بچھیری کو کیا جواب دوں ؟

(Munir Bin Bashir, Karachi)

سون سکیسر-
یہ علاقہ پنجاب میں خوشاب کے قریب پہاڑوں پر واقع ہے
لوگ سخت جان بھی ہیں اور اسی لحاظ سے اکھڑ مزاج بھی

احمد ندیم قاسمی اور آج کل کے مقبول کالم نگار عبدالقادر حسن کا تعلق اسی علاقے سے ہے-

یہ یہیں کا قصہ ہے

وہاں دو بھائی اپنے غلط کاموں ،لوٹ مار ، غارت گیری کے لئے مشہور تھے - کسی قتل کیس میں پکڑے گئے- پولیس نے جو کیس ان کے خلاف مرتب کیا اس کے مطابق قتل انہی دو بھائوں نے کیا تھا حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اس قتل کا ان بھائیوں کے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا

ان دو بھائیوں کی ماں بھی اس بات کی رو رو کر قسمیں کھا کر لوگوں کو یقین دلا رہی تھی کہ قتل کی شب تو وہ سب دوسرے پنڈ میں اپنی بہن کے گھر میں اس ماں کے ہمراہ تھے -

لیکں دوسری جانب پولیس کا اپنی تحقیقات تھیں

ماں پیروں فقیروں کے پاس جا جا کرکہہ رہی تھی کہ اس کے بیٹوں کے لئے دعا کریں -وہ بالکل بے قصور ہیں -

تب اس کی ماں کو کو کسی نے مشورہ دیا کہ ایک مجذوب سا فرد کہیں دور دوسرے گاؤں میں رہتا ہے - اس کے پاس جاؤ اور اس سے دعا کے لئے کہو -

ماں کافی طویل فاصلہ طے کرکے اس پیر مجذوب کے پاس پہنچی اور ساری رواداد گوش گزار کی - مجذوب نے نگاہیں اوپر کیں اور کہا "پر میں اس بچھیری نوں کیہہ جواب دیواں " ( یعنی میں اس بچھیری کو کیا جواب دوں ) - اس کے بعد با لکل خاموشی اختیار کر لی - ماں پوچھتی رہی لیکن اس کے بعد وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا-- خاموشی ---گھمبیر سناٹا ---
بچھیری چھوٹی عمر کی گھوڑ ی یا گھوڑی کے بچے کو کہتے ہیں - ماں پھر روتی دھوتی اپنے گاؤں پہنچی اور بچوں ن سے سارا ماجرا بیان کیا -
اچانک چھوٹے بیٹے کو کچھ یاد آیا اس نے ایک دم اپنے بڑے بھائی کو
جھنجھوڑ تے ہوئے کہا ‘بھرا یاد کر --ذرا یاد کر ----- وہ ھم نے بڑے پنڈ میں جو واردات کی تھی -گھوڑی کے بچے کو مار دیا تھا "

بڑا بھائی چونک پڑا -

ماں کے پوچھنے پر چھوٹے بھائی نے بتایا کہ کافی عرصہ قبل کسی گاؤں میں واردات کر کے واپس آرہے تھے کہ کسی گھر کے باہر انہیں ایک سفید گھوڑی بندھی نظر آئی - سفید گھوڑی انکی کمزوری تھی - گھوڑی کو اسکے کھونٹے سے کھولا اور اپنے ساتھ لےکر روانہ ھو گئے

لیکن وہ یہ دیکھ کر جھنجلارہے تھے کہ گھوڑی کی رفتار اتنی تیز نہیں ہے اور وہ بار بار مڑ کر پیچھے دیکھ رہی ھے -انہوں نے بھی مڑ کر دیکھا تو انھیں اس گھوڑی کا بچہ نظر آیا جو لڑھکراتا ھوا پیچھے بھاگا آرہا تھا -اور گھوڑی اپنے اس بچے کے سبب پریشان تھی - ایک بھائی نے گھوڑی کو روکا اور اس کے بچے کو اٹھایا -بغل میں دابا اور پھر گھوڑی کو ایڑ لگائی - اب گھوڑی صحیح رفتار سے بھاگ رھی تھی - اپنے گاؤں پہنچ کر انہوں نے گھوڑی کے بچے کو ایک کنوئیں میں پھینک دیا - گھوڑی کے بچے کے پانی میں گرنے کی ایک “شڑاپ “ سی آواز آئی اور فضا میں پھیل گئی - لیکن اس سے بھی زیادہ ہیبت ناک وہ چیخ کی آواز تھی جو گھوڑی کے منہ سے نکلی تھی - درختوں پر بیٹھے ہوئے پرندے دہل گئے اور مختلف آوازیں نکالتے ہوئے ہوا میں بے چینی سے اڑنے لگے - ایک عجب سا شور مچ گیا لیکن دونوں بھائی ان سب سے لاپرواہ اپنی اگلی منزل کی طرف بڑھ گئے -
مجذوب کا یہی کہنا تھا وہ گھوڑی سامنے کھڑی سوال کر رہی ہے کہ ان دو بھائیوں کو کب سزا ملے گی - اور یوں ایک ناکردہ کیس مٰیں پکڑے گئے ہیں -

مجذوبوں پر مجھے اتنا یقین نہیں ---لیکن عبدالقادر حسن نے اپنے کالم میں یہ کہانی سنائی تو اس کہانی نے کافی متاثر کیا -
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 104 Articles with 179208 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More
22 Apr, 2017 Views: 3303

Comments

آپ کی رائے
بلا شبہ یہ حقیقت ہے کہ ۔۔ لوگ کردہ گناہ کی سزا کو یکسر فراموش کردیتے ہیں
By: Syed HAssan Faraz, Lahore on Apr, 25 2017
Reply Reply
0 Like
One comment at Face book about this article from Malika Khan
<< Majzob ki baat apni jaga per Allah to bezubano ka bhi ha
Or maa phir maa hote ha >>
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Apr, 24 2017
Reply Reply
0 Like