سرمایہ دارانہ نظام میں عدل اور انصاف کی کوئی جگہ نہیں ہوتی

(hur saqlain, Chakwal)
جس معاشرے میں عدل اور انصاف کا نظام رائج نہ ہو اس معاشرے کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔انسانی ترقی کا تمام تر دارومدار اسی نظام میں پوشیدہ ہے۔اس نظام میں اقربا پروری اور رشوت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔معاشرے میں پائی جانے والی تمام برائیوں اور بیگاڑ کا حل نظام عدل میں ہی موجود ہے۔عدل کے بغیر کوئی معاشرہ پر امن اور خوشحال نہیں ہو سکتا ہے۔عدل کی ضد ظلم ہے اسی لیے اگر معاشرے میں نظام عدل موجود نہ ہو گا تو وہاں صرف ظلم کا ہی راج ہو گا۔ایسے معاشرے جہاں ظلم ہو وہاں امن اور خوشحالی کبھی بھی نہیں آیا کرتی ہے۔عدل اور انصاف کا نظام رائج کرنے کی تمام تر ذمہ داری حکومت کی ہی ہوتی ہے اور اس کا امین ہونا لازم ہے۔اگر ایسا نہ ہوتو پھر حکومت ظالم ہوگی۔وہ لاکھ کوشش کرے پھر بھی معاشرے میں کبھی سکون اور امن قائم نہیں ہوسکتا۔ ایسی حکومت کے خلاف عوام کا غم و غصہ قدرتی ہوتا ہے۔لوگوں میں نفرت کے جذبات کبھی کم نہیں ہوتے ہیں۔ اسی لیے چودہ سو سال قبل فاتح خیبر نے فرما دیا تھا کہ حکومت کفر سے تو رہ سکتی ہے مگر ظلم سے نہیں۔
جس معاشرے میں عدل اور انصاف کا نظام رائج نہ ہو اس معاشرے کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔انسانی ترقی کا تمام تر دارومدار اسی نظام میں پوشیدہ ہے۔اس نظام میں اقربا پروری اور رشوت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔معاشرے میں پائی جانے والی تمام برائیوں اور بیگاڑ کا حل نظام عدل میں ہی موجود ہے۔عدل کے بغیر کوئی معاشرہ پر امن اور خوشحال نہیں ہو سکتا ہے۔عدل کی ضد ظلم ہے اسی لیے اگر معاشرے میں نظام عدل موجود نہ ہو گا تو وہاں صرف ظلم کا ہی راج ہو گا۔ایسے معاشرے جہاں ظلم ہو وہاں امن اور خوشحالی کبھی بھی نہیں آیا کرتی ہے۔عدل اور انصاف کا نظام رائج کرنے کی تمام تر ذمہ داری حکومت کی ہی ہوتی ہے اور اس کا امین ہونا لازم ہے۔اگر ایسا نہ ہوتو پھر حکومت ظالم ہوگی۔وہ لاکھ کوشش کرے پھر بھی معاشرے میں کبھی سکون اور امن قائم نہیں ہوسکتا۔ ایسی حکومت کے خلاف عوام کا غم و غصہ قدرتی ہوتا ہے۔لوگوں میں نفرت کے جذبات کبھی کم نہیں ہوتے ہیں۔ اسی لیے چودہ سو سال قبل فاتح خیبر نے فرما دیا تھا کہ حکومت کفر سے تو رہ سکتی ہے مگر ظلم سے نہیں۔

اس وقت پاکستان اپنی تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔یہاں پر قائم ہونے والی حکومتیں کبھی بھی مثالی عادلانہ نظام رائج نہیں کر سکیں ۔یہی وجہ ہے کہ یہاں امیر اور غریب میں فرق بڑھتا چلا گیا۔ قانون کا رویہ دونوں طبقات کے لیے الگ الگ مقرر ہو گیا۔جس نے قومی وسائل کو لوٹا وہ صاحبِ تکریم کہلایا۔ انصاف غریب لوگوں کی دسترس سے دور ہو گیااورا من گم ہو گیا۔بنیادی ضروریاتِ زندگی پاکستانی قوم کا خواب بن کر رہ گئیں۔ایسے میں عالمی سطح پر پانامہ پیپرز کا شور بلند ہوا ۔پاکستانی عوام اور میڈیا نے اس شور میں اضافہ کیا۔ابتدا میں حکمران اسے پانی کا بلبلہ ہی کہتے رہے مگر یہ بلبلہ اب ایک سیلاب بن چکا ہے۔جوں جوں اس سیلاب کی سطح بلند ہو رہی ہے حکمرانوں کی چیخیں بھی بلند ہو رہی ہیں کبھی جے آئی ٹی کے ارکان پر اعتراض ہوتا ہے اور کبھی شہزادے کی تصویر پر شور مچایا جاتا ہے۔درباری بادشاہ کا حقِ بندگی ادا کرنے میں اس قدر آگے نکل گئے کہ عدالت کا احترام ہی محلوظِ خاطر نہ رکھا۔جے آئی ٹی نے سوال جواب کے لیے وزیر اعظم کو بھی طلب کر لیا ہے۔پاکستانی عوام کی تمام تر نظریں اسی تفتیش پر لگی ہوئی ہیں۔پاکستانی قوم یہ سمجھتی ہے کہ حکمران خاندان نے پیسہ بنایا بیرون ملک جائیدادیں بنائیں ۔جتنی تیزی سے انہوں نے ترقی کی قانونی طریقے سے اس قدر ممکن نہیں ہے اور حکمران خاندان نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور یہ دولت حاصل کی۔دوسری طرف مسلم لیگ ن کا خیال اس کے برعکس ہے۔دونوں قسم کے خیالات اپنی جگہ پر مگر اس جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کرنی ہے اور اس رپورٹ کی روشنی میں فیصلہ اسی عدالت نے کرنا ہے۔عدالت کا فیصلہ جو بھی ہو ا سے قبول کرنا چاہیے۔اگر حکمران خاندان اس مقدمے میں بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جیسا کہ طاہر القادری کا بھی خیال ہے تو پاکستان کے مستقبل کی تصویر کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔یہ خاندان صوبہ پنجاب اور وفاق میں تیس سال سے زیادہ عرصہ اقتدار میں رہا ہے۔یہ حکمران عوام کو پینے کا صاف پانی تک مہیانہیں کر سکے باقی ضروریات زندگی تو الگ بات ہے۔اقربا پروری اور رشوت ستانی ان کا بہترین ہتھیار ہے۔جے آئی ٹی سے طاہر القادری کو کچھ خاص امید نہیں ان کا خیال ہے کہ حکمران اپنی چالاکیوں کی بدولت اس مقدمے میں بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔سانحہ ماڈل ٹاون کا کیس ان کے سامنے ہے۔وہ اور پوری قوم جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔حکومت نے اس رپورٹ کو دبا رکھا ہے۔طاہر القادری قصاص تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کی بات بھی کرتے ہیں ۔وہ اس نظام کے خلاف تحریک تو چلاتے ہیں مگر خود جلد ہی ملک سے چلے جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مقصد سے بہت دور ہو جاتے ہیں۔
پاکستانی قوم کو اب انتہائی چوکس ہونا پڑے گا۔ان کی جدوجہد صرف ایک خاندان کے خلاف نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس ملک میں مضبوط ہوتی سرمایہ دارانہ گرفت کے خلاف ہونی چاہیے۔پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کے لیے پر امن زندگی گزارنے کے لیے بنایا گیا تھااور اس کا مقصدغریب اور محروم لوگوں کو ان کا حق دینا تھا۔مگر دھیرے دھیرے سرمایہ دار نے سب کچھ اپنے قبضے میں کر لیا ۔اس نے پاکستانی سیاست پر بھی اپنا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ملک میں اس وقت جمہوریت ہے مگر عوام اس نظام سے کوسوں دور ہیں۔لگ بھگ ہر سیاسی جماعت کی قیاد ت سرمایہ دار طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔اقتدار کا حصول ان کے ذاتی مفادات کو تقویت دیتا ہے۔ملک اور قوم کے ساتھ ان کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔سرمایہ دارانہ نظام میں عدل اور انصاف کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔صرف مفادات کا نظام ہوتا ہے۔ہر سیاسی کارکن کو اپنی جماعت کی قیادت سے مطالبہ کرنا ہو گا کہ وہ انتخابی ٹکٹ عام ورکر کو دیں اگر قیادت ایسا کرے تو درست بصورتِ دیگر اس جماعت کو چھوڑ دینا چاہیے۔یہ قوم جب تک خود اپنے حق کے لیے نہیں اٹھے گی اس وقت تک یہ قوم ظلم کا شکار رہے گی۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: hur saqlain

Read More Articles by hur saqlain: 77 Articles with 36991 views »
i am columnist and write on national and international issues... View More
12 Jun, 2017 Views: 442

Comments

آپ کی رائے