حلف اور اقرار نامہ کی بحث

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

یہ بات خوش آئند ہے کہ محب وطن پاکستانیوں اور عاشقان رسولﷺ کے بھرپور احتجاج کے بعد پارلیمانی ممبران نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے الیکشن ریفارمز ایکٹ کا ترمیمی بل ایک مرتبہ پھر پاس کرکے ’’حلف و اقرار ‘‘کے مسئلہ کو سلجھا دیا ہے۔ جناب سپیکر صاحب کہتے ہیں کہ یہ ایک کلیریکل غلطی تھی۔ لیکن حقیقت میں یہ ایک کلرک کی غلطی نہیں تھی بلکہ انتخابی اصلاحات کے نام پر قادیانیوں کو عام مسلمانوں کی طرح انتخابی فہرستوں میں شامل کرنے کی تکنیکی گنجائش پیدا کی جارہی تھی۔ چالاکی اور ہوشیاری سے حلف نامے کو محض اقرارنامے میں بدل دیا گیا تھا۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ یہ اس بڑے اعلان کا ابتدائیہ ہے کہ ’’ پاکستان ایک لبرل ملک ہے‘‘ ۔ اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ کلرک کی غلطی ہے تو پھر سوال پیدا ہو گا کہ وہ کلرک کون ہے جس نے یہ تبدیلی کی؟ بادی النظر میں تو وہ کلرک جناب وزیر قانون ذاہد حامد صاحب ہی لگتے ہیں۔ یہ وہ پر اسرار شخصیت ہیں جو مشرف دور میں وزیر قانون تھے اور ن لیگ کی حکومت میں بھی وزارت قانون کا قلمدان ان ہی کے ہاتھ میں ہے۔حقیقت میں یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی جسے ناموس رسالت مآبﷺ پر قربان ہوجانے والی پاکستانی قوم کے بروقت احتجاج نے ناکام بنا دیا۔ یاد رہے کہ ابھی اس بل کا سینٹ میں پاس ہونا بھی ضروری ہے ورنہ یہ ترمیم مکمل نہیں ہوگی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس سے قبل بھی اس تبدیلی کی جسارت کی جاتی رہی۔1978 میں ضیاء الحق مرحوم کے دور میں اس وقت کے سیکریٹری الیکشن کمیشن اے۔ زیڈ فاروقی نے بھی اس حلف کو اقرار نامے کے الفاظ میں تبدیل کیا تھا۔ اس وقت بھی بھرپور احتجاج ہوا اور بالآخر حلف نامے کو بحال کردیاگیا تھا۔ اسی وجہ سے جنرل ضیاء الحق نے اے۔زیڈ فاروقی کو سیکریٹری الیکشن کمیشن کے عہدے سے برطرف کردیاتھا۔ اب اگرچہ بظاہرمسئلہ تو حل ہوگیا لیکن پھر بھی اس حوالے سے کچھ پہلو قابل توجہ ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سیاسی مخالفین نے اس مسئلہ کو ہوا دے کر مذہبی لوگوں کواحتجاج پر ابھارا ورنہ’’I Solemnly swear ‘‘ اور ’’I solemnly declare or affirm ‘‘ کے الفاظ میں کوئی قانونی فرق نہیں۔ جب یہ معاملہ اٹھا تو ہم نے اس کا مطالعہ کرنے کے بعد کچھ معروضات فیس بک پر لکھیں تو پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگوں نے بھی باور کرانے کی کوشش کی کہ صرف الفاظ کی کچھ تبدیلی سے مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑا لھذا یہ مسئلہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ہے۔ اس تمام بحث میں بات صرف اتنی تھی کہ حلف نامے کو اقرار نامے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ قانون اور شریعت کی روشنی میں ان دونوں جملوں کا تجزیہ کیا جائے تو فرق صاف ظاہر نظر آتا ہے۔ یہاں اس سے ملتی جلتی مثال کے طور پر برطانوی پارلیمان کا ایک تاریخی واقعہ معاملے کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگا۔ 1866 میں Bradlough Mr Charlasنے National Secular Society کے نام سے ایک تنظیم بنائی۔ اب ڈیڑھ سو سال بعد اس کے صدر Terry Sanderson ہیں۔’’ چارلس بریڈ لاف‘‘ ایک اچھا مقرر، وکیل اور سیاستدان تھا۔ نارتھ ہیمپٹن سے ممبر اسمبلی بھی منتخب ہواتھا۔ اس وقت کی برطانوی پارلیمنٹ سے چارلس نے کہا تھا کہ میں I Solemnly swear کے الفاظ نہیں ادا کروں گا کیونکہ میں خدا تعالی اور عیسی علیہ الاسلام کو نہیں مانتا۔ اس نے کہا کہ میں اس کی بجائے I solemnly declare or affirm کہوں گا۔ اس وقت کے برطانوی پارلیمان کے سپیکر نے اس تنازعہ کی بنیاد پر ممبران اسمبلی کی ایک کمیٹی بنائی۔ کمیٹی نے اس بات کو رد کردیا کہ حلف کی جگہ صرف اقرار کے الفاظ ادا کیے جائیں۔ اس کمیٹی کی ریپورٹ کے نتیجے میں’’ مسٹر چارلس براڈ لاف‘‘ کو اسمبلی کی سیٹ سے فارغ کردیا گیا۔ جرمانہ کیاگیا اور اسمبلی حال سے ہی گرفتار بھی کرلیاگیا۔ یہ معاملہ جب حد سے بڑھ گیا تو بالآخر کئی سالوں کی بحث و تمحیث کے بعد برطانوی پارلیمان نے 1888میں یہ قانون پاس کیا کہ جولوگ مذہب کو نہیں مانتے وہ I solemnly declare or affirm کہہ دیں تو ان کے ممبر اسمبلی بننے کیلئے کافی ہوگا۔ حالیہ دنوں میں حلف اور اقرار کے تنازعہ کے دوران کچھ سیاسی عمائدین بلکہ مذہبی جماعتوں کے سربراہ بھی کہہ رہے تھے کہ اس قانونی ترمیم کو سمجھنے کیلئے انگریزی سیکھ کر آؤ۔ میری ان سے گزارش ہے کہ کیا برطانوی پرلیمان کو بھی انگریزی سمجھنے کا مسئلہ تھا کہ’’ حلف اور اقرار‘‘ پر سالہا سال اسمبلی میں بحث کرتے رہے۔ پاکستان میں اب بھی 1873 کا بنا ہو The Oath Act چل رہا ہے۔ اس کی دفعہ نمبر چھ میں ترمیم کرکے یہ لکھ دیا گیا ہے کہ ہر مسلمان کیلئے حلف لازمی ہو گا جبکہ غیر مسلموں کیلئے حلف کی بجائے اقرار ہی کافی ہوگا۔ جب متعلقہ فارم تھا ہی مسلمانوں کیلئے تو پھر کیا ضرورت پیش آئی کہ حلف کو اقرار میں تبدیل کردیا جائے۔’’ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے‘‘۔ یہ واقعہ محب وطن پاکستانیوں کیلئے ایک وارننگ ہے کہ اب آنکھیں کھلی رکھنی ہوں گی۔ اس دوران پارلیمان میں موجودسیاسی مذہبی جماعتیں اس معاملے کی اصل حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر رہیں کہ ان الفاظ کی تبدیلی کے پیچھے کیا مذموم مقاصد کارفرما ہیں۔ ان کے پاس بل کی کاپی موجود تھی ۔ یا تو اسے پڑھا اور سمجھا ہی نہیں۔ اگر پڑھ اور سجھ کے اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تو پھراس سے بھی بڑی غلطی۔ بھلا ہو شیخ رشید کا جس نے یہ اسمبلی میں یہ آواز اٹھائی اور ہمیں بھی اس معاملے کو پڑھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ ورنہ چپکے چپکے سے نام نہاد لبرلز اور اسلام دشمن قوتیں اپنا کام دکھا جاتیں اور ہمیں کانوں کان خبر بھی نہ ہوتی۔ وقفے وقفے سے عشاق رسولﷺ کے ایمان کو ٹیسٹ کرنے کیلئے طرح طرح کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ لیکن اب انہیں اندازہ ہوچکا ہوگا کہ فرزندان توحید اور عشاق رسول کے ہوتے ہوئے ان کا کوئی بھی حربہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ نبی کریم ﷺ کی محبت ایمان کی جان ہے۔ ناموس رسالت مآبﷺکے تحفظ کیلئے سب کچھ قربان ہوجائے تو یہ بھی ابدی سعادت ہے۔ وہ تمام بزرگان دین اور مذہبی راہنما داد و تحسین کے مستحق ہیں جنہوں بروقت اس معاملے کو سمجھا اور بھرپور احتجاج کرکے اس ترمیم کی واپسی کا رستہ ہموار کیا۔ ممبران اسمبلی قوم کے ووٹوں سے منتخب ہو کر جاتے ہیں۔ انہیں ہوش کے ناخن لینے چاہییں۔ کسی بھی بل کو پاس کرنے سے پہلے اسے کم از کم پڑھیں، دینی و ملی تقاضوں کو سمجھیں اور اپنے ووٹرز کے جذبات کا خیال رکھیں۔ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ تفتیش کرکے ان خفیہ ہاتھوں کو قوم کے سامنے بے نقاب کرے جن کی شہہ اور منصوبہ بندی سے یہ کھیل کھیلا گیا۔ ہم پر امید ہیں کہ اس واقعہ کے بعد کا رد عمل دیکھ کر آئندہ کوئی بھی شخص ایسی کسی حرکت کے ارتکاب سے پہلے سو بار سوچے گا۔ مشکلات میں گھرے نواز شریف کیلئے ایسی مشکلات پیدا کرنے والے کبھی بھی ان کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ میاں شہباز شریف نے بھی کنونشن سنٹر اسلام آباد کی تقریر میں نواز شریف کو ایسے لالچی چاپلوسوں سے بچنے کا مشورہ دیا تھا۔ میاں نواز شریف کی کنونشن سنٹر کی تقریر سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی صفوں میں کچھ دوست نما دشمن موجود ہیں۔ جس بھی بندے نے میاں نواز شریف کو کنونشن سنٹر والی تقریر لکھ کر دی وہ بھی ان کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ’’نااہل و ×××والی ایک رباعی واضح طور پر خود میاں صاحب کے خلاف جا رہی تھی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 197 Articles with 123955 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
08 Oct, 2017 Views: 672

Comments

آپ کی رائے