گندگی کے اعتبار سے شہر قائد کراچی دنیا میں7ویں نمبر پر

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

گندگی ، صاف پینے کا پانی، نکاسی آب کا ناقص انتظام، زہر آلود فضا، بے ہنگم ٹریفک کا سمندر، انتہائی ناقص رکشاؤں اور بسوں کا سڑکوں پر دوڑنا، جگہ جگہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر اور ان کو جلایا جانے کے اعتبار سے کراچی اس وقت دنیا کے شہروں میں 7ویں نمبر پر ہے۔ یہ بات میں نہیں کہہ رہا ، کوئی ٹی وی چینل نہیں کہہ رہا، کسی اخبار کی اپنی رپور ٹ نہیں ہے بلکہ عالمی تنظیم برائے صحتWHOاور ایک سروے کرنے والا ادارہ Mercerکی رپورٹ ہے جس میں کہا گیا ہے دنیا کے تمام ممالک کے شہروں کی حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق جب جائزہ لیا گیا تو صورت حال یہ سامنے آئی کہ گندگی اور ناقص انتظام کے اعتبار سے کون کون سے شہر دنیا میں بدترین گندے شہر وں میں شامل ہیں ۔پوری دنیا کی آدھی آبادی شہروں میں رہتی ہے۔یہی وجہ رہی اس سروے کی سروے کرنے والے ادارے نے دنیا کے 1600 شہروں کا انتخاب کیا۔ یہ شہر یورپ، نارتھ امریکہ، افریقہ اور ایشیائی ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔ عوام الناس کو فراہم کی جانے والے بنیادی سہولتوں کا جائزہ لیتے ہوئے 17شہروں کی ایک فہرست مرتب کی گئی جنہیں دنیا میں گندے ترین ملک میں شمار کیا گیا۔ اس فہرست میں پاکستان کے دو شہر شامل ہیں ، کراچی اس فہرست میں 7ویں نمبر ہے جب کہ پشاور کا نمبر 8واں ہے۔ ان شہروں کو dirtiesst Citiesکہا گیا ہے۔کراچی کی یہ صورت حال کب سے ہے اس کے بارے میں تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ویسے یہ سروے 2008سے 2013 کے درمیان کی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا۔ پہلا یہ دیکھتے ہیں کہ اس فہرست میں اور کون کون سے ممالک کے شہر شامل ہیں۔

ہمارا پڑوسی دشمن ملک بھارت دنیا میں قتل و غارت گری میں تو اول نمبر پر ہے ہی وہ شہروں میں گندگی کے اعتبار سے سر فہرست ہے۔ بھارت کے 7شہر اس فہرست میں شامل ہیں ، دنیا کا سب سے گندہ ترین شہر دہلی کو قرار دیا گیا ہے دوسرے نمبر پر بھارت کا شہر پٹنہ ہے، اسی طرح چوتھے نمبر پر گوالیار، پانچویں پر رائے پور، تیرھویں پر ممبئی، چودھویں پر احمد آباد اور پندھرویں نمبر پر لکھنؤ ہے۔ بھارت کے سات شہر ایسے ہیں جنہیں عالمی تنظیم برائے صحت اور دیگر سروے کرنے والے ادارے نے دنیا کے گندے ترین شہروں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ پاکستان کے شہروں میں کراچی کے علاوہ پشاور آٹھویں نمبر پر اور راولپنڈی دسویں نمبر ہے۔ ایران کا صرف ایک شہر خرم آباد گیارھویں نمبر پر اسی طرح بنگلہ دیش کا شہر ڈھاکہ سولھویں نمبر پر ہے۔

کراچی کی جو صورت حال اب ہے بلکہ چند سالوں سے ہے اسے دیکھتے ہوئے تو اس شہر کو دنیا کے گندے ترین شہروں کی فہرست میں اول نمبر پر ہونا چاہیے۔ کراچی کی یہ ابتر صورت حال کیوں ہوئی ؟اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ بنیادی سوال ہیں اس سروے سے اٹھتے ہیں۔ کراچی ایک میٹروپولیٹن سٹی ہے جس کی آبادی World Population Reviewکے اعداد و شمار کے مطابق2016 میں 16ملین تھی ، گزشتہ 15 سالوں میں اس کی آبادی میں 50 فیصد اضافہ بتا یا گیا، شہر میں آبادی کا سالانہ اضافہ 5 فیصد ہے ، یہاں ہر ماہ 45000ہزار افراد دیگر شہروں سے روز گار کی غرض سے آتے ہیں، ریویو کے مطابق 2017میں کراچی شہر کی آبادی 196,744,376ہوجانے کی توقعہ ہے۔ اس شہر کے بعض علاقوں کو تو منصوبہ بندی کے تحت بسایا گیا لیکن زیادہ تر یہ شہر از خود خود رو پودوں کی مانند بستہ چلا گیا۔ جن علاقوں کو منصوبہ بندی کے تحت بسایا گیا ان کی حالت بھی بد سے بد تر ہوچکی ہے۔ سب سے اہم اور بنیادی وجہ اس شہر کی یہ ہے کہ اسے پاکستان کی کسی حکومت نے صوبائی یا مرکزی حکومت نے اونownنہیں کیا۔ اسے اپنا نہیں سمجھا، اس شہر کی حالت زار پر ان منتخب نمائندوں نے بھی رحم نہیں کھایا جنہیں اس نے منتخب کر کے ایوانوں میں بھیجا۔

کراچی کی سیاسی تاریخ کچھ عجیب و غریب ہے۔ یہ وہ شہر ہے جو سمندر کی موجوں کے مخالف چلتا رہا ہے۔یہ شہر حکمرانوں کے ساتھ کونسا اچھا سلوک کرتا رہا ہے ، سوچیں یہ بھی کوئی بات ہے کہ پورے ملک میں جئے بھٹو جئے بھٹو کے سدائیں گونج رہی ہوں ، جہاں دیکھو بھٹو ہی بھٹو تھا ، لیکن یہ کراچی کے لوگ عجیب ہیں کہ نو ستاروں کے پیچھے دیوانے ہو رہے تھے۔لے دے کر لیاری کی ایک سیٹ بھٹو صاحب کے حصے میں آئی۔ باقی کراچی کی نمائندگی نو ستارے والوں نے کی۔ اب کراچی کچرا نہ بنتا تو کیا یہاں دودھ کی نہریں بہتیں، اور پیچھے چلے جائیں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان ، کیا شخصیت تھی، جس ٹرک کے پیچھے دیکھو ایوب خان اپنی وردی میں لشکارے مارتے نظر آیا کرتے تھے، انتخابات ہوئے پورا ملک گلاب کا پھول اپنے سینے پر سجائے ہوئے تھا اُس وقت بھی یہ کراچی اوپھر کراچی کے عوام اس جدید دور میں ہاتھ میں لالٹین تھامے سڑکوں پر ر قساں نظر آرہے تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کے پروانے بن کر مسلم لیگ کے پرچم تلے ثابت قدم رہے۔ ایوب خان کو فتح ہوئی جو ہونا ہی تھی، ایسی صورت میں کراچی کچرے کا ڈھیر نہ بنتا تو کیا ہوتا، ایوب خان کے صاحبزادے نے کراچی کے لوگوں کو صحیح راستہ دکھایا تھا کہ آگے سمندر ہے ، اب سمندر میں کون گیا کون نہیں ، یہ وقت نے ثابت کردیا، ایوب خان جس انداز سے اقتدار سے رخصت کیے گئے یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی نے کراچی کو اپنا بنانے کی کوششیں تو بہت کیں، بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے تو اپنی شادی کی تقریب کے لیے کراچی کے ککری گراؤنڈ انتخاب کیا ، لیاری میں نکاح کی پروقار تقریب کا انعقاد ہوا۔پھر بھی یہ کراچی تھا کہ اپنی ڈگر سے ہٹنے کو تیار ہی نہیں۔اس کراچی کی سیاسی سوچ ہمیشہ مختلف سمت میں رہی ہے۔ اس کا خمیازہ بھگتا رہا اور کچرے کا ڈھیر بنتا رہا۔کراچی کچرے کا ڈھیر بنا لیکن اس کی ترقی تو ایک خود رو پودے کی مانند ہے جسے کوئی پانی دے یا نہ دے، اس کی آبیاری کرے یا نہ کرے، اس کی دیکھ بھال کرے یا نہ کرے ،یہ پھولے گا، پھلے گا، تناور درخت بنے گا، اس میں پھل بھی آئے گا، اس میں سبزیاں بھی اگیں گی، بلند و بالا عمارتیں بھی بنیں گی، روزگار کے لیے پورے پاکستان سے لوگ اسی شہر کا رخ کریں گے اور انہیں یہ شہر اپنائے گا انہیں روزی فراہم کرے گا ۔ کراچی کے ساتھ نہ انصافی کرنے والوں کو زمانہ از خود سبق سکھاتارہا ہے ، یہاں وہ دور بھی تھا جب بلدیہ اعظمیٰ کراچی جماعت اسلامی کے ا ختیار میں آگیا تھا، اہل کراچی نے انہیں بھی آزمایا، انہیں بھی موقع دیا اور پھر اہل کراچی نے تمام سیاسی جماعتوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایم کیو ایم کو اپنے ماتھے کا جھومر بنا لیا، خوب خوب نوازا، پورے ملک میں دھوم اسی لیڈر کی تھی، ہر کوئی اس کے پیچھے، قومی اسمبلی ہو، صوبائی اسمبلی ہو یا بلدیاتی ادارے ہوں پیر صاحب کا طوطی بولتا رہا۔ اب کراچی کچرے کا ڈھیر نہ تھا، کچھ کام بھی ہوا، کراچی کے ناظم کمال نے کمال کر دکھا یااور وہ کمال دکھانے پھر سے آگیا ہے۔اس بار وہ اپنے زور بازو پر آیا ہے۔ خوب خوب کام کیا، نہ کہیں کچرا، نہ کہیں غلاظت کے ڈھیر، پل بنے، سڑکیں تعمیر ہوئی، انڈر پاس بنے، بائی پاس بنے ، الغرض سب کچھ ہوا ۔ لیکن عزت ، نام و نمود کی قدر کھو دی جائے ، انسان بے شکرا ہوجائے تو قدرت ایسا انتقام لیتی ہے کہ ایسا کرنے والے کو عبرت کا نشان بنا دیاجاتا ہے۔ وہی ہوا پارٹی سربراہ عبرت کا نشان بن گیا، پارٹی بکھر گئی، حصے بکرے ہوگئے، یہی تو سب کی خواہش تھی جو پوری ہوئی۔ اب کراچی پھر سے کچرے کا ڈھیر بنتا گیا، کوئی اس کا والی وارث نہیں تھا،کراچی کی لاوارثی کو دیکھتے ہوئے ہوئے سندھ حکومت نے کراچی کے وہ تمام محکمے جن کا تعلق خالصتاً سٹی گورنمنٹ یا میونسپل کارپوریشنز اور یو سیز سے تھا اسے وزیر اعلیٰ کے ماتحت کر دیا گیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ کراچی یونیورسٹی روڈ جو شاہراہ فیصل کے بعد کراچی کی سب سے اہم شاہراہ ہے وزیر اعلیٰ سندھ کے تحت تیار کی جارہی ہے۔ کراچی کے لیے آواز اٹھانے والوں کے ساتھ ، پینے کا پانی، علاج کی سہولتیں، نکاسی آب، ٹوٹی پھوٹ سڑکوں کی مرمت جیسے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کا جو حال سندھ پولیس نے کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ سندھ حکومت کو کیا پڑی کے کراچی کی بہتری کا سوچے۔ رہا سوال کئی سالوں سے کراچی کی نمائندگی کرنے والوں کا تو انہیں تو سب نے مل کر کھڈے لائن لگا دیا، تابوت میں آخری کیل پاکستان کے خلاف نعرہ لگا کر ان کے اپنے سربراہ نے خود ہی ٹھونک دی۔اب وہ یہ کہہ کر بری الزماں ہوجاتے ہیں کہ ہم تو سالوں سے حزب اختلاف میں ہیں۔ کچرا اٹھانا تو حکومت کا کام ہے۔

جب کراچی ابتری کی انتہا کو پہنچ گیا، کچرے کے ڈھیر صرف کچرا کونڈیوں تک محدود نہ رہے بلکہ یہ کچرا، گلیوں، سڑکوں، فٹپاتوں، الغرض جہاں نظر پڑتی کچرا ہی کچرا دکھائی دیتا ، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، ابلتے ہوئے گڑ، صاف پانی کی کمی، بجلی کی لوڈ شیڈنگ، کے۔ الیکٹرک کی اور بلنگ، کون ساایسا مسئلہ تھا جو اہل کراچی کو در پیش نہ تھا۔ بلدیاتی نمائندوں نے اپنی کرسیا ں تو سنبھال لیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اختیار نہیں، بجٹ نہیں، میئر کراچی جیل سے رہا ہوکر حلف اٹھانے پہنچے، پھر جیل سے باہر بھی آگے ان کا بھی یہ کہنا تھا کہ کچرا اٹھاؤں تو کیسے، نہ اختیار ہے ، نہ مشینری اور نہ بجٹ۔ جس جماعت سے میئر کا تعلق وہ عتاب میں، اس کا منہ بند ، وہ روب دبدبا ،وہ کرو فر سب جاتا رہا تھا کہ حکومت کو مجبور کرتے ۔ کچرے کے ڈھیر، غلاظت ، گندگی کی صدائیں ،سڑکوں کی بد حالی، پورے شہر کے کھنڈر ہونے کی صدائیں ملک کے منتخب ایوانوں میں بھی جاپہنچی بلکہ بیرون ملک کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی اس کی باز گشت سنی جانے لگی، ہر کوئی حکومت سند ھ کراچی کو کراچی کی ابتر صورت حال پر آڑے ہاتھوں لے رہا تھا۔ آخر کار سندھ کے اقتدار کے ایوانوں میں برف پگلی، کراچی کے لیے 10 ارب کا بجٹ مختص ہوا، وزیر بلدیات کو خصوصی ٹاسک سونپا گیا، کچھ منصوبے شروع ہوئے، میئر کراچی نے سو (100 )دنوں میں کراچی کا کچرا صاف کرنے کا اعلان کیا لیکن وہ ایسا کرنے میں نا کام رہے، پوچھا گیا تو کہا کہ میں نے چند یو سیز سے کچرا صاف کرنے کی بات کی تھی وہ کردیا گیا۔ اپنی مدد آپ کے تحت ایم کیو ایم پاکستان نے صفائی مہم کا آغاز کیا جو فلاپ ہو ، وہ فوٹو سیشن سے زیادہ اور کچھ نہیں تھا۔ اب کچھ سڑکو ں کی تعمیر، ان کو اور زیادہ چوڑا کرنے، پائپ لائن ، برساتے نالوں کی تعمیر پر کام ہورہا ہے، اس کام کو کئی ماہ ہوچکے، کام کی نوعیت ہی کچھ اس قسم کی ہے کہ اس میں مہینوں ہی لگیں گے(16مئی2017)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 752 Articles with 638844 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
15 May, 2017 Views: 928

Comments

آپ کی رائے