امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حصہ اول

(Tanveer Ahmed Awan, Islamabad)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نام عمر ،لقب فاروق ، کنیت ابوحفص جب کہ ان کا سلسلہ نسب نویں پشت میں کعب پر آنحضرت ﷺ سے جا ملتا ہے ،واقعہ فیل سے تیرہ سال بعد آپ کی ولادت قبیلہ بنو عدی میں خطاب بن نفیل کے گھر ہوئی ،آ پ کی والدہ حنتمہ بنت ہشام جو ابوجہل کی بہن یا بعض روایات کے مطابق وہ بنت ہاشم تھیں اور ابوجہل کی چچا زاد بہن تھیں ۔حضرت عمر بن خطاب قوی الجثہ ،دراز قد ،بہادر ،ماہر تیر انداز و گھڑ سوار ،پہلوان اور غیر معمولی قوت کے حامل قریشی نوجوان تھے ،نبوت کے چھٹے سال ستائیس برس کی عمر میں 40 مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد مشرف بااسلام ہوئے ،آپ کے ایمان کے لیے رسول اللہ ﷺ نے اللہ کریم سے دعا مانگی تھی "،اے اللہ !اسلام کو عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام سے تقویت بخش دے ،جو بھی ان دونوں میں سے تیرے لیے محبوب ہو ۔"

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد مبارک ہے کہ " حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا فتح و نصرت تھی ،آپ کا ہجرت کرنا اسلام کے لیے زبردست مددگار ثابت ہوا ،اور آپ کی خلافت امت کے لیے رحمت تھی۔ قبول اسلام کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سخت مزاجی اور شدت جو اس سے پہلے تک مسلمانوں کو ایذاء رسانی کے لیے تھی ،توحید الہٰی کے دشمنوں کے لیے مصیبت بن چکی تھی ،اولین فرصت میں اہل قریش کو اپنے قبول اسلام سے آگاہ کیا ،یہی وجہ تھی کہ آپ کی فعال اور مضبوط شخصیت کی بدولت رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب ،بیت اللہ میں قریش کے روبرو اپنی روح پرور مجالس قائم فرماتے اور کھلے بندوں نمازیں ادا کرتے تھے ۔

اسلام لانے کے بعد سات برس تک مکہ میں قیام کے دوران اسلام کی ترویج و اشاعت اور مسلمانوں کی مدافعت میں قریش سے نبردآزما رہے ،مصائب و مشکلات کو خندہ پیشانی ،عزم و ہمت سے برداشت کرتے رہے ،رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا اثر تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طبیعت کی شدت شریعت اسلام کے تابع ہو چکی تھی ،یہی وجہ تھی کہ جب آپ کے سامنے غضب الہی سے متعلق آیات تلاوت کی جاتیں تو آپ پر گریہ طاری ہو جاتا تھا ،آپ کی شخصیت بیک وقت سخت گیری اور رقت و نرمی کا مظہر تھی، آپ قرآنی حکم اشداء علی الکفارورحماء بینھم ،کی عملی تصویر تھے ،آپ رضی اللہ عنہ جب اپنی رائے کو صحیح و درست سمجھ لیتے تو کمال جرات سے اسے پیش کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " عمر کی زبان پر اللہ نے حق کو جاری کردیا ہے۔"(بیہقی )یہی وجہ سے کہ شراب کی حرمت ،مسلمان عورت کے لیے پردے کا حکم ،غزوہ بدر کے اسیروں کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی تائید،رئیس المنافقین عبداللہ ابن سلول کے نماز جنازہ نہ پڑھے کے حوالے سےآپ کی رائے کے موافق وحی الہٰی کانازل ہونا ، برات اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا اور مقام ابراہیم کو مصلٰی بنانے سمیت کئی معاملات میں27 آیات کو اللہ کریم نے آپ کی رائے کے موافق نازل فرمائیں ۔

پیغمبر اسلام ﷺ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سےبہت زیادہ محبت کرتے تھے ،آپ کو اپنا وزیر و مشیر ارشاد فرماتے تھے ہو اہم معاملہ میں آپ کی رائے کو طلب فرمایا کرتے تھے، مکی ومدنی دونوں زمانوں میں نبی کریم ﷺ کےساتھ ہمہ وقت ساتھ رہ کر تمام غزوات اور اہم مواقع پر فعال کردار ادا کیا،اسی طرح فتح مکہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عمرہ کی اجازت چاہی ، آپ ﷺ نے اجازت دینے کے ساتھ ساتھ ایک ایسے ارشاد سے نوازا ،جس کے بارے میں آپ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اس کلمہ کے عوض اگر مجھے ساری دنیا بھی مل جائے تو میں خوش نہیں ہوں گا، وہ کلمہ یہ ہے "اے میرے بھائی ! اپنی دعا میں ہم کو بھی شریک رکھنا ،ہم کو بھول نہ جانا"۔جب کہ آپ کی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنھا رسول اللہﷺ کے عقد میں تھیں ،گویا آپ کو نبی کریم ﷺ کاسسر ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔رسول اللہ ﷺ نے آپ کی اہمیت کو امت کے سامنے یو ں ارشاد فرمایا کہ "میرے بعد ابوبکر و عمر کی اقتداء کرنا "۔ (مشکوٰۃ )
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 137599 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
04 Jun, 2017 Views: 731

Comments

آپ کی رائے