جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد سیاسی جنگ

(Ghulam Abbas Siddiqui, Lahore)

10جولائی 2017 کو جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروا دی یہ رپورٹ 60دنوں کے 59اجلاسوں میں 23افراد کی تفتیش کے بعد مرتب کی گئی جبکہ 5افراد حاضر نہ ہوئے ان میں قطری شہزادہ،بیگم اسحاق ڈار،عزیز موسیٰ غنی،شیخ سعد،کاشف مسعود اور شیزی نقوی ہیں عدالت نے غلط رپورٹنگ پر ایک معروف اخبار ،اس کے ایڈیٹر انچیف اور پبلشرز کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا ۔رپورٹ کے مطابق چیئرمین ایف آئی اے ظفر حجازی کو تمام بدعنوانیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا ،جے آئی ٹی نے وزیر عظم کے بچوں کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی ہے جبکہ نیب حکام کا کہنا ہے کہ جب تک کوئی مجرم ثابت نہ ہو جائے ہم گرفتار نہیں کر سکتے گرفتاری مجرم ثابت ہونے کے بعد عمل میں لائی جاتی ہے ۔جے آئی ٹی میں یہ کہا گیا کہ وزیر خزانہ اسحق ڈار نے اثاثے چھپائے ہیں ۔ جے آئی ٹی نے سفارش کی کہ جاوید کیانی اور صدر نیشنل بنک سعید احمد کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے ۔پاک سٹاکسٹ مارکیٹ ایکسچینج میں ہنڈی 100انڈکس میں 1600 پوائنٹس کی کمی سے45 ہزار کی سطح پر آگئی ۔اس رپورٹ کے بعد ملکی جمہوری سیاسی صورتحال ایک جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے ابتدائی طور پر تمام اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم سے استعفے کاپر زور مطالبہ کیا ہے ،ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی کرپشن عیاں ہوگئی اب انھیں اخلاقی طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے ،جبکہ چند دن کے بعد اپوزیشن نے میاں شہباز شریف ،اسحق ڈار کے استعفے کا بھی مطالبہ کر دیا ،پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی قرار داد جمع کروادی۔ اپوزیشن لیڈران کا کہنا ہے کہ ہم میاں نواز شریف کو چند دن بعد اڈیالہ جیل میں دیکھ رہے ہیں ۔
دوسری طرف حکومت نے اعتراض کیا ہے کہ قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا اس لئے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ن لیگ نے جے آئی ٹی رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے اس میں 256 اہم خامیوں کاا نکشاف کیا ہے بقول ن لیگ جن کا آپریشن عدالت میں کیا جائے گا۔ ن لیگ نے وزیراعظم کو کسی قیمت پر مستعفی نہ ہونے کا مشورہ دیا ہے جسے میاں نواز شریف نے قبول کرتے ہوئے بھرپور دفاع کا فیصلہ کرلیا گیامیاں نواز شریف نے دوٹوک الفاظ میں مستعفی نہ ہونا کا اعلان بھی کردیا ہے ،قابل، انتہائی قانونی ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جو وزیراعظم اور ان کے بچوں کا عدالت میں دفاع کرے گی ،دوسری طرف ن لیگ نے اپنے سیاسی عقاب بھی میدان میں اتار دئیے ہیں جوبیان بازی کرکے اپوزیشن کا بھر پور مقابلہ کریں گے تاکہ اخباری ،الیکٹرونک میڈیا اورسوشل میڈیا پر بھرپور سیاسی جنگ لڑی جاسکے۔

پانامہ کی اس جنگ میں حکومت کے اتحادی جے یو آئی (ف) ودیگر بھی شریف فیملی کے خلاف رپورٹ آنے پر برہم نظر آتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ آسمان گرے یا زمین پھٹے وزیراعظم اور ان کی فیملی کا دفاع ہر حال میں کریں گے وزیراعظم یا ان کی فیملی کی کرپشن درحقیقت کرپشن نہیں بلکہ یہ جمہوریت پر حملہ ہے اس سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا وزیراعظم کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔اس گرم سیاسی ماحول کا نتیجہ جو بھی نکلے لیکن اتنا ضرور ہے حکومت کے نزدیک جن کی اہمیت بہت کم تھی اب بہت زیادہ ہو گئی ہے ۔مبصرین مولانا فضل الرحمان کی بھرپور حمایت پر عجیب رائے رکھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان نے ہردور میں خود کو حکومت کے ساتھ رکھنا اپنے لئے لازم سمجھ رکھا ہے خواہ حکومت غلط ہی کیوں نہ کر رہی ہو مولانا حکومت کے حق میں ہی فیصلہ دیتے ہیں ایک دینی رہنماء کا یہ طرز عمل مسلمانوں کیلئے ہرگز قابل تقلید نہیں ہے ،کیونکہ خود کو حق پرست عالم دین کہلانے والاحق اور باطل،جھوٹ اور سچ میں فرق سمجھے بغیر فیصلے کیوں کر رہا ہے ؟

قارئین کرام!ایک مذہبی جمہوریت پسند طبقہ ایسا بھی ہے جو موجودہ حالات کو نواز شریف اور حکومت پر عذاب قرار دے رہا ہے ان کا کہنا ہے حکومت کا دینی قوتوں کو دیوار سے لگانے کا عمل اس قدر گھناؤنا اور تکلیف دہ رہا ہے کہ جس کی نظیر ماضی میں کم ہی ملتی ہے ،ایک بہت بڑا دینی طبقہ غازی ملک ممتاز حسین قادری شہید ؒ کی پھانسی کا ذمہ دار ن لیگ کو قرار دیتا ہے اسی طرح دینی طبقہ سود کے حوالے سے بھی تحفظات رکھتا ہے اور ان کا عزم ہے کہ نواز حکومت اس طرح ختم ہو کہ دوبارہ برسراقتدار ہی نہ آسکے ۔یہ طبقہ اپنی سیاسی ساکھ بڑھانے کیلئے چھوٹے موٹے اتحاد کرتا رہتا ہے لیکن اسے خاطر خواہ کامیابی نہیں ملتی ،وجہ یہ ہے پاکستان کی چند ایک بڑی مذہبی جمہوریت پسند قوتیں جیسا کہ جماعت اسلامی اور جے یو آئی اپنی ورتھ کے مطابق ان مذکورہ بالا قوتوں سے کہیں زیاہ فعال ہیں اور مستقل خاص حلقوں سے جیت بھی جاتی ہیں چھوٹی قوتوں کو آگے نہیں آنے دیتیں۔اور یہی مذہبی جماعتیں حکومت اور اپوزیشن میں مذہبی قوتوں کی نمائندگی کرتی ہیں ۔اس وقت پانامہ کیس میں یہ دونوں بڑی قوتیں بالکل آمنے سامنے ہیں ،جبکہ پس پشت اپنی سیاسی ساکھ بڑھانے کیلئے ایم ایم اے کی بحالی کیلئے بھی پر تول رہی ہیں ۔

قارئین کرام !موجودہ صورتحال میں ہمارا نقطہ ٔ نظر یہ ہے ن لیگ کو پہلے ہی علم تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ ہمارے خلاف آئے گی ،رپورٹ آنے سے پہلے ہی ن لیگ نے طبل جنگ بجا دیا تھااس وقت کا انتظاراس لئے کیا گیا کہ بعد میں عدالتی جنگ لڑیں گے اور کیس کو لٹکا دیں گے اس طرح الیکشن کا وقت بھی گزر جائے گا اور ہم مظلوم کے مظلوم بھی رہیں گے ۔4جولائی 2017کو ن لیگ کے اقتدار کو 4سال مکمل ہو گے ہیں ۔ایسا وقت ن لیگ نے جان بوجھ کر منتخب کیا تاکہ سیاسی فائدہ بھرپور اٹھایا جا سکے اور ابھرتی ہوئی پی ٹی آئی کو الیکشن سے پہلے ہی پانامہ کیس کو استعمال کرکے دیوار کے ساتھ لگا دیا جائے ۔جبکہ دوسری طرف سے بھی اپوزیشن متحد ہو کر حکومت گرانے کا ارادہ رکھتی ہے ،لیکن ابھی تک اپوزیشن بیانات تک محدود ہے اور فوری تحریک شروع کرنے میں کا میاب نہیں ہو سکی ۔(مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پانامہ کیس کا فیصلہ اگر ن لیگ کے خلاف آیا تو ن لیگ کا سیاسی مستقبل ختم ہو جائے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو تحریک انصاف کا بوریا بستر گول ہو جائے گا اور ن لیگ کیلئے میدان کھلا ہو جائے گا) ۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پانامہ کیس ایک ڈمی سیاسی جنگ کی شکل اختیار کر گیا ہے اس میں فتح کسی کی بھی نہیں ہو گی اور نہ ہی شکست۔ لگتا یوں ہے کہ سب ہی مٹھایاں تقسیم کریں گے سب ہی فتح کے جشن منائیں گے،اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی بازی گر اس قدر طاقتور ہو گئے ہیں کہ وہ اہم اداروں کو بھی خاطر میں نہیں لا تے ،بلکہ ان کے خلاف بولنا اپنا فرض منصبی اور جمہوری حق سمجھتے ہیں ۔جو کارکن یا ذمہ دار ایسی غلط حرکت کرتا ہے ہمارے جمہوری بازی گر اسے ہیرو قرار دے کر پروان چڑھاتے ہیں ،خود ساختہ اختلاف کی کیفیت پیدا کرکے فرمان جاری کرتے ہیں کہ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے ۔یہ بات اظہر من الشمس ثابت ہو چکی کہ پانامہ لیکس میں جو انکشافات کئے گئے وہ حقیقت پر مبنی تھے،اور جمہوریت کا حسن یہ بھی ہے کہ صرف ایک کا حتساب کرو باقی کو چور دروازے سے فراہم کردیا جائے ،یہ درد ناک پہلو ہی ہماری قوم کو کھائے جا رہا اس کی دوا کسی کے پاس نہیں ،کیونکہ ساری قوم جانتی ہے کہ پانامہ کیس میں صرف شریف فیملی کا نام ہی نہیں آیا بلکہ کئی اور سینکڑوں لوگوں کے نام آئے ہیں جو دوسری سیاسی جماعتوں کے سرکردہ لیڈرز ہیں تو ان کے احتساب کا عمل ابھی تک شروع ہی نہیں ہوا کیوں؟ یہ درد ناک پہلو چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کہ موجودہ جمہوری نظام کے قائدین کرپشن ختم کرنا نہیں چاہتے بلکہ کرپشن کے نام پر اپنی سیاست چمکا کر اقتدار میں آنا چاہتے ہیں یہی وہ دھوکا ہے جس کا شکار ہم آج تک ہیں ،ہمارا نقطہ ٔ نظر ہرگز ہرگز یہ نہیں کہ کرپٹ لوگوں کا احتساب نہیں ہونا چاہیے بلکہ پورا احتساب ہونا چاہیے ۔عدل فاروقی ؓ کی تلوار سے ہونا چاہیے مگر صرف شریف فیملی کا نہیں بلکہ سب کا ہونا چاہیے ۔ہماری شروع سے یہ رائے ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں پانامہ زدہ لوگوں کو اپنی اپنی جماعتوں سے خارج کریں جمہوریت پسند عقل مندوں کا کہنا ہے کہ ایسا ہو نہیں سکتا کیونکہ یہ پانامہ زدہ ہستیاں ہی تو سیاسی جماعتیں چلا رہے ہیں اگر ان کو جمہوریت پسندوں نے اپنی صفوں سے خارج کردیا تو ان کے پاس ڈونرز نہیں رہیں گے جو دولت کے بل بوتے پر سیاست کرتے الیکشن لڑتے ہیں ،ا س طرح تو جمہوریت ہی پاکستان سے ختم ہو جائے گی،ان کا فرمان اسی لئے تو یہ ہے کہ زمین پھٹے یا آسمان گرے ہم پاکستان سے جمہوریت ختم نہیں ہونے دیں ،دوسری طرف اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جمہوریت رہے یا نہ رہے اقتدار کیلئے ہم سب کچھ کر جائیں گے ۔

قارئین کرام!ہماری طویل بحث کا حاصل یہ ہے کہ پانامہ کیس ،جے آئی ٹی رپورٹ،احتساب سب اقتدار میں آنے کیلئے دکھاوے کے حربے ہیں ۔عوام کی فلاح وبہبود ،اسلام اور پاکستان کی ترقی ان جمہوریت پسند حکمرانوں کا ہدف ہرگز نہیں ہے ۔اسلام اور مسلمانوں کی ترقی تو اس نظام عدل وقسط(خلافت) میں ہے جس میں امیرالمومنین یہ کہتا دیکھا،سنا گیا کہ عوام کی دولت تو جہنم کا انگارا ہے اسے میں ہرگز استعمال نہیں کر سکتا،خلیفہ اپنے بچوں کے عید پر کپڑے خریدنے کیلئے ادھار اس وجہ سے نہیں لیتا کہ ہوسکتا میں مرجاؤں تو مقروض مروں گا قرض کون ادا کریگا ؟دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ اس نظام میں کرپشن کا نام و نشان بھی نہیں تھا ۔اے میری قوم!کیا ایسے نظام کی تمھیں ضروت نہیں اگر ہے تو پھر میدان میں اترو اور اپنے حقوق کیلئے مفاد پرست سیاستدانوں اورنظام کو خٰیرباد کہہ کرحقیقت کے راستہ پر چل پڑو۔اﷲ تعالیٰ تمھاری مدد ونصرت ضرورفرمائیں گے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Abbas Siddiqui

Read More Articles by Ghulam Abbas Siddiqui: 264 Articles with 159002 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jul, 2017 Views: 313

Comments

آپ کی رائے