بھارت’ اسرائیل گٹھ جوڑ اور پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی

(Muhammad Akram Khan Faridi, Sheikhupura)

اسرائیل اور بھارت کے درمیان تقریباً 2 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ طے پاگیا جو اسرائیل کا کسی بھی ملک سے ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔ معاہدے کے تحت بھارتی فوج اور بحریہ کو میزائل ڈیفنس سسٹم فراہم کیا جائے گا اوربھارت کو جدید ایئر ڈیفنس سسٹم فراہم کرے گا جس میں میڈیم رینج زمین سے فضا تک مار کرنے والے میزائلز، لانچرز اینڈ کمیونیکیشنز اور کنٹرول ٹیکنالوجی شامل ہیں اور اس کی مالیت تقریباً 1․6 ارب ڈالر ہو گی علاوہ ازیں بھارت کے زیر تعمیر اولین طیارہ بردار بحری بیڑے میں نیول ڈیفنس سسٹم بھی نصب کیا جائے گا جس میں طویل فاصلے تک زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلز موجود ہوں گے۔ اسرائیل بھارت کو اسلحہ فروخت کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے جبکہ امریکی کانگریس کی رپورٹ کے مطابق 2008 ء سے 2015 ء کے دوران بھارت ترقی پذیر دنیا کا اسلحہ خریدنے والا دوسرا بڑا ملک تھا۔ کچھ عرصہ قبل تک بھارت اسرائیل کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو خفیہ رکھتا تھا تاہم نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد بھارت نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا کھل کر فائدہ اٹھانا شروع کیا اور نریندر مودی رواں برس اسرائیل کا دورہ بھی کرنے والے ہیں۔ دراصل جب سے پاکستان معرضِ وجود میں آیا بھارت ہمیشہ سے وطنِ عظیم کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا ، کون نہیں جانتا کہ 1971ء کی جنگ میں بھارت نے پاکستان کی سلامتی کو سازش کا شکار بناتے ہوئے مکتی باہنی کی سازش کے تحت پاکستان کو دوٹکڑے کروادیا بعد ازاں ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کرکے پاکستان کی سلامتی کیلئے مزید خطرات پیدا کئے تو اس پیارے وطن کی سلامتی کے تحفظ کی خاطر پاکستان نے نوجوان محب وطن ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہالینڈ سے واپس بلوایا اور انہیں ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کی ذمہ داری سونپ دی گئی ۔

قارئین! بعد ازاں پاکستان نے 28 مئی 1998ء کو چاغی کے پہاڑوں میں ایٹمی بٹن دبا کر پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کا اعلان اس وقت کیا جب اس سے چندروز قبل بھارت کی جانب سے دوسری بار ایٹمی دھماکے کرکے اپنے ایٹمی قوت ہونے کا دوبارہ اعلان کیا گیاتھا ۔۔ درحقیقت پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں سب سے زیادہ کردار کسی دیگر ملک کی بجائے بھارت کا ہے جو کہ پاکستان کے خلاف مسلسل سازشیں کرتا رہا اور وطنِ عزیز نے بالآخر تنگ آکر خود کو ایٹمی قوت بنایا ۔ دوسری جانب بھارت نے اتنے زیادہ ایٹمی ہتھیار اور ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرلی ہے کہ آج علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو اسکے ہاتھوں سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے جو اپنی ایٹمی قوت کے بل بوتے پر خطے کے بیشتر چھوٹے ممالک کو خوف زدہ کرچکا ہے اور پاکستان کے علاوہ چین کو بھی بیک وقت فتح کرنے کے خواب دیکھتا ہے ۔اس حقیقت کو بھی جھٹلانا نا ممکن ہے کہ اگر پاکستان نے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل نہ کی ہوتی تو بھارت کب کا اسے ہڑپ کر چکا ہوتا چنانچہ انتہا پسند ہندو کے ہاتھ اب تک ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی نے ہی روکے ہوئے ہیں۔ دنیا اس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلا سکتی کہ اس تناظر میں خود کو ایٹمی قوت سے ہمکنار کرنا پاکستان کی ضرورت اور مجبوری تھی تاہم اس نے ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے اپنے ایٹمی قوت ہونے کے باوجود خواہ مخواہ بڑ ھکیں نہیں ماریں اور نہ ہی بھارت کی طرح اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی کبھی اس انداز میں نمائش کی ہے کہ اس سے ہمارے خطہ یا اقوام عالم میں سے کسی کو خطرہ محسوس ہو۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کے جنگی عزائم خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت کی ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی ڈاکٹرائن جھوٹ پر مبنی ہے پاکستان نے ہمیشہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی بات کی ہے کیوں کہ ہمارے ملک کی ذی شعور فوجی قیادت جانتی ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کرنے کے خوفناک نتائج ہوسکتے ہیں،پاکستان کی تجویز کردہ سٹرٹیجک ریسٹرین رجیم ایٹمی تصادم سے بچنے کی بہترین حکمت عملی ہے، بھارتی عوام کو بھی معلوم ہونا چاہئے کہ بھارتی قیادت کی منفی حکمت عملی بقائے باہمی اصولوں کے خلاف ہے، جو کہ دونوں ممالک کی عوام کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ بھارت لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی کرتا ہے اور یہ عمل دونوں ممالک کے درمیان 2003ء کے فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔بھارت ’اسرائیل اور امریکہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کے مضبوط ہاتھوں میں مکمل محفوظ ہے جس پر بھارت کی شہ پر اسرائیل شب خون مارنے کی ناکام کوشش کرچکا ہے تاہم اس مقصد کیلئے اڑان بھرنے والے اسکے طیارے پاک فضائیہ کے دستے نے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی نیست و نابود کر دیئے تھے۔ بعد ازاں امریکہ نے بھی ایٹمی ٹیکنالوجی یہاں سے چرالے جانے کی کوشش کی جس پر اسے پاکستان کی کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کی فعالیت کے باعث ہی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ نے پاکستان کو ایٹمی دھماکے سے روکنے کیلئے بھی اس پر سخت دباؤ ڈالا اور ایٹمی دھماکوں کے بعد اس پر اقوام متحدہ کے ذریعے اقتصادی پابندیاں عائد کرادی گئیں۔ اسکے برعکس امریکہ نے بھارت کے پہلے ایٹمی دھماکے کے وقت بھی اور پھر دوسرے دھماکے کے بعد بھی اسکے معاملہ میں خاموشی اختیار کئے رکھی اور اسے کسی قسم کی عالمی اقتصادی پابندیوں کی زد میں نہیں لایا گیا۔ امریکہ کی جانب سے ایسی ہی شفقت اسرائیل کے ساتھ بھی کی گئی ہے جبکہ یہ دونوں ممالک اس وقت علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے بہت بڑے خطرے کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ایٹمی عدم پھیلاؤ کیلئے امریکہ کا آج بھی پاکستان پر سخت دباؤ ہے جس پر پاکستان نے کم از کم ڈیٹرنس کو برقرار رکھ کے اپنی سلامتی کی خاطر ایٹمی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اسکے باوجود امریکہ نے گزشتہ سال نہ صرف پاکستان کی نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کیلئے سخت مخالفت کی بلکہ بھارت کو اس گروپ کی رکنیت دلوانے کیلئے اس گروپ کے رکن ممالک میں باقاعدہ لابنگ بھی کی۔ چونکہ اس گروپ کی رکنیت کیلئے طے شدہ قواعد و ضوابط کے تحت اس گروپ کے تمام ارکان کے اتفاق رائے سے ہی کسی نئے ملک کو رکنیت دی جا سکتی ہے اس لئے بھارت کی رکنیت کیلئے اکیلے چین کی مخالفت ہی موثر ثابت ہوئی اور بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت دلوانے کیلئے امریکہ کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ اب امریکہ کی جانب سے بھارت کو اس گروپ کی رکنیت دلوانے کی اس سال بھی بھرپور کوشش کی جارہی ہے جس کا چین کی جانب سے بھی بھارت کی مخالفت کی صورت میں موثر جواب سامنے آچکا ہے۔ اس سلسلہ میں چین نے یہ اصولی موقف اختیار کیا ہے کہ رکنیت کیلئے کسی ملک کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے اور بھارت کو رکنیت دینی ہے تو پھر پاکستان کو بھی نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بنالیا جائے۔اس وقت بھارت کیلئے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کیلئے امریکی لابنگ کا سلسلہ انتہاء تک پہنچ چکا ہے جسے مودی سرکار کی جنونیت اور پاکستان کی سلامتی کیخلاف اسکے ننگے عزائم کے باعث علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق ہونیوالے سنگین خطرات کا بھی احساس نہیں اور وہ ان حقائق کو بھی نظرانداز کررہا ہے کہ بھارت کی ایٹمی ٹیکنالوجی انتہائی غیرمحفوظ ہے جس کا ایٹمی مواد چوری بھی ہوچکا ہے اور گزشتہ سال اسکے ایٹمی پلانٹ کو آگ لگنے سے پورے علاقے میں تباہی ہوئی جبکہ اسکے متعدد ایٹمی سائنس دان قتل بھی ہوچکے ہیں۔ اس صورتحال میں بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت دینا بندر کے ہاتھ میں ماچس دینے کے مترادف ہوگا۔ اسکے برعکس پاکستان کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت ملتی ہے تو جہاں اس سے پاکستان کے ساتھ ایٹمی جنگ کیلئے بے تابی والے بھارتی عزائم روکنے میں مدد ملے گی وہیں پاکستان کی ایٹمی عدم پھیلاؤ کی پالیسی اور کوششوں سے دنیا ایٹمی ہتھیاروں سے ممکنہ نقصانات سے بھی بچ جائیگی۔ اگر چین کی طرح امریکہ بھی پاکستان کی نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کیلئے قائل ہو جائے اور چین کا یہ موقف تسلیم کرلے کہ رکنیت کیلئے کسی ملک کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے تو پاکستان کیلئے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوسکے گی۔ آج بھارتی جنونیت کی موجودگی میں پاکستان کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بنانا وقت کا تقاضا ہے۔ اگر پاکستان کی جانب سے پوری فعالیت کے ساتھ سفارتی کوششیں بروئے کار لائی جائیں تو بھارت کے مقابل پاکستان کیلئے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کا حصول زیادہ آسان ہوگا۔قارئین ! پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے جو عالمی برادری سے مل کر بہتر اور محفوظ مستقبل کیلئے کام کررہا ہے اور ہمیشہ کی طرح موجودہ حکومت بھی تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے مکمل تحفظ اور عدم پھیلاؤ کی یقین دھانی کراتی ہے ۔جبکہ حکومت اور ملکی سلامتی سے متعلقہ اداروں نے ہمیشہ اس بات کی یقین دھانی کروائی ہے کہ تباہی پھیلانے والے ہتھیار ریاستی و غیرریاستی عناصر کے ہاتھ نہیں لگنے دینگے۔ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق پالیسی اور اقوام عالم کیلئے اسکی ضرورت کا احساس رکھتا ہے اور پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کے غلط ہاتھوں میں نہ جانے دینے کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے اور باور کرایا ہے کہ وہ دنیا میں جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنے کی کوشش کریگا۔ بہر حال موجودہ حالات کے تناظر میں دنیا میں قیام امن سب سے اہم مسلہ ہے۔اور دنیا بھر کے حکمرانوں کو قیام ِ امن کی خاطر بھارت اور اسرائیل جیسے دہشت گرد ی پھیلانے والے ممالک کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے اور مثبت کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا چاہئے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Akram Khan Faridi

Read More Articles by Muhammad Akram Khan Faridi: 19 Articles with 7662 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Apr, 2017 Views: 303

Comments

آپ کی رائے