جھنگ ڈویژن بناؤ تحریک۔۔پانی میں مدھانی!!

(Shafqat Ullah, )

حال ہی میں میں نے ایک پریس کانفرنس کی جس کا مقصد اس پسماندہ ضلع جھنگ کو اس کا حق دلوانا اور اسے ڈویژن بنانے کے حوالے سے آواز بلند کرنا تھا ۔پریس کانفرنس کے اختتام پر مقامی صحافیوں کی جانب سے بہت سے سوالات بھی پوچھے گئے جن میں تنقیدی بھی تھے اور مثبت بھی لیکن یہ سب سوالات مفید ثابت ہوئے ،ان تمام سوالوں نے تو جیسے میرے دماغ کو روشن کر دیا اور مجھے اس قابل بنایا کہ میں جو کام کر رہا ہوں اس میں پہلے خود احتسابی تو کر لوں اس پر ایک تنقیدی جائزہ تو لے لینا چاہئیے اور امید کرتا ہوں کہ اس سے صحیح راستہ بھی مل جائے گا۔اس جائزے میں بہت سی باتیں سمجھ میں آئیں جو میں اپنی تحریک کے سرگرم کارکنان تک باہم پہنچانا بھی چاہوں گا او ر انہیں آگاہ بھی کرنا چاہوں گا۔اگر محل وقوع اور حدود کا جائزہ لیں تو کبھی یہی جھنگ ایک ریاست تھا اور اس پر مل خان حکومت کرتا تھا بالکل اسی طرح جس طرح بہاولپور ایک ریاست تھی لیکن فرق یہ تھا کہ وہ ایک باقاعدہ اور منظم ریاست تھی اور اس ریاست پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا تھا اور سب پہلے اسے 1849 میں انگریزوں نے ہی ضلع کا درجہ دیا اس کی حدود شیخو پورہ ،میانوالی ،سرگودھا اور اسی طرح دیگر علاقوں سے ملتیں تھی اس کے بعد اسی ضلع میں ایک سر زمین اور 1892 میں دریافت ہوئی جس کا نام لائلپور رکھا گیا جو دریافت کرنے والے انگریز کے نام سے منسوب تھا ۔پاکستان آزاد ہونے کے بعد مزید تقسیم ہوئی اور اس میں چنیوٹ ،ٹوبہ ٹیک سنگھ اور فیصل آباد کو جھنگ کی تحصلیں قرار دیا گیا کیوں کہ حدود اور محل وقوع کے اعتبار سے جھنگ سینٹرل بنتا تھا اور اگر آج بھی دیکھا جائے تو ملہو موڑ جو جھنگ میں ہی شامل ہے اس وقت پنجاب کا سینٹر ہے اور مزے کی بات یہ کہ اس ضلع میں موجود جی ٹی روڈ چنیوٹ روڈ آج بھی پورے پاکستان میں سفر کرنے والوں کیلئے شارٹ کٹ راستے کا کام کرتا ہے ۔لیکن بعد میں اس ضلع کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پامال کر دیا گیا نہ صرف یہ بلکہ فیصل آباد کو اتنی ترقی دی گئی کہ جھنگ کو اس کا ماتحت ضلع بنا دیا گیا ٹوبہ ٹیک سنگھ جو آج بھی ایک تحصیل کے ہی لائق ہے اسے بھی ضلع بنا دیا گیا اور اس کی حدود اس قدر بے ڈھنگی بنایں گئیں ہیں کہ جھنگ سے فیصل آباد جاتے ہوئے ایک نواحی گاؤں نواں لاہور کو اسکی تحصیل بنایا گیا جبکہ چنیوٹ جو کبھی شہر تھا ہی نہیں اور تمام تر سہولیات سے جھنگ سے کئی برس پیچھے تھا آج وہ بھی ضلع بن چکا ہے اور میری نظر میں اس کے ذمہ دار جھنگ کے یہ نام نہاد سیاسی خاندان ہیں جنہوں نے اپنے مفاد کی خاطر سب کچھ داؤ پر لگا دیا ،اگر سیاسی پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو ٹوبہ ٹیک سنگھ کے سیاستدان جس قدر اپنے علاقے سے انسیت رکھتے ہیں اس کی مثال چند برسوں میں وہاں پر ہونے والی ترقی ہے کیونکہ پہلے وسائل کم اور مسائل زیادہ تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ جھنگ ایک ڈسٹرکٹ ہے اور اس وقت ٹوبہ اور چنیوٹ اس کے ساتھ تھے ویسے تو اگر دیکھا جائے تو اس پورے بیلٹ میں فیصل آباد کے علاوہ سارے اضلاع کے وسائل اور ذریعہ معاش زراعت ہی ہے اور اسی مد میں ہی سب سے زیادہ ریوینیو اکٹھا ہوتا ہے لیکن ٹوبہ اور چنیوٹ نے جیسے ہی وسائل میں اضافہ ہوا اس سے فائدہ اٹھایا اور انتہائی قلیل وقت میں ضلع بھر میں ایسی ترقی کر کے دکھائی کہ آج وہ جھنگ کی نسبت پرانے اضلاع لگتے ہیں لیکن اس کے برعکس وسائل تو جھنگ میں بھی بڑھے تھے اور مسائل میں کمی آئی تھی لیکن تمام تر ریوینیو کرپشن اور بندر بانٹ میں خرد برد کر لیا گیا ۔جھنگ پر حکومت کرنے والے عوامی نمائندے کاروباری ہیں اور ان کا اقتدار میں آنے کا مقصد صرف و صرف کاروباری شیلٹر حاصل کرنا ہے اسی لئے وہ ہر بار اس پارٹی اکا انتخاب کرتے ہیں جو حکومت بنانے والی ہو لیکن دیگر اضلاع کے سیاستدان اس کے بر عکس ہیں اور وہ اپنی سرزمین کیلئے جد وجہد بھی کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ چنیوٹ ، ٹوبہ اور بھکر کا نوانی گروپ جن کے اپنی فیملی سے سات کے قریب ایم این ایز ہیں وہ حکومت کی مجبوری ہیں جبکہ جھنگ کے سیاستدانوں کو حکومت کی مجبوری ہے جسکی وجہ سے ان کی ڈیمانڈز پر خاص غوروخوض نہیں کیا جاتا ۔اب چنیوٹ میں جو مائنز برآمد ہوئی ہیں اور اس پر جو مشینری کام کر رہی ہے اس کا خرچ چنیوٹ والے ہی اٹھا رہے ہیں جبکہ آئندہ وقتوں میں جب وہاں سے خام مال حاصل ہونا شروع ہو جائے گا تو وہ بلا شبہ اپنی ترقی اور بڑھوتری کی وجہ سے پیرس کا منظر پیش کرنے لگ جائے گا اس طرح سے اگر وہ آئندہ ڈویژن بننے کی ڈیمانڈ بھی کریں گے تو بلا شبہ ان کی وہ بھی پوری ہو کر رہے گی اس مستقبل کو دیکھتے ہوئے چنیوٹ کبھی بھی جھنگ کا ضلع بننے کے لئے آمادہ نہیں ہو گا اب اگر بات کی جائے سرائیکی بیلٹ کی تو بھکر ، لیہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے سیاستدانوں اور ہاؤس کو جھنگ کے سیاستدان یا ہم جھنگ ڈویژن بناؤ تحریک کے لوگ انہیں کیسے قائل کر سکتے ہیں کہ جھنگ کے ڈویژن بننے سے انہیں کس طرح فوائد حاصل ہوں گے جبکہ وہ تو پہلے سے ہی جھنگ سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں ؟اگر ہم اس مبہم سے جائزے کے بعد مستقبل میں دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ آئندہ ہمیں ایسی تحریکوں کا آٖغاز کرنا پڑے گا کہ اس ضلع کو ضلع ہی رہنے دیں اور اس کا عنوان ہو’ جھنگ بچاؤ تحریک ‘۔یہاں میری نظر میں اس کا حل یہ ہے کہ ضلع کے سیاستدان ابھی بھی وقت ہے اس سرزمین سے اپنی محبت کا ثبوت دیتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبے کریں اور ہاؤس اپنی سفارشات بھیجیں کہ وہ اب جو فطری طریقہ کار ہے کہ جب نچلے طبقے کو ترقی دی جاتی ہے تو حق یہ بھی بنتا ہے کہ پہلے سے اس گریڈ پر موجود شخص کو بھی ترقی دی جائے نہ کہ اس کی تنزلی کی جائے جب چنیوٹ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کو ضلع بنایا گیا ہے تو جھنگ کو ڈویژن کا درجہ دیا جائے ۔اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ جھنگ ڈویژن بناؤ تحریک بھی پانی میں مدھانی مارنے کے مترادف ہے جس سے نہ لسی ملے گی نہ مکھن ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 209 Articles with 88158 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
11 Jul, 2017 Views: 505

Comments

آپ کی رائے