سعودی عرب میں مقامی شہریوں اور خواتین کے لئے روزگار کے مواقع اور۰۰۰ تارکین وطن

(Rasheed Junaid, India)

 کسی بھی ملک کی حکومت کو اپنے شہریوں کی تعلیم و تربیت اورصحت عامہ کے مراکز کا قیام اور روزگار سے مربوط کرنے کے ذرائع پیدا کرنا اس کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے کیونکہ اگر ملک کے شہری ناخواندہ اوربے روزگار رہیں تو اس سے ملک میں مختلف قسم کے جرائم پنپنے لگتے ہیں اور ہوتے ہوتے ان جرائم میں اضافہ حکمراں کو اقتدار سے محروم کرنے کی نوبت تک پہنچ جاتے ہیں ۔ سعودی عرب میں بھی روزگار کا مسئلہ بڑھتا جارہا ہے، سخت قوانین کے باوجود کئی طرح کے جرائم دکھائی دیتے ہیں۔روزگار کے مسئلہ پر قابو پانے کیلئے شاہ عبداﷲ کے دور حکمرانی سے ہی سعودی ائزیشن کا مسئلہ شروع ہوا جس کے ذریعہ کئی ایک شعبوں میں سعودی شہریوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا تھا۔شاہ عبداﷲ بن عبدالعزیز انتقال کے بعد اقتدار پر فائز ہونے والے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے ہم وطنوں کو روزگار سے مربوط کرنے کے لئے ،سعودی عرب کی تعمیر و ترقی میں ہندو پاک، بنگلہ دیش، افغانستان، سری لنکا، مصر، سوڈان، یمن وغیرہ کے تارکین وطنوں کوروزگار سے محروم کرتے ہوئے انکے اپنے ملک واپس بھیجنے کا آغاز کیا۔جن تارکین وطنوں نے سعودی عرب کی تعمیر و ترقی اور اسے عالمی سطح پر ایک بہترین ترقی یافتہ اور عصری ٹکنالوجی سے آراستہ فلاحی مملکت کی حیثیت سے تپتی دھوپ ، شدید جہلسا دینے والی گرمی اور ٹھٹرادینے والی خطرناک سردی میں سخت محنت و مزدوری کرکے اسے اس مقام و مرتبہ پر پہنچایا اسے شاہی حکومت نظر انداز کرتے ہوئے تارکین وطنوں کو روزگار سے محروم کررہی ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کسی بھی حکمراں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہم وطنوں یعنی اس ملک کے شہریوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے لائحہ عمل ترتیب دیں اور اس پر عمل پیرا ہوں جیسا کہ سعودی حکومت اپنے شہریوں کو روزگار فراہم کرنے کے منصوبے رکھتی ہیں جو خوش آئند اقدام ہے لیکن جو تارکین وطن سخت محنت و مزدوری کئے ہیں انہیں روزگار سے محروم کرتے وقت کم از کم انکی مکمل تنخواہیں اور بقایات جات ادا کردینا چاہیے۔ گذشتہ دو تین سال کے دوران ہزاروں تارکین وطن اپنے اپنے وطنوں کوپریشان کن صورتحال لئے واپس لوٹ رہے ہیں انکی واپسی سے ارکان خاندان بھی پریشان ہیں کیونکہ ان کے روزگار سے گھر کا خرچہ ، بچوں کی تعلیم و تربیت ، صحت و تندرستی اور ضروریاتِ زندگی پوری ہوتی تھی۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زمانے میں تارکین وطن خصوصاً ہند وپاک کے تارکین وطن کئی ایک مصائب و مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے کہ ایک طرف روزگار کے چلے جانے کا خوف ہر وقت انہیں ستاتا ہے تو دوسری جانب انہیں تنخواہیں وقت پر نہیں دی جارہی ہیں ، نجی شعبے کے اداروں میں کئی کئی ماہ کی تنخواہیں باقی ہیں ان حالات میں تارکین وطن کو روزگار سے محروم کرکے مزید پریشان کن صورتحال سے دوچار کیا جارہا ہے یہاں تک کہ انکے اپنے وطن واپسی بھی مشکل ہے کیونکہ ہزاروں تارکین وطن سعودی ائزیشن کے زد میں آچکے ہیں جس کی وجہ سے انہیں نوکریوں سے محروم ہونا پڑا اور انکے بقایات جات بھی ادا نہیں کئے گئے۔ عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کے لئے کئی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں سعودی عرب میں بھی خواتین اپنے حقوق کے لئے آئے دن کسی نہ کسی طرح سوشل میڈیاو دیگر تشہری اداروں کے ذریعہ احتجاجی بیانات کا سلسلہ جاری رکھی ہوئیں ہیں۔ سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں ہے کئی سال سے ڈرائیونگ کیلئے لائسنس جاری کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن اس سلسلہ میں ابھی کوئی پیشقدمی نہیں ہوئی ہے، مملکت میں مختلف نجی شعبوں میں خواتین روزگار سے مربوط ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے نجی شعبے میں خواتین ملازمین کی تعداد 2016کے تیسرے سہ ماہی کے آخرمیں 496,800 تک پہنچ گئی۔جی او ایس آئی کے اعدادوشمار کے مطابق یہ تعداد2012 کی نسبت 144.62فیصد زیادہ ہے۔سعودی عرب خواتین کے افرادی قوت میں 23سے 28فیصد اضافے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ 2020تک مردو خواتین کی بے روزگاری میں 9فیصد تک کمی کا ارادہ ہے ۔یہ بات سعودی عرب میں مشہور ہی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے کہ زیادہ ترسعودی شہری پابندی اور ذمہ داری سے خدمات انجام نہیں دیتے کیونکہ انہیں کئی قسم کی مراعات حاصل تھیں یا ہیں اور وہ تعیش پسندانہ زندگی گزارکو ترجیح دیتے ہیں لیکن اب نام نہاد شدت پسند تنظیموں کی دہشت گردانہ کارروائیوں اور یمن و شام میں بغاوت و خانہ جنگی کی وجہ سے حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ سعودی عرب گذشتہ دو سال سے اپنا سالانہ بجٹ خسارہ میں بتارہا ہے اور شہریوں کو دی جانے والی مراعات میں بھی کمی کردی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہیکہ سعودی عرب اپنے دفاع و سلامتی ، یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی اور شام میں بشارالاسد و داعش کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینا اور اس میں فوجی طاقت و تعاون فراہم کرنا ہے۔سعودی عرب سے لوٹنے والے تارکین وطنوں کا کہنا ہیکہ جس طرح سعودی عرب کے حالات شاہ سلمان کے دور میں خراب ہوئے ہیں اس سے قبل کبھی نہیں دیکھے گئے۔ اب دیکھنا ہیکہ مستقبل قریب میں سعودی عرب کی معیشت مستحکم ہوپاتی ہے یا یہ مزید پستی کی طرف جاتی ہے اگر مشرقِ وسطی کے حالات معمول پر آتے ہیں تواس سے تمام اسلامی ممالک مستحکم ہوسکتے ہیں ورنہ مزید نقصانات برداشت کرنا پڑھیں گے اور ہزاروں ہند وپاک و دیگر ممالک کے تارکین وطنوں کو اپنے اپنے ملک واپس لوٹنے کے انتظامات کرلینے ہونگے کیونکہ جن کمپنیوں یا اداروں میں ہندو پاک کے ملازمین کام کررہے ہیں انہیں تنخواہیں بھی پہلے کی طرح نہیں دی جارہی ہے اس میں کئی فیصد کمی کردی گئی ہے ۰۰۰

عرب سربراہان القدس کی حفاظت کیلئے ٹھوس حکمت عملی بنائے،مفتی اعظم
گذشتہ دنوں مفتی اعظم فلسطین و ممتاز عالم دین الشیخ محمد حسین نے عرب لیگ پر زور دیا ہے کہ وہ بیت المقدس اور مسجد اقصی کی حفاظت کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کرے، صہیونی ریاست کی مجرمانہ ہٹ دھرمی، بین الاقوامی برادری اور عالمی قراردادوں کیلئے ایک چیلنج ہے، مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ دشمن امن نہیں چاہتا، اسرائیل فلسطینی قوم سے وطن چھیننے کی سازشیں کررہا ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے الشیخ محمد حسین نے مستقبل قریب میں عرب لیگ کے اردن کی میزبانی میں ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس کو اہمیت کی حامل قرار دیا ۔انہوں نے عرب سربراہ قیادت پر زور دیا کہ وہ بیت المقدس کے تحفظ اور قبلہ اول کے دفاع کیلئے ٹھوس حکمت عملی اپنائے۔صہیونی پارلیمنٹ کی جانب سے فلسطینی اراضی غصب کرنے کو اسرائیل کا قانونی حق قرار دینے سے متعلق قانون کی منظوری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت قانون اور پارلیمنٹ کا سہارا لے کر فلسطینی اراضی اور املاک پرقبضہ کرتے ہوئے فلسطینی قوم کو زبردستی ہجرت پرمجبورکرنا چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صہیونی ریاست بیت المقدس کو یہودیانے اور مسلمانوں کو ان کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی سے محروم کرنے کی سازشیں کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی اراضی غصب کرنے کو جائز قرار دینے کا قانون بین الاقوامی قراردادوں اور عالمی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی کنیسٹ کے اس فیصلے سے ثابت ہوگیا ہے کہ فلسطینی قوم کا دشمن امن نہیں چاہتا بلکہ ارض فلسطین پرغاصبانہ قبضے کو وسعت دینے سے روکنے کے عالمی مطالبات کو بھی مسلسل نظر انداز کررہا ہے۔مفتی اعظم فلسطین نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطین میں اپنے مظالم اور یہودی توسیع پسندی کی تمام حدیں پار کردی ہیں، صہیونی ریاست کی مجرمانہ ہٹ دھرمی بین الاقوامی برادری اور عالمی قراردادوں کیلئے بھی ایک کھلا چیلنج ہے۔انہوں نے فلسطین میں اسرائیلی مظالم، فلسطینیوں کی املاک کی لوٹ پر عالمی برادری کی خاموشی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اسرائیل فلسطینی قوم سے ان کا وطن چھیننے کی سازشیں کررہا ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔الشیخ محمد حسین نے کہا کہ مسجد اقصی اور بیت المقدس صرف فلسطینیوں کی نہیں پوری مسلم امہ کا قبلہ اول ہے اور اس کے دفاع اور حفاظت کی ذمہ داری بھی تمام مسلمان ممالک پر عائد ہوتی ہے۔قبلہ اول کی مسلسل بے حرمتی اور بیت المقدس میں یہودی توسیع پسندی پر عالمی اسلام کی مجرمانہ غفلت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فلسطینی مفتی اعظم نے کہا کہ مسلمان ممالک نے قبلہ اول کے دفاع اور القدس کے لیے اپنی ذمہ داریاں کما حقہ ادا نہیں کی ہیں۔ مسلمان اور عرب ممالک اپنے فرائض انجام دیتے تو صہیونی آج قبلہ اول پر قابض نہ ہوتے۔مفتی اعظم کے بیان پر عالم اسلام کا ردّ عمل کس طرح ہوگا یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن ذرائع ابلاغ کے مطابق اتنا ضرور ہے کہ ان دنوں عالم اسلام کے کئی ممالک،اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ مسالک کی بنیاد پر جو مسلمانوں کا قتل عام مشرقِ وسطی میں ہورہا ہے اس میں ایک طرف سنی ممالک دکھائی دیتے ہیں تودوسری جانب ایران اور شیعہ ملیشیاء ہے ۔ذرائع ابلاغ کے ذریعہ اسرائیل کے تعلقات ایران کے ساتھ خراب بتائے جاتے ہیں دونوں ممالک ایک دوسرے کی دشمنی میں آگے آگے نظر آتے ہیں جبکہ سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک اسرائیل کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے میں کوشاں نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مفتی اعظم فلسطین عرب سربراہان پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ فلسطینی عوام پر کی جانے والی ظلم و زیادتی کا سدّباب ہو ۔ اگر واقعی عالم اسلام کے تعلقات اسرائیل سے بہتر ہوتے ہیں تو پھر فلسطین میں اسرائیل اپنے منصوبوں میں کامیابی کی سمت رواں دواں ہوگا اور مظلوم فلسطینی اپنی لڑائی خود پتھروں سے لڑتے رہیں اور دنیا اس کا تماشا دیکھتی رہے گی جیسا کہ ماضی اور حال میں دیکھ رہی ہے۰۰۰۰

سعودی عرب کی جانب سے محصورین غزہ کیلئے 80ملین ڈالر کی امداد
سعودی عرب کی جانب سے محصورین غزہ کیلئے 80ملین ڈالر کی امداد فراہم کی گئی ہے۔ یہ رقم اقوام متحدہ کے امدادی اداروں یو این ڈی پی، ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی اونروا اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارت محنت کی طرف سے دی گئی ہے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغکے مطابق فلسطینی وزارت محنت و ہاؤزنگ کے وزیر مفید الحساینہ نے بتایا کہ سعودی عرب کی طرف سے 80ملین ڈالر کی رقم کا عطیہ فراہم کیا گیا ہے۔ اس رقم کو اقوام متحدہ کے اداروں UNDP اور اونروا کے توسط سے خرچ کیا جائیگا جبکہ رقم کا ایک بڑا حصہ وزارت لیبر کے ذریعے خرچ کیا جائے گا۔مفید الحساینہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ سعودی عرب کی طرف سے فراہم کردہ 80ملین ڈالر میں سے 40ملین ڈالر کی رقم غزہ کی پٹی میں پناہ گزینوں کیلئے مکانات کی تعمیر کیلئے خرچ کی جائے گی۔ اس رقم سے غزہ میں 1300فلسطینی پناہ گزین خاندان مستفید ہونگے۔ ان چالیس ملین ڈالرز میں سے 10ملین ڈالرز کی رقم سے UNDP کے پروگرامات پر صرف کی جائے گی جس سے 274فلسطینی مستفید ہونگے۔اس رقم میں سے 4.5ملین ڈالر کی رقم کی نئی قسط سے 550فلسطینی مستفید ہونگے۔ اس رقم سے اسرائیلی بمباری میں تباہ ہونے والے مکانات تعمیر کئے جائیں گے۔ اسی پروجیکٹ میں اردن کے ترقیاتی فنڈ کے 5ملین ڈالر بھی شامل ہیں جس سے 667 فلسطینی مستفید ہونگے۔ خیال رہے کہ کویت اب تک غزہ کی پٹی میں تعمیراتی منصوبوں کے لیے 62.5 ملین ڈالر کی رقم خرچ کرچکا ہے۔فلسطینی وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب اور کویتی فنڈ کی مدد سے غزہ میں 3.5 ملین ڈالر کی رقم صنعتی یونٹس پرصرف کی جائے گی۔ یہ رقم جلد ہی جاری کردی جائے گی۔ایک سوال کے جواب میں مفید الحساینہ نے کہا کہ غزہ میں تعمیراتی پروجیکٹس کے آغاز سے اب تک چھ لاکھ ٹن سیمنٹ یومیہ چار ہزار ٹن کے اوسط سے استعمال کی جا چکی ہے۔ اس طرح غزہ ،فلسطین کے مظلوموں کے لئے عالم اسلام مدد کررہا ہے لیکن ضروری ہے کہ مستقبل میں اسرائیل غزہ کے ان مظلوموں پر پھر سے مظالم کا سلسلہ نہ شروع کرے ورنہ عالم اسلام کا اتنا بڑا تعاون بیکار ہوجائے گا۰۰۰

متحدہ عرب امارات کی سوڈان کے یتیم بچوں کو امداد
دنیا میں کئی ترقی یافتہ ممالک عالمی سطح پر کسی نہ کسی ظلم و زیادتی یا آفات ناگہانی کے شکار افراد کی مدد کرتے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ان ہی ممالک میں شامل ہیں جو امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ گذشتہ دنوں ہلال احمر متحدہ عرب امارات (ای آر سی) نے سوڈان کے 7 ہزار 692 یتیم بچوں کی امداد کیلئے 33.850 ملین درہم کا عطیہ سوڈان کوعطیہ دیا ۔متحدہ عرب امارات کے خبر رساں ادارے وام کے مطابق امدادی رقم کا چیک سوڈان میں متحدہ عرب امارات کے سفیرحماد محمد الجنیبی نے سوڈان کی ہلال احمر سوسائیٹی (ایس آر سی ایس ) کے سیکرٹری جنرل اوسامہ جعفر عبداﷲ ،اور دیگر کی موجودگی میں فراہم کیا ۔ یہ عطیہ صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان، نائب صدر وزیراعظم و دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المختوم، دبئی کے ولی عہداورمتحدہ عرب امارات کی مسلح فورسزکے ڈپٹی سپریم کمانڈرشیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایت پر دیا گیا ۔ الجنیبی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کے فریم ورک کے تحت سوڈان کو انسانی بنیادوں پر امداد جاری رکھے گا۔یتم بچوں کو دی جانے والی یہ امداد اہمیت کی حامل ہے کیونکہ ان بچوں کی نگہداشت کے علاوہ انکی تعلیم و تربیت پر خرچ کی جائے گی جس سے مستقبل میں کئی یتیم بچے پڑھ لکھ کر سوڈان کی ترقی و خوشحالی کے لئے ثمر آور ثابت ہونگے۔
***

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rasheed Junaid

Read More Articles by Rasheed Junaid: 259 Articles with 100075 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Apr, 2017 Views: 274

Comments

آپ کی رائے