آزاد ریاست جموں و کشمیر...........ایک نظر میں

(Amar Jahangir, Muzzafar Abad)

24اکتوبر1947ء کو آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کاقیام عمل میں آیا۔
آزاد جموں وکشمیر کا کل رقبہ 4144مربع میل ہے۔
آزاد جموں وکشمیر کا پہلا صدر مقام جنجال ہل پلندری تھا۔
غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر کے بانی صدر تھے۔
آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر کی پہلی کابینہ چھ ارکان پر مشتمل تھی ۔
سید نذیرحسین شاہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے پہلے وزیر خزانہ تھے۔
علی احمد شاہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے پہلے وزیر دفاع تھے۔
خواجہ غلام دین آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے پہلے وزیر داخلہ تھے۔
چوہدری محمد عبداﷲ بھلی آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے پہلے وزیر مال تھے۔
میر واعظ محمد یوسف آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے پہلے وزیر تعلیم تھے۔
خواجہ ثناء اﷲ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے پہلے وزیر خوراک و تعمیر و ترقی تھے۔
قدرت اﷲ شہاب آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے پہلے چیف سیکرٹری تھے
سید نذیر عالم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے پہلے انسپکٹر جنرل پولیس تھے۔
5ستمبر1947ء کو مسلم کانفرنس نے یوم پونچھ منایا۔
16اپریل1948ء کو ریڈیو تراڑ کھل آزادکشمیر کا اعلان ہوا۔
1948ء میں پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ میں ظفراﷲ خان نے نمائندگی کی۔
1949ء میں صدر مقام جنجال ہل پلندری سے مظفرآباد منتقل کیا گیا۔
28 اپریل1949ء میں معاہدہ کراچی ہوا۔
معاہدہ کراچی پر مشتاق گورمانی نے پاکستان اور سردار محمد ابراہیم خان نے آزاد حکومت اور چوہدری غلام عباس نے مسلم کانفرنس کی طرف سے دستخط کئے
یکم جون1950ء کو سید علی احمد شاہ آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کاصدر نامزد کیا گیا۔
یکم دسمبر1951ء کو میرواعظ محمد یوسف آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کیا صدر نامزد کیا گیا۔
22جون 1952ء کو کرنل شیر احمد خان آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کا صدر نامزد کیا گیا۔
یکم جون 1956ء کو میر واعظ محمد یوسف آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کا صدر نامزد کیاگیا۔
7ستمبر1956ء کو سردار محمد عبدالقیوم خان پہلی مرتبہ آزاد جموں و کشمیر کا صدر نامزد کیا گیا۔
14اپریل 1957ء کو سردار محمد ابراہیم خان دوسری مرتبہ آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کا نامزد کیا گیا۔
جون 1958ء کو کشمیر لبریشن موؤمنٹ شروع کی۔
27اپریل 1959ء کو کے۔ ایچ۔ خورشید آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے صدر منتخب ہوئے۔
کے ۔ ایچ۔ خورشید BDممبرز کے ذریعے آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے صدر بنے۔
16اگست1964ء کو خان عبدالحمید خان آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کا صدر نامزد کیا گیا۔
8اکتوبر1969ء کوبریگیڈئر عبداحمان آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کا صدر نامزد کیا گیا۔
آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی 1970ء میں بنی۔
30اکتوبر1970ء کو پہلی مرتبہ صدارتی انتخابات ہوئے۔
13نومبر1970ء کو سردار محمد عبدالقیوم خان دوسری مرتبہ آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے صدرمنتخب ہوئے۔
سردار محمد عبدالقیوم خان بالغ رائے دہی سے منتخب ہونے والے پہلے صدر ہیں۔
1970ء میں بیگم راجہ حیدر خان پہلی خاتون ممبر اسمبلی بنی۔
آزاد جموں و کشمیر کا ترانہ حفیظ جالندھری نے لکھا۔
30جنوری 1971ء کو اشرف قریشی اور ہاشم قریشی نے گنگا طیارہ اغواہ کرکے لاہور لائے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے آزاد جموں وکشمیر میں ایمرجنسی لگائی۔
ایکٹ 1974ء وفاقی وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے تیار کیا۔
اہم دفعات ۔ پارلیمانی نظام حکومت اور کل نشستوں کی تعداد 48کی گئی۔
کشمیر کونسل کا قیام ایکٹ 1974ء کی دفعہ 31کے تحت عمل میں لایا گیا۔
کشمیر کونسل کے ممبران کی تعداد 14ہے۔
کشمیر کونسل کے چھ ممبران آزاد جموں وکشمیر سے پانچ ممبران پاکستان سے باقی وزیرامور کشمیر، صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر ہیں۔
8اکتوبر1974ء کو جنرل حیات خان کو صدر آزاد کشمیر کے عہدے پر فائز ہوئے۔
غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان چار مرتبہ آزاد جموں و کشمیر کے صدر بنے۔
مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان چار مرتبہ صدر اور ایک مرتبہ وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر بنے۔
6اپریل1975ء کوشیخ منظر مسعود آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے صدر بنے۔
5جون 1975ء کو سردار محمد ابراہیم خان آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے تیسری مرتبہ صدر بنے۔
1975ء کوقانون ساز اسمبلی آزاد جموں وکشمیر کے الیکشن ہوئے۔
19جون 1975ء کو جسٹس عبدالحمید خان آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے پہلے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
11اگست1977ء کو میجر جنرل عبدالرحمان خان کو آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کا منتظم اعلیٰ مقرر کیا گیا۔
یکم نومبر1977ء کوبریگیڈئیر محمد حیات خان کو آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کا منتظم اعلیٰ؍ صدر مقرر کیا گیا۔
2جولائی 1980کو آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔
یکم فروری 1983ء کو میجر جنرل عبدالرحمان خان کو آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کا منتظم اعلیٰ مقرر کیا گیا۔
11فروری 1984ء کو مقبول بٹ کو تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی۔
1985ء میں قانون ساز اسمبلی کے دوسری مرتبہ الیکشن ہوئے۔
آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس نے اس الیکشن میں واضح اکثریت حاصل کی۔
17جون 1985ء کو سردار سکندر حیات خان آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے وزیراعظم بنے۔
یکم اکتوبر 1985ء کو سردار محمد عبدالقیوم خان تیسری مرتبہ آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے صدر بنے۔
آزاد جموں وکشمیر کے جنگلات کا رقبہ 5,66,949ایکڑ ہے۔
1990ء میں قانون ساز اسمبلی کے تیسری مرتبہ الیکشن ہوئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے اس الیکشن میں واضح اکثریت حاصل کی۔
29جون 1990ء کو راجہ ممتاز حسین راٹھور آزاد حکومت رایست جموں و کشمیر کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
6جولائی 1991ء کو جسٹس سردار محمد شریف خان آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے منتظم اعلیٰ مقرر ہوئے۔
30ستمبر1990ء کو سردار محمد عبدالقیوم خان چوتھی مرتبہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے صدر بنے۔
1991ء کوراجہ ممتاز حسین راٹھور ے قانون ساز اسمبلی توڑ دی۔
29جولائی 1991ء کو سردار محمد عبدالقیوم خان آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔
12اگست1991ء کو سردار سکندر حیات خان آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے پہلی مرتبہ صدر بنے۔
1996ء میں چوتھی مرتبہ قانون ساز اسمبلی کے الیکشن ہوئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے اس الیکشن میں واضح اکثریت حاصل کی۔
30جولائی 1996ء کو بیرسٹر سلطان محمود چوہدری آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔
25اگست1996ء کو سردار محمد ابراہیم خان چوتھی بار آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے صدر بنے۔
جون 2001ء میں قانون ساز اسمبلی کے پانچویں بار الیکشن ہوئے۔
آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس نے اس الیکشن میں واضح اکثریت حاصل کی۔
25جولائی 2001ء کو سردار سکندرحیات خان دوسری مرتبہ آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔
24اگست2001ء کو سردار محمد انور خان آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے صدر بنے۔
7اپریل 2005ء کو مظفرآباد سرینگر بس سروس کا آغاز ہوا۔
8اکتوبر2005ء کو آزاد جموں وکشمیر میں قیامت خیز زلزلہ آیا۔
زلزلہ کے نتیجہ میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ ہزاروں افراد شہید ہوئے۔
جون 2006ء میں قانون سازاسمبلی کے چھٹی مرتبہ الیکشن ہوئے۔
آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس نے اس الیکشن میں بھی واضح اکثریت حاصل کی۔
25جولائی2006ء کو سردار عتیق احمد خان پہلی بار آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔
24اگست2006ء کو راجہ ذوالقرنین خان آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے صدر بنے۔
اکتوبر2008ء کو انٹرا کشمیر ٹریڈ شروع کی گئی۔
6جنوری 2009ء کو میں سردار عتیق احمد خان کے خلاف قانون ساز اسمبلی میں عدم اعتماد ہواجو کہ کامیاب ہوا۔
7جنوری2009ء کو سردار محمد یعقوب خان عدم اعتماد کے نتیجہ میں آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم بنے۔
اکتوبر2009ء کو ایک بار پھر قانون ساز اسمبلی کے اندرعدم اعتماد کا ووٹ ہوا۔
23اکتوبر2009ء کو راجہ محمد فارو ق حیدر خان عدم اعتماد کے نتیجہ میں آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم بنے۔
جولائی 2010ء کو ساتویں با ر قانون ساز اسمبلی میں عدم اعتماد کا ووٹ ہوا۔
29جولائی2010ء کو سردار عتیق احمد خان عدم اعتماد کے نتیجہ میں آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم بنے۔
جون 2011ء کو قانون ساز اسمبلی کے ساتویں مرتبہ الیکشن ہوئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے اس الیکشن میں واضح اکثریت حاصل کی۔
26جولائی 2011ء کو چوہدری عبدالمجید آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے وزیراعظم بنے۔
25اگست2011ء کو سردار محمد یعقوب خان آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے صدر بنے۔
جون 2016ء کو قانون ساز اسمبلی کے آٹھویں مرتبہ الیکشن ہوئے۔
مسلم لیگ (ن) نے اس الیکشن میں واضح اکثریت حاصل کی۔
جولائی 2016ء کو راجہ فاروق حیدر آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے وزیراعظم بنے۔
اگست2016ء کو سردارمسعودخان آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے صدر بنے۔
آزاد کشمیر میں سالانہ بجلی کی پیداوار 1600میگا واٹ ہے۔
منگلا ڈیم کا کل رقبہ 259مربع کلو میٹر ہے۔
منگلا ڈیم سے 1000میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔
منگلا جھیل کے ساتھ میرپور میں 30میگا واٹ بجلی پیدا ہورہی ہے۔
نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے 990میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔
کنڈل شاہی جاگراں پاور سٹیشن سے 34میگا واٹ بجلی پیدا ہورہی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AMAR JAHANGIR

Read More Articles by AMAR JAHANGIR: 33 Articles with 15606 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Mar, 2017 Views: 1092

Comments

آپ کی رائے