روشن چہرہ

(Fatima Khan, Lahore)

دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ اُسے ورثے میں ملا تھا.اسی لئے اپنے بچپن سے ہی اُس نے اپنے اردگرد پھیلی برائیوں کے خلاف آواز اُٹھانا شروع کر دی تھی. اُس کا تعلق ملالہ یوسفزئی کے دیس سوات سے ہے. اور وہ بھی اُس کی طرح بین الاقوامی سطح پر اپنے علاقے کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھی. وہ ابھی چھٹی جماعت میں تھی جب پہلی بار اُسے اپنی ایک سہیلی کی شادی کی تقریب میں جانے کا موقع ملا. اُس کی سہیلی بھی اسی کی طرح بہت کم عمر اور نازک سی تھی. اپنے سہیلی کے شوہر کے روپ میں اُس سے تین گنا بڑی عمر کے آدمی کو دیکھ کر اُسے بہت حیرت ہوئی.چند ماہ بعد جب وہ دوبارہ اپنی سہیلی سے ملی تو اُس پر انکشاف ہوا کہ اُس کے سامنے اُس کی سہیلی نہیں بلکہ کوئی مظلوم عورت کھڑی ہے جس کا بچپن اُس کے ظالم شوہر نے اُس سے چھین لیا تھا. اُس روز پہلی بار اُس نے خود سے عہد کیا کہ وہ اب کسی لڑکی کے ساتھ یہ ظلم نہیں ہونے دے گی. کچھ ہی روز بعد اُس کے اپنے گھر میں اُس کی بہن کی شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں. اس بار بھی صورتحال کم و بیش ویسی ہی تھی مگر اس بار اُس نے خاموش نہیں رہنا تھا سو وہ بول پڑی اور بہت موثر دلائل کے ساتھ اپنا موقف اپنے گھر والوں کے سامنے رکھا. اُس کی جرات و بہادری نے سبھی کو حیران کر دیا. اُس کے والد کوئی معمولی آدمی نہیں تھے وہ سوات کے ایک سماجی کارکن تھے مگر اپنے علاقے کے رسوم و رواج کو بدلنے کی کوشش انہوں نے بھی کبھی نہیں کی تھی. خیر اُس کے احتجاج پر اُس کی بہن کی شادی کو ملتوی کر دیا گیا. یہ اس کی پہلی کامیابی تھی جس سے اُسے حوصلہ ملا. زندگی پھر سے معمول پر آ گئی تھی کہ ایک روز اُسے خبر ملی کہ گھر میں اُس کی شادی کے متعلق گفتگو شروع ہو چکی پے..خبر دینےوالی کوئی اور نہیں اُس کی اپنی دادی تھی. دادی کے بقول وہ بارہ برس کی ہو چکی ہے. اور شادی کے لئے یہی عمر مناسب ہے. اُس کے سامنے دو ہی راستے تھے یا تو وہ خاموش رہتی یا پھر آواز اُٹھاتی. اُس نے اپنا انکار کا حق استعمال کرتے ہوئے اس ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی جس کے نتیجے میں اُسے جسمانی تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر وہ اپنے موقف پر ڈٹی رہی. ایسے موقع پر اُس کے چچا نے اُس کا ساتھ دیا اور دیگر گھر والوں کو قائل کیا کہ اپنی ہیرے جیسی بیٹی کی قدر کریں اور جلدی شادی کر کے اسے آگے پڑھنے سے مت روکیں. پےدرپے ہونے والے ان واقعات کے بعد اُس نے اس ظلم کے خلاف عملی طور پر کچھ کرنے کا فیصلہ کیا. اُس نے اپنے سکول میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ مل کر گرلز یونائیٹڈ فار ہیومن رائیٹس کے نام سے ایک گروپ بنایا جس کے بنانے کا مقصد یہی تھا کہ سوات میں موجود بچیوں کو جبری شادی جیسے ظلم سے نجات دلائی جاے. اُس گروپ نے باقاعدہ طور پر ایک مہم کا آغاز, کیا. یہ لوگ لوگوں کے گھروں میں جا کر انہیں اس بات کے لئے قائل کرتے تھے کہ اُن کی بیٹیاں بہت قیمتی ہیں خدارا جبری شادیوں سے اُن کا بچپن نہ چھینیں بلکہ انہیں پڑھائیں تاکہ وہ معاشرے کا ایک کارآمد فرد بن سکیں. شروع شروع میں اُسے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. لوگ اُس کے آنے پر گھروں کے دروازے بند کر دیتے تھے. اُس کے گروپ کو دھمکیاں بھی بہت ملیں مگر اُس نے ہمت نہیں ہاری. اس کام. یں اُس کے والد اور چچا بھی اُس کے ساتھ تھے. آہستہ آہستہ لوگ اُس, کی بات سننے لگے. نہ صرف لوگ اُس کی بات سنتے تھے بلکہ اب عمل بھی کرنے لگے تھے. ایک روز وہ اسی طرح ایک گھر میں گئی جہاں ایک بچی کی شادی ایک بڑی عمر کے آدمی سے کی جا رہی تھی. جب اُس نے بچی کے والد سے بات کہ تو پتا چلا کہ بچی کا باپ خود اس شادی کے لئے راضی نہیں ہے مگر اُپنی غربت کے باعث وہ بچی کے تعلیمی اخراجات پورے نہیں کر سکتا اس لئے بچی کی شادی کر رہا ہے. اُس لڑکی نے اُس شخص کی مدد کر کے اُس بچی کو اس ظلم سے نجات دلائی. اب اُس نے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے بھی چندہ اکھٹا کرنا, شروع کر دیا.اور اس, میں بھی اسے خاطرخواہ کامیابی حاصل ہوئی. رفتہ رفتہ اُس کی شہرت سوات سے باہر بھی پھیل گئی. مختلف احبارات اور سوشل میڈیا پر بھی اُس کی اس مہم کے چرچےہونے لگے. ملکی و غیرملکی اخباری نمائندے بھی اُس کے گھر انٹرویو کے لئے آنے لگے تھے. اُس کے خاندان کے لئے سب سے قابل فخر لمحہ وہ تھا جب امریکہ میں محمد علی ہیومنیٹس ایوارڈ کے لئے اُس کا انتخاب کیا گیا. ایوارڈ وصول کرنے کے بعد اُس کی خوشی دیدنی تھی. پندرہ سالہ اس لڑکی کا, نام حدیقہ بشیر ہے. ملالہ کے بعد یہ سوات کا وہ دوسرا روشن چہرہ ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام بلند کیا ہے. حدیقہ ابھی محض پندرہ سال کی ہے مگر اس کی کامن ویلتھ ایوارڈ کے لئے بھی نامزدگی ہو چکی ہے. اس چھوٹی سی لڑکی نے اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوے اپنے علاقے کی بچیوں کے لئے جو کچھ کیا ہے وہ ہم سب کے لئے قابلِ فخر ہے. حدیقہ کے عزائم بہت بلند ہیں وہ ابھی اور بھی بہت کچھ کرنا چاہتی ہے. شہرت اور ستائش کی تمنا اُسے کبھی بھی نہیں رہی. وہ اپنے کام کو صرف ایک علاقے تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ اس کا دائرہ پورے ملک تک پھیلانا چاہتی ہے. وہ بلاشبہ ایک روشن چہرہ ہے. حدیقہ نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان میں بہت سے اچھے لوگ بھی ہیں جو لوگوں کے اندر شعور بیدار کرتے ہیں. حدیقہ ہمیں تم پر فخر ہے. تمہاری ہمت کو ہم سب سلام پیش کرتے ہیں.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fatima Khan

Read More Articles by Fatima Khan: 10 Articles with 4798 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Mar, 2017 Views: 427

Comments

آپ کی رائے