ہومر

(Dr. Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaon)
ڈاکٹر مشاہدرضوی کی تالیف مشہور مغربی شخصیات سے

یورپ کی ادبیات میں دو کلاسیکی نظمیں سب سے مشہور ہیں۔ الیئڈ اور اوڈیسے۔ یہ نظمیں تو خوب ہیں لیکن ان کا لکھنے والا کون ہے، یہ کچھ معلوم نہیں، ہومر کا نام محض فرضی ہے اور اس کے متعلق ہمیں کچھ بھی معلوم نہیں ہوسکتا۔

ہیروڈوٹس کا خیال یہ ہے کہ ہومر 850 ق م کے لگ بھگ زندہ تھا، لیکن دوسرے اہل علم اس تاریخ کو بارہ سو قبل مسیح تک کھینچ لے جاتے ہیں۔ قدیم یونان میں بھی ہومر کےمتعلق بعض افسانے موجود تھے اور سات شہر اس کو اپنا باشندہ بتاتے تھے۔ ایتھنز، ارگوس، چیوس، کولو فون، رہوڈز، سلامیس اور سمرنا۔ روایت یہ ہے کہ وہ اپنی عمر کے دوسرے حصے میں ایک اندھا شاعر تھا۔ بستی بستی گھومتا پھرتا تھا، لوگوں کو اپنے شعر گا کر سناتا تھا اور اس طرح روٹی کماتا تھا۔

ہومر کا کلام دنیا کی تمام مہذب زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔ انگریزی نظم میں کائوپر اور پوپ نے جو ترجمہ کیا، وہ بہت مشہور ہے، لیکن ہومر کے خاص آہنگ اور لطافت کو انگریزی نظم میں پیش کرنا اس قدر مشکل ہے کہ نثر میں ترجمہ کرنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ٭٭٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi

Read More Articles by Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi: 409 Articles with 361980 views »


Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi

Date of Birth 01/06/1979
Diploma in Education M.A. UGC-NET + Ph.D. Topic of Ph.D
"Mufti e A
.. View More
11 Jun, 2017 Views: 493

Comments

آپ کی رائے