میرے لاڈلے محبوب لجپال روحانی پیرِ کامِل حضرت شیخ ابو الحسن خَرقانی سرکار رحمتہ اللہ علیہ

(Luqman Abu AlHassan Kharqani, Faisalabad)

میرے لاڈلے محبوب لجپال روحانی پیرِ کامِل حضرت شیخ ابو الحسن خَرقانی سرکار رحمتہ اللہ علیہ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ میں اِس دُنیا سے جانے کے بعد بھی اپنے معتقدین کی نزع کے وقت مدد کروں گا اور جِس وقت موت کا فرشتہ (حضرت عزرائیل علیہ السلام) اُن کی روح قبض کرنا چاہے گا تو میں اپنی قبر سے ہاتھ نِکال کر اُن کے لب و دندان پر لُطفِ الٰہی کا چھینٹا دوں گا تا کہ وہ تکلیف کی شدت میں بھی خُدا سے غافَل نہ ہو سکیں۔
پِھر اپنے مریدوں سے فرمایا کہ مشائخِ طریقت کےساتھ جو بھلائیاں آج تک کی گئی ہیں وہ سب تنہا تُمہارے مُرشِد کے ساتھ کی گئی ہیں۔
پِھر فرمایا کہ اگر قیامت میں اللہ تعالیٰ میرے طفیل سے پُوری مخلوق کی مغفرت فرمادے جب بھی میں اپنی علو ہمتی کی بِنا پر جو مُجھے بارگاہِ خُداوندی میں حاصِل ہے مُنہ موڑ کر نہ دیکھوں گا۔
پِھر فرمایا کہ پُوری مخلوق ایک کشتی ہے اور میں اُس کا ملاح ہوں اور میں ہمیشہ اسی میں رہتا ہوں۔
پِھر فرمایا کہ جب میری شفقت کی نظر مخلوق کی طرف مبذُول ہوئی تو میں نے اپنے سے زیادہ کِسی کو بھی مخلوق کے حق میں شفیق نہیں پایا اُس وقت میری زبان سے نِکلا کہ کاش تمام مخلوق کی بجائے صِرف مُجھے موت آجاتی اور تمام مخلوق کا حِساب قیامت میں صِرف مُجھ سے لِیا جاتا اور جو لوگ سزا کے مُستحق ہوتے اُن کے بدلے میں صِرف مُجھے عذاب دے دِیا جاتا۔
پِھر فرمایا کہ خُدا تعالیٰ سے مُجھ سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ میں تُجھ کو اپنے نیک بندوں سے مِلائوں گا اور بد بختوں کی صورت بھی تُجھے نظر نہیں پڑے گی چناچہ میں دُنیا میں آج جِن لوگوں سے مُلاقات کر رہا ہوں قیامت میں بھی اِسی طرح مُسرت کے ساتھ اُن سے مُلاقات کروں گا۔
پِھر فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نے خُدا سے دُعا کی کہ اب مُجھے دُنیا سے اُٹھا لِیا جائے تو آواز آئی کہ اے ابو الحسن! میں تُجھے اِسی طرح قائم رکھوں گا تاکہ میرے محبوب بندے تیری زیارت کر سکیں اور جو اِس سے محروم رہیں وہ آپ کا نام سُن کر غائبانہ تعلق قائم کر سکیں اور میں نے تُجھے اپنی پاکی سے تخلیق کِیا ہے اِس لیے تُجھ سے ناپاک بندے مُلاقات نہیں کر سکتے۔
پِھر فرمایا کہ میں یہ دُعا کرتا رہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو غموں سے نجات دے کر مُجھے دائمی غم عطا فرما دے اور اِتنی قوتِ برداشت دے دے کہ میں اِس بارِ عظیم کو سمبھال سکوں۔
پِھر فرمایا کہ ہر صبح عُلما اپنے عِلم کی زیادتی اور زہاد اپنے زہد میں زیادتی طلب کرتے ہیں لیکن میں ہر صبح خُدا سے ایسی شے طلب کرتا ہوں جِس سے مومن بھائیوں کو مُسرت حاصِل ہو سکے۔
فرمایا کہ جِن لوگوں نے میرا کلام سُن لِیا یا آئندہ سُنیں گے اُن کا معمولی درجہ یہ ہو گا کہ قیامت میں وہ بِلا حِساب بخش دیے جائیں گے۔
فرمایا کہ ایک دِن میں نے یہ آوازِ غیبی سُنی کہ اے ابو الحسن! جو لوگ آپ کی مسجِد میں داخِل ہو جائیں اُن پر دوزخ کی آگ حرام ہو جائے گی اور جو لوگ آپ کی حیات میں یا وفات کے بعد اِس مسجِد میں دو رکعت نماز ادا کر لیں گے اُن کا حشر عِبادت گُزار بندوں کے ساتھ ہو گا۔
کہا جاتا ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مِزار کو تھام کر جو دُعا مانگی جائے گی وہ ضرور قبول ہو گی اور بہت سے تجربات بھی اِس کے شاہِد ہیں۔
حضرت ابنِ حُسین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شدید بیمار تھا تو میں خوفِ آخرت سے بہت ہی مُتاثر تھا اُسی دوران میں ایک دِن آپ رحمتہ اللہ علیہ میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور مُجھے پریشان دیکھ کر فرمایا کہ کوئی بات نہیں تم بہت جلد صحت یاب ہو جائو گے لیکن میں نے عرض کی کہ مُجھے بیماری کا نہیں موت کا خوف ہے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ موت سے ڈرنا نہیں چاہیے کیونکہ اگر میں تم سے بیس سال قبل اِس دُنیا سے رُخصت ہو جائوں جب بھی عالَمِ نزع میں تُمہارے پاس آجائوں گااِس لیے تم موت سے مت ڈرو حضرت ابنِ حسین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مُجھے صحت یابی ہو گئی اور جب آپ رحمتہ اللہ علیہ کے وِصال کے بیس سال بعد حضرت ابنِ حُسین رحمتہ اللہ علیہ مرض الموت میں مُبتلا ہوئے تو اُن کے صاجزادے کا بیان ہے کہ وہ نزعی کیفیت میں اِس طرح کھڑے ہو گئے جیسے کوئی تعظیم سے کھڑا ہو جاتا ہے پِھر وعلیکم السلام کہا اور جب میں نے پوچھا کہ آپ کے سامنے کون ہیں فرمایا (حضرت شیخ ابو الحسن خَرقانی رحمتہ اللہ علیہ) نے جان کُنی کے عالم میں آنے کا وعدہ فرمایا تھا لہٰذا وہ تشریف لے آئے ہیں اور دوسرے بہت سے اولیائے کِرام بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ہمراہ ہیں اور مُجھ سے فرما رہے ہیں کہ موت سے نہ ڈرو یہ کہتے ہیں اُن کا وِصال ہو گیا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Luqman Abu AlHassan Kharqani

Read More Articles by Luqman Abu AlHassan Kharqani: 2 Articles with 1207 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 May, 2017 Views: 460

Comments

آپ کی رائے