پاک افغان بھائی چارہ سالوں پرانی روایات کا امین

(Raja Tahir Mehmood, Rawat)

پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کو اپنا بھائی سمجھا ہے دونوں ملکوں کے عوام بھائی چارے کے اس عظیم رشتے میں بندھے ہوئے ہیں جس کا اعلان ہمارے پیارے آقا ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں کیا تھا کہ :ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے :تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی افغانستان پر کوئی مشکل وقت آیا سب سے پہلے پاکستان نے اس کی مدد کی یہ او ر بات ہے کہ افغانستان نے کھبی بھی پاکستان کے احسان کو احسان نہیں مانا اقوام متحدہ میں جب بھی کوئی پاکستان کے حوالے سے بڑی سرگرمی نظر آئی افغانستان نے پاکستان کی مخالفت کی اس کے باوجود پاکستان افغانستان کے مشکل وقت کا ساتھی رہا ہے اور یہ سب اسی بھائی چارے کے رشتے کو سامنے رکھ کر کیا جاتا رہا ہے کچھ عرصہ پہلے جب یہاں افغانستان میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے دہشتگردی کی بذدلانہ کاروائیاں کی تو پاکستان نے اس کے سد باب کے لئے اپنی سرحد بند کرنے کا اعلان کیا جس کی وجہ سے افغانستان کی وہ تمام تجارت جو پاکستان کے ر استے سے ہوتی تھی بند ہو گئی اس سے دونوں اطراف کے تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑا ساتھ ساتھ افغانستان میں علاج معالجے کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے وہاں کے ہزاروں مریض ہر روز پاکستان میں اپنا علاج کروانے آتے ہیں جن کو پریشانی کی سامنا کرنا پڑا بعد ازاں افغان حکام کی طرف سے ان عناصر کے خلاف کاروائی کی یقین دھانی کروائی گئی جنھوں نے پاکستان میں بزدلانہ دہشت گردی کا ارتکاب کیا تھا صورت حال اس وقت بہت ہی زیادہ خراب ہو گئی جب سرحد کی بندش کی وجہ سے ہزاروں لوگ دونوں اطراف میں پھنس گئے افغانستان کی حکومت کی طرف سے بار بار سرحد کھولنے کی اپیلیں کی جانی لگی جس پر وزیراعظم نواز شریف نے خیر سگالی کے جذبے کے تحت افغانستان کے ساتھ چمن اور طورخم سرحد کھولنے کا اعلان کیا تاکہ تجارتی سامان اور عام لوگ افغانستان جاسکیں 32روز کی بندش کے نتیجے میں افغانستان کے اندر اشیائے خوراک کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی اور ان کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی تھیں اس امر کے باوجود کہ حالیہ دنوں میں پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے افغان سرزمین پر موجود پاکستان دشمن عناصر سے جا ملتے ہیں پاکستان سمجھتا ہیں دونوں ممالک کے درمیان صدیوں کے مذہبی' ثقافتی اور تاریخی رابطوں اور تعلق کے پیش نظر سرحدوں کا زیادہ دیر تک بند رہنا عوامی اور معاشی مفادات کے منافی ہے پاکستان میں امن و سلامتی کے لئے افغانستان میں دیرپا امن ناگزیر ہے اور دونوں ممالک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے افغان حکومت سے تعاون کی پالیسی جاری رکھیں گے۔

افغانستان کو اس سچائی کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ یہ پاکستان ہی تھا جس نے سوویت جارحیت کے دنوں میں افغانستان کی خودمختاری اور آزادی کی بحالی کے لئے اس کے عوام کا بھرپور ساتھ دیا تھا اس نے افغانستان کے 30لاکھ سے زائد مہاجروں کے لئے بھی اپنی سرزمین کھول دی اور ان کی ہر ممکن مدد کی جبکہ بھارت سمیت بعض ملکوں نے سوویت جارحیت کی مذمت اور مخالفت سے انکار کر دیا تھا' پاکستان نے اگر سرحد بند کی ہے تو شدید مجبوری کے عالم میں اس نے یہ قدم اٹھایا ہے افغانستان کی حکومت کو بار بار متوجہ کیا گیا کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال کی جارہی ہے اس نے حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ جس علاقے سے اس کی سرزمین استعمال کی جارہی ہے وہاں حکومتی رٹ موجود نہیں ہے گویا اس نے اپنی بے بسی کا اظہار کر دیا ایسی صورتحال میں پاکستان کے لئے یہی راستہ تھا کہ وہ سرحد کی مینجمنٹ پر توجہ دے اور چمن و طورخم بارڈر کو بند کر دے اب اگرچہ 32روز کے بعد پاکستان نے خیر سگالی کے جذبے کے تحت سرحد کھول دی ہے اور تجارتی سامان افغانستان جانے لگا ہے لیکن جن وجوہات کے باعث سرحد بند کی گئی بہرصورت انہیں بھی ختم کیا جانا چاہیے تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لئے کس حد تک موثر کردار ادا کرتی رہے گی؟ موجودہ حالات میں جب افعانستان کی حکومت کی اتھارٹی بعض علاقوں میں موجود نہیں ہے اس کے لئے بہترین آپشن یہی ہے کہ وہ بارڈر مینجمنٹ کے معاملے میں پاکستان سے تعاون کرے اس طرح ہی دہشت گردوں کی آمدورفت کو روکا جاسکتا ہے بارڈر مینجمنٹ کے بعد افغان حکومت کے دباؤ کی صورت میں دہشت گردوں کے لئے فرار کا راستہ بھی نہیں ہوگا اس لئے افغان حکومت کو اس سلسلے میں پاکستان سے بھرپور تعاون کرنا چاہیے۔

ضرورت اس امر کی ہے پاکستان کی طرف سے بارڈر مینجمنٹ کو افغانستان کی حکومت سمجھے اور دوسروں کے کہنے پر اپنی پالیسیاں بنانے کے بجائے خود اس بات کا اندازہ لگائے کہ پاکستان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات اس کے لئے فائدہ مند ہیں یا نقصان دہ اسے خود ہی سچائی کا علم ہو جائے گا لیکن اگر وہ دوسروں کے کہنے پر چلتا رہا تو اس کے لے گھاٹے کو سودا ہو گا کیونکہ کوئی بھی دیگر ملک پاکستان سے زیادہ افغانستان کے لئے وہ کردار ادا نہیں کر سکتا جو پاکستان کر سکتا ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 129612 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
26 Mar, 2017 Views: 443

Comments

آپ کی رائے