حسینہ واجد کی حقائق کشی

(Muhammad Amjad, )

بنگلہ دیش پر اس وقت شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کا راج ہے۔ اس پارٹی کے بانی شیخ مجیب الرحمن تھے جسے تاریخ میرجعفروں اور میر صادقوں کی فہرست میں شامل کرتی ہے۔ اس نے بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بنے اور اسے دولخت کردیا۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ غداروں کا انجام ہمیشہ ذلت و رسوائی ہوتا ہے۔ شیخ مجیب کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ اپنی ہی فوج کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس کے بدترین انجام کے بعد عوامی لیگ کی باگ ڈورحسینہ واجد کے ہاتھ میں آئی ۔جو پاکستان دشمنی میں اپنے باپ سے بھی بازی لے گئی۔ وہ جب جب اقتدارآئی اس نے پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا۔ وہ اپنی قوم کو پاکستان کے خلاف مسلسل بھڑکارہی ہے۔ بھارتی خواہش پر وہ ایسا کوئی نہ کوئی مضحکہ خیز ایشو تراشتی ہے جو ماضی کے زخموں کو پھر سے ہرا کردیتا ہے۔ اس بار اس کے ذہن میں25مارچ کو ’’نسل کشی‘‘ ڈے منانے کا خیال آیا ہے ۔آپ میں سے اکثر یت یہ جانتی ہے کہ بنگلہ دیش میں وہی شخص حب الوطنی کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے جوتیس لاکھ بنگالیوں کے ’’قتل عام‘‘ پراپنی مہرثبت کرے بصورت دیگر اسے غدارگردانا جاتا ہے۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ حسینہ واجد کے ایسے ڈھونگ، مبالغہ آرائیوں اورپراپیگنڈے سے تاریخ کے حقائق چھپے ہیں نہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکتی ہے۔ بہت سے آزاد اور غیرجانبدار غیر ملکی اور بنگالی مورخین اور تجزیہ نگار بنگلہ دیش کے پاکستان کے خلاف بڑے پیمانے پر قتل عام کے دعوؤں کو حقائق و واقعات کی کسوٹی پر پرکھ کر جھوٹ اور مبالغہ آرائیوں کا پلندہ قراردیے چکے ہیں۔

ذرا ڈھاکہ میں مقیم برطانوی صحافی برگ مین کے 11نومبر2011میں شائع ہونے والے مضمون کو ملاحظہ کیجئے ۔ وہ لکھتے ہیں:’’ جنوری 1972 کے اواخر میں اس وقت کی پریس رپورٹوں کے مطابق بنگلہ دیش حکومت نے مرنے والوں کی تعداد کی تحقیق کے بارے میں ایک کمیٹی قائم کی تھی۔ تاہم کوئی حتمی رپورٹ شائع نہیں ہوئی اور یہ تجاویز سامنے آئی تھیں کہ رپورٹ شائع نہ کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تھا کہ تحقیقات کرنے والے تین ملین افراد کی اموات کے قریبی ہدف تک بھی نہیں پہنچ سکے تھے۔‘‘اسی طرح ناروے کے پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے سویڈن کی اپسالہ یونیورسٹی کے تعاون سے سن انیس سو کے بعد ہونے والی جنگوں میں اموات کے بارے میں عینی شاہدین، میڈیا رپورٹوں اور دوسرے اعداد و شمار کی روشنی میں ہلاکتوں کی تعداد 58ہزارقراردی۔معروف صحافی شرمیلا بوس نے اپنی کتاب ’’سیسن اینڈ روز ‘‘میں دلچسپ پیراگراف نقل کیا ہے : ’’ہم نے دو بھارتی عہدیداروں سے بنگلہ دیش میں خانہ جنگی کے دوران حقیقی اموات بارے سوال کیا تو ان میں سے ایک نے یہ تعداد تین لاکھ بتائی۔لیکن جب اس نے اپنے ساتھی کے بگڑے ہوئے تیور دیکھے تو یہ تعداد بڑھا کر پانچ لاکھ کردی‘‘۔

برطانوی صحافی ڈیوڈبرگ مین نے24اپریل 2014ء کو دی ہندو اخبار میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اس مبالغہ آرائی کی وجہ جذباتیت اور مجیب الرحمن کے پراپیگنڈے کو قراردیتے ہوئے لکھا:’’1971ء میں بقول بنگلہ دیش میں3ملین افراد مارے گئے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکومت کی سرکاری طور پر جاری کردہ تعداد ہے؟اگرچہ اب اس سانحہ کو 40سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک بنگلہ دیش میں اسے حساس نوعیت کا قومی معاملہ سمجھا جاتا ہے۔کسی حد تک یہ حساسیت اس وجہ سے بھی ہے کہ بنگلہ دیش کی نئی نسل کے لوگ قیام بنگلہ دیش کو بعدیہی سنتے آرہے ہیں،سکولوں میں بھی یہی پڑھایا جاتا رہاہے۔اس طرح یہ عدد ان کے ذہنوں میں نقش ہوکر رہ گیا ہے۔ اس لیے بہت سے لوگوں کے لیے اس تعداد پر سوال اٹھانا دراصل ان کے گہرے اعتقاد کو مجروح کے مترادف ہے۔ تین ملین کا عدد قوم پرستانہ بحث کا حصہ بن چکا ہے۔بہت سے عوامی لیگیوں کے نزدیک تین ملین کے عدد میں ’’غیر یقینی کیفیت‘‘ پیدا کرنا جنگ آزادی کے خلاف جذبات ابھارنا اور مخالفانہ ذہنیت کو فروغ دینا ہے۔اس لیے بنگلہ دیش میں وہ لوگ جو تین ملین اموات کے صحیح ہونے پر اعتراض کر سکتے ہیں۔سیاسی رِدعمل کے خوف کی وجہ سے خاموش ہی رہتے ہیں۔ ‘‘ تجمل حسین فری لانس صحافی ہیں۔ وہ ان من گھڑت داستانوں اور مبالغہ آرائیوں کے غبارے سے ہوا نکالتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور آزاد مملکت بنگلہ دیش کا قیام کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔تاہم اس کی تاریخ نہ صرف بہت سی جھوٹی کہانیوں پر مبنی ہے بلکہ ان کو ڈھائی عشروں سے مسلسل سیاسی شعلہ بیانی میں باربار دہرایا جاتا رہا ہے۔ ایک جھوٹ تو یہ ہے کہ مارچ سے دسمبر 1971ء تک 9مہینوں میں بنگلہ دیش میں 30لاکھ افراد مارے گئے۔دوسرا دولاکھ خواتین کی عصمت دری کی گئی۔اگر یہ اعداد شمار صحیح ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے یہ کون سے ذرائع سے معلوم ہوئے ہیں۔اگر کوئی ان کا ذریعہ ہے بھی تو یہ کتنا قابل اعتماد ہے؟ جہاں تک ہمیں معلوم ہوا ہے بعض حلقے دعوے سے کہتے ہیں کہ یہ اعداد شمار شیخ مجیب الرحمٰن کے فراہم کردہ ہیں۔اس لیے انہیں مقدس اور ناقابل تردید الفاظ کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔کیا پھرکسی سمجھدار آدمی کو ان اعداد شمار کی چھان بین نہیں کرنی چاہیے تھی؟
‘‘
سویڈن کے صحافی انگ واراوجہ نے جنوبی ایشیا اور 1971ء کے معاملات پر تفصیل سے لکھا ہے۔وہ سقوط ڈھاکہ کے بھی چشم دید گواہ ہیں۔یکم مارچ 1973ء کو سٹاک ہام کے خبارDagens Nhyeterمیں لکھتے ہیں کہ’’تین ملین افراد کا قتل ایک بہت بڑی مبالغہ آ رائی ہے‘‘۔امریکی کانگریس کے رکن چارلس ولسن بھی اس تعداد پران الفاظ میں اپنی حیرانی کا اظہار کرتے ہیں:’’یہ کہنا کہ مشرقی پاکستان میں تعینات 40ہزار یا اس سے کم و بیش پاکستانی فوجیوں نے تین ملین بنگالیوں کا قتل عام کیا اور دولاکھ خواتین کی عصمت دری کی ایک ایسا سنگین الزام ہے جس کو عقل تسلیم نہیں کرتی اور یہ انسانی تصور سے ہی ماورا ہے‘‘۔اسی طرح ولیم جے ڈرمنڈ لاس اینجلس ٹائمز، 11جون 1972ء میں لکھتے ہیں: ’’30لاکھ اموات کاعدد ایک ایسی مبالغہ آرائی ہے اور اتنا سنگین الزام ہے کہ اسے لغو ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔‘‘ انٹرنیشنل نیو یارک ٹائمز میں ایک مضمون ’’بنگلہ دیش میں زبان بندی‘‘شائع ہوا جس میں صحافی ڈیوڈبرگ مین پر بنگلہ دیشی عدالتی ٹربیونل کی طرف سے جرم کا مرتکب قراردینے پر تنقید کی گئی تھی۔ مسٹر برگ مین برطانوی صحافی ہیں، انہوں نے عدالت کے غضب کو اس وقت دعوت دی جب انہوں نے 1971ء میں مارے جانے والے افراد کی تعداد پر اختلاف کیا تھا۔ بنگلہ دیش کی اس نام نہاد انٹرنیشنل کرائم ٹر بیونل ہر اس شخص کے لیے برا شگون ہے جو تین ملین افراد کی تعداد کو چیلنج کرے۔ وہ توہین عدالت کا مجرم ہے خواہ اس کا موقف قانونی طور پر کتنا ہی صحیح اور قابل احترام کیوں نہ ہو۔ بنگلہ دیش کی اس مبالغہ آرائی کی نفی کرنے کے لیے یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ بہت سے دیگرمصنفین نے اپنی کتابوں میں تفصیل سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کو حقائق سے ماوراء قراردیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو 1971ء میں ایک گہرا زخم لگا ۔ اس کے باوجود اس نے ہمیشہ بنگلہ دیش سے برادرانہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر حسینہ واجد کی حکومت نے کبھی بھی ان کا مثبت جواب نہیں دیا بلکہ بھارتی اثرورسوخ کے تحت بے رخی اور مخاصمت کی روش ہی اپنائے رکھی۔ بہرحال نسل کشی ڈے، اصل میں حقائق کشی ہے اور ڈھونگ، مبالغہ آرائی اورپراپیگنڈہ کے ذریعے اصل حقائق کو جھٹلا یا جا سکتا ہے نہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Amjad Ch

Read More Articles by Muhammad Amjad Ch: 94 Articles with 42998 views »
Columnist/Journalist.. View More
28 Mar, 2017 Views: 263

Comments

آپ کی رائے