یوم شہادت شہید اسلام حضرت مولانامحمدعبداﷲ شہیدؒ

(Tariq Noman, )

حضرت مولاناعبداﷲ شہید ؒیکم جون 1935؁ء کوراجن پورکے تحصیل روجھان میں کچے کے علاقے (جوبستی عبداﷲ کے نام سے معروف ہے )میں جناب غازی محمدکے گھرپیداہوئے ۔آپ ؒ نے ابتدائی تعلیم
علاقے کے جید علماء سے حاصل کی دینی تعلیم کی تکمیل جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں کی ۔مولاناعبداﷲ شہید ؒ کی شادی 16سال کی عمر میں دوران طالب علمی انتہائی سادگی سے ہوئی ۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ ؒ کودوصاحبزادے عطافرمائے اورتین صاحبزادیاں بھی۔صاحبزادوں میں بڑے صاحبزادے حضرت مولانامحمدعبدالعزیز غازی اورچھوٹے صاحبزادے علامہ غازی عبدالرشیدغازی شہیدؒ ہیں

آپ ؒ انتہائی سادہ اورشریف النفس مردمؤمن انسان تھیپشتوزبان کے مشہورومعروف شاعر خوشحال خان خٹک نے ایک مردِ کامل اور مردِمومن کے بارے میں اپنے اشعار میں ایک عجیب نقشہ کھینچاہے ان کے اشعار کامفہوم کچھ اس طرح ہے کہ مرد وہی ہے جوہمت والااوربر کت والاہو،شیریں زبان والااوردنیاوالوں کیساتھ خوشخلقی سے پیش آتاہواس کاظاہروباطن ایک ہو،قول وفعل میں تضاد نہ ہو ،اس کا دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آناکوئی نمائشی نہ ہو،جب بلندی کا مقام ہوتو وہ عظمت ورفعت میں آسمان ثابت ہواور پستی کامحل ہوتووہ مانند خاک ہو یہ تمام خوبیاں الحمدﷲ حضرت عبداﷲ شہید ؒمیں موجود تھیں ان کے بارے میں کہاجاسکتاہے کہ وہ مردِکامل اورمردِ مومن تھے اس مرد مومن کے لیے شاعر نے کیاہی خوب کہا
؂قرطاس کے نوری آنگن پہ لفظوں کی جوانی دوڑتی ہے
اُن جیسے مردِ مومن کی ہر وقت ضرورت ہوتی ہے

آ پ ؒنے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد خطیب کے طور پراپنی زندگی کاسفرملیر(کراچی ) کی ایک مسجد سے کیااس کے بعد کچھ عرصہ تین بٹی کی مبارک مسجد میں خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ۔اورساتھ ماہنامہ بینات میں بھی کام کرتے رہے ،جب نیانیا اسلام آباددارلخلافہ بناسب سے پہلے مرکزی جامع مسجد میں ایک امام کی ضرورت پڑی تومحدث العصر حضرت مولانایوسف بنوری ؒ کی نظرانتخاب مولاناؒ پہ پڑی توآپ ؒ کواس منصب کے لیے روانہ کیاچنانچہ ابتداء سے لے کر 33سال تک مرکزی جامع مسجد(لال مسجد) میں خطابت وامامت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ۔لال مسجد ایک مرکزی جگہ تھی جہاں بیٹھ کر مولاناعبداﷲ شہیدؒ نے نئے دارالحکومت میں دینی جدوجہد کاآغاز کیااورحضرت کی شبانہ روز محنت وجدوجہد سے اسلام آباد راولپنڈی اور مضافات میں سینکڑوں مساجد اورمدارس کی بنیاد رکھی گئی ۔

اﷲ تعالیٰ جن حضرات سے پیار فرماتاہے انہیں آزمائیشوں ،پریشانیوں میں بھی ڈال دیتاہے ۔مولاناؒ کی زندگی بھی سخت مجاہدے میں گزری ۔کئی مقدمات بنے ،تحریک ختم نبوت اورناموس رسالت کے حوالے سے دیگر اکابر کے ساتھ جیلوں میں بھی جاناپڑا۔

ہمیشہ ظالم کے خلاف علم بغاوت کوبھی بلند کیا،زندگی بھی شیروں کی طرح گزاری اورموت بھی ۔جامع فریدیہ میں مشکوٰۃ شریف کادرس دینے کے بعد واپس آئے تولال مسجد کے احاطہ میں 17اکتوبر1998؁ء بروزہفتہ کونامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے آپ ؒ کوشہید کردیاجامعہ فریدیہ سے متصل قدیم قبرستان میں تدفین کی گئی تدفین کے بعد آپ ؒ کی قبر سے قدرتی خوشبو آناشروع ہوگئی دوردراز سے لوگ خوشبو کامنظردیکھنے آتے رہے
؂آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کامہکتاہی رہے گا

مولاناکے کمال ،جلال ،رعب ،دبدبہ،ہمت،استقلال،جرئات،بہادری،زُہد،تقویٰ کی کوئی مثال نہیں ملتی وہ اپنی مثال آپ تھے ان کی یاد کی خوشبوآج بھی جامعہ فریدیہ ولال مسجد کی وادی سے آتی ہے اور جگر یہ گواہی دے رہاہے

؂ جدہر جاتاہوں میرے ساتھ جاتی ہے تیری خوشبو مجھے اب دل کے ویرانے سے آتی ہے تیری خوشبو
یہ میرے دل میں کیامشک نامہ رکھ دیاتونے مجھے اب اپنے پہلوسے بھی آتی ہے تیری خوشبو
حضرت کی زندگی پراگر لکھاجائے توایک ضخیم کتاب لکھی جاسکتی ہے کیونکہ عبداﷲ شہید ؒ اپنی ایک تاریخ رکھتے تھے علماء وطلباء کا ہمیشہ خیال کرنا آپ کا خاصہ تھا علم وتقویٰ کی نایاب مثال اگر کسی نے دیکھنی ہوتی تو وہ آپ کے چہرے کادیدار کرتااوراسے اپنی سعادت سمجھتا
؂یہ فخر بھی کیاکم ہے کہ بُرے ہیں کہ بھلے ہیں دوچار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں

ایسے لوگ کئی صدیوں کے بعد پیدا ہوتے ہیں آپ نے دشمنانِ اسلام کاخوب ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ان کے جانے سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ کبھی پُر نہیں ہوگا اﷲ تعالیٰ حضرت کی دینی خدمات کی ہمیں قدر کرنے کی توفیق عطافرمائے اور ہمیں بھی ان کی طرح اپنے دینِ متین کی خدمت کے لیے قبول فرمائے(آمین)

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq Noman

Read More Articles by Tariq Noman: 69 Articles with 47391 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Oct, 2017 Views: 386

Comments

آپ کی رائے