عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجود کلبھوشن کو پھانسی دیے جانے کا امکان

(عابد محمود عزام, Lahore)

عالمی عدالت انصاف نے حتمی فیصلہ آنے تک بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ دہشتگرد تنظیم ’’را‘‘ کے دہشتگرد کلبھوشن یادیو کی پھانسی پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ عدالت نے مختصر فیصلے میں کہا کہ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کا اطلاق کل بھوشن پر نہیں ہوتا، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اپیل کے فیصلے تک پاکستان کل بھوشن کی سزا پر عملدرآمد نہیں کرے گا۔ اس فیصلے کے بعد بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا: ’’ہریش سالوے نے بھارت کا کیس عدالت کے سامنے بہترین انداز میں پیش کیا اور بھارت کلبھوشن یادیو کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔‘‘ پاکستانی اٹارنی جنرل کی جانب سے بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے کے ردعمل میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے یہ بات واضح طور پر کی ہے کہ عبوری فیصلے کا حتمی فیصلے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ فیصلہ آئندہ فیصلے پر اثر انداز ہوگا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے آرٹیکل 36 ٹو پر ریوائزڈ ڈیکلریشن داخل کیا ہے جو 1962ء کے ڈیکلریشن سے زیادہ جامع تھا اور اس میں جاسوسی اور دیگر امور بارے شقوں کو شامل کیا گیا تھا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ کلبھوشن یادیو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا ایک ایجنٹ ہے اور اس کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم بنانا تھا۔ اسے پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے جاسوسی کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔ بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو کو 3مارچ 2016ء کو ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ حسین مبارک پٹیل کے نام سے پاکستان مخالف تخریبی اور دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ گرفتاری کے بعد اس نے اعتراف کیا کہ وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا، اس سے پہلے 2004 اور 2005 میں وہ ’’را‘‘ کے دہشت گرد مقاصد کے حصول کے لیے کراچی کے دورے بھی کرچکا ہے۔ کل بھوشن نے بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں تخریبی کارروائیوں کا اعتراف کیا۔ بھارت نے پہلے تو کل بھوشن سے لاتعلقی کا اظہار کیا، لیکن بعدازاں نہ صرف یہ قبول کیا کہ وہ بھارتی اور انڈین نیوی کا افسر ہے۔ کل بھوشن کے اعترافی بیانات کے بعد اس پر آرمی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور اسے دفاع کے لیے لیگل ٹیم بھی فراہم کی گئی، لیکن تمام الزامات ثابت ہونے پر 10 اپریل 2017ء کو اسے سزائے موت سنا دی گئی۔ اس دوران بھارت نے اپنے جاسوس کو پاکستان میں پھانسی کی سزا سنائے جانے کے معاملے میں بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کیا۔ عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کے وکیل نے عدالت کو ثبوت بھی دکھائے اور کل بھوشن کے سہولت کاروں کے نام بھی بتائے، یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان نے بھارت سے تحقیقات میں معاونت کے لیے خط لکھا، اس کے باوجود عالمی عدالت انصاف نے فی الحال کلبھوشن کی پھانسی روک دی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ بھارت اور عالمی عدالت کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے، اسی لیے پاکستان کی طرف سے بھارتی دہشتگرد کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد بہت جلد بازی میں بھارت عالمی عدالت انصاف میں یہ معاملہ لے کر گیا اور اس عدالت نے بھی راتوں رات اس کیس کی سماعت شروع کی۔ سینئر تجزیہ کاروں نے پہلے ہی اس خدشے کا اظہار کیا تھا، کیونکہ عالمی عدالت انصاف سے کلبھوشن کے معاملہ میں انصاف کی توقع نہیں تھی۔

اپوزیشن نے کلبھوشن کے حوالے سے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے کیس مس ہینڈل کیا ہے۔ حکومت نے اپنی نااہلیت کی وجہ سے جیتا ہوا کیس ہارا۔ عالمی عدالت سے ایسے ہی فیصلے کی امید تھی۔ حکومت کی طرف سے کلبھوشن کے معاملے میں منظم پیش رفت نظر نہیں آئی۔ کلبھوشن دہشتگرد ہے، جس نے خود اعتراف بھی کیا، جس کے بعد پاکستان کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھانا چاہیے تھا، کیوں نہیں اٹھایا؟ ہمارے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں کلبھوشن یادو پر ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ عالمی عدالت انصاف کے عبوری فیصلے کے بعد پاکستان میں اپوزیشن رہنماؤں اور قانونی ماہرین نے عالمی عدالت میں پاکستان کی قانونی جنگ کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا، کیس کی پیروی پر سوالات اٹھادیے۔ بھارت پوری تیاری کے ساتھ کئی وکلاء کے ساتھ کیس لڑنے گیا، لیکن پاکستان کی طرف سے کوئی تیاری نہیں تھی۔ پاکستان نے عالمی عدالت میں مقدمہ لڑنے کے لیے ایک ایسے وکیل کو کیوں چنا جو اس سے پہلے کبھی اس عدالت میں پیش نہیں ہوا؟ اس کیس کے لیے اٹارنی جنرل خود کیوں نہیں گئے؟ ایک جونیئر وکیل کو کیوں بھیجا گیا؟ پاکستان اس مقدمے کے لیے ایک ایڈہاک جج مقرر کرسکتا تھا، ایسا کیوں نہیں کیا گیا؟ بھارتی وکیل نے مقررہ وقت پورا استعمال کیا، جبکہ پاکستانی وکیل نے نوے منٹ میں سے صرف پچاس منٹ کیوں استعمال کیے؟ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کی جانب سے بھارتی جاسوس کلبھوشن کی سزائے موت پر عمل درآمد روکے جانے کے حکم کے حوالے سے تجزیہ کاروں نے حیرانی اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ فیصلے سے قبل پاکستانی تجزیہ کار پر اعتماد تھے کہ آئی سی جے کلبھوشن کی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کا اختیار نہیں رکھتا، تاہم اب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ حیران کن ہے کیوں کہ یہ آئی سی جے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ پاکستان نے آئی سی جے میں پیش ہوکر غلطی کی۔ پاکستان کو کلبھوشن کے معاملے پر بالکل اسی طرح آئی سی جے کے دائرہ اختیار کو تسلیم ہی نہیں کرنا چاہیے تھا، جس طرح بھارت نے کبھی مسئلہ کشمیر آئی سی جے میں لے جانے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ پاکستان اگر آئی سی جے میں چلا ہی گیا تھا تو صرف عدالت کے دائرہ اختیار پر بات کرنی چاہیے تھی۔ عالمی عدالت انصاف پاکستان پر زبردستی فیصلے مسلط نہیں کرسکتی، کیونکہ اس کی حیثیت ثالثی عدالت کی ہے۔ عالمی عدالت انصاف کو فلسطین، کشمیر اور بوسنیا نظر نہیں آتے، جب معاملہ پاکستان اور مسلم دنیا کو نقصان پہنچانے کا ہو تو اسے فیصلے یاد آجاتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کلبھوشن کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد فوراً پھانسی کیوں نہیں دی گئی؟ نواز شریف ایک سال کلبھوشن پر خاموش رہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ نواز شریف کو جنرل اسمبلی میں کلبھوشن یادیو کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔ پاکستان کو برہان وانی کی شہادت کا کیس آئی سی جے میں لے کر جانا چاہیے تھا، کیوں نہیں لے کر گیا؟ تحریک انصاف سمیت دیگر بعض حلقوں کی جانب سے حکومت پر یہ الزام عاید کیا جارہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کا معاملہ گزشتہ دنوں بھارتی تاجر جندال اور نواز شریف کی ملاقات کا نتیجہ ہے، کیونکہ اس ملاقات میں کلبھوشن کی پھانسی کو رکوانے سے متعلق معاملات طے پائے تھے۔ حکومت ارکان نے تحریک انصاف کے اس الزام کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ حکومتی ارکان کا کہنا ہے کہ اس طرح کا الزام لگانا بہت دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے۔

قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے باوجود بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو کو پھانسی دی جاسکتی ہے۔ اگرچہ عدالت نے ہمارے مؤقف کو تسلیم نہیں کیا، لیکن ہم نے کلبھوشن کے معاملے کو وہاں جاکر دنیا کے سامنے اٹھایا تاکہ بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوسکے۔ فیصلہ اور پھانسی کی سزا دو الگ الگ چیزیں ہیں، پاکستان اس فیصلے کو ماننے کا پابند نہیں ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس حوالے سے اگرچہ یہ فیصلہ پاکستان کو تسلیم کرنا ہو گا تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اس مقدمے میں اب کوئی پیشرفت نہیں کر سکے گا۔ اگرچہ یہ خدشہ موجود ہے کہ پاکستان نے یہ فیصلہ نہ مانا تو اسے آئندہ اس عدالت میں دیگر معاملات کے حوالے سے اسے مشکل پیش آ سکتی ہے، تاہم ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اس عدالت کے فیصلے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا، خود امریکا اسی نوعیت کے تین فیصلوں کو مسترد کر چکا ہے۔ عالمی عدالت انصاف کے حکم کے باوجود ماضی میں امریکا نے 3 مجرموں کو زہریلا انجکشن لگا کر اور گیس چیمبرز میں سزائے موت دے دی۔ 1998 میں پیرا گوئے نے آئی سی جے میں اپنے شہری اینجل فرانسسکو بریڈ کو امریکا میں سنائی گئی سزائے موت رکوانے کی اپیل کی۔ آئی سی جے نے حکم دیا کہ سزا روکی جائے، لیکن امریکا نے اسی سال فرانسسکو کو زہریلا انجکشن لگا کر سزائے موت دے دی۔ فرانسسکو پر جنسی زیادتی اور قتل کے الزامات تھے۔ جرمنی نے 1999 میں اپنے شہری والٹر لا گرینڈ کو امریکا میں سنائی گئی سزائے موت کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں اپیل کی۔ عدالت نے حکم دیا کی سزا روکی جائے، لیکن لا گرینڈ کو آریزونا کے گیس چیمبر میں سزائے موت دے دی گئی۔ اس پر قتل اور بینک ڈکیتی کے الزمات تھے۔ میکسیکو نے اپنے شہری جوز میڈیلین کی امریکا میں سزائے موت کے خلاف 2003 میں عالمی عدالت انصاف میں اپیل کی۔ عدالت نے حکم دیا سزا روک دی جائے، لیکن جوز میڈیلین کو اگست 2008 میں ٹیکساس میں زہریلا انجکشن لگا کر سزائے موت دے دی گئی۔ میڈیلین پر جنسی زیادتی اور قتل کے الزامات تھے۔ اب عدالتی سزا پر عمل کروانے کی طاقت حکمرانوں کے پاس ہے۔ پوری قوم بھی بھارتی ایجنٹ کو پھانسی دینے کے حق میں ہے، لہٰذا حکومت کو بھارتی جاسوس کو پھانسی دے دینی چاہیے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ عالمی عدالت انصاف اس معاملہ کو جاسوسی کے علاوہ ویانا کنونشن اور مغرب میں پھانسی کے خاتمے کے پس منظر میں بھی دیکھ رہی ہے، شاید اسی لیے عالمی عدالت نے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ امریکا نے خود محض اقبالی بیانات پر لوگوں کو سزائیں سنائی ہیں۔ امریکا اور یورپ میں اقبالی بیان کی ٹھوس حیثیت ہے، جبکہ کلبھوشن یادیو کے معاملہ میں پاکستان دشمن سرگرمیوں کا سب سے بڑا گواہ وہ خود ہے۔ اس کا اقبالی بیان دنیا بھر کے سامنے ہے جو درجنوں مرتبہ ملکی اور غیرملکی ٹی وی پر دکھایا جا چکا ہے۔ابھی پچھلے دنوں بعض امریکی ریاستوں میں مجرموں کو موت کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ امریکی کی کئی ریاستوں میں سزائے موت کو اب بھی جرائم کے خاتمے کا سب سے بڑا عنصر سمجھا جاتا ہے۔ بیرون ملک پھانسی پر اعتراض کیا جاتا ہے، جبکہ کئی ممالک میں سزائے موت عام ہے، صرف سزائے موت دینے کے طریقہ کار میں اختلاف ہے کہ موت کی سزا پانے والے مجرم کو کونسا زہر دیا جائے یا گولی کس طرح ماری جائے اس پر اختلاف ہے۔امریکا میں متعدد غیر ملکی جاسوسوں کو موت کی سزائیں دی گئی ہیں۔ کلبھوشن کی سزائے موت کوئی انوکھی نہیں ہے۔ دنیا بھر میں جاسوسوں کو پھانسی دی جاتی رہی ہے۔ لہٰذا پاکستان میں تخریب کاری کرنے والے بھارتی دہشتگرد کلبھوشن یادیو کو بھی پھانسی دے دینی چاہیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 417113 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 May, 2017 Views: 462

Comments

آپ کی رائے