نئی افغان پالیسی اور ڈو مور پاکستان کا مطالبہ

(Tanveer Awan, Islamabad)

ورجینیا کے علاقے آرلینگٹن میں فوجی اڈے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحیثیت کمانڈر ان چیف جنوبی ایشیا کے حوالے سے نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر پاکستان کی قدر کرتے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کےمطابق اپنے پہلے رسمی خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں پر خاموش نہیں رہیں گےاور امداد میں کمی کی دھمکی دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر ادا کرتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان نے اُنہی دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے، جن کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اس رویے کو تبدیل ہونا چاہیے اور بہت جلد تبدیل ہونا چاہیے۔ افغانستان میں 16 سال سے جاری جنگ کو وقت اور پیسے کا ضیاع قرار دینے کے اپنے سابقہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اوول آفس کی ڈیسک کے پیچھے سے صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے تیزی سے انخلاء کی صورت میں ایک خلاء پیدا ہوگا جسے دہشت گرد فور طور پر بھر دیں گے۔

امریکی صدر کے حالیہ خطاب کے تناظر میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکس لکھتے ہیں کہ اگرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ خطاب کو دیکھا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ سولہ برس گزر جانے کے بعد بھی امریکہ کی طویل ترین جنگ، یعنی افغانستان کی لڑائی، مزید طویل ہونے جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ کا افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے ٹائم ٹیبل کی پالیسی کو ترک کرنا اور ’حالات کی بنیاد پر بنائی جانے والی حکمت عملی‘ کی جانب پیش قدمی کا عندیہ دینے کا صاف مطلب یہی ہے کہ مستقبل قریب میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے واپس جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔جب کہ دوسری جانب طالبان کی طرف سے نئی افغان پالیسی پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا افغان سرزمین سے اپنے فوجیوں کا انخلاء نہیں کرتا تو ’افغانستان کو امریکی افواج کا قبرستان‘ بنا دیا جائے گا،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’امریکا اپنے فوجیوں کو افغانستان میں ضائع کر رہا ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں اپنے ملک کی کس طرح حفاظت کرنی ہے، نئی امریکی پالیسی سے خطے میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا۔

ٹرمپ کا دہشت گردی کے خلاف برسرپیکا راور نیٹو فرانٹ لائن اتحادی ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کی لازوال قربانیوں کا رسمی شکریہ ادا کرنے کے بعد پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کرنا اور بھارت کو افغانستان میں مؤثر کردار ادا کرنے کی پیش کش کرنا یقیناً احسان و محسن فروشی ہے،اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہے پاکستان نے خطے سے دہشتگردی کے خاتمے کے لئے 70 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے جو کسی بھی ملک کی انفرادی حیثیت کے اعتبار سے ایک غیر معمولی تعداد ہے،جب کہ پاکستان کی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی ہر دو قیادت نے امریکی صدر کے بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کیا اور پنجاب کی صوبائی میں مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی ،اسی طرح پاکستانی وزیرخارجہنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ پاکستان کی قربانیوں کو عالمی برادری تسلیم کرتی ہے جب کہ پاکستان میں کسی دہشت گرد گروہ کا منظم نیٹ ورک موجود نہیں، ہم نے دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی اور دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں 100 ارب ڈالر سے زائد کے وسائل استعمال ہوئے۔اور انہوں نےمزید کہا کہ افغانستان کے حوالے سے بھارت کا کردار ہمیشہ منفی رہا ہے،

یادرہے کہ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان "ہوا چھُن انگ" نے امریکی صدر کے بیان کے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے انسداد دہشت گردی میں بڑی قربانیاں دیں اور اہم کامیابیاں حاصل کیں ،انھوں نے کہا کہ چین یہ سمجھتا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کاوشوں کا مکمل اعتراف کرنا چاہیے۔‘

بلاشبہ قرآنی حکم کے مطابق یہود ونصری کبھی بھی مسلمانوں سے خوش نہیں ہوں گے جب تک کہ مسلمان اپنا مذہب اس کے چھوڑ دے ،11/9 کے واقعہ سے لے کر آج تک پاکستان دفاعی پوزیشن میں رہا ہے ،اور ہم نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر دوسروں کی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کیا گیا ،لیکن ملکی خزانے پر بھاری بھرکم بوجھ سمیت 70 ہزارہم وطنوں کی قربانیوں دینے کے باوجود ،امریکہ کا اعتماد اوراس کی ہمدردیاں بھارت کو حاصل ہونا اور امریکہ کا افغانستان میں مستقل فوجیں ٹھہرا کر اپنی مسلسل ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا ،یہ وہ امور ہیں جن کے حوالے سے ہمیں واضح اور غیر مبہم داخلہ اور خارجہ پالیسی تشکیل دینی ہو گی،تاکہ پاکستان کے خلاف اٹھنے والی ہر آوا زاور پروپیگنڈے اور مؤثر جواب دیا جاسکے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 141290 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
24 Aug, 2017 Views: 421

Comments

آپ کی رائے