عالم اسلام کے حکمرانوں اور فوجی جرنیلوں کے لئے ڈوب مرنے کا مقام

(Altaf Nadvi, India)
برما قتل عام

 25اگست 2017ء سے جاری قتل عام میں محتاط رپورٹس کے مطابق اب تک تین ہزار سے زیادہ مسلمان قتل کئے جا چکے ہیں جبکہ غیر سرکاری طور پر مقتولین کی تعداد دس ہزار بتائی جاتی ہے جن میں سات سو کے قریب زخمی ایک لاکھ مہاجرین کے ساتھ بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں ۔ایک طرف یہ بے ٹھکانہ لوگ دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں دوسری طرف عالم اسلام کو سانپ سونگھ چکا ہے جو بالکل خاموش ہے ۔یہ ظلم و جبر آ ج کی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ 1947ء کے بعدبرصغیر تقسیم ہوتے ہی شروع ہوا قہر ہے جس کی تھوڑی سی تفصیل ہم قارئین کی معلومات کے لئے یہاں پیش کرتے ہیں ۔ بنگلہ دیش سے شائع ہونے والے ’’دعوت‘‘کی سالانہ رپورٹ میں ان مظالم کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔ 1948ء سے لے کر اب تک برما میں مسلمانوں کے خلاف ملک کے اندر 12 سے زیادہ بڑے فوجی آپریشن ہوچکے ہیں۔مسلمانوں کے خلاف 1948 ء میں ہونے والے سب سے پہلے آپریشن B.T.F میں30ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو بودھسٹوں نے قتل کردیا۔ 2001ء میں ہونے والے آپریشن میں 700مسلمان شہید اور 800 سے زیادہ گرفتار کرکے اغواء کرلیے گئے۔ جن کا آج تک کچھ پتہ نہ چل سکا۔ 1991ء سے 2000ء تک مختلف فوجی آپریشنز میں 18سو سے زیادہ گاؤں جلادیے گئے،دوسو سے زیادہ مساجد گھوڑوں کے اصطبل اور فوجی مراکز میں تبدیل کر دی گئیں۔ صرف 2002ء میں 40 مساجد کو شہید کیا گیا۔1984ء میں دوسو ایسے خاندان جو ہجرت کے لیے سمندری سفر کررہے تھے فوج نے ان کی کشتیاں الٹ دیں جس سے یہ 200خاندان سب کے سب پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے اور ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچ سکا۔1978 ء میں تین ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو بوریوں میں بند کرکے سمندر میں پھینک دیا گیا۔ مسلمانوں کے 20سربراہوں کو زندہ دفن کردیا گیا۔ اسی سال ایک مسجد میں 120 خواتین کی نعشیں ملیں۔اپریل 1948ء میں مسلمانوں کے خلاف بودھ عوام نے مظالم کا جو سلسلہ شروع کیا تھا صرف’’ ضلع اکیاب ‘‘میں بودھوں کے ہاتھوں 8ہزار مسلمان شہید کردیے گئے۔اپریل 1992ء میں بودھوں نے مسلمانوں کی مسجد پر حملہ کردیا اور 2سو سے زیادہ مسلمانوں کو شہید کردیا۔1950ء کے فوجی آپریشن میں 30ہزار ، 1956ء کے آپریشن میں 13ہزار، 1996ء کے آپریشن میں 25ہزار، 1978ء کے آپریشن میں 3لاکھ ، 1991ء کے آپریشن میں 2لاکھ 25ہزار اور 1996ء اور 1997ء کے آپریشنز میں 60ہزار مسلمان بنگلہ دیشن ہجرت کرنے پر مجبور کر دئے گئے۔۔1948ء سے 1962ء تک مسلمانوں پر اگرچہ مظالم ہوتے رہے مگر کاروبار سمیت کئی امور میں انہیں آزادی حاصل رہی۔ 1962ء میں وہاں عوامی حکومت گراکر فوجی حکومت قائم کی گئی۔ فوج کو اقتدار ملتے ہی مسلمانوں کے خلاف مظالم اور وحشتوں کا وہ سلسلہ شروع ہوگیا کہ انسانی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔
اراکان کی تجارت میں مسلمانوں کا بڑا حصہ تھا مگر فوج نے مسلمانوں پر تجارت کے سارے راستے بند کردیے۔ 1964 ء میں مسلمانوں کے تمام رفاہی ، ثقافتی اور سماجی ادارے بند کردیے گئے۔ حکومتی کابینہ اور پارلیمنٹ میں مسلمانوں کے جتنے نمائندے تھے سب کی رکنیت ختم کردی گئی۔ 1982ء میں نسلی تعصب اور دشمنی کی بنیاد پر شہریت کا ایسا قانون پاس ہوا جس کی رو سے گنتی کے چند مسلمانوں کے علاوہ روہنگیا سمیت تمام مسلمانوں کی شہریت ختم کردی گئی حالانکہ برما سے مسلمانوں کا تعلق نیا نہیں بلکہ دس صدیوں پرانا ہے۔ ہزار سال قبل بھی مسلمانوں کے آباو اجداد یہاں مقیم تھے۔ بودھسٹ خود مسلمانوں کے بہت بعد یہاں آئے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد مسلمانوں کو ایسے خانہ بدوشوں کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جو ہر طرح کے شہری حقوق سے محروم اور کسی بھی ظالمانہ اقدام کے مقابلے میں انہیں آواز اٹھانے کی اجازت نہ ہو۔ اس لیے تقریبا تمام مسلمانوں کو شہروں سے نکال دیاگیا۔ ان کے املاک غصب کردیے گئے۔ وہ جنگلوں اور بنجر زمینوں میں رہنے پر مجبور ہوگئے۔ صحراوں اورجنگلوں میں بھی بہت سے مسلمانوں کو رہنے کا حق حاصل نہیں ہے تاکہ ایک دوسرے سے دور رہ کر اپنا دفاع کرنے کے قابل نہ رہیں۔صحراوں اور جنگلوں میں بھی جن خیموں میں مسلمان رہتے ہیں ہر خیمے پر انہیں ٹیکس اداکرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ جب بھی فوجی افسر چاہیں ان کے خیمے اورجھگیاں گرا سکتے ہیں اور جب چاہیں انہیں بھگاسکتے ہیں۔ اور کوئی متبادل جگہ بھی فراہم نہیں کی جاتی۔ جس بنجر زمین کو مسلمان آباد کرکے کاشت کے قابل بنادے اور وہ فصل دینے لگے تو یہی ظالم فوجی افسران نہ صرف یہ کہ ان سے وہ زمین واپس لے لیتے ہیں بلکہ زمین پر ہونے والے اخراجات بھی انہی مسلمانوں کے ذمے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں اپنا سرمایہ منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اور جب اجازت ملتی ہے تو پھر منتقل کرنے کا ٹیکس لیا جاتاہے۔ایک مسلمان جتنا بھی ایمرجنسی مریض ہو مسلمانوں کو اپنا مریض فوج کی اجازت کے بغیر ہسپتال لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کوئی مسلمان فوج کی اجازت کے بغیر کسی کو اپنا مہمان نہیں بناسکتا۔ شہرسے باہر بننے والے سارے فوجی مراکزکا سارا کام اور ان کے اخراجات انہیں مسلمانوں کے ذمے ہوتے ہیں۔ بودھسٹوں کے لیے شہروں سے باہر بننے والے عبادت خانوں کے اخراجات اٹھانا بھی مسلمانوں کے ذمے ہوتا ہے۔

گھر کا ایک فرد ضرور فوجی افسروں کے لیے جنگلوں سے بانس کی لکڑیاں کاٹ کر لانے اور بازار تک پہنچانے کے لیے موجود رہتا ہے۔ دن رات کا فرق کیے بغیر ہر وقت فوج کو لوگوں کی تلاشی لینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ تلاشی کے وقت فوجی افسروں کو جو پسند آجائے اسے لے کر چلے جاتے ہیں کسی کو انہیں روکنے کا حق نہیں۔ تلاشی کے بعد مسلمانوں کے گھروں سے فوجی مراکز کی خدمت کے بہانے جتنی چاہیں خواتین کواپنے ساتھ لے جانے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ خواتین کو خدمت کے بہانے لے جایا جاتا ہے اصل مقصد ان پر جنسی تشدد کرنا ہوتا ہے۔ جنسی تشدد کے لیے بعض اوقات 11 اور 12سال کی چھوٹی بچیوں کو بھی اٹھاکر لے جایا جاتا ہے۔حکومت نے ایسے قوانین بنارکھے ہیں جس سے بچوں کے لیے تعلیم اور بڑوں کے لیے حکومتی اداروں میں کام کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔مسلمان مردکی عمر 30 سال اور خاتون کی عمر 25سال کی ہوجائے تو انہیں شادی کی اجازت نہیں ہوتی۔ کوئی مسلمان مرد اور عورت اگر آپس میں شادی کرنا چاہیں تو انہیں ’’چار جاسوسی اداروں‘‘ سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ سخت کوششوں کی بعد جب انہیں اجازت ملتی ہے تو ان سے قسم لی جاتی ہے کہ تین سے زیادہ بچے پیدا نہیں کریں گے۔ 28مئی 2013ء کو برما حکومت نے اعلان کیا کہ مسلمانوں کو دو سے زائدبچے پیداکرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ دوسری طرف چار انٹیلی جنس ادارے ہیں جن سے اجازت لینے میں سالہا سال لگ جاتے ہیں۔ اسی لیے ہر گاؤں میں غیر شادی شدہ لوگوں کی تعداد شادی شدہ لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔برما میں مسلمانوں کے ایسے گاؤں بھی ہیں جہاں دو تین سال گزرنے کے بعد بھی شادی نہیں ہوتی ہے۔ بہت زیادہ کوششوں کے بعد جب مسلمانوں کو شادی کی اجازت مل جاتی ہے تو بھی اجازت کے بعد اور شادی سے پہلے خاتون اور شوہر کو اس بات کا مکلف کیا جاتاہے کہ وہ دونوں’’ فیملی پلاننگ اینڈ کونسل سینٹر‘‘ نامی اداروں میں کچھ راتیں گذاریں گے۔مسلمانوں سے ان چند راتوں کے بہت زیادہ پیسے لیے جاتے ہیں اور یہاں بھی اکثر دلہنوں کی عزتیں لوٹ لی جاتی ہے’’ لیناآبزرویشن ‘‘نامی ایک فرانسیسی ہفت روزہ نے اپنی اشاعت میں شامل ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایسی معلومات ملی ہیں کہ برما کی فوج نے بے شمار مسلمان خواتین کے سینے کاٹ دیے ہیں۔ اسی طرح bichitra نامی بنگلہ دیشی ہفت روزہ میگزین کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اقتدار پر فوج کے قبضے کے بعد 1978ء تک جتنے واقعات کی رپورٹ ملی ہے ان میں 2600 مسلمان خواتین پر فوج کے ہاتھوں جنسی تشدد ہواہے۔انہیں مظالم سے تنگ آنے والے تقریبا آدھے مسلمان برما سے بنگلہ دیش ، پاکستان ، سعودی عرب ، ملائیشیا ، تھائی لینڈ اور کئی دیگر ممالک کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ برما میں باقی بچ جانے والے مسلمانوں میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ وہیں رہیں مگر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں۔

2012ء سے ہو رہے حملوں میں کبھی کمی آتی ہے اور کبھی ان میں شدت آجاتی ہے ۔مگر ہر بار برمی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے اور دنیا کے کسی بھی ملک کی طرف سے کوئی مؤثر آواز ان کے حق میں سنائی نہیں دیتی ہے ۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برما میں مسلمانوں کو اذیت ناک تشدد، ظلم، قتل عام اور جبری ہجرت جیسے ظالمانہ ہتھکنڈوں کا سامنا ہے۔ مسلمانوں کے گھر بار محفوظ ہیں اور نہ ہی مساجد اور ان کی عزت وآبرو ۔ بوذی قبائل کے دہشت گرد سر عام مسلمانوں کو قتل کرتے اور ان کی خواتین سے اجتماعی زیادتیوں کے مرتکب ہوتے ہیں خیال رہے کہ برما اور بنگلہ دیش کے سرحد کے قریب واقع شہر اراکان میں برما کے بوذی قبائل کی جانب سے وہاں کی مسلمان آبادی کو گذشتہ کئی برسوں سے سنگین نوعیت کی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ بوذی قبائل کے دہشت گرد مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں جبکہ وہاں کی حکومت بھی مظلوم مسلمانوں کاساتھ دینے کے بجائے انہیں اپنا شہری تک تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔پھر المیہ یہ کہ برما کے سابق صدر"تھین سین" نے کئی سال پہلے کہاتھاکہ مسلمان ہمارے ملک کے شہری نہیں ہیں۔ اس لیے ان کے بچاؤ کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ عام شہروں سے نکل کر مہاجر بستیوں میں چلے جائیں یا ملک چھوڑ دیں۔برمی صدر نے اقوام متحدہ کے مندوب برائے پناہ گزین"انٹونیو گیٹریز" سے ملاقات کے دوران کہا کہ روہینگیا شہر میں موجود مسلمان ہمارے شہری نہیں ہیں اور نہ ہی ہم ان کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔ اگر انہیں حملوں کا سامنا ہے تو وہ ملک چھوڑ دیں۔ ہم انہیں اپنا شہری نہیں مانتے ہیں۔برمی صدر کا کہنا تھا کہ بوزی قبائل کے حملوں کا شکار مسلمانوں کے مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے قائم کردہ مہاجر کیمپوں میں رہیں۔ اگر وہ مہاجر بستیوں میں بھی نہیں رہ سکتے تو ہم انہیں شہروں میں نہیں رہنے دیں گے اور انہیں ملک سے نکال دیا جائے گا۔خیال رہے کہ برما کے شہر روہینگیا میں مسلمان پہلی بڑی اقلیت ہیں جن کی تعداد آٹھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے تمام اداروں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ برما کے مسلمانوں کو وہاں کے مقامی دہشت گردوں کی جانب سے سنگین مظالم کا سامنا ہے۔

اس المناک تفصیل کا علاج مرثیہ اور سینہ کوبی کے برعکس عالم اسلام کی جانب سے عسکری اقدام ہے مگر کیا عالم اسلام ایسا کبھی کرے گا ؟جس عالم اسلام نے بغداد کی تباہی دیکھی ہے ۔چنگیزی کارندوں کا قتل عام دیکھا ہے۔اندلس ہاتھوں سے نکلتے دیکھا ہے ۔سقوط فلسطین سے مشرقی پاکستان اور کشمیر تک بے شمار بربادیوں کا مشاہدہ کیا ہے ۔افغانستان میں سرخ کے بعدسفیدسامراج کا وحشیانہ چہرہ بہت قریب سے دیکھا ہے مگر برمی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اپنی نوعیت کے پہلے وہ مظالم ہیں جن کی ایک ایک لمحہ کی وی ڈیو بودھ دہشت گردوں نے فلمانے کے بعد پوری دنیا تک خود ہی پہنچا دی ہیں ۔ ساری دنیا کے مسلمان مظلومیت کی اپنی مثال آپ ہیں مگر برما کے مسلمانوں کے حالات ایسے کربناک ہیں کہ شاید ہی کسی اور جگہ ایسی وحشت و بربریت کی مثال موجود ہو ۔ایک طرف ملک کی اکثریت انتہائی مفلوک الحال اور غریب مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے پر مجتمع ہے تو دوسری جانب برما کی بودھ حکومت ایک دہشت گرد تنظیم کی طرح اس میں برابرکی شریک ہے ۔ایسے میں مسلمانوں کی فریاد سننے والا ایک اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے ۔رہی اُمت مسلمہ ؟وہ بلاشبہ کبھی تھی !مگر آج کی تاریخ میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے ۔برمی مسلمانوں کی نگاہیں یقیناََ عالم اسلام کی طرف اُٹھ رہی ہوں گی مگروہ 52ممالک پر مشتمل وجود میں آیا ایک ’’لاشہ‘‘موجود تو ہے مگر یہ بے حمیت ہے اور انتہائی بے غیرت ہے ۔اس کو بڑی سے بڑی تباہی اور بڑی سے بڑی بے رحمی بھی بیدار کرنے میں ناکام رہتی ہے اور یہ سوالیہ خود اس کے وجود پر کئی سو سال سے چمٹا ہوا ہے اس لئے کہ اس کے پاس اس عملی سوال کا کوئی جواب نہیں ہے ۔

امت مسلمہ پر سوار بے غیرت اور بے حمیت حکمرانوں نے سارے عالم میں مسلمانوں کی عزت و احترام اور جان و مال کا تماشہ بنا ڈالا ہے ۔برما کے مسلمانوں کے بچوں اور بوڑھوں پر تشدد اور محکومیت دیکھ کر ان بے غیرت اور بد بخت حکمرانوں کے لئے ’’لعنت‘‘کا لفظ بہت چھوٹا اور ہلکا معلوم ہوتا ہے ۔اس کمینہ ٹولے نے مسلمان ممالک پر قبضہ کر رکھا ہے اوریہ چور اور ڈاکودودو ہاتھوں ان کے وسائل کو لوٹ کر اپنے اہل و عیال کی عیاشی کا سامان پیدا کرتے ہیں ۔جس ملک کی طرف نظر دوڑاؤاس پر ایک مخصوص خاندان یا ٹولے نے دہائیوں سے مکر و فریب کا مظاہرا کرتے ہو ئے قبضہ کر رکھا ہے ۔جب تک امت مسلمہ کھڑی ہو کر اس قبضہ گروپ سے اپنے ممالک کو چھڑا نہیں لیتی تب تک نہ صرف یہ کہ فلسطین پر عیسائیوں کا بعد یہودیوں کا قبضہ ہوتا رہے گا بلکہ افغانستان ،شام ،عراق اور یمن میں مسلمان انہی کے ہاتھوں مرتا رہے گا ۔یہ امانتدار مسلمانوں کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے مختلف جھوٹ پھیلا کر اور پروپیگنڈا کر کے ان کا خون بہاتے رہیں گے ۔ان کے لئے کشمیر پر ہندوستان کا قبضہ نہ پہلے مسئلہ تھا نا ہی مستقبل میں ہوگا ۔ان کے لئے قبلہ اول یہودیوں کے قبضے میں رہنا کوئی مسئلہ ہوتا تو یہ ظالم گذشتہ ستر برس میں اسی کے لئے کچھ کرتے ۔

عالم اسلام پر قابض اس ٹولے کے سامنے گذشتہ ستر برس سے فلسطین کے بچوں کو بالکل روہینگیائی بچوں کی طرح ہی تشدد اور قتل و غارت گری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔یہ فلسطینی بچے ان حکمرانوں کے لئے کئی حوالوں سے دوسرے خطوں کے مقابلے میں قریب تر ہیں ۔مذہبی حوالے سے سرزمین فلسطین حرمین شریفین کے بعد سب سے مقدس اور محترم سرزمین ہے ۔یہ انبیاءِ کرام کا مسکن رہا ہے اور ہزاروں انبیاء اس میں دفن ہو ں گے اور لاکھوں شہداء کا مقدس لہو اس سر زمین میں اس کے تحفظ کے لئے اب تک جذب ہو چکا ہے ۔یہ کوئی نیا انکشاف نہیں ہے بلکہ صہیونی خود ان تمام تر مظالم کی وی ڈیوز اور تصاویر بغیر کسی کانٹ چھانٹ کے دنیا تک پہنچا دیتے ہیں لہذا میری بات روہینگیا سے متعلق قابل تحقیق نہیں ہے جہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے ۔رہے برمی مسلمان یہ اس قدر خستہ حال لوگ ہیں کہ ان کے پاس کھانے کی اشیاء نہیں ہیں چہ جائیکہ اپنے مظالم کو دنیا تک پہنچانے کے وسائل اور اسباب ۔میں عرض کر رہا تھا کہ اگر بے حس عالم اسلام کے مردہ حکمران فلسطین کے لئے کوئی مؤثر سیاسی اقدام نہیں کرتے ہیں تو یہ کیوں اور کیسے ایک غریب مفلوک الحال عجمی ملت کے لئے کچھ کرنے کی جستجو کریں گے اور یقیناََ یہ بے حس طبقہ اور عالم اسلام پر قابض گروپ تماشائیوں کے سوا اگر کبھی کچھ کرے گا بھی تو ایک عدد بیان یا پارلیمنٹ سے ایک بے وزن ’’سفارتی‘‘قرارداد ۔جو برما جیسے ظالم حکمران طبقے کے مظالم کو روک نہیں سکتا ہے اور تو اور ان مظالم کو کوئی انفرادی جہاد روکنے کے بجائے بھڑکا سکتا ہے ،لہذا ہر صورت میں اس کا علاج ایک باہمت درددل رکھنے والی حکومت کر سکتی ہے ،جو فی الوقت عالم اسلام میں کہیں نہیں ہے لہذا امت مسلمہ اگر ان وحشیانہ کاروائیوں پر روک کے لئے واقعی سنجیدہ ہے تو انھیں اٹھ کر اپنے ممالک کے بے شرم،بے غیرت ،بد دیانت اور دین بیزار حکمرانوں کواولین فرصت میں ہٹا کر ان کی جگہ با غیرت اور دیانت دار افراد کا لانا چاہیے وہی اپنے ممالک کو بھی درست راستے پر ڈال سکتے ہیں اور برما جیسے دہشت گرد ملک کی بھی نکیل کس سکتے ہیں ۔نہیں تو یہ رونے دھونے کا سلسلہ اسی طرح دراز تر ہوتا چلا جا ئے گا جیسے اس نحوست نے کئی صدیوں سے اسے اپنے پنجوں میں جھکڑ رکھا ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: altaf

Read More Articles by altaf: 116 Articles with 53842 views »
writer
journalist
political analyst
.. View More
14 Sep, 2017 Views: 396

Comments

آپ کی رائے