برہان وانی کے بعد کا کشمیر

(Munzir Habib, )

الیاس حامد
آزادیٔ کشمیر کے گلشن کو اپنے خون سے آبیارکر نے والے نہ جانے کتنے ہی گم نام مجاہد ہیں جنہوں نے خون جگر پیش کر کے ایک تاریخ رقم کی ہے۔آزادیٔ کشمیر کے لیے قربانیا ں پیش کرنے والے چند ہی بطل حریت ہیں جن کا ہم سے تعارف ہے جبکہ کتنے ہی ایسے گمنام ہیں جن کو لوگ نہیں جانتے۔ اس قافلہ عزیمت کا بے مثل راہی برہان وانی ہے جس کی شہادت نے کشمیر کی تحریک آزادی کو ایک نیا موڑ دیا ۔ایک نیا جوش اور تحرک پیش کیا کہ برہان وانی کی شہادت کو ایک سال بیت جانے کے بعد بھی وہی جوش اور جذبہ ہے جو برہان کی شہادت کے فوری بعد پیدا ہوا۔اتنا لمبا اور مشکل عرصہ بیت جانے کے بعد بھی ذرہ بھر کمی دیکھنے کو نہیں ملتی۔برہان نے کشمیر کی آزادی کوایسا ٹرن دیا کہ اس کا لافانی کردار اب آزادی کا استعارہ اور برہان بن چکاہے ۔کشمیر کی نسل نو اور یو تھ جنریشن اس کو اپنا آئیڈیل تسلیم کرتی ہے۔اس بطل حریت نے اپنے کردار اور عمل سے ایسی ریت ڈالی ہے جواب ہر نوجوان کشمیری کا جذبہ اور passion بن چکا ہے۔کشمیر میں اب ہیرو ازم اورمرعوبیت کے پیمانے تبدیل ہو چکے ہیں۔یونیورسٹیز کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طالب علم ہوں یا سکول اور کالجز کے نو جوان ،برہان وانی کو اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں۔ان کے لیے تعلیم مکمل کرنے کے بعد جو سہانے خواب ہوتے ہیں وہ اب روایتی قسم کے نہیں رہے۔ہر طالب علم اپنا ہدف اور مقصد متعین کرتا ہے۔روشن مستقبل کے لیے پلاننگ کرتا ہے۔اپنے مقصد کے حصول کے لیے تمام تر جدو جہد کرتا ہے ۔اپنے فیلڈ کے مشاہیر iconic personalities سے مستفید ہو کراپنے کیریئر میں کامیاب ترین بننے کی سعی کرتا ہے۔ کشمیری نوجوان کے خواب بھی دنیا کے دیگر کسی نوجوان کی طرح تھے، لیکن اب اس کی ترجیحات میں یکسر تبدیلی نظر آتی ہے۔اب وہ اپنے آپ کو برہان وانی کی طرح فریڈم فائٹر اور حریت پسند کے روپ میں دیکھتا چاہتا ہے رگِ جان جب دشمن کے خونخوار پنجوں میں جکڑی ہوئی ہو، اندازہ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ وہ حالت کیسی ہو گی۔ چناروں کا دیس انگاروں میں جھلس رہا ہے۔ حالیہ احتجاج اور تشدد سے پچاس سے زائد کشمیری شہید ہو چکے۔ ہزاروں زخمی اور اپنی بینائی سے محروم ہیں ۔ظالم بھارتی فوجی بچوں اور عورتوں کو بھی معاف نہیں کرتے ۔ظلم کی اندھیر نگری یہاں تک ہے کہ ہسپتالوں میں گھس کر مریضوں کو پیلٹ گنوں سے مارا جاتا ہے ۔اس طرح کا ظلم کہیں بھی روا نہیں رکھا جاتا۔پنجہء ہنود جنت نظیر وادی کو خون میں نہلا رہا ہے۔ ہندو ظالم کے ہاتھوں تار تار ہوتی عفت مآب دختر کشمیر نوحہ کناں ہے اور کسی ابن قاسم کی منتظر ہے، جانے کب وہ لمحہ آئے گا جب ہندو کے ہر ظلم کا حساب چکتا کیا جائے گا۔مقبوضہ کشمیر میں یہ مناظر اب روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ ہر روز سورج ایسی درد بھری داستانیں لے کر طلوع ہوتا ہے اور شب کا اندھیرا یہ اندوہناک لمحات لے کر آتا ہے۔ اگلے دن یہی سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ جبر و تعدی اور ظلم و ستم کا یہ لامتناہی سلسلہ دائرے کی صورت جاری ہے جس کے ختم ہونے کی سبیل نظر نہیں آتی۔

عالمی فورم پر بھارت کی کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کو باور کرانے کے لئے ہماری حکومتیں نہ ہونے کے برابر کردار ادا کرتی چلی آئی ہیں۔ معمول کی طرح ہر دور میں کشمیر کو حل طلب مسئلہ سمجھا ہی نہیں گیا۔ روایتی اور رواجی طور پر ایک کشمیر کمیٹی تو ہر حکومت بناتی ہے جس کا چیئرمین بھی ہوتا ہے۔ اس کمیٹی کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔ بھارت کے ریاستی گناہوں اور کشمیریوں پر ظلم و ستم کو عالمی فورم اور دنیا کے سامنے بیان کرنے سے بھی حجاب اور جھجک سے کام لیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم جموں و کشمیر ہیومن رائٹس موومنٹ جو ہر سال بھارتی افواج کے ہاتھوں شہید ہونے والے بچوں، عورتوں اور جوانوں کے اعدادوشمار بیان کرتی ہے، اسے نقل کرنے اور دہرانے کی ہمت اور توفیق بھی نہیں ہو پاتی۔بھارتی فوج کی کشمیریوں پر ظلم بھری داستان عشروں نہیں، نصف صدی بلکہ اس سے بھی زائد عرصے پر محیط ہے۔ عالمی حکمرانوں کو اگر حقوق انسانی کی رپورٹیں نظر نہیں آتیں تو جا کر کہیں کشمیر کے ہسپتال دیکھ لیں۔ کشمیر کے ہسپتالوں میں دماغی امراض کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے جنہیں بھارت کی چیرہ دستیوں نے ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ ایک طرف بھارت نے اپنے دہشت گرد دستوں کو ریاستی دہشت گردی کے لئے جدید اسلحے سے لیس کر کے کشمیریوں کے سروں پر سوار کیا ہوا ہے تو دوسری طرف نہتے کشمیری اپنا سینہ تان کر ان کی بندوقوں اور رائفلوں کے سامنے جرأت سے کھڑے ہیں۔ بھارت کا یہ اقدام دنیا کے نام نہاد عدل و انصاف کے علمبرداروں کے منہ پر طمانچہ ہے جنہیں کشمیر کے ظلم و ستم کا ذرہ بھر احساس نہیں ہے۔

عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی منافقت اور دہرا معیار یقینا اس احساس اور تاثر کو تقویت دے رہا ہے جس کے تحت مسلم برادری میں یہ شعور پایا جاتا ہے کہ اقوام متحدہ مسلمانوں کے حقوق سلب کرنے اور ان پر ظلم کرنے والوں کو تحفظ دینے کے لئے بنی ہے۔ اپنی ہی قراردادوں پر عشروں بیت جانے کے باوجود کچھ عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ بھارت نے حق خود ارادیت کی قراردادوں کو جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے۔ اگر مسئلہ عیسائیوں یا غیرمسلموں کی مسلم ممالک سے آزادی کا ہو تو اسے فوراً حل کر لیا جاتا ہے اور پل بھر میں مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو مسلم ممالک کو توڑ کر علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔ بھارت کی ریاستی دہشت گردی پر امریکہ ویورپ سمیت دنیا بھر کے امن اور انصاف کے ٹھیکیدار خاموش ہیں۔ بھارت کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ جیسے چاہے حقوق انسانی پامال کرے، کشمیریوں کے خون سے کھلواڑ کرے، کوئی اسے روکنے والا نہیں ہے، بلکہ اس کے اس عمل میں اسے خاموش حمایت حاصل ہے۔

ہمیں اغیار سے خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہئے بلکہ اس سلسلے میں خود آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہئے۔ بھارت کی ریاستی دہشت گردی حکومتی سطح پر مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے عیاں کی جائے۔ اصولی اور تسلیم شدہ استصواب رائے کا موقف دلانے کے لئے سفارتی اور ابلاغی سطح پر کوششیں کی جائیں۔ ریفرنڈم کشمیریوں کا وہ جائز اور بنیادی حق ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہر کسی کو آزادی کے ساتھ جینے کا حق ملے۔ نہ جانے اس اصولی موقف کو بھی دنیا کے سامنے بیان کرنے سے حکومت کس لئے گریزاں ہے۔ بھارت نے اپنے ناجائز قبضے کو عالمی سطح پر لابنگ کر کے جائز بنا رکھا ہے اور ہم اس ظلم و ستم پر مبنی بھارتی کردار کو بھی بیان نہیں کرتے، شاید اس ڈر سے کہ بھارت کہیں ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔ برہان کی شہادت کو ایک سال بیت جانے کے بعد بھی کشمیری اس ولولے سے میدان میں کھڑے ہیں۔ بھارت سے آزادی اور نفرت کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ پاکستان سے محبت اور الفت کو والہانہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔زندہ ہیں تو پاکستان کا پرچم لہرا رہے ہیں۔ جان پیش کر چکے ہیں تو بھی پاکستان کے پرچم کو زیب تن کیے ہوئے ہیں۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی وابستگی کا اظہار اور مبنی براخلاص تعلق قائم کر سکتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ہم پاکستان میں رہ کر بھی پاکستان سے اس طرح کی وابستگی اور اخلاص پیش کرنے سے قاصر ہیں جو کشمیری بھائی پیش کر رہے ہیں ۔ان کی اس محبت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنا وہ کردار ادا کریں جس کے وہ ہم سے متمنی ہیں تا کہ ان کو اپنے ساتھ ملا کر آزا د فضاؤں میں پاکستان کا پرچم لہرائیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Munzir Habib

Read More Articles by Munzir Habib: 184 Articles with 69749 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jul, 2017 Views: 239

Comments

آپ کی رائے