مشرقِ وسطی پر منڈلاتے دہشت گرد وں کے سائے کا خمیازہ پھر ایک مرتبہ ۰۰۰

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
ساڑھے چھ کروڑ سے زائد افراد آخر پناہ گزیں بننے پر کیوں مجبور ۰۰۰ ذمہ دار کون؟

مشرقِ وسطیٰ ان دنوں جن حالات سے دوچار ہے اسکا اثر بین الاقوامی سطح پر پڑسکتا ہے۔ دنیا کے امیر ترین ملک قطر پرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اشارہ پر دہشت گردی کا لیبل لگاکر سعودی عرب، بحرین، عرب امارات، مصر، یمن، لیبیاء نے اسلامی ممالک کے درمیان پیار و محبت، اتحاد و اتفاق اور مضبوط و مستحکم ہوتے ہوئے رشتہ کو پامال کیا ہے۔ چالیس سے زائد ممالک کی متحدہ اسلامی فوج کا شیرازہ ابھی سے ہی بکھیرنے لگا ہے۔دشمنان اسلام کی نیندیں حرام کرنے والے اس اتحاد کو توڑنے کی کوششیں کامیاب ہوچکی ہیں۔ سعودی عرب نے امریکی صدر ٹرمپ کے دورے کے موقع پر انہیں خوش کرنے کی بہترین کوشش کرتے ہوئے کھربوں ریال اسے معاہدوں کے ذریعہ پیش کردیا ۔ سعودی عرب پر ٹرمپ کے ناپاک قدموں نے مشرقِ وسطی کے ان چھ ممالک کے درمیان پائے جانے والے رشتہ کو توڑدیا اور نہیں معلوم مستقبل قریب میں مشرقِ وسطی کس دوراہے پر کھڑا ہوگا۔؟ مشرقِ وسطی کے چھ ممالک میں سے کویت نے سعودی عرب اور دیگر ممالک کی ہاں میں ہاں بھرنے کے بجائے قطر پر عائد کی گئیں پابندیاں ہٹانے اور سفارتی تعلقات کو بحال کرنے کے لئے پہل کی۔ قطر کے وزیر خارجہ نے ان چھ ممالک کی جانب سے اس پر عائد پابندیاں اور سفارتی تعلقات کے منقطع کرنے سے دستبردار نہ ہونے کی صورت میں کسی بھی قسم کی بات چیت سے انکار کیا ہے۔ وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے 19؍ جون کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قطر پر پابندیاں عائد ہیں اس لئے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے لئے انہیں پابندیاں ہٹانی ہونگی۔ وزیر خارجہ نے دوحہ میں قائم الجزیرہ نیٹ ورک کے مستقبل سمیت قطر کے داخلی امور کے متعلق کسی بھی بات چیت کو مسترد کردیا۔ عبدالرحمن الثانی کا کہنا ہیکہ جو چیزیں ان ممالک سے متعلق نہیں ہیں ان پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ کسی کو بھی ہمارے اندرونی معاملے میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔ الجزیرہ سے متعلق کہا کہ الجزیرہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے لہذا ہم اپنے داخلی امور پر بات چیت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم مبہم مطالبات کو قبول نہیں کرسکتے۔ وزیر خارجہ نے یہ عندیہ دیدیا ہیکہ اگر ان کے ملک کا بائیکاٹ جاری رہا تو وہ علاقے کے دوسرے ممالک پر بھروسہ کریں گے جن میں سعودی عرب کا حریف ایران بھی شامل ہے۔انکا کہنا تھا کہ ہمارے پاس متبادل منصوبہ ہے جو ترکی، کویت اور عمان پر مبنی ہے۔ ایران نے قطر کی پروازکے لئے فضائی سہولت دی ہے اور قطر ان تمام ممالک کے ساتھ تعاون کررہا ہے جو قطر کو رسد پہنچانے کی یقین دہانی کرائے۔ قطر کا زمینی راستہ صرف سعودی عرب سے ملتا ہے اور اس وقت سعودی عرب قطر کے اس واحد زمینی راستہ کو بند کرکے قطر کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ اگر فوراً ان چھ خلیجی ممالک کے درمیان حالات بہتر نہ ہونے کی صورت میں دوسرے اسلامی ممالک کے لئے یہ فیصلہ کرنا دشوار ہوجائے گا کہ وہ کس کا ساتھ دیں اور کس سے تعلقات منقطع کرلیں۔ قطر قدرتی گیس کے لئے عالمی سطح پر اہم ملک ہے اور اگر اسے سعودی عرب اور دیگر ممالک کی جانب سے تعاون بند ہونے کی صورت میں قطر ہی کی نہیں بلکہ دیگر ممالک کی معیشت پر بھی بُرا اثر پڑے گااور جو متحدہ اسلامی فوجی اتحاد قائم ہوا ہے اس سے دوسرے ممالک علحدگی اختیار کرسکتے ہیں۔ قطری وزیر خارجہ اگلے ہفتے امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں جس میں امریکی حکام کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے حالات پر بات چیت کرینگے۔قطر کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے دیگر ممالک کے ساتھ ہمیشہ سے تعاون کرتا رہا ہے اس کے باوجود اسے نشانہ بنایا گیاہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قطر کے وزیر خارجہ آئندہ ہفتے امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں کیا انکا یہ دورہ کامیاب ہوسکتا ہے؟ ماضی کی طرح امریکہ کی دوہری پالیسی قطری وزیر خارجہ کے دورے کے بعد منظرعام پر آجائے گی ۔ترکی اور ایران نے قطرکیلئے اشیاء خردونوش ودیگر ضروریات زندگی کے سامان مہیا کرکے وقتی طور پر قطر کے عوام کے لئے راحت فراہم کی ہے ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ترکی کے وزیر اقتصادیات نہات زیبک چی نے استنبول میں ترکی کی برآمداتی اسمبلی کی جنرل کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ بحران کا سامنا کرنے والے ملک قطر کو ترکی کی جانب سے 71 طیاروں کے ساتھ 5 ہزار ٹن خوراک بھیجی گئی ہے۔قطری عوام کی بنیادی ضروریات کو فوری طور پر پورا کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے کے آخر میں بحری جہاز کے ذریعے بھی امدادی سامان کی ترسیل کا کام شروع ہو رہا ہے۔وزیر اقتصادیات زیبک چی نے کہا ہے کہ جس نے بھی مشکل وقت میں ترکی کو پکارا ترک عوام صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں کسی چیز کی پروا کئے بغیر اس کی مدد کو پہنچی ہے۔قطر اور ترکی کے درمیان تعلقات مضبوط ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ19؍ جون کو ترک فوجی دستے مشترکہ جنگی مشقوں کیلئے قطر پہنچ گئے ہیں۔ ان مشقوں کے لئے ترک فوجیوں کی تعیناتی اس تیز رفتار قانون سازی کے بعد ممکن ہوئی جو انقرہ کی پارلیمان نے قطر کا بحران پیدا ہونے کے بعد کی تھی۔کویت نے قطر اور ان چھ ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو بحال کرنے کے لئے پہل کی ہے ، امیر کویت شیخ صبا ح ال احمد ال جابر الصباح نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ اختلافات کو ماہ رمضان المبارک میں حل کر لیا جائے گا۔ کویت ذرائع ابلاغ کے مطابق کویت کے ٹیلی ویژن سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو ماہ رمضان میں مذاکرت کے ذریعے حل کر لیا جائے گا۔ خلیجی ممالک کے درمیان تاریخی روابط ،مخلصانہ عائلی تعلقات اور مشترکہ مفادات موجود ہیں۔ اس دائرہ کار میں عوامی خواہشات کا احترام کرنے اور اتحاد کا تحفظ کرنے کے لیے ہم بھر پور کوششیں صرف کریں گے۔ انھوں نے اس طرف توجہ دلائی کہ کویت دہشت گردی کے خطرات سے پوری طرح آگاہ ہے اور اس کے خلاف جدو جہد کے لیے اور دہشت گردی کے منبع کو ختم کرنے کیلئے عالمی برادری کا ساتھ دے رہا ہے ۔ امیر کویت صباح ال احمد جابر الصباح نے سب سے پہلے مشرقِ وسطی کے تمام ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات بحال کرنے کے لئے پہل کئیہیں اب دیکھنا ہیکہ ان کی مساعی کامیاب ہوپاتی ہے یا نہیں ۔ اگر ان ممالک کے درمیان تعلقات بحال نہ ہونے کی صورت میں عالمِ اسلام شدید بحران کا شکار ہوجائے گا اور مشرقِ وسطیٰ پر منڈلاتے دہشت گردوں کے سائے کا خمیازہ پھر ایک مرتبہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو بھگتنا پڑے گا۔

اقوام متحدہ رپورٹ کے مطابق اس وقت ساڑھے چھ کروڑ سے زائد افراد جو بے گھر ہیں ان میں سوا دو کروڑ مہاجر ہیں، چار کروڑ اپنے ہی ملک میں بے گھر ہیں، 28لاکھ دوسرے ملکوں میں پناہ کے متلاشی بتائے جاتے ہیں۔ ان پناہ گزینوں کا تعلق جن ممالک سے ہیں ان میں شام کے 55لاکھ، افغانستان کے 25لاکھ، جنوبی سوڈان کے 14لاکھ ہیں۔ ان ممالک کے پناہ گزینوں کو جو ممالک پناہ دے رہے ہیں ان میں ترکی 29لاکھ افراد کو پناہ دے رہا ہے جبکہ پاکستان 14لاکھ، لبنان10لاکھ ، ایران 9,79,400، یوگینڈا9,40,800اور ایتھیوپیا7,91,600ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد امیر ترین ملکوں سے امید ظاہر کی ہیکہ اس رپورٹ کی اشاعت کے انہیں سوچنے کا موقع ملے گا کہ وہ نہ صرف زیادہ پناہ گزینوں کو قبول کریں بلکہ امن کی ترویج اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں بھی حصہ ادا کریں۔

بعض ممالک میں پناہ گزینوں کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے اس کی رپورٹس بھی کئی مرتبہ منظر عام پر آچکی ہے۔ کئی ممالک میں پناہ گزینوں کو جن مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا انہیں دیکھنے کے بعد اقوام متحدہ، بین الاقوامی سطح پر ان پناہ گزینوں کی مدد کیلئے اعلانات بھی کرتا رہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہیکہ اتنے کروڑ پناہ گزین آخر اپنے گھروں سے نکلنے پر کیوں مجبور ہوئے۔؟ اس کا جواب ایک عام شخص دے سکتا ہے کہ دشمنانِ اسلام نے جن ناپاک عزائم کے ذریعہ مسلمانوں میں تفرقہ ڈال کر ان میں دشمنی پیدا کی اور پھر ان ہی مسلم امیرترین ممالک کے حکمرانوں کو انکے اقتدار پر برقرار رہنے کا لالچ دے کر ان ممالک پر حملے کرنے کے منصوبوں میں کامیاب ہوگئے جو دشمنان اسلام کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتے تھے۔ عراق، لیبیا، افغانستان ، یمن، مصر وغیرہ میں اسلام کو تقویت حاصل ہورہی تھی ۔ ان ممالک میں مختلف بہانوں کے ذریعہ دشمنان اسلام نے خطرناک فضائی کارروائیاں کرتے ہوئے لاکھوں مسلمانوں کو ہلاک کرنے کی کوشش کی جس میں انہیں گذشتہ چند برسوں کے دوران بڑی کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ ان ممالک کے حکمرانوں کے خلاف جھوٹے پروپگنڈے کئے گئے اور انہیں عالمی سطح پر مجرم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ عراق، افغانستان، پاکستان، مصر، شام وغیرہ میں دشمنانِ اسلام کی سازشوں میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کو دیکھنے کے بعد ان مظلوم مسلمانوں پر بیتی گئی دردناک حالات سے باخبر ہونے کے بعد مسلمانوں میں دشمنان اسلامی کے خلاف نفرت پیدا ہوئی اور ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے دشمنانِ اسلام کی ظالمانہ کارروائیوں کو روکنے کے لئے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر ان جہادی گروپس میں شمولیت اختیار کرنے کو ترجیح دی اور مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ جہادی گروپس ،دشمنان اسلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے لیکن ان میں کتنے حقیت میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف دشمنانِ اسلام کی سازشوں کو بے نقاب کرنے اور انہیں شکست دینے کے لئے سرگرم عمل ہیں اس سلسلہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا کیونکہ ان میں کئی نام نہاد جہادی گروپس ہیں جن کا تعلق شائد ہی مسلمانوں سے ہو کیونکہ طالبان، داعش وغیرہ جس طرح اسلامی ممالک میں رہنے والے اپنے ہی مسلم بھائیوں کے خون کے پیاسے نظر آتے ہیں۔ پاکستان، افغانستان، عراق، شام، مصر وغیرہ میں فائرنگ، بم دھماکے، خودکش حملے مسلمانوں پر ہی کئے جاتے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ مساجد، صحابہ کرامؓ ، اولیاء عظام کی مزارات اور مسلم تعلیمی اداروں، دواخانوں وغیرہ پر فضائی کارروائی کرکے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کا قتل عام بھی ہورہاہے اور انکی کروڑوں کی املاک کو تباہ و برباد کردیا جارہا ہے ۔ جبکہ دوسری جانب مسلم حکمرانوں کے دلوں اور دماغوں میں ڈر و خوف پیدا کرکے یا انہیں لالچ دے کر دشمنانِ اسلام اپنے کھربوں ڈالرز کے ہتھیار فروخت کررہا ہے جس کے ذریعہ وہ اپنی معیشت کومضبوط و مستحکم کرتے ہوئے دنیا پر اپنا اثر و دبدبہ برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کے بعد مشرقِ وسطی کے حالات دھماکو صورتحال اختیار کرلئے ہیں۔ سعودی عرب، بحرین، عرب امارات، لیبیا، یمن، مصر نے جس طرح ایک امیر ترین اسلامی ملک قطر کے خلاف سفارتی تعلقات منقطع کرلئے اور سعودی عرب نے قطرکا وہ واحد زمینی راستہجو سعودی عرب میں نکلتا ہے اسے بعد کردیا، زمینی، فضائی اور بحری راستوں کو قطر کے لئے بند کردیا گیا۔ دنیا کے اس امیر ترکن ملک قطرمیں ان دنوں حالات بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ سعودی عرب نے جس تیزی کے ساتھ کچھ کہے اور ورننگ دیئے بغیرہ قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا اس طرح اس اسلامی ملک پر دہشت گردی کا لیبل لگانے کے لئے دشمن اسلام امریکی صدر ٹرمپ کے اشارہ کو عملی جامہ پہنایا گیا۔قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے سے عالمِ اسلام پر مضر اثرات مرتب ہونگے۔ مسلمانوں کی معیشت پر پھر ایک مرتبہ دشمنان اسلام کی جانب سے کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ دنیا کے امیرترین ابھرتے ہوئے اسلامی ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کرنے کی سازش ہوچکی ہے ، نہیں معلوم اس پر کب اور کس طرح حملے کیا جاتاہے ۔ کویت کے امیر تعلقات کو بہتر بنانے کی سعی کررہے ہیں ، ترکی اہم رول ادا کرنے کا اشارہ دے چکا ہے لیکن دشمنانِ اسلام کے خلاف عالمِ اسلام کی یہ طاقتیں اتنی مظبوط و مستحکم دکھائی نہیں دیتی کیونکہ ان میں اتحاد و اتفاق کی کمی ہے۔ ان ممالک میں اگر مسلمان ، مسلمان پر حملہ کرتاہے تو وہ دہشت گرد کہلاتاہے اور اگر امریکہ، برطانیہ، مغربی و یوروپین ممالک میں مسلمانوں پر حملے کئے جاتے ہیں، ان کے عبادتگاہوں پر حملے کئے جاتے ہیں اسے دہشت گردی کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ہے بلکہ کسی ایک شخص کوملزم و مجرم کے طور پر پیش کرکے اسکے دماغی توازن بگڑے ہونے کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے یا صرف اسے ہی مسلمانوں کے خلاف بتایا جاتا ہے۔ اور اسی طرح کا معاملہ اسلامی ممالک میں کوئی شخص کرتاہے تو اسے کسی نام نہاد جہادی تنظیم سے جوڑ دیا جاتا ہے جبکہ اس کا تعلق اس تنظیم سے نہ رہا ہو۔ اور نام نہاد دہشت گرد تنظیمیں بھی دہشت گرد کارروائیوں کے بعد اپنے آپ کو منظر عام پر لانے کیلئے اس واقعہ کا ذمہ قبول کرلیتی ہیں۔ اس میں کتنی صداقت ہوتی ہے اس سلسلہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ شمالی لندن میں 19؍ جون کی رات نماز پڑھ کر مسجد سے نکلنے والے مصلیوں پر ایک وین ڈرائیورنے وین چڑھا دی۔ پولیس کے مطابق وین ڈرائیور نے سیون سسٹرز روڈ پر فنزبری پارک کی مسجد میں آدھی رات کے قریب نماز پڑھ کر نکلنے والے مصلیوں کو نشانہ بنانے کے لئے فٹ پاتھ پر وین چڑھا دی جس میں دو شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ برطانوی وزیر اعظم ٹر یسامیے نے اسے ہولناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’میری ہمدردیاں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو زخمی ہوئے ہیں اور انکے عزیزوں کے ساتھ ہیں‘‘۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک عینی شاید عبدالرحمن نے بتایا کہ وین ڈرائیور نے کہا کہ وہ تمام مسلمانوں کو مارنا چاہتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب وین میں بیٹھا ہوا شخص باہر آیا تو وہ بھاگنا چاہتا تھا اور وہ بھاگتے ہوئے کہہ رہا تھا ، میں مسلمانوں کو مارنا چاہتا ہوں، میں مسلمانوں کو مارنا چاہتا ہوں۔مسلم کونسل برطانیہ نے اس واقعہ کے بعد مساجد کے گرد مزید سکیوریٹی کا مطالبہ کیا ہے۔ڈرائیور تو پکڑا گیا اور زخمی ہونے والے تمام مسلمان تھے اب دیکھنا ہے کہ وین ڈرائیور کو کس نوعیت کی سزا دی جاتی ہے ؟ عالمی سطح پر مسلمانوں کے دشمن کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ آج عالمِ اسلام کو متحدہ طور پر کسی کے آلہ کار بنے بغیر اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنے کیلئے کوششیں کرنی ہونگی۔ دشمنوں کو زیر کرنے کے لئے انکے ناپاک عزائم سے خبردار ہوکر لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے ۔آج مسلمانوں کو ایک ایسے قائد کی ضرورت ہے جو عالمی سطح پر مسلمانوں کی حفاظت کیلئے اٹھ کھڑا ہو۔اس وقت ترکی کے صدر رجب طیب اردغان پر مسلمانوں کی نظریں ہیں وہ ایک طرف بے گھر ہونے والوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے میں سب سے آگے نظر آتے ہیں تو دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے وقت قطری عوام کے لئے انکی ضررویات زندگی فراہم کرنے میں آگے آگے دکھائی دیتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 261 Articles with 101944 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jun, 2017 Views: 571

Comments

آپ کی رائے