میاں نواز شریف پاکستانی وزیر اعظم کی حیثیت سے نااہل۰۰۰ آخر کیوں؟

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

پاکستانی حکمرانوں کی تاریخ بھی بڑی عجیب رہی ہے ۔ 28؍ جولائی 2017کو پھر ایک بار یعنی تیسری مرتبہ میاں نواز شریف کو وزارتِ عظمی کی کرسی سے سبکدوش ہونا پڑا۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناماکیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا جس کے بعد نواز شریف نے اپنی تمام ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگئے۔سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف چار الزامات میں ریفرنس دائر کرنے کا قومی احتساب بیورو کوحکم دیا ہے لیکن انہیں نااہل قرار دیئے جانے کی بنیاد اس فیصلہ سے ہوئی ۔ عدالت نے 28؍ جولائی کو اپنے متفقہ فیصلہ میں لکھا کہ میاں محمد نواز شریف عوامی نمائندگی کے قانون (روپا) کے سیکشن 99f اور 1973 کے آئین شق 62(ایک) (ف) کے تحت’ صادق‘ نہیں اس لئے انہیں مجلس شوریٰ کی رکنیت سے نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ اس فیصلہ کی وجہ متحدہ عرب امارات کی کمپنی کیپیٹل ایف زی ای سے ان کے نام کی وہ تنخواہ جو انہوں نے کبھی وصول نہیں کیہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عدالت کے سامنے سوال اٹھایا گیا کہ کیپیٹل ایف زیڈ ای کے چیرمین کی حیثیت سے وہ اس کمپنی سے تنخواہ کے حقدار تھے جس کا انہوں نے سنہ2013کے انتخابات میں اپنے کاغذات نامزدگی میں ذکر نہیں کیا۔ نواز شریف کی جانب سے اس سلسلہ میں کہا گیا کہ کیونکہ انہوں نے یہ تنخواہ وصول نہیں کی اس لئے عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت یہ ان کا اثاثہ نہیں تھی اور اس کا کاغذات نمائندگی میں ذکر کرنا ضروری نہیں تھا۔ عدلیہ نے کہا کہ اسے اس بات پر فیصلہ کرنا تھا کہ کیا عوامی نمائندگی کے 1976کے قانون کے تحت ایسی تنخواہ کا بھی کاغذات نامزدگی میں اثاثے کے طور پر ذکر ہونا ضروری ہے جو وصول نہ کی گئی ہو۔ عدالت نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تنخواہ اگر وصول نہ بھی کی جائے تو قابل وصول ضرور رہتی اور قانوناً اور عملاً ایک اثاثہ ہی بنتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس صورت میں کاغذات نامزدگی میں اس تنخواہ کا ذکر کیا جانا ضروری تھا۔ مختلف زاویوں سے جائزہ لینے کے بعد آخر کار عدالت اس نتیجہ پر پہنچی اور اپنے فیصلہ میں لکھا کہ جب اس نے مدعہ علیہ اول (میاں محمد نواز شریف) کے وکیل سے پوچھا کہ کیا نواز شریف نے کبھی دبئی میں اقامہ حاصل کیا، کیا وہ کیپیٹل ایف زیڈ ای کے بورڈ کے چیئرمین رہے اور کیا وہ تنخواہ کے حقدار تھے۔ عدالت نے فیصلہ میں لکھا کہ نواز شریف کے وکیل نے اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ ’جہاں تک ان کے بورڈ کے سربراہ ہونے کا تعلق ہے وہ ایک رسمی عہدہ تھا جو 2007میں ملک بدری کے دوران انہوں نے حاصل کیا تھا اور ان کا کمپنی کے معاملات سے اور اس کو چلانے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسی طرح انہوں نے دس ہزار درہم کی تنخواہ بھی کبھی وصول نہیں کی۔ اس طرح وہ تنخواہ ان کے اثاثوں کے زمرے میں نہیں آتی۔‘ جس پر عدالیہ نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثوں کا ذکر نہ کرنا غلط بیانی ہے اور عوامی نمائندگی کے قانون کی خلاف ورزی ہے، اس لئے وہ صادق نہیں‘۔ اسی فیصلہ کے تحت پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف28؍ جولائی کو اپنے عہدہ وزارتِ عظمی سے مستعفی ہوگئے۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس کے معاملے میں اپنے متفقہ فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے اور انکے افرادِ خاندان کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا اس فیصلہ کے بعد یہ ردّ عمل تھا کہ وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہاکہ آج بظاہر ہم ایک فیصلہ ضرور ہارے ہیں۔ اگر پاکستان کے سیاسی جمہوری پس منظر میں دیکھا جائے تو آج کے فیصلے سے حیرانگی نہیں ہوئی افسوس ضرور ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف عوام سے ہمیشہ سرخرو ہوئے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سیاست میں اور دوسرے طریقوں سے جب جب نواز شریف کو پاکستان کے سیاسی منظر سے ہٹایا گیا ، تاریخ اور پاکستانی عوام پہلے سے زیادہ تعداد میں انہیں واپس پارلیمان میں لے کر آئی۔ وزیر ریلوئے خواجہ سعد رفیق نے عمران خان کو شوبوائے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ ہمارے ساتھ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ خان صاحب بغلیں نہ بجائیں چند دنوں میں آپ بغلیں جھانکیں گے‘‘۔’ صادق اور امین کی کہانی اب چلے گی، یہ صرف سیاستدانوں تک نہیں رہے گی بلکہ وہاں تک جانی چاہئیے جہاں سے فیصلے ہوتے ہیں۔ سعد رفیق کا مزید کہنا تھا کہ ہم عوام کی عدالت میں جائیں گے ہمیں عوام سے رابطہ کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہم اپنے کارکنوں کو کہتے ہیں کہ تحمل سے کام لیں، اداروں کا تقدس قائم رہے۔ یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شریف خاندان کے خلاف بدعنوانی کے اس مقدمہ کی اصل وجہ لندن میں خریدے گئے پارک لین کے فلیٹس ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قومی احتساب بیورو کو ان فلیٹس کے معاملے پر نواز شریف کے خاندان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا کہا ہے ۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس فیصلہ کے بعد کہا ہے کہ جس نئے پاکستان کا خواب وہ دیکھنا چاہتے تھے اس کی بنیاد سپریم کورٹ نے رکھ دی ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ نیا پاکستان میٹرو اور انڈر پاسز سے نہیں بننا تھا بلکہ اس کی بنیاد عدل و انصاف پر رکھی جانی تھی۔ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے شہباز شریف ، شاہد خاقان عباسی اور آصف علی زرداری کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ انکے پیچھے آرہے ہیں اور انہیں بھی کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔

میاں نواز شریف جنہوں نے 1970کی دہائی کے آخر میں سیاست میں داخل ہونے سے پہلے پنجاب یونیورسٹی لاکالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ 1981ء میں محمد ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے دوران پنجاب کے وزیر خزانہ بنے اور ان ہی کے دور میں دوبارہ مارشل لا کے بعد 1988میں وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے۔ نواز شریف 1990ء میں اسلامی جمہوری اتحاد کی سربراہی کی جس میں انہیں فتح حاصل ہوئی اور پہلی مرتبہ وہ6؍ نومبر1990کو وزیراعظم پاکستان بنے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد پاکستان انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی نے نواز شریف پر الزام لگایا کہ انہوں نے انتخابی عمل میں لاکھوں روپیے کی رشوت سیاست دانو ں میں تقسیم کی۔ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کے الزام میں نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدہ سے برطرف کردیا جس پر نواز شریف نے عدالت عظمیٰ پاکستان سے رجوع ہوئے۔ 15؍ جون 1993ء کو چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے نواز شریف کو بحال کردیا۔ نواز شریف نے جولائی 1993ء کو ایک معاہدے کے تحت استعفیٰ دیدیا جس کے باعث صدر کو بھی اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا ۔ دوسری مرتبہ 17؍ فبروری 1997ء کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد انہیں وزیراعظم پاکستان منتخب کیا گیا۔ اکٹوبر1999ء میں نواز شریف نے اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف کو ہٹاکر نئے فوجی سربراہ کی تعیناتی کی کوشش کی جس کے بعد فوجی بغاوت ہوئی اور فوجی سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف اقتدار پر فائز ہوئے۔فوج کی طرف سے ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ان پر مقدمہ چلا۔ جو ’’طیارہ سازش کیس‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس میں اغواء اور قتل کے الزامات شامل تھے۔ فوج کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کے بعد نواز شریف سعودی عرب چلے گئے۔ 2006ء میں میثاق جمہوریت پر بے نظیر بھٹو سے مل کر دستخط کئے اور فوجی حکومت کے خاتمہ کے عزم کا اعادہ کیا۔ 23؍ اگسٹ 2007ء کو عدالت عظمیٰ نے شریف خاندان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی وطن واپسی پر حکومتی اعتراض رد کرتے ہوئے پورے خاندان کو وطن واپسی کی اجازدت دیدی۔2013کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے واضح اکثریت حاصل کی۔ اس بناء پر وہ تیسری مرتبہ وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے اور پھر 28؍ جولائی 2017کو پاکستانی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے انہیں نااہل قرار دیا اور الیکشن کمیشن کو نواز شریف کی قومی اسمبلی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم دیا جس پر الیکشن کمیشن نے فوری لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 120سے انکی رکنیت ختم کردی اس طرح یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگیا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ وہ چھے ہفتے کے اندر نواز شریف اور انکے بچوں مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی مہیا مواد کی بنیاد پر ریفرنس دائر کرے اور چھ ماہ میں ان پر کارروائی مکمل کی جائے۔عدالت نے نواز شریف ، حسن نواز، حسین نواز کے خلاف چار جبکہ مریم نواز انکے شوہر کیپٹن(ریٹائرڈ) صفدر اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ایک ایک معاملے میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ نواز شریف پھر ایک مرتبہ بھاری اکثریت سے وزیراعظم پاکستان بن پائیں گے یا پھر انکے بھائی شہباز شریف جو اس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں اور عنقریب قومی اسمبلی کے رکنیت حاصل کرنے کیلئے انتخاب لڑیں گے جس میں انہیں کامیابی ہوتی ہے تو وہ پاکستان کے وزیراعظم بنائے جائیں گے۔نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوشی کے بعد انکی قیادت میں میٹنگ منعقد کی گئی جس میں وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی کو 45روز کیلئے عبوری وزیراعظم پاکستان بنایا گیا۔یکم ؍ اگسٹ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہونے والی ووٹنگ میں انہیں 221ووٹ حاصل ہوئے اس طرح وہ ملک کے نئے وزیر اعظم منتخب ہوگئے ہیں۔ لیکن شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی کے معاہدے میں بے ضابطگیوں کا سامنا ہے اور قومی احتساب بیورو میں ایک انکوائری چل رہی ہے جو ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ(ن) کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی 1988ء میں سیاست میں قدم رکھا اور قومی اسمبلی پاکستان کے لئے 6مرتبہ منتخب ہوئے ۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مشرقِ وسطی میں ان دنوں حالات انتہائی کشیدہ ہیں ۔ سعودی عرب، عرب امارات، بحرین، مصر کی جانب سے قطر کو دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرنے کا الزام عائد کرکے اس سے تعلقات منقطع کرلئے گئے اور اس پر مکمل پابندیاں عائد کردی گئیں ۔ قطر بحران کے موقع پر ترکی اور ایران اس کا ساتھ دے رہے ہیں ان دونوں ممالک سے اشیائے خوردونوش اور دیگر سازوسامان قطر پہنچایا جارہا ہے اورانکے فضائی و سمندری حدود بھی استعمال کئے جارہے ہیں۔ ترکی کی جانب سے قطرکو فوجی تعاون بھی حاصل ہے جس میں پابندیوں کے بعد مزید اضافہ کیا گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے کشیدہ حالات پر پاکستان کی غیر جانبدارانہ پالیسی کئی ایک شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 8؍ جولائی کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دے کر انکے بوجھ کو ہلکا کیا ہے کیونکہ نواز شریف پر سعودی عرب کے کئی ایک احسانات ہیں۔وہ سعودی عرب میں جلاوطنی کی زندگی گزار چکے ہیں ۔ سعودی عرب پاکستان سے بہتر تعلقات بنائے رکھنے کا خواہش مندہی نہیں بلکہ فوجی تعاون کے لئے بھی پاکستان پر بھروسا کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک کے اتحاد نے جو فوجی اتحاد قائم کیا ہے اس کے سربراہ سابق پاکستانی فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کو بنایا گیا ہے۔ گذشتہ دنوں پاکستان کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے حالات پر خاموشی یا غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کئے جانے کی وجہ سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے لئے لمحہ فکر بن گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہیکہ پاکستان کے موجودہ حالات میاں نواز شریف کے لئے خوش آئند ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے آئندہ چھ ماہ تک دیگر الزامات کا فیصلہ آئے گا ہو سکتا ہے کہ وہ نواز شریف کے حق میں ہو اور اس وقت تک ہوسکتا ہیکہ خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری پیدا ہوجائے۔ خیر موجودہ حالات میں نئے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے کاندھوں پر بھاری بوجھ ڈالا گیا ہے جسے وہ سنبھال پاتے ہیں یانہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا۰۰۰

قبلہ اول کیلئے مسلم حکمرانوں کی خاموشی انتہائی شرمناک۰۰۰ الشیخ عکرمہ صبری
حجاز کیلئے عازمین حج کی آمد کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔سعودی حکومت دنیا بھر سے آنے والے عازمین حج و عمرہ کیلئے ہر قسم کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔گذشتہ سال ایرانی عازمین حج ،حج کی سعادت سے محروم رہے اور اس سال سعودی عرب ، عرب امارات، بحرین ، مصر نے قطر پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کا الزام عائد کرکے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلئے ہیں اوراس پرمکمل پابندیاں عائد کردی گئیں۔ قطر کی ایئرلائنس کو بھی سعودی عرب آنے کی اجازت نہیں جس کی وجہ سے قطر سے آنے والے 20 ہزارعازمین حج و عمرہ کے لئے دشواریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ سعودی حکومت کا کہنا ہیکہ قطر سے آنے والے عازمین حج و عمرہ انکے ساتھ معاہدہ کئے ہوئے ایئر لائنس کے ذریعہ ہی جدہ اور مدینہ منورہ آسکتے ہیں۔ قطری حکومت نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ قطری عازمین حج کے لئے سعودی حکومت مسائل پیدا کررہی ہے اور حج کے موقع پر قطری عازمین کی سلامتی کا ذمہ نہیں لے رہی ہے جبکہ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ قطری عازمین حج کو دیگر عازمین کی طرح ہی تمام سہولیات فراہم کریں گی۔ حج کے لئے صرف چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں گذشتہ دنوں سعودی عرب نے حوثی باغیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ مکہ کو نشانہ بنانے کے لئے میزائل داغا ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ سعودی ایئر ڈیفنس فورسز نے حوثی باغیوں کا مکہ کی طرف داغا گیا میزائلٖ فضا میں ناکارہ بنادیا سعودی خبر رساں ادارہ نے عرب اتحاد کی کمانڈ کے جاری بیان کے حوالہ سے بتایا کہ حوثیوں کی طرف سے داغا گیا میزائل صوبہ الطائف کے الوسلیہ نامی علاقہ کے اوپر ناکارہ بنایا گیا۔ اور یہ علاقہ مکہ سے 69 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔کہا جارہا ہے کہ میزائل حملہ سے کسی قسم کا کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ سعودی عرب کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ حوثیوں کا یہ حملہ حج سیزن کو سبو تاژ کرنے کی کوشش تھی جو کہ ناکام بنادی گئی ۔ اس سے قبل بھی حوثی باغیوں کی جانب سے طائف کے فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی جسے ناکام بنادیا گیا تھا۔ یمن سے داغے گئے اس میزائل حملے کا نشانہ مکہ بتایا جارہا ہے لیکن اس سے قبل حوثی باغیوں کے ایک قائد نے کہا تھا کہ وہ مکہ معظمہ کی عظمت و تقدس کو اسی طرح سمجھتے ہیں جس طرح ایک عام مسلمان سمجھتا ہے۔ اگر اس بات میں صداقت ہے تو سعودی عرب کا الزام جھوٹا ثابت ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ کے حالات سدھرنے کے بجائے مزید خراب ہوتے جارہے ہیں ایک طرف ان ممالک کے درمیان اتحاد ٹوٹ چکا ہے تو دوسری جانب قبلہ اول میں اسرائیلی فوج و پولیس کی ظلم و زیادتی اور بربریت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ عالمِ اسلام کے حکمراں قبلہ اول پر اسرائیلی بربریت کے خلاف کچھ کہنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتے۔ ترکی، قطر اور ایران نے اسرائیلی بربریت کے خلاف آواز اٹھائی ہے جبکہ سعودی عرب، عرب امارات، بحرین، کویت، عمان، مصر، پاکستان، افغانستان اور دوسرے اسلامی ممالک کو بھی فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کرنا چاہیے۔ کئی بے گناہ فلسطینی مرد و خواتین اور بچے اسرائیلی بربریت کا شکار ہورہے ہیں انہیں مسجد اقصیٰ میں جانے کی اجازت نہیں اور جو اس مقدس مقام میں جانے کی کوشش کررہے ہیں انہیں سیکیوریٹی کے نام پر سخت تلاشی دینی پڑرہی ہے ۔ ہزاروں فلسطینی مسلمان بیت المقدس میں نماز پڑھنے سے محروم کئے جارہے ہیں اسرائیل کی جانب سے سخت سیکیوریٹی آلات کے استعمال کے خلاف فلسطینی عوام احتجاج کررہے ہیں اور ان احتجاج کرنے والوں کے خلاف اسرائیلی فوج اور پولیس ظلم و زیادتی کرتے ہوئے اب تک 400سے زائد فلسطینیوں بشمول خواتین و بچوں کو حراست میں لے لی ہے مسجد اقصیٰ کے امام اور فلسطین کی سپریم علماء کونسل کے چیئرمین الشیخ عکرمہ صبری نے ان عرب و مسلم حکمرانوں کی خاموشی پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے انتہائی شرمناک قرار دیا ۔ عکرمہ صبری نے عرب ممالک کے حکمرانوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کیلئے خاموشی پر کہا کہ مسجد اقصیٰ بیت المقدس ،فلسطینی قوم کی قربانیوں کی بدولت کھولی گئی ہے، اس میں کسی عرب ملک کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پولیس اور اسرائیلی فوجی ظلم و بربریت پر خاموش تماشائی رہنے والے قبلہ اول کھلنے کا مفت میں کریڈٹ اپنے نام کرنے کی شرمناک کوشش کررہے ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ وہ عرب لیڈر جنہوں نے قبلہ اول کیلئے کچھ بھی نہیں کیا وہ بھی مسجد اقصیٰ کو کھولے جانے کا کریڈٹ لے رہے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ پر عائد اسرائیلی پابندیاں فلسطینی قوم کی مسلسل قربانیوں اور احتجاج کے بعد ہٹائی گئی ہیں۔ فلسطینی نمازیوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر قبلہ اول کو اسرائیلی پابندیوں سے آزاد کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض عرب قائد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ پر عائد کردہ پابندیاں ان کی مساعی سے ہٹائی گئی ہیں وہ فلسطینی قوم اور پوری دنیا کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ عرب ممالک کا دفاع قبلہ اول کے حوالے سے کردار انتہائی شرمناک رہا ہے۔
***

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 259 Articles with 99793 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Aug, 2017 Views: 418

Comments

آپ کی رائے