راہ الفت

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)
راہ الفت میں کیا کچھ کیا جا رہا ہے اسی تلخ حقیقت کو اُجاگر کرتی ہوئی ایک کہانی پیش خدمت ہے۔

حسن کی باتیں سن سن کر میں اپنے ہوش گنوا دیتی تھی،اُس سے شروع ہونے والی دوستی محبت میں بدلنے لگی تھی۔مجھے گمان سا تھا کہ وہ بے پناہ محبت کرتا ہے۔میں اپنی پڑھائی سے زیادہ اُس پر توجہ دینے لگی تھی۔میرے گھر میں والد صاحب کی بے پناہ محبت مجھے ایک طرف جہاں سکون بخشتی تھی ۔دوسری طرف والدہ کے لاڈ پیار کی وجہ سے میں کچھ زیادہ ہی راہ سے گمراہ ہونے لگی تھی۔

میرے والد صاحب کی موت نے مجھے اندر سے توڑ مروڑ دیا تھا اور میں اُن کے غم میں کئی روز ٹھیک سے کھا پی نہیں سکی تھی۔اُن کی خواہش تھی کہ میں وکالت کے شعبہ سے منسلک ہو جائوں۔مگر میں تو اپنے والدین کی عزت کو بھی پس پشت ڈال کر پڑھائی تک کو چھوڑنے تک آگئی تھی۔میں اس بات کو بھول چکی تھی کہ میں اللہ کے حکم کے خلاف چل رہی ہوں،میں اپنے والدین کی عزت سے کھیل رہی ہوں۔حسن سے ملنا ملانا جاری تھا وہ اپنی باتوں سے کبھی کبھی مجھے بے زار سا کر دیا کرتا تھا۔کبھی کبھی اس کے مجھے پر حکم الجھا دیا کرتے تھے۔اس کے پاس میری تصویریں تک تھی،جو میں اپنے آپ کو سچا محبت کرنے والی ظاہر کر کے بھیج دیا کرتی تھی اور میرے سوشل میڈیا اکاوئنٹ تک جب اُس نے ہیک کرلیے تو تب مجھے احساس ہوا کہ کچھ غلط ہونے کو ہے مگر میں تب بھی نہیں سنبھلی تھی۔میں پھر بھی یہ سوچے بنا کہ وہ ذیادہ محبت نہیں کرتا ہے محض وقت گذاری کررہا ہے اُس کے ساتھ تفریح کے لئے یہاں وہاں جانے لگی تھی۔

میں جتنا خود کو حسن کے ساتھ ذہنی طور پر اپنا سا سمجھ چکی تھی تو انہی دنوں میں حسن بھی دور رہنے لگا تھا۔اس کی باتوں سے میں گھبرا سی جاتی تھی۔ میں نے ایک پل بھی اسکے بنا جینے کا نہیں سوچا ہوا تھا۔پھر ایک دن جب میں نے اس کے ساتھ جھگڑا کیا تو اس کے چند دن بعد مجھے معلوم ہوا کہ اسکی کہیں منگنی ہو گئی ہے۔اس کی بے رخی سے میرا دل ٹوٹ سا گیا تھا اور میں مرنے کا سوچنے لگی تھی پھر اسکے بعد میری سوچ کے زاویے کو ایک دوست نے بدلنے میں مدد دی اور میں پھر سے زندگی کی طرف لوٹ آئی۔ہمارے تعلق کو اب ختم ہوئے دو سال ہو چکے تھے جب اُس نے پھر سے رابطہ کرکے دوستی پھر سے قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔

جس پر اُس نے میرے والدہ کو فون کر کے سب سچ بتا دیا تھا اور میری اپنے ساتھ تصویریں تک بھی اُنکو دکھا دی تھیں۔جس کے بعد میرے ساتھ والدہ نے جو سلوک کیا وہ میں نے نہیں بتا سکتی ہوں کہ میں اپنی ہی نظروں میں گر گئی تھی اُس نے پھر سے دوستی محض اپنے وقت گذاری کے لئے چاہی تھی جب کہ میں تو دل سے اس کواپنانے کے لئے تیار تھی مگر حسن نے ہی میری محبت کو ٹھکرا کر ہی کسی اور کو اپنا لیا تھا۔اس نے تو مجھے منگنی تک کی اطلا ع نہیں دی تھی کہ میں تماشا اسے بنا سکتی تھی۔

مجھے آج تک تکلیف ہے کہ اُس نے میرے ساتھ غلط کیا،مگر کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ میں نے بھی تو غلط قدم اُٹھا لیا تھا میں نے اپنی عزت کا رکھوالہ اسے سمجھ لیا تھا جس کے نزدیک میں ایک وقت گذاری کی شے تھی، مجھے اسی بات کی شایدسزا ملی تھی۔آج میں بابا کی خواہش کے مطابق وکیل بن چکی ہوں، میری طرح کئی لڑکیاں محبت کے نام پر لٹ کر جب میرے پاس آتی ہیں اور مدد کی درخواست کرتی ہیں تو میں ان کی مانند دوسری ستم زدہ لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ذہنی رجحان کو بدلنے کی اپنی سعی کرتی ہوں، میں سمجھاتی ہوں کہ اصل محبت اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونی چاہیے اور محبت وہی ہوتی ہے جو پاکیزہ رشتہ کے ساتھ ملتی ہے۔آج میں حسن کا سامنا کرنے سے نہیں ڈرتی ہوں جب میرے دل میں برائی نہیں تھی تو کیوں سامنا کرنے سے ڈروں،مگر جس نے محبت کے نام پر لٹ لیا اُس کو معاف تو کر دیا ہے پر دعا ہے کہ اُسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور سزا بھی ملے۔آپ کیا کہتے ہٰں؟؟؟
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 322 Articles with 270932 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
13 Aug, 2017 Views: 5680

Comments

آپ کی رائے
v nice article esy lrko ko saza milne chahiye jo kese k sche jazbo ko mehaz wqt guzari smjhte hai ,,,, :(
By: Zeena, Lahore on Aug, 16 2017
Reply Reply
1 Like
Thanks lot for your views.
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Aug, 16 2017
0 Like