وزیر کا ’سچ‘!

(Muhammad Anwar Graywal, BahawalPur)

 بجلی پانی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے اپنی روایتی گفتگو میں کچھ سچ کی ملاوٹ بھی کردی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ وزیر موصوف کو پوری بات کا ادراک ہے، وہ مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں، مگر ان کا سیاسی منصب ہے کہ انہیں حقیقت تسلیم کرنے کی اجازت نہیں دیتا، یا سچ بولنے کی ان کے اندر ہمت نہیں ہوتی، بس مخالفت برائے مخالفت کا فارمولا ہے، جس پر یہ لوگ عمل کئے جاتے ہیں، اس رویے کے لئے نرم سے نرم لفظ ’جھوٹ‘ ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سچ کو چھپانا اور اپنی مرضی کا جھوٹ بولنا کسی ایک وزیر کا شیوہ نہیں، بلکہ یہ حکومتوں کا اجتماعی رویہ ہوتاہے، جس پر عمل پیرا ہو کر وہ سرکاری مراعات کے عوض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ مذکورہ وزیر نے اپنا روز مرہ کا بیان بھی تبدیل نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ ’’بہت جلد لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کردیا جائے گا، تاہم ان علاقوں میں لوڈشیڈنگ جاری رہے گی، جہاں بجلی چوری ہوتی ہے، یا جہاں بجلی کے صارفین بل ادا نہیں کرتے․․‘‘۔ ان روایتی جملوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے کسی خاص موڈ میں وہ باتیں بھی کردیں، جو ماہرین سے ہٹ کر عام لوگ بھی کرتے سنائی دیتے ہیں، مگر حکومتی افراد نہیں کرتے ، کیونکہ وہ ان کے خلاف جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’شاید ہمیں سمجھ آہی جائے کہ کالا باغ ڈیم کتنا مفید اور اہم تھا ․․․ بجلی بچانے پر عوام کے ساتھ کبھی حکومت نے بھی زور نہیں دیا ․․․ ہماری یہی کوشش ہوتی ہے کہ نئے پاور پلانٹس کا افتتاح ہوتا رہے ․․․ بجلی کے درست استعمال سے تین سے چار ہزار میگا واٹ بجلی بچائی جاسکتی ہے․․‘‘۔

یہ وزراء اور ان کی حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ بجلی کا ضیاع بے حد ہے، سب سے اہم کام یہ ہونا چاہیے تھا کہ بجلی کی چوری وغیرہ کو روکا جائے، مگر یہاں بھی کارکردگی کوئی بہت بہتر نہیں۔ بجلی کی چوری ہی ایک مسئلہ نہیں، بجلی کا پورا نظام پرانا اور بوسیدہ ہو چکا ہے، بجلی کی ٹرانسمشن کو دیکھا جائے تو وہ موجودہ بجلی کو سہارنے کے بھی قابل نہیں، چہ جائیکہ اس پر نئے کارخانے بنا کر مزید بوجھ ڈال دیا جائے، جس کچے کھالے میں پہلے پانی کنٹرول نہیں ہوتا اس میں مزید پانی ڈالنے کا مطلب صاف دکھائی دیتا ہے۔ اگر حکومت آغاز سے ہی ٹرانسمشن کی بہتری کی کوشش کرتی تو اب تو دستیاب بجلی سے ہی بہت سے معاملات حل ہو چکے ہوتے۔ اگرچہ گزشتہ چار برس کی نسبت بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے، مگر ابھی تک دیہی اور دور دراز کے علاقوں سے پندرہ سے اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی خبریں ، صارفین کے احتجاجی مظاہرے اور ہنگامے دیکھنے کو ملتے ہیں، اس کمی کو پورا کرنے کے لئے حکومت کے دعوے زیادہ اور کوششیں کم ہیں، اگر حکومتی دعووں کو دیکھا جاتا تو کب کی لوڈشیڈنگ ختم ہو چکی ہوتی، مگر کیا کیجئے کہ عوام کو ہر حکومت نے صرف دعووں کی بنا پر ہی مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے، جو کہ عملی طور پر ممکن نہیں۔

حکومت اپنے نمبر ٹانکنے کے لئے نئے پاور پلانٹس پر اربوں روپے لگا رہی ہے، اس سے بہت کم قیمت سے پہلے سسٹم کو بہتر کیا جانا چاہیے تھا، اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے کارخانوں سے بننے والی بجلی پرانے سسٹم پر کس طرح بہم پہنچائی جاتی ہے۔ کالاباغ ڈیم کی اہمیت کی بھی حکومت کو خوب خبر ہے، میاں نواز شریف نے اپنے سابق دور میں کالا باغ ڈیم بنانے کا واضح اعلان کیا تھا، اسی نشریاتی تقریر میں انہوں نے شہروں کے اندر بیوروکریسی کے ایکڑوں پر مشتمل گھروں کو فروخت کرکے وہ رقوم انہی شہروں پر لگانے کی خوشخبری بھی سنائی تھی، (جس پر عمل کرنے کی نوبت کبھی نہ آئی)۔ یہ نہیں معلوم کہ وزیر موصوف کی زبان سے یہ سچی باتیں پھسل گئی ہیں، یا انہوں نے جذبات کی رو میں بہہ کر یہ باتیں کی ہیں، تاہم چوری کو روکنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ایک طرف عوام لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہیں تو دوسری طرف حکمرانوں پر خرچ ہونے والی بجلی بے حدو حساب ہے۔ وزیر صاحب کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ قوم اوور بلنگ کا عذاب بھی برداشت کر رہی ہے، جو خالصتاً حکومتی لوٹ مار کے زمرے میں آتا ہے۔ اس عمل کو بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ حکومت سب کچھ جاننے کے باوجود بھی حقیقی بہتری کے لئے کچھ نہیں کر رہی۔ بیانات کی حد تک بھی تمام حکومتی ذمہ داروں کے رویے تضحیک آمیز اور قابلِ مذمت ہی ہوتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 599 Articles with 259821 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 May, 2017 Views: 526

Comments

آپ کی رائے