کیا نواز شریف حکومت کے خلاف جوڈیشل کوکی تیاری مکمل ہے

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

 اس ملک میں جمہوری اقتدار کے خلاف وہ تمام گروہ اور قوتیں متفق ہیں جنہوں نے اپنے اپنے چہروں پر سیاہ ماسک پہن رکھے ہیں۔جو اس ملک کی صفائی و بھلائی کے بھی دعویدار ہیں مگر بڑے ڈکیتوں کے مقابلے میں چھوٹا چور ان کا ترنوالہ ہوتا ہے۔جن لوگوں نے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔وہ ان کے لئے پاک وپوتر ہیں۔ان لوگوں کا اسلامی اقدار سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔یہ لوگ عمرِفاروق کا نام اس لئے نہیں لیتے ہیں کہ وہ انصاف میں سچائی کا پیکر تھے۔ مگر مغرب کی اقدار انہیں اس لئے بھلی لگتی ہیں کہ اس میں ان کا مصنوی چہرہ آسانی کے ساتھ چھپایا جاسکتا ہے۔ گذشتہ ستر سالوں سے اس ملک میں اسلام اور پاکستان کے خلاف غیر قانونی طریقے کے تحت کھلواڑ چل رہا ہے۔اس کھلواڑ کا بڑا حصہ جنرلز اور ججز رہے ہیں۔جن کو ہر قسم کی اعلیٰ مرعات صدر اور وزیر اعظم کے بعد حاصل ہیں۔یہ وہ معاشرہ بنا دیا گیا ہے جہاں اہلِ علم کی کوئی قدر و منزلت نہیں ہے۔ سمپل گریجویٹ بھاری مراعات کا حامل بن جاتا ہے۔جس کی تنخواہ اور دیگر مراعات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہُنر کے سچے استادسے بے پناہ زیادہ اس لئے کر دی جاتی رہی ہے کہ وہ ملکی اداروں کو اپنی مرضی پر نچانے کے فن سے بخوبی واقف ہیں۔ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ استاد جو ان سب کی شخصیت بنانے میں اہم کردار ادا کرتاوہ اپنی ریٹائر منٹ کے بعد مسائل کا شکار رہتا ہے۔اور یہ لوگ اعلیٰ ایونوں میں زندگی کی ہر قسم کی مراعات کے حقدار بھی ٹہرتے ہیں اور ان کے ماضی کے کرتوتوں کا کوئی حساب لینے والا بھی نہیں ہوتا ہے۔پھر ان کے ناموں پر ان کی اولادیں بھی عیاشیاں کر رہی ہوتی ہیں۔وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ لوگ اس ملک میں انصاف اورطاقت کے ٹھیکیدار مانے جاتے ہیں جنرلز نے کتنے ہی بڑے جرائم کئے ہوں یا وطنِ عزیز کے ساتھ غداری کی ہو۔ان سب کو سات خون اور سب جرائم پرسب کچھ معاف ہے۔ججز نے بار بار مارشل لاء زکو قانونی چولا پہنا یاہے۔انہوں نے بھی چاہے جتنی بھی کرپشن کی ہو وہ دودھ میں دُھل کر اُجلے اُجلے پاک صاف ہاتھی کے دانت بن چکے ہوتے ہیں۔تکلیف ہر ادرے کو منتخب لوگوں سے رہی ہے۔

ماضی میں پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا کیس شروع ہوا تو دیکھنے میں یہ آیا تھا کہ تمام آئنی اور قانونی ادارے گُم سُم نظر آئے۔سپریم کورٹ کے بلانے پر سابق آرمی سربرہ کی وجہ سے سپریم کورٹ پر پہرے بٹھا دئے گئے اور سنگین غداری کے ملزم پرویز مشرف کو ریاستی پروٹوکول کے ساتھ ان کے فارم ہاؤس پہنچا دیا گیا۔کیا اس پر کہیں جے آئی ٹی بنی؟پرویز مشرف گذشتہ تین سالوں سے جس طرح اعلیٰ عدالتوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہے ہیں وہ ساری قوم دیکھتی رہی ہے۔آج ملک کے جو ادارے ایک منتخب وزیر اعظم سے صرف ذاتی پر خاشت کی بنیاد پر اپنی انا کی تسکین میں مصروف ہیں وہ پرویز مشرف کے حوالے سے کہاں تھے؟ مگر افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ملک کے منتخب وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے ساتھ جو کچھ کیا جا رہا ہے ۔وہ ان اداروں اور مخالفینِ سیاست کو اس بات کا خوف دلا رہا ہے کہ آئندہ انتخابات کی کامیابی اور سینٹ میں مسلم لیگ کے اکژیت میں آجانے پر ان کے مخالفین کے مقاصد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا ہو جائے گی جس سے کھلاڑیوں کے حوصلے پست ہوئے جا رہے ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم کو زیر کرنے کی غرض سے انتہائی خطر ناک حربے استعمال کئے جا رہے ہیں اس حوالے سے پورا ایک سرکل تیار کر لیا گیا ہے جس میں بہت سے پرد ہ نشینوں کے نام شامل ہیں۔

ججز نے ہر ہر موقعے پر جنرلز کاتو ساتھ دیا مگر جمہوریت ان کی اکثریت کو کبھی بھی راس نہ آئی۔ حالانکہ حکومتیں ان کی قابلیت و حیثیت سے بڑھ کر انہیں نوازتی بھی رہی ہیں(اس کی مثال ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پی ایچ ڈی استاد کی تنخواہ اور مراعات ہیں)عمران خان نے موجوددہ چیف جسٹس سے پہلے والے چیف جسٹس صاحب کو رجیکٹ کر کے کہا تھا کہ ان کے بعد والے ٹھیک ہیں۔ عمران خان کی اس بات سے بھی سازش کی بو آرہی ہے۔ پھر چیف جسٹس کا جانبداری کے لہجے میں ایک ملزم کو گاڈ فادر کے لقب سے پکارنے پر بھی لوگ کئی معنی اخذ کر رہے ہیں۔سُپریم کورٹ کے تین ججوں کی جانب سے بنائی گئی جے آئی ٹی جس کو عمران خان پہلے ہی رجیکٹ کر چکے تھے ۔اب اس میں انہیں وزیر اعظم کی بر طرفی اور ذاتی اقتدار کی بو آنے پر رطب اللسان ہیں۔جے آئی ٹی جسطرح لوگوں کو پریشرائز کر رہی ہے اور جس طرح دباؤ ڈال کر اپنے من مانے بیانات ریکارڈ کرنا چاہتی ہے۔اس روئیے نے اس کو متنازعہ بنا دیا ہے۔وزیر اعظم پاکستان نواز شریف پر پاناما پیپرز کا کوئی الزام نہ ہونے کے باوجود ان کے خاندان کے بچے بچے اور رشتہ داروں اور شدید مخالفین کو جس طرح بار بار بلا بلا کر ذلیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس سے ان کی اور جمہوریت کی مخالفین کی نیتوں کا ندازہ لگانا نا ممکن نہیں رہا ہےْ۔سُپریم کورٹ ایک اپیلٹ کورٹ ہونے کے باوجود ٹرائل کورٹ کی طرح کیس کی کاروائی کروا رہی ہے۔اس کیفیت سے بھی لوگ سوالات اٹھا رہے ہیں۔
 
ماہرین کا ماننا ہے کہ بہت سے لوگ جو یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ نواز شریف کیس میں کوئی فوری فیصلہ آئے گا اوروزیر اعظم گھر چلے جائیں گے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔آنے والے دنوں میں شائد انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑے آئین کی رو سے کسی رکن قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے یا اس کی اہلیت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن آف پاکستان کو حاصل ہے سیپریشن آف پاورز کی بنیادپرمرتبہ قوانین کی بدولت 62/63 کے تحت نا اہلی سپُریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ ایسا تو ہو سکتا ہے کہ سپُریم کورٹ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو حکم کرے کہ وزیر اعظم کو غلط بیانی پر نا اہل قرار دیدیا جائے۔مگر یہاں بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن اس حکم پر فوری عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے یا اس کو اپنے حصے کی کاروئی کرنے کااختیار حاصل ہوگا؟ ایک سینئر وکیل کا تو کہنا یہ ہے کہ نواز شریف حکومت کے خلاف جوڈیش کُوکا خطرہ ہے۔اگر ایسا ہوا تو آثار بتا رہے ہیں کہ مذکورہ کیفیت ملک میں انارکی کا باعث بن سکتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 117713 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jul, 2017 Views: 366

Comments

آپ کی رائے