آپریشن ردّالفسادکیوں ضروری؟ {پہلی قسط}

(Sami Ullah Malik, )

سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے فوج کی کمان سنبھالتے ہی ملک کودہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے پوری شدت سے ضربِ عضب سے ملک کے اندردہشتگردوں کی تقریباً تمام کمین گاہوں کاخاتمہ کرنے کابیڑہ اٹھایاجس کی گونج نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بیرونِ ملک بھی بڑی واضح سنائی دی گئی۔برطانوی اخبارڈیلی میل کامشہورصحافی ''پیٹر اوبورن'' علاقے کا ذاتی دورۂ کرنے کے بعدکہنے پرمجبورہو گیاکہ''دنیا میں سب سے زیادہ خطرناک علاقہ شمالی وزیرستان اب مکمل طورپردہشتگردوں سے پاک ہوچکاہے اوریہ کسی معجزے سے کم نہیں'' ۔اس آپریشن نے اندرونِ ملک دہشتگردوں کی جڑیں کاٹ کررکھ دیں جو افغان سرحد کے قرب وجوارمیں اپنی کمین گاہوں سے مملکت خداداد پاکستان کے امن وامان کوچاٹ رہے تھے،اب وہ پہاڑوں کی دھول چاٹ رہے ہیں اورپناہ گاہوں کی تلاش میں مارے مارے پھررہے ہیں اوراپنے وجودکی بقاء کی آخری جنگ بھی ہارنے کے مرحلے میں ہیں۔ان کی حالیہ دہشتگردی کی کاروائیاں اس بجھتے چراغ کی طرح ہیں جوبجھنے سے پہلے بھڑکتاہے اور بالآخر راکھ بن کرجھڑجاتا ہے۔یقیناً دہشتگردی کاشجرموسم خزاں کی لپیٹ میں ہے اوراب ضرورت اس بات کی تھی کہ اس کی جڑوں کو سیراب کرنے والے جوہڑوں پر پلنے والے زہریلے کانٹوں دارتمام اشجار، جڑی بوٹیوں کومکمل طورپرتلف کر دیاجائے۔ یہی وجہ ہے کہ ارضِ وطن پرپھیلے ہوئے اس فساد کواپنے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ''دارلفساد''آپریشن شروع کردیاگیاہے جویقینا ضربِ عضب کی تکمیل کیلئے انتہائی اہم ہے۔
آپریشن دارلفسادکافیصلہ سانحہ لاہور،حیات آبادپشاور،چارسدہ اورسیہون شریف کے فوری بعداصولی طورپرکرتے ہوئے سیکورٹی اداروں کوضروری تیاریوں کیلئے کہہ دیاگیاتھا جوتیزی سے اپنی منزل کی طرف بڑھ رہاہے۔اس کی کامیابی کاآغازدراصل پاکستان سپرلیگ کے فائنل کے انعقادلاہورمیں کرانے کے فیصلے کے اعلان سے سامنے آگیاتھاورنہ ڈی ایچ اے لاہورمیں ہونے والے مبینہ دہماکے نے پی ایس ایل فائنل کے لاہورمیں ہونے یانہ ہونے پرسوال اٹھادیئے تھے لیکن آپریشن دارلفسادشروع ہونے سے اب تک ملک میں بلامبالغہ سیکڑوں مقامات پر کامیاب کاروائیوں میں سیکڑوں مبینہ مشکوک عناصریا مبینہ سہولت کار گرفتار اوربیسیوں خطرناک دہشتگردمقابلے میں مارے جاچکے ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ پنجاب میں بھی اس آپریشن کے ساتھ ہی رینجرزکی باقاعدہ خدمات حاصل کی گئیں ہیں۔رینجرز کو پنجاب میں کرداردینے یانہ دینے پراب تک لمبی بحثیں ہوتی رہی ہیں لیکن اب یہ معاملہ تنازعے کے دائرے سے نکل کر اتفاق رائے میں بدل کر میدان عمل میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہاہے۔یہ اتفاق پہلے ہوجاتاتو دہشت گردی کے کچھ واقعات شائدرونمانہ ہو پاتے لیکن دیرآیردرست آیدکے مصداق آپریشن دارلفسادکے آغازکے ساتھ ہی سیکورٹی اداروں اورحکومت کااس اعتماد کوپالیناکہ لاہورمیں پی ایس ایل کے فائنل کے حق میں فیصلہ آناغیرمعمولی بات ہے۔

سیکورٹی فورسزکی طرف سے دہشتگردی کے خلاف یہ پہلاآپریشن نہیں ہے بلکہ نائن الیون کے بعدتقریباًہرآرمی چیف نے اپنے اپنے اندازمیں اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے اقدامات کیے تاہم ہرنیاآپریشن پہلے والے آپریشن اوردہشتگردی کے خلاف کئے گئے اقدامات کا اگلا مرحلہ سمجھاجاتاہے کہ ماضی کی پیش رفت اورکامیابیوں کوکیسے آگے بڑھایاجائے،نیزپہلے رہ جانے والی کمی اور کوتاہی کاتدارک کیسے کیاجائے۔اس ناطے آپریشن دارلفسادنسبتاً ہمہ گیریت کا حامل آپریشن ہوسکتا ہے لیکن اس ہمہ گیریت کے خلاف بھی فوری طورپر پروپیگنڈے کے طورپرایک رخ کی تشہیرشروع کردی گئی کہ جیسےخدانخواستہ پنجاب میں پختون آبادی کے خلاف بھی آپریشن شروع کردیاگیاہے جس کایقیناایک منفی اثر بھی ابھرا لیکن خداکاشکرہے کہ دشمن قوتوں کے اس منفی پروپیگنڈے نے اس وقت دم توڑدیاجب میڈیا میں اس کی قلعی کھلنی شروع ہوگئی ۔

اس ہمہ گیریت آپریشن دارلفسادکاایک پہلویہ ہے کہ یہ پہلاآپریشن ہے جس کے تحت پاکستان میں دہشتگردی،تخریب اورفسادکاباعث بننے والے ان عناصرجن کی مالی واسلحی سرپرستی ہی نہیں ،رہنمائی،تربیت کے ساتھ ساتھ پناہ کی ذمہ داری میں ایک جانب بھارت کانام سرفہرست اوردوسری جانب بھارت کو افغانستان میں اپنے معاون خاص کے طورپر دخیل بنانے کیلئے کوشاں امریکا بہادرکاذکرآتاہے لیکن ہماری ریاستی مشینری اور حکومت سبھی پاکستان میں ان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردانہ کاروائیوں پرمسلسل ایک طرح کی چپ سادھے ہوئے ہیں۔دلچسپ امریہ ہے کلبھوشن یادیونامی بھارتی ''را'' افسرجس نے کئی سال تک پاکستان کے طول وعرض بالعموم بلوچستان میں بالخصوص دہشتگردی کاجال بنا تھا،اس کی گرفتاری کے باوجودمحض کچھ عرصے کی ابلاغی مہم کے بعدمکمل خاموشی کالمبادورانیہ سامنے ہے۔

بدقسمتی سے اس دوران یہ تاثربھی سامنے آیاکہ کم ازکم کلبھوشن یادیوکےحوالےسے ہماری حکومت کی ایسی کوئی خواہش نہیں ہے کہ اپنے ازلی دشمن بھارت یااسے کئی سال تک اپنی سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کے نیٹ ورک منظم کرنے ،دہشتگردوں کی فنانسنگ کرنے،ان کیلئے تربیت کااہتمام کرنے اور ان کیلئے ہرطرح کی لاجسٹکس کابندوبست کرنے کا موقع دیئے رکھنے والے ہمسایہ کے بارے میں کوئی حکمت عملی وضع کی جاتی،ایساکچھ نہیں کیاگیا،نہ ہی ایک طویل عرصے سے افغانستان میں موجودامریکی اور نیٹو فورسزسے یہ مؤثر انداز میں کہاجاسکاکہ جس سرزمین پرآپ موجودہیں، بھارت آپ ہی کی ناک کے نیچے پاکستان میں گڑبڑپھیلانے کیلئے دہشتگردوں کوتربیت اوردسائل دے رہا ہے جس کے واضح اورٹھوس شواہدکے ساتھ اقوام متحدہ کے علاوہ امریکا بہادرکوبھی ڈوئزیرمہیاکئے جاچکے ہیں۔ افغانستان میں درجن بھر قونصل خانے خصوصاًپاک افغان سرحدسے متصل آخر کن مقاصد کیلئے قائم ہونے دیئے گئے جوطویل عرصے سے جنگ زدہ ہے۔کیاافغانستان کے ان علاقوں میں بھارتی کیمونٹی بہت زیادہ ہے یاثقافتی اورتجارتی روابط غیر معمولی ہیں، یقیناایساکچھ بھی نہیں ہے۔خودامریکااورنیٹوممالک کوافغانستان کے طول وعرض میں اپنے قونصل خانے قائم کرنے کی اتنی فکردامن گر نہیں جتنی بھارت کوہے۔ان بھارتی قونصل خانوں میں پاکستان کے خلاف کیاکیا سازشیں بنی جاتی رہی لیکن امریکی اورنیٹوفورسزخاموش نماشائی بنی رہیں ،آخرکیوں؟

نتیجتاًایک جانب پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی پی اوراس کے آف شوٹس کے خلاف آپریشن چلتارہااوردوسری جانب پاکستان میں گھیراتنگ ہونے پر یہاں بھاگ نکلنے والوں کوافغان سرحدکے قریب ترہی میزبان اورمہربان بھی ملتے رہے۔پناہ گاہیں بھی دستیاب ہونے لگیں اوردامے درمے سخنے مددبھی فراہم ہوتی رہی،نہ صرف یہ بلکہ پاکستان میں بھارت اوربھارت کے نئے سرپرست دہشت گردی کی کاروائیاں ممکن بنانے میں براہِ راست یابالواسطہ اپنا حصہ اور کردارادا کرتے رہے۔یہ سلسلہ اتناہی پراناہے جتناکہ خودپاکستان کے سیکورٹی اداروں کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن پراناہے۔

اسی سبب دسمبر۲۰۱۴ء میں آرمی پبلک اسکول پشاورکے سانحے سے لیکرکے پی کے مختلف شہروں اورقبائلی علاقہ جات ،صوبہ پنجاب،صوبہ بلوچستان اور صوبہ سندھ میں جہاں بھی موقع ملاانسانی جانوں کوآتش وآہن کی بارش میں زد میں لاتے رہے۔اتفاق ہے کہ جب اے پی ایس پشاور کاسانحہ ہواتواس وقت بھی عسکری قیادت نے فوری طورپرافغانستان کے ساتھ اس سلسلے میں بات کی اور اب جبکہ سانحہ ماڈال روڈلاہوراورسانحہ سیہون پیش آئے توبھی پاکستان کی طرف سے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کی موجودگی کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔اب کی بار دفتر خارجہ کے توسط سے افغان ناظم الامور کوجی ایچ کیومیں طلب کرکے اپنے جذبات اورپاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے افغانستان سے ملنے والے تانوں بانوں سے تفصیلی طور پرآگاہ کیاگیا۔

اسی طرح افغانستان میں امریکی جنرل کوبھی بتایاگیاکہ کس طرح پاکستان میں دہشتگردی کیلئے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے جس پرعملاًافغان حکومت سے کہیں زیادہ امریکی فوج کااثرورسوخ ہے لیکن ڈھاک کے تین پات کی طرح معاملہ جوں کاتوں رہا بلکہ اس پرمستزادیہ ہواکہ اشرف غنی نے جرمنی کے شہرمیونخ میں جاکرایک مرتبہ پھرسارازورپاکستان کودہشتگرد ثابت کرنے پر لگادیاجبکہ امریکا بہادر کا ردِّ عمل بھی روایتی رہا۔ اگرچہ بعدازاں اطلاعات یہ بھی ہیں کہ پاک افغان سرحد پر قائم دہشتگردی کے ٹھکانوں کاپاکستان کی طرف سے پہلی مرتبہ نشانے پرلیاگیاتو امریکا کوافغانستان میں اپنی فوج بڑھانے کا خیال آناشروع ہوگیا ۔ملکی سرحدوں کادفاع کرنے کیلئے بننے والے افغان فوج کے سربراہ اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے پاک فوج کے توپ خانے کی زدمیں آنے والے دہشتگردوں کے ٹھکانوں والے علاقوں کادورۂ کیااورپاکستان کومقامی اوربین الاقوامی طاقتوں کی مددسے جواب دینے کی بات کی۔۔۔جاری ہے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 231134 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Mar, 2017 Views: 234

Comments

آپ کی رائے