محسن امت سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ حصہ دوم

(Tanveer Ahmed Awan, Islamabad)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پاکیزہ صفات اور اجلے کردارکے مالک ،پیکر صداقت و امانت ،رسول اللہ ﷺ کے مشیر ووزیر اوررفیق سفر وخضر تھے ، آپ نے قبول اسلام سے پہلے اور بعدعرب معاشرے میں قابل رشک گزاری ہے ، سب سے پہلے ایمان لائے اور غریب اور غلام مسلمانوں کو خرید کر کفار کے مظالم سے آزاد کروایا ، رؤساء عرب تک دعوت اسلام کو مؤثر انداز میں پہنچایا ، رسول اللہ ﷺ کا سفر ہجرت کی پر خطر راہوں میں ساتھ دیا ،جب کہ مدینہ میں اسلامی ریاست کے قیام میں پیغمبر اسلا م کے شانہ بشانہ محنت اورجدوجہد کی ، اسی طرح تمام غزوات و سرایہ میں داد شجاعت وصول کی ، رسول اللہ ﷺ کے وصال سے قبل ہی نبی کریم ﷺ کے حکم پر مسلمانوں کو نمازیں پڑھانی شروع کیں ،جو خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا آپ پر اعتماد کی عکاس ہے،حضرت خذیفہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے معلوم نہیں کہ میں کب تک تمھارے درمیاں رہتا ہوں ،لہذا تم یرے بعد ان دونوں کی اقتداء کرنا ،اور یہ کہتے ہوئے آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھما کی طرف اشارہ فرمایا ۔(ترمذی ،ابواب المناقب )۔

بلاشبہ امت محمدی پر مشکل ترین وصال نبوی کا دن تھا، حضرت اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا روایت فرماتی ہیں کہ " سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی قیام گاہ اپنی قیام "سخ " سے گھوڑے پرتشریف لائے،میرے حجرہ میں داخل ہوئے ،اور رسول اللہ ﷺ کیطرف گئے ،آپ ﷺ پر ایک یمنی چادر تھی ،حضرت ابوبکر نے آپ کے چہرہ سے یمنی چادر کو ہٹایا اور جھک کو بوسہ دیا اور کہنے لگے " میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آ پ پر مرتبہ موت طاری نہیں کرے گا،جو آپ کے لیے لکھی ہوئی تھی وہ آپ پر طاری ہو چکی ہے ۔"(بخاری ،کتاب المغازی)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں ،سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ حجرہ عائشہ سے باہر تشریف لائے ،اس حال میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے باتیں کررہے تھے (اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول فوت نہیں ہوئے )،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اجلس یا عمر ! لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کردیا ،اتنے میں لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کو آپ کی طرف متوجہ ہوئے ،حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے حمد وثنا کے بعد فرمایا "(سنو) تم میں سے جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ محمد ﷺ کا وصال ہو چکا ہے اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو (اس کا معبود ) اللہ ہمیشہ زندہ ہے،اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔" پھر سورہ ال عمران کی آیت 144 تلاوت فرمائی ،اور نہیں ہیں محمد مگر اللہ کے رسول ،بے شک اس سے پہلے کئی رسول گزر چکے ،تو کیا وہ فوت ہو جائیں یا قتل کردیئے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے ،اور جو اپنی ایڑیوں پر پھر جائے تو وہ اللہ کو ہرگز کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا ،اور اللہ شکر کرنے والوں کو جزا دے گا۔حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا " اللہ کی قسم ! مجھے اس وقت ہوش آیا جب میں نے ابوبکر کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا ،تو میں سکتے میں آ گیا اور مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اٹھا پائیں گے اور اس وقت میں نے جان لیا کہ نبی وفات پا گئے ہیں "۔(بخاری کتاب المغازی۔4454۔3668)

نبی کریم ﷺ کی وصال کے بعد سب سے بڑا مسئلہ آپ کی خلافت کا تھا ،سقیفہ بنی سعد میں انصار و مہاجرین کا نمائندہ اجلاس منعقد تھا ،اس موقع پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کےدانش مندانہ خطاب سے اس معاملہ کے حل کی راہ نکلی آپ نے حضرت عمر اور ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنھما کا نام پیش کیا کہ ان میں سے کسی ایک کو اپنا امیر چن لو ،جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےامت کو ایک بڑے انتشار سے بچاتے ہوئے کہ سب کی راہیں جدا جدا ہوں ،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی ،پھر مہاجرین و انصار نے آپ کی پیروی کرتے ہوئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی ،جب کہ نبی کریم ﷺ کے وصال کے دوسرے دن حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کی بیعت عام ہوئی ،آپ منبر پر تشریف لائے اور حمد وثنا ء کے بعد ارشاد فرمایا "اے لوگو! میں تم پر والی مقرر کیا گیا ہوں ،لیکن میں تم میں سے بہتر نہیں ہوں ،اگر میں اچھا کام کروں تو میرے ساتھ تعاون کرو،اگر میں کج روی اختیار کروں تو مجھے سیدھا کردو،سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے ،تمھارا ضعیف فرد میرے نزدیک طاقت ور شخص ہے جب تک میں دوسروں سے اس کا حق نہ دلودوں ان شا ء اللہ ، اور تمھارا طاقت ور میرے نزدیک ضعیف ہےیہاں تک کہ میں اس سے دوسروں کا حق وصول نہ کر لوں ،ان شاء اللہ۔یادرکھو! جو قوم جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیتی ہے ،اللہ اس قوم کو ذلیل و خوار کردیتا ہے ،جس قوم میں بدکاری پھیل جاتی ہے اللہ اس کو مصیبتوں میں مبتلا کردیتا ہے،اگر میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کروں تو تم میری اطاعت کرو،اگر میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت لازم نہیں ہے ،اللہ تم پر رحم فرمائے،نماز کے لیے کھڑے ہو جائے (نماز قائم کرو)۔(سیرۃ ابن ھشام ۔ص 900)یقینا خلیفۃ الرسول ﷺ کا یہ خطبہ اسلامی نظام حکومت میں اساس کی حیثیت رکھتا ہے جس میں حاکم و رعایا،اصول عدل و انصاف اور ریاست کی ذمہ داریوں کے علاوہ جہاد اور اسلامی معاشرہ کی بنیادی اکائی حیاء و پاکدامنی کے لیے راہنما اصول ارشاد فرمائے ہیں ۔موجودہ اسلامی دنیا کے حکمران ہوں یا عام رعایا ، خلیفہ بلا فصل کا خطبہ سب کے لیے مشعل راہ ہے ،اور یہی وہ زریں اصول ہیں جو ہمیں کامیابی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتے ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 141034 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
04 Jun, 2017 Views: 437

Comments

آپ کی رائے