فخرِ پاکستان، بیسویں اور اکیسویں صدی کے سائنسدان(حصہ سوّم)

(Shehla Khan, )

نعیم احمد خان
122 اپریل 1928 میں ہوشیارپور میں پیدا ہوۓ۔ نعیم احمد نیوکلیئر عالم طبیعات اور ماہر موسمیات ہیں جو سولڈ اسٹیٹ نیو کلیئر ٹریک ڈیٹیکٹر اور سولڈ اسٹیٹ نیوکلیئر مقناطیسیریزونینس کے میدان میں اپنے کام کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ نعیم احمد پاکستان ائرفورس اکیڈمی، رسالپور میں میٹیئرولوجی کے پروفیسر ہیں اور ائر یونیورسٹی پاکستان ائرفورس میں نیوکلیئر فزکس کے وزیٹنگ پروفیسر ہیں۔ 1970 کی دہائ میں نعیم احمد نے پی اے ای سی میں سینئر سائنسدان کے طور پر ایٹم بم کی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ 1984 میں پاکستان کاؤنسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ میں چیئر مین کے طور پر شامل ہوۓ جہاں انھوں نے اس تنظیم کی 5 سال قیادت کی۔ 1989 میں کمیٹی آن سائنٹیفک اینڈ ٹیکنالوجی کوآپریشن کے ایڈوائزر بنے جہاں انھوں نے سات سال کام کیا۔ 1996 میں پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے وائس پریذیڈنٹ بنے۔ یہاں انھوں نے ایک سال کام کیا۔ 1997 میں کراچی یونیورسٹی میں ایپلایئڈ فزکس پڑھائ۔ 2004 میں لاہور اور پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر بن گۓ۔ 2007 میں آپ رسالپور آۓ اورپاکستان ایئرفورس اکیڈمی میں میٹیئرولوجی پڑھانے لگے۔ 1992 میں نعیم احمد کو ان کی خدمات کے عوض پی اے ایس گولڈ میڈل دیا گیا۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد رحمان
5 جنوری 1944 کو پشاور میں پیدا ہوۓ۔ ڈاکٹر رحمان نامور کارڈیک سرجن ہیں۔ آپ رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ، رحمان میڈیکل کالج اور رحمان میڈیکل سینٹر کے بانی ہیں۔ ڈاکٹر رحمان نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیوویسکیولر ڈیزیزز کراچی میں کنسلٹنٹ کارڈیک سرجن کے طور پر کام کیا پھر اسی انسٹیٹیوٹ میں کارڈیک سرجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ بن گۓ اور وہاں 28 سال خدمت کی۔ اس دوران وہ کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز پاکستان کے کارڈیک سرجری کے ڈین فاکلٹی بھی رہے۔ آپ جنرل آف کارڈیوویسکیولر اینڈ تھوراسک سرجنز کے ایڈیٹر اور بانی بھی ہیں۔ آپ کی خدمات کے عوض گورمنٹ آف پاکستان نے 2002 میں ستارہ امتیاز دیا۔

ڈاکٹر غلام دستگیر عالم قاسمی
1937 فریدآباد ہریانہ میں پیدا ہوۓ۔ 5 دسمبر 2000 کو وفات پائ۔ آپ جی ڈی عالم کے نام سے مشہور تھے۔ آپ تھیوریٹکل عالم طبیعات اور قائداعظم یونیورسٹی میں ریاضی کے پروفیسر تھے۔ 1970 کی دھائ میں آپ پاکستان کے اٹامک بم بنانے کے پروجیکٹ کے دوران گیس سینٹریفیوج پراجیکٹ کی ریسرچ کے لئے مشہور ہیں۔ آپ اپنی پوری زندگی میں گامارے برسٹس اور گیج تھیوری پر ریسرچ کرتے رہے۔ 1967 میں جے بی ہیسٹڈ، یونیورسٹی کالج لندن سے پی ایچ ڈی کیا اور وطن واپس آ کر پنزٹیک کے ساتھ منسلک ہوگۓ جہاں انھوں نے فژن فزکس کے لیڈر کے طور پر کافی سال کام کیا۔ پی اے ای سی نے 1976 میں ایک اہم پراجیکٹ یورینیم اینرچمنٹ پر شروع کیا تو آپ کو اس میں شمولیت کی دعوت دی۔ جی ڈی عالم اور پینزٹیک سے سائنسدانوں کی ایک ٹیم اس پراجیکٹ کے لئے پی ای ای سی گئ۔ جی ڈی عالم اور ان کی ٹیم نے دن رات انتہائ جذبہ، محنت اور لگن سے کام کیا۔ 1980 کی شروع کی دھائ میں جی ڈی عالم اور ان کی ٹیم پہلے سائنسدان تھے جنھوں نے اینرچمنٹ پراجیکٹ کی کامیابی میں تاریحی کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان نیوکلیئر کی تاریخ میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کی خدمات کے عوض 1983 میں انھیں ہلال امتیاز دیا گیا۔

مسعود احمد خان
1942 میں لاہور مین پیدا ہوۓ۔ مسعود احمد نامور تھیوریٹکل عالم طبیعات ہیں۔ انھوں نے اٹامک بم بنانے کے پروجیکٹ کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آپ ڈاکٹر عبدالسلام کے شاگرد تھے۔ 1970 میں تھیوریٹکل فزکس گروپ کے ممبر بنے۔ مسعود احمد ان سائنسدانوں میں سے ایک تھے جنھیں ملک کے پہلے کامیاب ایٹمی دھماکے چاغی 1، 28 مئ 1998 اور چاغی 2، 30 مئ 1998، میں شمولیت کے لئے بلایا گیا۔ ان کے ایوارڈز، ہلال امتیاز ، 1998چاغی میڈل 1998، ستارہ امتیاز ،1998 خوارزمی انٹرنیشنل ایوارڈ 2000

اقبال حسین قریشی
27 ستمبر 1937 کو اجمیر میں پیدا ہوۓ۔ 8 دسمبر 2012 کو ان کی وفات ہوئ۔ آپ نیوکلیئر کیمسٹ اوراسلام آباد کے انسٹیٹیوٹ آف انجینیئرنگ اینڈ ایپلائیڈ سائنسز میں کیمسٹری کے پروفیسر تھے اور وہاں اپنی زندگی کے کافی سال ریسرچ سائنسدان کی حیثیت سے گزارے۔ پاکستان میں نیوکلیئر میڈیسن کی ترقی میں اقبال حسین کا بہت بڑا حصہ ہے۔ 1991 میں پی اے ای سی میں چیف ٹیکنیکل آفیسر کے طور پر متعین ہوۓ اور 1996 میں وہاں سے ریٹائر ہوۓ۔ انھوں نے نیوکلیئر کیمسٹری پر بہت سی کتابیں اور آرٹیکلز لکھے۔ آپ ایک ایسے ہر فن مولا سکالر تھے جنھوں نے کئ عوامی محفلوں میں ستار بھی بجایا۔ پی اے ای سی میں اپنی اچھی کارکردگی کی بنا پر بیت سے سائنٹفک اعزازات جیتے۔ گولڈ میڈل اور فیلوشپ، پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کی طرف سے 1994، ستارہ امتیاز 1992، خوارزمی ایوارڈ 1997

ڈاکٹر طاہر حسین
1928 میں علی گڑھ میں پیدا ہوۓ اور 2010 میں اسلام آباد میں وفات پائ۔ آپ نیوکلیئر عالم طبیعات تھے اور گورمنٹ کالج یونیورسٹی میں نیوکلیئر فزکس کے امریطس پروفیسر تھے۔ ان کی ریسرچ لانگ لِیوڈ فژن پروڈکٹ اور الیکٹرواسٹیٹک نیوکلیئر ایکسیلریٹرز پر تھی۔ 1965 میں ہائ ٹینشن لیبارٹری کے ہیڈ بنے۔ 1968 میں آزاد کشمیر یونیورسٹی، مظفرآباد کے وائس چانسلر بنے۔ آپ منسٹری آف ایجوکیشن پاکستان سے منسلک رہے اور وہاں سائنس کے کنسلٹنٹ اور چیئر مین کے طور پر کام کیا۔ آپ کے بین الاقوامی اہمیت کے حامل ریسرچ پیپرز بھی شائع ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹر طایر حسین کا پہلی نیوکلیئر ریسرچ لیبارٹری کی بنیاد اور ترقی میں بہت حصہ ہے۔ پی اے ای سی میں سینئر سائنسدان کے طور پر انھوں نے اپنی ریسرچ الیکٹرو اسٹیٹک نیوکلیئر ایکسیلریٹرز میں شروع کی اور بعد میں لانگ لِیوڈ فژن پروڈکٹس پر ریسرچ اور توجہ رکھی۔ آپ 1977 میں یونیورسٹی آف پنجاب کے سینٹر فار فزکس میں شامل ہوۓ۔ 1965 میں آپ کو تمغہ امتیاز دیا گیا۔

نور محمد بٹ
3 جون 1937 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوۓ۔ آپ نیوکلیئر عالم طبیعات ہیں اور پریسٹن انسٹیٹیوٹ آف نانو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں نانو ٹیکنالوجی کے پروفیسر اور چیئرمین ہیں۔ آپ نیوٹرون ڈیفریکشن کی ریسرچ میں بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں۔ 1961 میں پی اے ای سی میں پرنسپل سائنٹفک آفیسر کی حیثیت سے شامل ہوۓ پھر ان کا تبادلہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کر دیا گیا جہاں ڈاکٹر عبدالسلام کی مدد سے نیوکلیئر فزکس ڈویژن میں ڈائریکٹر جنرل مقرر ہو گۓ۔ نور محمد "نیولیبس" کے پہلے ٹیکنیکل ڈائریکٹر تھے۔ میں پاکستان نیوکلیئر سوسائٹی کے صدر اور 1996 میں ڈائریکٹر جنرل بن گۓ۔ 1998 میں پاکستان کے پہلے کامیاب ایٹمی دھماک میں سائنسدانوں کی ٹیم میں شامل تھے۔ 1998 میں پی اے ای سی سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ 2000 میں پی اے ای سی نے پنزٹیک کا "سائنٹسٹ آف امریطس" بنا دیا۔ اپنی ریٹائرمنٹ تک انھوں نے 125 ملکی اور غیرملکی کانفرنسوں میں حصۃ لیا۔ آپ اخباروں میں آرٹیکلز بھی لکھتے رہے ہیں اور سائنس اور ٹیکنالوجی پر وقتاً فوقتاً ٹی وی اور ریڈیو پروگراموں میں بھی حصہ لیتے رہے ہیں۔ اعزازات، خوارزمی ایوارڈ 1995، ستارہ امتیاز 1992، گولڈ میڈل پاکستان اکیڈمی آف سائنسز 1990، آئ سی ٹی پی ایوارڈ ان سولڈ اسٹیٹ فزکس 1979، آئ سی ٹی پی ایوارڈ ان نیوکلیئر فزکس 1870، اکیڈمک رول آف آنر 1957، ینگ سن گولڈ میڈل، مرے کالج 1955، گولڈ میڈل مرے کالج 1955

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shehla Khan

Read More Articles by Shehla Khan: 28 Articles with 19639 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 May, 2017 Views: 683

Comments

آپ کی رائے