عمران خان قومی ہیرو سے قومی لیڈر تک

(Atiq Yousaf Zia, Gujranwala)

آج کا کالم میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے، تمام تعریف اللہ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا مالک ہے، جو بہت غفور و رحیم ہے ، جو بدلے کے دن کا حاکم ہے۔ اے اللہ! ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تمہی سے مدد چاہتے ہیں، (اے اللہ) ہمیں ہدایت دے، سیدھے راستے کی طرف، اُن لوگوں کے راستے کی طرف جن پر تونے انعام کیا، نہ کہ جن پر غضب ہو ا اور نہ جو گمراہ ہوئے۔ یہ وہ آیات ہیں جنھیں مختلف جلسوں میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اکثر پڑھا کرتے ہیں، ان آیات کو قرآنِ مجید 'فرقانِ حمید کا خلاصہ بھی کہا جاتا ہے مگر ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی ان کو سمجھنے قاصر ہیں، قرآنِ مجید آج بھی ایک زندہ معجزہ اور رُشد و ہدایت کا منبع ہے، قوموں کی راہنمائی کیلئے انبیاء کی بڑی تعداد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا میں معبوث ہوئے، امام الانبیاء اور سرکارِ کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے کے بعد اب قیامت تک نہ کوئی ناموس آئے گی اور نہ ہی کوئی پیغمبر، یہ نظریہ ہر مسلمان کا ہے مگر قوموں کی سمت درست کرنے کیلئے لیڈر اور راہنما آتے رہے ہیں اور آتے رہیں گے، یہ قرآن کا فیصلہ ہے کہ سمت اُنہی کی درست ہو گی جو اللہ کی عبادت کریں گے اور اُسی سے مدد چاہیں گے۔ پاکستان کے عوام اس وقت گومگو کی کیفیت کا شکار ہیں، ہر روز نئی موشگافیوں کا سامنا ہے، کبھی خوشی کبھی غم عوام کا مقدر بن چکا ہے، پچھلے تیس (30) سالوں سے عوام بھٹو ازم اور (ن) لیگ کو نجات دہندہ سمجھ کر بہتری کی آس لگائے ہوئے ہیں مگر عوام کی اکثریت ان سے نالاں اور مایوس نظر آرہی ہے۔ 2013ء تحریک انصاف کے لئے ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا،عمران خان کی قیادت میں بننے والی پارٹی پاکستان تحریک انصاف اچانک اُبھر کر سامنے گئی، پاکستانی قوم کا ایک حصہ ملک کا مقدر سنوارنے کی آس لگائے دھڑا دھڑ اس میں شامل ہوگیا، جلسے' جلوس' دھرنے، کبھی پانامہ کیس کبھی ڈان لیکس کے خوب چرچے رہے، عمران خان کو میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہنے کا ڈھنگ بھی خوب آتا ہے، پچھلے چار سالوں میں خوب جو ش و خروش کے ساتھ پارٹی کو زندہ رکھا گیا، اب آئندہ الیکشن کے لیے فیورٹ ترین جماعت بن چکی ہے، ٹکٹوں کیلئے لوگ دوڑ دھوپ کررہے ہیں، اب پنجاب میں عام تاثر یہی ہے کہ آئندہ الیکشن (ن) لیگ کے پلیٹ فارم سے لڑا جائے پھر تحریک انصاف سے، ٹکٹ کے حصول کی دوڑ میں ہر امیدوار ان پارٹیوں میں جگہ بنانے کے لیے کوشاں ہے، پارٹی لیڈر کا یہیں سے امتحان شروع ہوتا ہے، اگر گھوڑے ٹھیک ہوں گے تو رزلٹ بھی ٹھیک ہوگا، اگر روپے پیسے کے بل بوتے پر کرپشن زدہ لوگ آگے آئیں گے تو پھر قوم کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ عمران خان کو کوئی لیڈر مانے یا نہ مانے اس ملک کی سب سے بڑی عدالت کے بڑے جج نے اُنھیں کہا کہ عمران خان تم ایک لیڈر ہو اور قوم تمہاری بات سنتی ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ سیدھے راستے کا درس دینے والے کی اگلی سمت کس طرف ہوتی ہے، ہر پارٹی نے اگلے الیکشن میں کامیابی کیلئے نظریں پنجاب پر لگائی ہوئی ہیں، سب سے بڑا معرکہ بھی پنجاب میں ہوگا اور پنجا ب کا اصل معرکہ سنٹرل پنجاب میں ہوگا جو آبادی کے لحاظ سے زیادہ ہے اور سیٹیں بھی یہاں سے زیادہ ہوں گی، نئی مردم شماری کے مطابق صرف لاہور کی آبادی 80 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 23 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے، اسی طرح سنٹرل پنجاب کے باقی اضلاع کا رزلٹ ہوگا، تین گناہ آبادی بڑھنے کے تناسب سے سیٹیں بھی بڑھیں گی۔ بتایا جارہا ہے کہ اس دفعہ تحریک انصاف میں ٹکٹ کے حصول کیلئے جنھوں نے اپلائی کرنا ہے اُن کیلئے ایک نیا میکنزم بنایا جارہا ہے، پانچ اے کلاس کمپنیوں سے ہر این اے کے حلقے کا سروے کرایا جائے گا ، امیدوار کی اچھی بری شہرت، نیک نامی اور عوامی پذیرائی چیک کی جائے گی اور جو رپورٹ اعلیٰ قیادت کو ملے گی اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا ، اس سلسلے میں ایک حلقہ کی فیس چھ لاکھ روپے رکھی گئی ہے جو قومی اسمبلی کے اس حلقے سے درخو است دہندہ امیدوارپر تقسیم ہوگی اور اگر کسی بھی ایک امیدوار کا رپورٹ کے ساتھ اختلاف ہوگا تو کسی دوسری کمپنی سے اس کے خرچہ پر دوبارہ سروے کرایا جائے گا، یہ شفافیت کا ایک اچھاطریقہ نظر آرہا ہے مگر دوسری طرف سینٹرل پنجاب می قیادت کا شدید فقدان بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، سینٹرل پنجاب میں عبدالعلیم خان اور جہانگیر ترین اس وقت کرتا دھرتا ہیں جن کا گراس روٹ لیول کے کارکنوں سے کوئی رابطہ نہیں، گراس روٹ لیول تک سرے سے کوئی سسٹم نظر ہی نہیں آرہا، کارکنوں کا کہنا ہے کہ سینٹرل پنجاب کے صدر عبدالعلیم خان پنجاب میں وقت دینے کی بجائے ہفتے میں پانچ دن بنی گالا میں گزارتے ہیں، سینٹرل پنجاب کے 10 اضلاع میں سے ابھی تک اُنھوں نے کسی ایک ضلع کا بھی دورہ نہیں کیا اور صدارت کے چھ ماہ گزرنے کے باوجود کسی ضلع میں تنظیم مکمل نہیں ہوسکی۔ پارٹی کے ونگز کسی بھی پارٹی کے ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں جو اپنے اپنے علاقوں میں پارٹی کو متحرک کرتے ہیں مگر پنجاب میں ابھی تک یوتھ ونگ، خواتین ونگ، لیبر ونگ، سٹوڈنٹ آرگنائزیشن اور کسان ونگز کا گرائونڈ پر کوئی وجود ہی نہیں، پنجاب کا بڑا معرکہ تو سینٹرل پنجاب میں لڑا جانا ہے، ان حالات میں تحریک انصاف کے اندر سے بغاوت کی بُو آرہی ہے، عام کارکنوں کو اپنی لیڈر شپ تک رسائی ناممکن دکھائی دے رہی ہے۔ عبدالعلیم خان اور جہانگیر ترین کو ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے، لوگ تو اپنے لیڈر کو اپنے اندر دیکھنا چاہتے ہیں، تحریک انصاف کے اندر ایک مضبوط گروپ کی زبردست لابی الگ نظر آرہی ہے جس میں شاہ محمود قریشی، چوہدری محمد سرور، شفقت محمو د، اسد عمر ، شیریں مزاری، میاں محمود الرشید اور دیگر شامل ہیں، ان کے روٹس بھی عام کارکن تک ملتے ہیں، ان کے مد مقابل عبدالعلیم خان، جہانگیر ترین اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک جیسی کچن کیبنٹ بھی موجود ہے جنھیں پنجاب کے کارکنوں میں بددلی اور مایوسی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اُنھیں کسی قیمت پر قبول نہیں، پنجاب میں الیکشن لڑنے اور جیتنے کیلئے شاہ محمود قریشی اور چوہدری محمد سرور کی قیادت لازم و ملزوم نظر آرہی ہے، ٹھیک وقت تک ٹھیک فیصلے ہی بڑی بڑی بازیاں پلٹ سکتے ہیں، یہی وہ موقع ہے جہاں ہر لیڈر اپنے امتحان سے نکل کر سرخرو ہوتا ہے یا پھر ہمیشہ کے لیے پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہیں رہ جاتا۔

مسلسل جدوجہد اور محنت سے آج عمران خان نے جس طرح نگر نگر، گلی گلی پارٹی کے پیغام کو پہنچایا ہے پچھلے تیس سالوں سے حکمرانی کرنے والے انگشت ِبدنداں ہیں، ووٹر کی کمی نظر آرہی ہے، ایک سیلابِ رواں ہے اور وہ بھی صرف عمران خان کیلئے ، اب اہم ترین وقت ہے کہ عمران خان صراطِ مستقیم سے اکھڑ تو نہیں جاتے؟ قوم نے آپ کو قومی ہیرو سے قومی لیڈر بنا دیا ہے، اب قوم آپ کو سیاستدان نہیں لیڈر دیکھنا چاہتی ہے، ہر طرف سے مایوس نوجوان نسل کا ایک بہت بڑا طبقہ آپ کے ساتھ دم بھرتا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ آپ اُنھیں کیسے کیش کرتے ہیں؟

پچھلے دنوں ہمارے ملک کا اثاثہ، قوم کیلئے دردِ دل رکھنے والے سابق سیکریٹری جنرل خارجہ اور دنیا کے مختلف ملکوں میں سفیر رہنے والے سابق سینیٹر محمد اکرم ذکی نے نوجوان نسل کیلئے ایک بھرپور پیغام بھیجا ہے ، وہ پاکستان کی 60 فیصد یوتھ کی نظر ہے۔
مغرب کے طلسمات سے باہر نکلو
مُلّا کی خرافات سے باہر نکلو
آزادیِ افکار کی روشن کرو مشعل
ماضی کے توہمات سے باہر نکلو
نئے اپنی ترقی کے طریقے ڈھونڈو
فرسودہ رسومات سے باہر نکلو
اب کوئی مسیحا نہیں آنے والا
امیدِ کرامات سے باہر نکلو
تقدیر کی تعمیر ہے میدانِ عمل میں
گلیوں سے مکانات سے باہر نکلو
امن اور محبت کا اُٹھا کر پرچم
خون ریز فسادات سے باہر نکلو
اللہ سے بھی مانگو، خود بھی کرو ہمت
بگڑے ہوئے حالات سے باہر نکلو
تقدیر کے گھوڑے کی لگامیں تھامو
مایوسی کی ظلمات سے باہر نکلو
نئے عزم سے تاروں پر کمندیں ڈالو
اور حدِ سماوات سے باہر نکلو
تخلیق کے کھل جائیں گے اسرار و رموز
منزل کو چلو، ذات سے باہر نکلو
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Atiq Yousaf Zia

Read More Articles by Atiq Yousaf Zia: 30 Articles with 14189 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 May, 2017 Views: 463

Comments

آپ کی رائے