہے۔اقتصادی تعاون تنظیم کا 13واں سربراہی اجلاس ان حالات میں منعقد ہو ا جب پاکستان میں سی پیک کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے ان میں بھی چونکہ توانائی' انفراسٹرکچر اور مواصلات کے منصوبے شامل ہیں اس لئے دوسرے لفظوں میں پاکستان اقتصادی تنظیم کے مقاصد کے حصول کے لئے تیزی سے کوششیں کر رہا ہے سی پیک سے صرف پاکستان اور چین ہی نہیں خطے کے تمام ممالک استفادہ کریں گے اس اعتبار سے یہ خطے کی اجتماعی خوشحالی کا منصوبہ ہے پاکستان کی طرف سے علاقائی روابط کے فروغ میں پاک چین معاشی راہداری کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے رکن ملکوں کو اس منصوبہ میں شرکت کی دعوت دی گئی جس کا مثبت جواب دیا گیا اورتنظیم کے متعدد ممالک سی پیک میں شمولیت کی خواہشمند ہیں ۔یہ درست ہے کہ تنظیم کے ممبرممالک کے درمیان رابطوں کے فروغ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے لئے کوششیں جاری ہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ ایک دوسرے ملک میں تاجروں اور صنعت کاروں کی آمدورفت کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کی آمدورفت کو بھی سہل بنایا جائے اور ایکو کے ممبر ممالک میں ایک دوسرے کے شہریوں کو ائیرپورٹ پر بھی ویزے کی سہولت فراہم کی جائے پارلیمانی وفود کے دورے بھی تواتر کے ساتھ ہونے چاہئیں عوامی پارلیمانی تجارتی و معاشی وفود کے تبادلے جس تیزی کے ساتھ ہوں گے اسی تیزی کے ساتھ ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو بھی فروغ حاصل ہوگا سی پیک نے اقتصادی تعاون تنظیم کے ممبر ملکوں کو تنظیم کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے شاندار مواقع فراہم کئے ہیں پاکستان نے اقتصادی تعاون کی تنظیم کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے تاکہ خطے کو امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنایا جاسکے۔رکن ممالک کا آپس میں اتفاق اقتصادی چیلنجوں سے اجتماعی طور پر نمٹنے کے لیے رکن ملکوں کے عزم اور اتفاق رائے کا عکاس ہے تنظیم کی توجہ خطے میں رابطوں کو بڑھانا ہے تاکہ اس خطے کے لوگوں کو خوشحالی دے سکیں یہ خطہ معمولی نہیں یہ خطہ وسیع و عریض ہے گوگہ یہ خطہ زرخیز ہے اور دنیا کی کی 16 فیصد آبادی یہاں رہتی ہے لیکن بدقسمتی اور غیر موثر انفرسٹرکچرکی وجہ سے ہم صرف دو فیصد تجارت کرتے ہیں جبکہ ای سی او کے ملکوں کے درمیان ہونے والی تجارت ہماری باقی دنیا کے ساتھ ہونے والی تجارت کا بہت چھوٹا حصہ ہے ۔دیکھا جائے تو رابطے کے ذریعے باہمی تعاون میں چین پاکستان اقتصادی راہداری سے بہتر کوئی اور منصوبہ نہیں ہو سکتا اور پاکستان جلد مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کی منڈیوں تک آسان اور سستی رسائی فراہم کر سکتا ہے اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کو خطے میں مواصلاتی روابط اور توانائی کے نیٹ ورک کے فروغ کے لیے بنیادی ڈھانچے کے مشترکہ منصوبوں پر عملدرآمد پر زیادہ توجہ دینی چاہیے اور اس سلسلے میں ای سی او خطے کا معاشی مستقبل سنوارنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے اور اس مقصد کے لیے ای سی او کے پلیٹ فارم کو موثر بنانے کے ساتھ ساتھ دیگر ملکوں کو اس کا رکن بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ ممالک میں باہمی روابط اورتعاون کو ممکن بنایا جا سکے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 129803 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
04 Mar, 2017 Views: 253

Comments

آپ کی رائے