نواسیِ رسولﷺ،ثانی زہرہ،نائبِ زہرہ، عقیلہ بنی ہاشم،کربلا کی شیردل خاتون جنابِ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا

(Mehboob Hassan, Faisalabad)
ممتاز کیا حق نے نواسی کو نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی
عصمت تھی جو زہرا(سلام اللہ علیہا)کی تو شوکت تھی علیؓ کی
سیدہ زینب سلام اللہ علیہا سید عالمین حضرت محمد مصطفیﷺ اور مسلمہ اوّل ام المومنین حضرت خدیجہؓ کی نواسی،شیرِ خدا مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور خاتونِ جنت سیدہ طیبہ فاطمہ زہرا بتول سلام اللہ علیہا کی بڑی بیٹی ، نوجوانانِ جنت کے سردار حضرت امام حسنؓ اور امام حسینؓ کی ہمشیرہ،حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ کی زوجہ محترمہ ، شہیدِ کربلا عون ومحمد کی والدہ گرامی اور کربلا کی شیر دل خاتون ہیں۔

سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی عظمت ورفعت کا اندازہ کون کر سکتا ہے کہ حسنین کریمینؓ کی طرح آپ سلام اللہ علیہا کئی مرتبہ دوشِ مصطفیﷺ پر سوار ہوئیں۔آپ سلام اللہ علیہا کے صبرواستقامت،جرأت وبہادری،مقام ومرتبہ،شرم وحیا،وفا،پاکیزگی وطہارت،تحمل ووقار،زہد وتقویٰ،عبادت وریاضت،جہاد ،ایثار،بلندیِ کردار اور عظمت وکردار کوبیان کرنے سے الفاظ قاصر ہیں۔ آپ سلام اللہ علیہا کے مقام ومرتبہ کا اندازہ کرنا اور احاطہ کرنا ممکن نہیں! صبرو استقامت،وفا،شرم وحیا،پاکیزگی وطہارت،تحمل ووقار، ۔۔ان تمام الفاظ کو رفعت آپ سلام اللہ علیہا کے کردار ہی کی بدولت ملی ہے۔مجھ ناچیز اور میری اس ناچیز لیکن پر خلوص تحریر کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ شاید میرا شمار بھی آپ سلام اللہ علیہا کے غلاموں کے غلاموں کے غلاموں۔۔۔میں ہو جائے اور کل بروزِ قیامت آپ سلام اللہ علیہا اپنے نانا جان سے مجھ عاصی کیشفاعت کا کہہ دیں۔
عاصی پہ یہ التفات مشکل تو نہیں لینا سندِ نجات مشکل تو نہیں
نانا سے کہیں میری شفاعت کیلئے (سیدہ)زینبؓ کیلئے یہ بات مشکل تو نہیں
سیدہ زینب سلام اللہ علیہا(زینبؓ یعنی باپ کی زینت)۵ جمادی الاول۵ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں۔آپ سلام اللہ علیہا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور حضرت فاطمہ زہرہ سلام اللہ علیہا کی تیسری اولاد تھیں۔جب آپؓ پیدا ہوئیں تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تھے۔یہ خبر خوشی کی سن کرواپس آتے ہی سیدھے بیٹی کے گھر تشریف لے گئے،بیٹی کو مبارکباد دی ،نواسی کو آغوش میں لیا،بوسہ دیا،نام ’زینب‘رکھا اور فرمایا:میری وصیت ہے کہ سب اس بچی کا احترام کریں،اسکی عزت و حرمت کا پاس رکھیں،یہ صورت وسیرت میں اپنی نانی خدیجۃ الکبریٰ(رضی اللہ عنہا)سے مشابہ ہے اور انہی کی طرح دین کیلئے قربانیاں دے گی۔ساتویں دن آپؓ کا عقیقہ ہوا۔ام کلثوم وام الحسن آپؓ کی کنیت اور صدیقہ صغری آپؓ کا لقب تھا۔
آپؓ کی تعلیم وتربیت اس گھرانے میں ہوئی جو تعلیم وتربیت کا گہوارہ تھا ،وہ اتنی بلندپایہ اور جامع کمالات شخصیات کا بے مثال گھرانہ تھا کہ روئے زمین پر کوئی ایسا گھر کہیں نہیں تھا،آپؓ کے نانا(ﷺ)ہادی برحق معلمِ کائنات،بابا (کرم اللہ وجہہ الکریم)بابِ شہر علم،ماں خاتونِ جنت سیدۃ النساء العالمین،بھائی جوانانِ جنت کے سردار۔۔گویا پنجتن پاک کے گلدستہ کمالات نے آپؓ کو اپنے جھرمٹ میں لے رکھا تھااور ہر آن ان کے فطری جوہر معراج کمال کی جانب محو سفر تھے۔رسول اللہﷺسیدہ فاطمہ زہرہؓ کی گود میں کلی زینبؓ کو بازوؤں میں تھام لیتے اور اپنی زبان چوساتے جب آپؓ آسودہ ہو جاتیں تو رسول اللہﷺ انہیں فاطمہؓ کی گود میں دیتے ہوئے فرماتے:نورِ نظر!میں نے زینبؓ کو سیر کر دیا ہے اب اسے چند پہر تسکین رہے گی۔مولا علیؓ بھی دن بھر کی مشقت کے بعد جب گھر آتے تو ننھی زینبؓ کو دیکھکر نہال ہو جایا کرتے ،بیٹی کو گود میں لیتے اور محبت آمیز حسرت سے اس کا چہرہ تکتے۔امام حسنؓ و امام حسینؓ کیلئے ننھی بہن قدرت کا ایک حسین تحفہ اور نعمت تھی ،دونوں بچے اس سے پیار کرتے نہیں تھکتے تھے لیکن ننھی زینبؓ چھوٹے بھائی حسینؓ کی طرف کچھ زیادہ ہی کھنچتیں،کبھی ماں کی گود میں بے چین ہوتیں یا روتیں تو حسینؓ کی گود میں آکر خاموش ہو جاتیں اور مسلسل ان کا چہرہ تکتی رہتیں،کبھی حسینؓ نظر نہ آتے تو ان کی بے قرار نظریں انہیں یہاں وہاں تلاش کرتی رہتیں،حسینؓ سامنے آجاتے تو پرسکون ہو جاتیں، گہوارے میں بھی نگاہِ حسینؓ کو ہی ڈھونڈتی رہتیں،حسینؓ کو دیکھ دیکھ کر جیتی،بھائی کی ذرا سی فرقت( جدائی)بھی آپؓ سے برداشت نہیں ہوتی تھی۔
آپؓ نے تقریباً چھ سال تک رسول اللہﷺکے سایہ رحمت میں اخلاقِ کریمانہ،معرفت توحید، استقلال وثبات قدم اور علم وحکمت کے بے پایاں خزانے یوں سمیٹے کہ ان کی فطری رفعتوں اور ذاتی عظمتوں کو چارچاند لگ گئے،اپنے والدِ گرامی سے آپ نے شجاعت وعلم کی صفات لیں،اپنی والدہِ گرامی کی عصمت وطہارت ،زہدو تقویٰ،صبروتحمل اور تربیت کے سارے جوہر ان کی شخصیت میں یوں رچے بسے کہ اپنی والدہ ماجدہ کا ہی نقشِ ثانی ہو گئیں،اپنے بھائی حسنؓ سے آپ نے حلم وبردباری کی صفات حاصل کیں اور اپنے بھائی حسینؓ سے شجاعت،بہادری،ایثار اور صبر کی صفات لیں۔آپؓ کے علم کا اندازہ کون کر سکتا ہے کہ آپؓ کے نانا(ﷺ) شہرِ علم اور آپؓ کے بابا باب علم ہیں۔آپؓ کے بچپن میں ہی علم ومعرفت کی عجب شان جھلکنے لگی:ایک روز آپؓ کے والدِ گرامی آپؓ کو گود میں لئے پیار سے کہہ رہے تھے کہ کہو بیٹی،ایک، آپؓ نے دوہرایا،ایک،علی(کرم اللہ وجہہ الکریم)بولے :بیٹی اب کہو،دو،زینبؓ نے سرنیاز جھکایا اور پورے معرفت ویقین سے بولیں کہ بابا جان جس زبان سے واحد کہا ہے اس سے دو کہنا زیب نہیں دیتا۔ اس چھوٹی سی عمر میں معرفت توحید کے اس شعور نے آپؓ کے والدِ گرامی کو مسرور کر دیا۔آپؓ کی چھوٹی چھوٹی سی معصومانہ باتوں میں گہری بصیرت اور عالمانہ شان جھلکتی تھی،ایک مرتبہ بچوں کی مخصوص عادتکے مطابق اپنے والد ماجد کے کان سے لگ کر بولیں :باباجان!بتائیے کہ کیا آپؓ ہمیں محبوب رکھتے ہیں ؟علی(کرم اللہ وجہہ الکریم)نے پیار سے سر پر ہاتھ رکھا کہا کہ جان پدر!تم تو میرے جگر کا ٹکڑا ہو،میں تمہیں کیوں نہ محبوب رکھوں گا!زینبؓ مسکرائیں اور بچپن کی معصومانہ ادا کے ساتھ گویا ہوئیں:باباجان! محبت تو صرف اللہ تعالیٰ کیلئے ہے ،ہمارے لئے تو شفقت ہے نا۔علیؓ نے بے اختیار آپؓ کو سینے سے لگا لیا اور متشکر لہجے میں بولے:یا اللہ !تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے ایسی باعظمت بیٹی عطا کی ہے۔آپؓ کی شخصیت کی تکمیل علوم سماوی اور لدنی سے ہوئی،علمِ الہٰی کی شعاعیں ہر سمت سے انہیں گھیرے ہوئے تھیں ،رسالت کی تمام تر اعلیٰ اقدار اور روایات سے ان کی شخصیت سج سنور رہی تھی،عمدہ نسوانی اوصاف اور بلند تر زندگی کے زریں اصول ان کے آنچل میں بندھے تھے۔
آپؓ تقریباًچھ سال تک اپنے ناناجان(ﷺ)کے ساتھ رہیں،حجتہ الوداع کے موقع پر آپؓ اپنے نانا جان(ﷺ)کے ساتھ تھیں اس وقت آپؓ کی عمرِ مبارک پانچ سال تھی۔اور یہ مکہ مکرمہ کی طرف آپؓ کااپنے نانا جان(ﷺ)کے ساتھ پہلا اور آخری سفر تھا۔آپؓ کی عمر مبارک سات سال تھی جب آپ کے نانا جان(ﷺ)جہانِ فانی سے پردہ فرما گئے جبکہ اسکے تقریباً چھ ماہ بعد آپؓ کی والدہ گرامیِ بھی اس جہانِ فانی سے پردہ فرما گئیں۔والدہ گرامی کا اس فانی دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد آپؓ کو ام البنینؓ والدہ گرامی عباس علمدارؓاور اسماء بنت عمیس جیسی بلندپایہ خواتین کے ساتھ رہنے کا موقع ملا ۔ ان دونوں شخصیات نے اولادِ حضرت فاطمہ زہراؓ کی اچھی دیکھ بھال کی اور زیادہ سے زیادہ عزت کی۔
سیدہ زینبؓ کی شخصیت کے نکھار میں آپؓ کے والد گرامی اور والدہ گرامی کی طرف سے عمل میں لائی گئی احتیاطوں نے اہم کردار ادا کیا۔جب کبھی آپؓ روضہ رسولﷺ کی زیارت کیلئے جاتیں تو نصف شب میں گھر سے باہر نکلتی تھیں اس کے ساتھ ہی آپؓ کے والدِ گرامی نے حسنین کریمینؓ کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ ہمیشہ اپنی بہن کے ساتھ جائیں امام حسنؓ بہن کے آگے آگے اور امام حسینؓ ان کے پیچھے پیچھے چلتے اور
جنابِ زینبؓ ان کے بیچ میں چلتی تھےِ،اسکے ساتھ ہی حضرت علیؓ نے یہ بھی حکم دے رکھا تھا کہ روضہ رسول ﷺپر جلنے والا چراغ بھی بجھا دیا جائے تاکہ نامحرموں کی نگاہیں حضرت زینبؓ پر نہ پڑیں۔
والدہ گرامی کے وصال کے بعدآپؓ کا گھر کی دیکھ بھال کرنا ،ہر فرد کا خیال رکھنا ،ہر ایک کی دلجوئی کرنا، کسی میں بھی تو فرق نہیں آتا تھا ۔عزیزوں رشتہ داروں اور ملنے جلنے والوں کے ساتھ آپؓ کا برتاؤ ایسا تھا کہ لوگ آپؓ کے وجود میں فاطمہ زہراؓ کا عکس دیکھتے تھے۔آپؓ کی شخصیت کے ہر پہلو ،اندازواطوار ، سلیقے اور رکھ رکھاؤاور ان کے اوصاف ووقار میں اپنی والدہ گرامی کی جھلک اس طرح نمایاں ہو گئی کہ آپؓ کو’ثانی زہرہ‘ کہا جانے لگا۔گھر کا سارا انتظام آپؓ کے ذمہ تھااپنی والدہ ماجدہ کے وصال کے بعد گھر کے امور نہایت خوش اسلوبی سے جناب فضہ کی مدد سے چلاتی رہیں اور ماں کے بعد ان کی قائم مقام وجانشین ثابت ہوئیں،وہ اپنے گھر میں بھائیوں سے چھوٹی ہونے کے باوجود نہایت اہمیت کی حامل رہیں حتی کہ دونوں بھائی گو سن وسال میں بڑے تھے لیکن آپؓ کی بے حد توقیر فرمایا کرتے تھے اور اپنے تمام خاندانی معاملات میں بہن سے مشاورت کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتے تھے،اور جب آپؓ اپنے بھائیوں سے ملنے کیلئے آتیں تو حسنین کریمینؓ آپ کیلئے کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔
آپؓ کے شرم وحیاکا یہ عالم تھا کہ یحیےٰ مازنی مدینہ طیبہ میں حضرت علیؓ کے پڑوس میں رہتے تھے کہتے ہیں کہ انہوں نے نہ کبھی حضرت زینبؓ کا قدوقامت دیکھا اور نہ کبھی آواز سنی۔نواسی رسولﷺ تیری پردہ داری کو سلام!
آپؓ کی عبادت کااندازہ کون کر سکتا ہے کہ آپؓ نے ساری عمر نماز تہجد ترک نہ کی حتیٰ کہ میدان کربلا میں اور معرکہ کربلا کے بعد سفرِ شام میں مصیبتوں کے باوجود آپؓ نے نماز تہجد ادا کی ،آپؓ نے اپنی تمام عمرِ مبارک عباد ت واطاعتِ الہٰی میں صرف فرمائی ،آپؓ کا اٹھنا،بیٹھنا،چلنا،پھرنا،سونا،جاگنا،سب حرکات وسکنات عبادت تھے،یومِ عاشور آخری رخصت کے وقت امام حسینؓ نے آپؓ سے فرمایا کہ اے
میری بہن زینبؓ!نافلہ شب(شب کے نوافل)پڑھتے وقت مجھے نہ بھولئے گا۔
آپؓ کے صبر وشکر کو الفاظ میں نہیں ڈھالا جا سکتا۔میدانِ کربلا میں اپنے سارا کنبہ لٹا دینے کے باوجود آپؓ کے پائے ثبات میں لغزش پیدا نہیں ہوئی۔اور آپؓ ہر حال میں راضی بہ رضا رہیں۔
اسی طرح آپؓ بے شمار خوبیوں کی مالک تھیں اور عالی اخلاق کا پیکر تھیں۔سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی خوبیوں کو کون شمار کر سکتا ہے آپؓ کی بلندی کردار کا اندازہ کون کر سکتا ہے آپؓ کے اوصاف کا شمار کہاں کیا جا سکتا ہے،آپؓ کامل ،اکمل جامع شخصیت تھیں۔آپؓ کے علم وفضل،سلیقہ شعاری،زہد وتقویٰ اور حسنِ اخلاق کی شہرت مدینہ بھر میں تھی۔مدینے کی سبھی خواتین آپؓ کی محافلِ علم ومعرفت میں شریک ہوتی تھیں ان میں سے کوئی ایسی نہیں تھی جو آپؓ کے بلند کردار(خوبی کردار)کی معترف نہ ہو۔
سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کو امام حسینؓ سے بہت زیادہ محبت کرتی تھیں جس کا بیان محال ہے،آپؓ ہمیشہ اپنے بھائی کے ہمراہ رہنے کی کوشش کرتی تھیں تاکہ آپؓ ہمیشہ حسینؓ کا چہرہ تکتے رہیں،امام حسینؓ سے آپؓ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ دن میں کئی مرتبہ ان سے ملنے آتی تھیں ،آپؓ اپنے بھائی امام حسینؓ کے چہرہ کی زیارت کرنے کے بعد نماز پڑھتی تھیں،سیدہ زینبؓ کو اپنے بھائی سے اتنی محبت تھی کہ جب آپ کی شادی ہوئی تو آپؓ نے یہ شرط رکھی کہ جب بھی آپؓ چاہیں گی اپنے بھائی سے ملنے آسکتی ہیں،ان کے ہمراہ سفر پر جاسکتی ہیں اور شوہر روکیں گے نہیں۔سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کو جو محبت امام حسینؓ سے تھی اس کو الفاظوں میں ڈھالنا ممکن نہیں!ایک لمحہ کی جدائی بھی امام حسینؓ سے آپؓ کو گوارا نہیں تھی۔روزِ عاشور آپؓ اپنے دوبیٹوں عونؓ اور محمدؓ کو لے کر اپنے بھائی کے پاس آتی ہیں اور عرض کرتی ہیں :میرے جد ابراہیمؓ نے قربانی تھی ،آپؓ بھی میری اس قربانی کو قبول کریں۔امام حسینؓ کو بھی اپنی بہن سے بہت محبت تھی امام عالی مقامؓ اپنی بہن کی بہت تعظیم فرمایا کرتے تھے،جب وہ آتیں تو کھڑے ہو جاتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بڑے بھائی اور رسول اللہﷺ کے چچیرے بھائی حضرت جعفر طیارؓ کے فرزند عبد اللہؓسے آپؓ کی شادی ہوئی۔سیدہ زینبؓ کے والد حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے خطبہ نکاح پڑا اور خطبہ نکاح پڑھنے سے پہلے آپؓ نے عبد اللہؓ کو مخاطب کر کے فرمایا:جان عم!میری بیٹی سے تمہارا عقد دو شرائط پر ہو گا اگر تمہیں قبول ہو تو ہم اس کا انعقاد کر لیں۔حضرت عبداللہ بن جعفرؓ نے ان شرائط کو قبول فرمایا،حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ عبداللہؓ میں تمہیں اور تمام حاضرین کو مطلع کرتا ہوں کہ اس عقد کی پہلی شرط یہ ہے کہ میری بیٹی زینبؓ جب چاہیں اس کو اپنے بھائی سے ملنے کی اجازت ہو گی ،وہ اپنے بھائی سے بے حد محبت کرتی ہے ،وہ یہ برداشت نہیں کر سکے گی کہ دن گزر جائے اور وہ اپنے بھائی حسینؓ کو نہ دیکھے۔اور دوسری شرط یہ ہے کہ جب اس کا بھائی حسینؓ مدینہ طیبہ چھوڑ کر کسی لمبے سفر پر روانہ ہو تو زینبؓ کو اسکے ہمراہ جانے سے نہ روکا جائے ،اسے اپنے بھائی کے ساتھ جانے کی اجازت بخوشی دی جائے ۔حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ کا شمار بھی مکہ کے مالدار تاجروں میں ہوتا تھا آپؓ بہت سخی تھے اور عرب کے مشہور جواد وکریم اور حضرت علیؓ کے جان نثار تھے۔حضرت عبداللہ بن جعفرؓ کی جو اولاد ہوئی ان کے نام یہ ہیں:علی،عون،اکبر،عباس،ام کلثوم،جعفر اکبر،محمد،عون محمد۔آپؓ کے بیٹے عونؓ ومحمدؓ میدانِ کربلا میں شہید ہوئے۔
حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ زینبؓ بہترین شریک حیات ہیں ،عبداللہؓ کی سخاوت جو پہلے ہی ضرب المثل تھی آپؓ کی شرکت سے دوچند ہو گئی تھی۔حضرت عبد اللہؓ آپؓ کا بے حد احترام کیا کرتے تھے اور آپؓ بھی ان کا بہت احترام کیا کرتی تھیں۔
حضرت علیؓ کے خلیفہ بننے کے بعد آپؓ نے دارالخلافہ کوفہ مقرر کیا اور کوفہ کی جانب روانگی اختیار کی اس وقت سیدہ زینبؓ بھی اپنے بابا کے ہمراہ کوفہ آگئیں،کوفہ میں امام علیؓ کی شہادت کے بعد آپؓ کے بھائی امام حسنؓ کو خلیفہ چنا گیا آپؓ اسلام کی سربلندی کا پرچم سنبھالے مدینہ واپس آگئے ،سیدہ زینبؓ بھیاپنے بھائیوں کے ہمراہ مدینہ لوٹیں۔مصیبت وآزمائش اور ابتلاء کے اس کٹھن دور میں سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اپنے بھائیوں کے ساتھ رہیں اور اپنے حصے کے فرائض کامیابی سے نبھاتی رہیں۔آپؓ کے بھائی امام حسنؓ کو زہر دے کر شہید کیا گیا،آپؓ نے اس موقع پر اپنے بھائی امام حسینؓ ،اور اپنے بھتیجوں کو سہارادیا اور تسلیوں دلاسوں کے ساتھ بڑے حوصلے سے انہیں سمیٹا۔سیدہ زینبؓ آپ کے صبروحوصلہ پر لاکھوں سلام!
والد ین کا گھر ہو،شوہر کا گھر ہو،مدینہ طیبہ ہو،مکہ مکرمہ ہو،کربلا ہو،کوفہ ہو،شام کا بازار ہو یا دربارِ شام ہو، کہیں بھی آپ کے پائے ثبات میں کبھی بھی لغزش پیدا نہیں ہوئی اور آپؓ ہر حال میں راضی بہ رضا رہیں ،آپؓ شام میں بھی تمام تر آلام ومصائب کے باوجود پرسکون اور پروقار رہیں۔آپؓ کا اپنے بھائی امام حسینؓ کے ساتھ مکہ سے مدینہ اور وہاں سے کربلا تک کا سفر غیر معمولی کارنامہ ہے۔واقعہ کربلامیں آپؓ نے جس صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا اس کا اندازہ کرنا ناممکن ہے،آپؓ راضی بہ رضا رہیں ،آپؓ نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنا سارا کنبہ لٹا دیا لیکن اپنی زبانِ اقدس پر ایک جملہ بھی ایسا نہ آنے دیا جو اللہ اور اسکے رسول ﷺکی ناراضگی کا باعث بنے،قربان جائیں سیدہؓ آپ کے صبروتحمل ،بردباری،جرأت وبہادری پر ہمارا سب کچھ آپؓ کے قدموں پر قربان،میدانِ کربلا میں آپؓ نے اپنی چشمانِ مبارک کے سامنے اپنے بھائی،بیٹوں،بھتیجوں کو قربان ہوتے دیکھا،اپنے بھائی حسینؓ جن کی جدائی آپؓ کو ایک لمحہ بھی گوارا نہ تھی کو اپنی آنکھوں کے سامنے شہید ہوتے دیکھا اور جس مقام پر دیکھا اسے ’تلہ زینبیہ‘ کہتے ہیں۔لیکن اپنا سارا کنبہ قربان ہوتے دیکھنے کے باوجود کربلا کی شیر دل خاتون سیدہ زینبؓنے یہ الفاظ ادا کئے کہ یا اللہ!ہماری اس قربانی کو قبول فرما ہم تیری رضا میں راضی ہیں۔اللہ کی قسم!آپؓ کے صبر کو الفاظوں میں نہیں ڈھالا جا سکتا ۔یاسیدہؓ!آپؓ کے صبر پر لاکھوں سلام!
واقعہ کربلا کے بعد استقامت،عبادت،ایثار،جہاد اور حمایت دین کا جو مظاہرہ آپ نے فرمایا اس کی مثالنہیں ملتی۔سیدہؓ واقعہ کربلا کے بعد دمشق میں اہلِ بیعت کے ساتھ رہیں،دس محرم کو امام حسینؓ کے شہید ہو جانے کے بعد یتیموں ،بیواؤں،بچوں ،جوانوں،عورتوں اور مردوں کی نگرانی،دشمنوں کے مقابلہ میں صبر و تحمل اور جرأت وبہادری کا مظاہرہ،لٹے ہوئے قافلے کا قید ہونا،کوفا میں ان کی لاجواب تقریریں اور عبداللہ بن زیاد کی گستاخیوں کا جواب،اسکے بعد سفرِ شام،شامی بازار اور یزید ملعون کے دربار میں اپنی حقانیت اور واقعات کربلا کا اعلان ،فصیح وبلیغ خطبے اور برخستہ جوابات،ایسے معلوم ہوتا تھا کہ حضرت علیؓ شیر خدا خطبہ دے رہے ہیں،امام زین العابدینؓ کو ابن زیاد کے بے رحم ہاتھوں سے زندہ بچا لانا بھی ان کی زندگی کا اہم کارنامہ ہے۔سیدہؓ آپ کے صبر وتحمل اور جرأت وبہادری کو کون بیان کر سکتا ہے ہمارے قلم عاجز ہیں۔آپؓ کے صبر وتحمل اور جرأت وبہادری پر لاکھوں کروڑوں سلام!
دمشق سے رہا ہو کر مدینہ تشریف لائیں تو واقعات کربلا کو موثر انداز میں بیان فرمایا،واقعہ کربلا کا جو ہمیں آج پتہ ہے وہ بھی سیدہ زینبؓ کے خطبات کی بدولت ہی۔آپؓ اپنے بھائی حسینؓ کی شہادت کے بعد کبھی مسکرائیں نہیں اور ڈیڑھ سال بعد15رجب المرجب62ہجری کو اس جہانِ فانی سے پردہ فرما گئیں،آپؓ کا روضہ اقدس ملک شام کے دارالحکومت دمشق میں ہے جہاں لاکھوں زائرین روزانہ حاضری دیتے ہیں۔اللہ پاک ہم سب کی آپؓ کے وسیلہ سے بخشش فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے!(آمین)
سیدہ زینبؓ کا دربار یزید میں خطبہ
سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کے دربار میں جس بہادری وجرأت سے خطبہ دیا وہ بہت مشہور ہے:
’تعریف اللہ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کو رب ہے اور درودوسلام رسولﷺ واہلِ بیت رسولﷺ پر! کتنی سچائی ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں کہ’آخر جن لوگوں نے برائیاں کی تھیں ان کا انجام بھی بہت برا ہوا ،اسلئے کہ انہوں نے اللہ کی نشانیوں کو جھٹلایا تھااور وہ ان کی ہنسی اڑاتے تھے۔یزید اگرچہ حادثاتِ زمانہ نے ہمیں اس موڑ پر لاکھڑا کیا ہے اور خاندان نبوتﷺ کو قیدی بنایا گیا ہے لیکن جان لے میرے نزدیک تیری طاقت کچھ بھی نہیں ہے،اللہ کی قسم،اللہ کے سو اکسی سے نہیں ڈرتی اسکے سوا کسی اور سے گلہ وشکوہ بھی نہیں کروں گی۔اے یزید مکروحیلے کے ذریعے تو ہم لوگوں سے جتنی دشمنی کر سکتا ہے کر لے ۔ہم اہل بیتِ پیغمبرﷺسے دشمنی کیلئے تو جتنی بھی سازشیں کر سکتا ہے کر لے لیکن اللہ کی قسم تو ہمارے نام کو لوگوں کے دل وذہن اور تاریخ سے نہیں مٹا سکتا اور تو ہماری حیات اور ہمارے افتخارات کو نہیں مٹا سکتا اور اسی طرح تو اپنے دامن پر لگے ننگ وعار کے بدنما داغ کو بھی نہیں دھو سکتا ، اللہ کی لعنت ہو ظالموں اور ستمگروں پر!
ان مظالم کو بیان کر کے جو یزید نے میدانِ کربلا میں اہل بیت رسولﷺپر روا رکھے تھے؛حضرت زینبؓ نے لوگوں کو سچائی سے آگاہ کیا آپؓ کے خطبہ کے سبب ایک انقلاب برپا ہو گیا جو بنی امیہ کی حکومت کے خاتمہ کی ابتداء تھی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehboob Hassan

Read More Articles by Mehboob Hassan: 36 Articles with 28764 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Apr, 2017 Views: 927

Comments

آپ کی رائے