لوڈشیڈنگ٬ بجلی کمیاب٬ پانی نایاب

(Dr Murtaza Mughal, Lahore)

گزشتہ کئی دنوں سے درجہ حرارت میں اضافہ کی وجہ سے شہریوں کو گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گرمیوں کے موسم کا آغاز ہوتے ہی ملک بھر کے بڑے شہروں اور اکثر چھوٹے شہروں کے شہری اس امر کی مسلسل شکایت کر رہے ہیں کہ تمازت اور حرارت میں اضافے کے باوجود انہیں بجلی اور پانی کی بندش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔مقام حیرت ہے کہ اس قسم کی شکایات صوبہ سندھ اور صوبہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومتوں میں بھی زبان زدِعام ہیں۔ جب میٹرو پولیس‘‘ اور ’’میگا‘‘ شہروں کا یہ عالم ہو کہ ان کے شہری بھی بجلی اور پانی کی بندش کی وجہ سے بلبلا اٹھیں تو ملک کے چھوٹے شہروں قصبوں اور دیہاتوں کے شہریوں کی حالت زار کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ معاصر قومی روزناموں کی اطلاعات کے مطابق پنجا ب اور سندھ کے مختلف شہروں ‘ قصبوں اور دیہاتوں میں کئی کئی گھنٹوں تک بجلی اور پانی بند ہونے سے بے نو ا اور بے بس شہری مجسم احتجاج بن چکے ہیں۔ اس صورت حال کو کسی بھی طور پسند یدہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سب کو معلوم ہے کہ وفاقی حکومت موسم گرما کے آغاز سے قبل ا س امر کی یقین دہانیاں کراتی رہی ہے کہ سال رواں میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی ہوگی‘اس ضمن میں اقدامات کر لیے گئے ہیں‘حکمرانوں کی ان یقین دہانیوں اور واضح ہدایات کے برعکس ملک کے اکثر حصوں میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ چھوٹے بڑے شہروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں میں 12 سے 15 گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔ بجلی کے غائب ہوتے ہی پانی کی سپلائی بھی معطل ہوجاتی ہے ۔ یوں شہری یک نہ شد دو شد کے مصداق دوگونہ عذاب کا سامنا کررہے ہیں۔

ذمہ دار ریاستوں میں اصول باقاعدہ یہی ہے کہ جب بھی کسی شہر میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو کسی بھی وجہ سے لوڈشیڈنگ کرنا ہو تو وہ اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس کی پیشگی اطلاع دیتے ہیں مگرہمارے ہاں اتنے سے معمولی تکلف کی بھی زحمت گوارا نہیں کی جاتی۔ یہ روش جہاں ایک طرف الیکٹرک سپلائر کمپنیوں کے افسران کی بے حسی کا مظہر ہے‘وہاں دوسری طرف یہ ان کے اس زعم برتری کی بھی آئینہ دار ہے کہ وہ خود کو ہر عوامی محاسبے اور مواخذے سے بالاتر جانتے ہیں۔حالیہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی یقین دہانیاں اور وفاقی حکومت کی متعلقہ وزارت کے ذمہ داران کے بیانات محض کاغذی کارروائی اور زبانی جمع خرچ ہوتے ہیں۔ اس زبانی جمع خرچ اور کاغذی کارروائی کے برعکس زمینی منظر نامہ اور پنجاب‘ سرحد اور سندھ کے بیسیوں شہروں‘قصبوں اور دیہاتوں کی فضائیں کچھ اور ہی نشاندہی کررہے ہیں۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ وفاقی وزارت پانی وبجلی کے ذرائع اب بھی مصر ہیں کہ گرمیوں میں لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی مگر اس کے باوجود ملک بھر کے شہروں اور دیہات میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے اور شہری سراپا احتجاج ہیں۔ سخت گرمی میں بجلی کی بندش سے ہسپتالوں میں مریضوں اور امتحانات کی تیاری کرنے والے طلباء و طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پنکھے بند ہونے کے باعث پسینے سے شرابور طلباء و طالبات کے لئے یکسوئی سے مطالعہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔لوڈشیڈنگ کا مسلط کردہ یہ عذاب انہیں ذہنی اذیت اور نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کا مریض بنا رہا ہے۔ بجلی کی بار بار کی بندش سے مختلف صنعتوں کی پیداوار میں بھی کمی ہورہی ہے۔غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا قبل از وقت ہی شہریوں کو مبتلائے اذیت کرنا وفاقی وزارت پانی و بجلی کی ناقص منصوبہ بندی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔شہریوں کو واپڈا کے بھاری بھر کم بل اداکرنے کے باوجود غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے عذاب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھاری بھر کم بل ادا کرنے کے باوجود حکومت اگر شہریوں کی کوئی اضافی سہولت مہیا نہیں کرسکتی تو کم از کم باقاعدگی اور تسلسل کے ساتھ بجلی کی بنیادی ضرورت تو فراہم کرتی رہے۔وفاقی وزارت پانی و بجلی کا ہر وزیر ہر عہد حکومت میں عوام کو یہ مژدہ جانفزا سناتا رہا ہے کہ اس کے عہد وزارت میں پاکستان میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی نیز یہ کہ اس کی وزارت نے ایسا پائیدار تکنیکی نظام اور بجلی کا ایسا تفصیلی نیٹ ورک مضبوط بنیادوں پر قائم کردیا ہے کہ اب شہریوں کی زندگیاں لوڈشیڈنگ سے محفوظ رہیں گی۔ اس قسم کے مژدے بجلی کے صارفین1997ء سے مسلسل سن رہے ہیں۔تقریباً دو عشرے بیت چکے اور ہر سال جب موسم گرما کا آغاز ہوتا ہے تو شہریوں کو لوڈشیڈنگ کی ناگہانی آفت کا لازماً سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بجلی کی بندش پر شہریوں کا احتجاج اس وقت مزید اشتعال انگیزی کا موجب بن جاتا ہے جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ بجلی کی آنکھ کا ہدف صرف غریبوں کی ہی بستیاں بنتی ہیں۔ بار بار کی بجلی کی بندش کی وجہ سے کم وسائل کے شہریوں کو ہر روز شہر میں لاکھوں کا مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ریڈیو ٹیلی ویژن‘فریج‘الیکٹرک کولرز اور الیکٹرانکس کے روزمرہ گھریلو استعمال کے آلات بار بار کے جھٹکوں سے جل بھن کر خاکستر ہوجاتے ہیں۔ ظلم تو یہ ہے کہ شہری ان نقصانات کا کلیم بھی نہیں کرسکتے۔

واپڈا حکام کو اس امر کا اندازہ ہونا چاہیے کہ شہریوں نے بجلی کی مختلف اشیاء اور الیکٹرانکس کے مختلف آلات اپنے گھروں میں موسمی شدتوں سے بچاؤ اور ضروریات زندگی کی تکمیل کے لئے نصب کر رکھے ہیں۔ یہ آلات جدید دور میں یقیناً سامان تعیش کے زمرے میں نہیں آتے ہیں۔تکلیف دہ بات تو یہ ہے کہ بجلی کی بندش کے باب میں بھی واپڈا حکام امتیازی سلوک روا رکھتے ہیں۔ امراء کی بستیوں میں جہاں 24 گھنٹے ہزاروں لاکھوں ایئرکنڈیشنز چل رہے ہوتے ہیں وہاں بجلی بند ہوتی ہے اور نہ پانی۔ مقام افسوس ہے کہ واپڈا میں اصلاح احوال کے ان گنت دعوؤں کے باوجود واپڈا حکام بجلی کی ٹرپنگ ایسے معمولی مسئلہ پر بھی قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ واپڈ میں بھاری بھر کم اعزازیے ‘مشاہرے اور تنخواہیں وصولنے والے انجینئرز آخر کس مرض کی دوا اور کس درد کا درماں ہیں۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر ہے کہ پاکستانی شہریوں کا شمار دنیا کے ان بدقسمت ترین شہریوں میں ہوتا ہے جنہیں حکام کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ایشیاء میں سب سے مہنگے نرخوں پر بجلی خریدنا پڑتی ہے۔ اسی پر بس نہیں‘ اب تو بجلی کے بلوں کے ذریعے شہریوں سے انکم ٹیکس‘جنرل سیلز ٹیکس اور مختلف چارجز وصول کیے جاتے ہیں۔یہ سراسر زیادتی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ طریق کار اس امر کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں محصولات کی وصولی پر مامور حکمران اپنے فرائض سے بذات خود عہدہ برآمد ہونے کے بجائے مختلف یوٹیلٹی بلز کے ذریعے غریب عوام کی رگوں سے خون چوس رہے ہیں۔ اب تو بلوں میں ’’متنازع رقم‘‘ کے نام پر بھی ایک کھاتہ کھول دیا گیا ہے۔ ہر بل میں کرایہ میٹر الگ سے وصول کیا جاتا ہے لیکن واپڈا حکام کے ہاں اگر کوئی عام صارف اپنے میٹر کی تبدیلی یا بجلی فراہم کرنے والی تار کی تبدیلی کے لئے ایک درخواست دیتا ہے تو متعلقہ ایس ڈی او اسے ایس ڈی او آفس کے بیسیوں چکر لگواتا ہے۔ عوامی مطالبہ ہے کہ واپڈا حکام عوام دوست رویوں کو اپنائیں اور گرمی کے موسم میں شہریوں کو کم از کم بجلی اور پانی جیسی بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کے تکنیکی عمل کو تسلسل اور تواتر کے ساتھ جاری رکھنے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کریں اور اعلیٰ حکام ماتحت عملے کو تاکید کریں کہ وہ ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر خوش گپیاں مارنے کی بجائے شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کو اپنا فرض منصبی جانے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Murtaza Mughal

Read More Articles by Dr Murtaza Mughal: 20 Articles with 8195 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jun, 2017 Views: 338

Comments

آپ کی رائے