کے پی کے اسمبلی کا متنازعہ بل

(Tanveer Ahmed Awan, Islamabad)

خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی مخلوط حکومت کی طرف سے دینی مدارس کی رجسٹریشن کے طے شدہ طریقہ کار کو تبدیل کرنے ،نئے مدار س کے قیام کا راستہ روکنے اور موجودہ مدارس کے منتظمین کے مسائل ومشکلات میں اضافے کے لیے 1860ء کے سوسائٹی ایکٹ میں ترمیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو حیران کن ،ناقابل فہم اورغیر دانشمندانہ کوشش ہے،اگر بنظر غائراس بل کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 1860ء کے سوسائٹی ایکٹ کے تحت یوں تو تمام رفاہی وفلاحی ادارے ،سوسائیٹیزاوردینی مدارس رجسٹر ڈ ہوتے رہے ہیں لیکن کچھ عرصے سے یہ ایکٹ محض دینی مدارس کی رجسٹریشن کے لیے ایک مشکل قانون کی صورت اختیار کر چکا ہے چنانچہ مدارس کی کردار کشی کی مہم کے ایک حصے کے طور پر رجسٹریشن کے معاملے کو استعمال کیا جارہاہے۔بدقسمتی سے یہ سلسلہ نائن الیون کے بعد سے شروع ہوااور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی پیچیدگی میں اضافہ ہوتا چلا جارہاہے ۔

یاد رہے کہ پرویز مشرف دور میں اتحاد تنظیمات مدارس کے مشورے کے ساتھ اکیسویں آئینی ترمیم کی گئی تھی جس کو اسمبلیوں سے پاس کروایا گیا ،اس پر باقاعدہ قانون سازی ہوئی اور اس ترمیم کو ایکٹ کا درجہ حاصل ہوا اور پھر اسے نافذالعمل قراردیا گیا اس کے مطابق تمام دینی مدارس نے رجسٹریشن کروائی ،اسی ترمیم کی روشنی میں بننے والی حکمت عملی کو اپنا لیا گیا لیکن اب پورے ایک عشرے کے بعد دوبارہ سے خیبر پختونخواہ کی حکومت اس طے شدہ معاملے کو بلاوجہ متنازعہ بنانے کی کوشش کررہی ہےغیر یقینی صورت حال کا سبب بن سکتی ہے ۔

بظاہر تو1860ء کے سوسائیٹیز ایکٹ میں ترمیم کی بات ہو رہی ہے لیکن عملاً اب یہ ایکٹ دینی مدارس کی رجسٹریشن کے ساتھ نتھی ہو کر رہ گیا ہے یہی وجہ ہے کہ جو ترمیم تجویز کی گئی اس کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس قسم کی ترمیم کا مقصد مدارس کی مُشکیں کسنے کے سوا اور کچھ نہیں ۔واضح رہے کہ دینی مدارس کے معاملات چونکہ ملکی سطح پر دیکھے جاتے ہیں ،وزارت داخلہ ،وزارت مذہبی امور اور وزارت تعلیم سمیت تمام اداروں اور وزارتوں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے ۔مدارس اور دینی تعلیم کا تعلق چونکہ تمام اسلامیان پاکستان کے مذہب وعقیدے اور دین کے ساتھ ہے ا س لیے اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد بھی دینی مدار س کے معاملا ت مرکز سے ہی ہینڈل کیے جاتے ہیں۔ صوبائی سطح پر مرکز اور دیگر صوبوں سے ہٹ کر کوئی نئی پالیسی تشکیل نہیں دی جاتی لیکن خیبرپختونخواہ حکومت کا اتحاد تنظیمات مدارس کواعتماد میں لیئے بغیر یہ اقدام کسی صورت بھی درست نہیں ہے ۔جب کہ یہ ترمیم محض مدارس کے قیام میں روڑے اٹکانے اور منتظمین کو پریشان کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ،اسی طرح اس ترمیم کےذریعے رجسٹرار کو ضروری تفتیش کی اجازت دی گئی ہے جواس سے قبل اسپیشل برانچ یا قانون نافذکرنے والے اداروں کے ذریعے عمل میں لائی جاتی تھی، اس کے ساتھ ساتھ رجسٹرار کو رجسٹریشن کی درخواست بلاوجہ مسترد کرنے کا بھی حق دیا گیا ہے ،دلچسپ امر یہ ہے کہ جس رجسٹرار کے پاس رپورٹس ریکارڈ اور ضروری کاروائی کے لیے جمع کروائی جاتی تھیں ،اب اس ترمیم میںمجوزہ وقت اور طے شدہ طریقہ کار کے مطابق مالی اور سالانہ رپورٹس کے جمع کروانے کا مقصد ان کی اشاعت قرار دیا گیا ہے۔ جب کہ ادارہ اپنی رقوم کو رجسٹرار کی طرف سے متعین کردہ بینکوں میں جمع کروانے کا پابند ہوگا،جو نہ صرف یہ کہ افراد اور اداروں کے بنیاد ی انسانی حقوق کے منافی ہے بلکہ اس میں بینکنگ سیکٹر میں بھی پسند ناپسند کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں گے اور رشوت وکمیشن خوری کانا بند ہونے والا دروازہ بھی کھلے گا اسی طرح اس ترمیم کے تحت محض سال میں ایک مرتبہ نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً مالی امور کی جانچ پڑتا ل کی ایسی کھلی چھوٹ دی جارہی ہے جو رجسٹرار کو داروغہ بنا کر رکھ دے گی۔ اس وقت محدود اختیار ات کے باوجود مدارس کو بے شمار مسائل ومشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر وقتاً فوقتاً پیشیاں بھی بھگتنی پڑیں تو اسں حوالے سے مدارس کو مستقل طور پر عملہ تعینات کرنا پڑے گا جب کہ اس ترمیم کی دفعہ ۳ب کی شق ۲ میں رجسٹرار یا مجاز افسر کو پراجیکٹس کی تفصیل ،جائیداد کی دستاویزات اور دیگر تفصیلات کی چھان بین کا بھی اختیار دیا جارہا ہےجب کہ اس ترمیم کی دفعہ چار میں ہرسال فیس کی ادائیگی کی صورت میں رجسٹریشن کی تجدیدکی بات کی جا رہی ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر سال رجسٹریشن کے جھنجھٹ میں پڑنا پڑے گا۔ یہ’’ مہربانی‘‘ بھی محض دینی مدارس کے ساتھ خاص ہو گی اس کے علاوہ کسی سوسائٹی ،این جی او یا کسی بھی اسکول کو اس قسم کے کسی تردد کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔

اس ترمیم کی دفعہ ۲الف کی ذیلی دفعہ ۳ انتہائی مضحکہ خیز ہے جس کے تحت ’’کسی بھی جرم کی صورت میں ہر ڈائریکٹر ،منیجر ،سیکرٹری اور دیگر ممبران اس جرم کے مرتکب تصور ہوں گے جب تک وہ اپنی بے گناہی نہ ثابت کر دیں ‘‘کون نہیں جانتا کہ پاکستان میں بے گناہی ثابت کرتے کرتے بندہ قبر تک پہنچ جاتا ہے بلکہ اس کی کئی نسلیں گزر جاتی ہیں اس لیے یہ شق ایک ایسی تلوار ہے جو عوام الناس کو دینی مدارس سے دور رکھنے کے لیے ان کے سروں پر لٹکائی جارہی ہے تاکہ خوف وہراس کی فضا میں کوئی دینی مدارس کا دست وبازو نہ بن سکے ،یقینی امر یہ ہے کہ اس ترمیمی بل کی ہر ستر میں سقم اور پیچیدگیاں واضح دیکھائی دے رہی ہیں جس کا مقصد کسی بیرونی ایجنڈے کی تکمیل یا اسلام دشمن قوتوں کو خوش کرنے اور اسلام کی تعلیم وتربیت کے پرانے چراغوں کو گل کرنے کی کوشش کے سوا اور کچھ نہیں ،یاد رہے کہ ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان مولانا قاری حنیف جالندھری سمیت اتحاد تنطیمات مدارس کی قیادت نے اس بل کو مسترد کر تے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ غیر ملکی ایجنڈے کو کسی صورت میں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہونے دیں گے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مدرسہ اصلاحات کے بجائے ایجوکیشن ریفارمز کے حوالے سے سنجیدگی اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ قومی بجٹ میں تعلیم کے لیے ایک معقول حصہ رکھے تاکہ طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے کے علاوہ شرح خواندگی میں بھی اضافہ ہو سکے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 143119 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
28 May, 2017 Views: 433

Comments

آپ کی رائے