بھارتی قبضے کے 71سال

(Ghulam Ullah Kiyani, )

خواتین اور بچیوں کی چٹیاں کاٹنے کا بھارتی حربہ بھی کارگر ثابت نہ ہو سکا۔کشمیریوں کو خوفزدہ کر کے سرینڈر کرانے کی کوئی سازش کام نہ آ سکی۔جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ71 سال سے نہیں بلکہ4 صدیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے بیرونی جارحیت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ شہنشاہِ کشمیریوسف شاہ چک کے بیٹے یعقوب شاہ چک خودمختار کشمیر کے آخری حکمران تھے۔19؍نومبر1586ء کو جب انھوں نے مغل فوج پر گوریلا حملے کا پہلا وار کیا تو اُسے کامیاب ترین حملہ قرار دیا گیا کیونکہ اس میں متعدد مغل فوجی ہلاک ہوگئے۔ یعقوب شاہ چک نے اپنی گوریلا فوج سے کہا ’’آزادی صرف ایک دن دور ہے، ہم کل تک مغلوں کو کشمیر سے مار بھگائیں گے‘‘۔ بدقسمتی سے وہ کل224 سال گزرنے کے باوجود نمودار نہ ہوسکا۔ مغلوں نے 1586 سے1752ء تک167 سال کشمیر پر حکومت کی۔ انہوں نے کشمیر کو ’’باغِ خاص‘‘ کا خطاب دے کر700 باغات تعمیر کئے۔ پھر افغانوں نے1752ء سے1819ء تک قبضہ جمایا۔1819ء سے1846ء تک سکھا شاہی نے کشمیریوں کو روند ڈالا۔ پھر100سال تک ڈوگروں نے کشمیریوں کا خون بہانے کا سلسلہ جاری رکھا۔1947ء سے بھارت نے اپنی درندہ صفت افواج کی مدد سے کشمیر کو اپنی کالونی بنا دیا ہے۔ آج کشمیری اپنے ہی گھر میں قید ہیں۔ بھارتی فوجی جس بے دردی سے کشمیریوں کی نسل کُشی کر رہے ہیں اس نے گزشتہ قابضین کے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔

کشمیری تحریک مزاحمت بھارت کی جانب سے خواتین کی چٹیاں کاٹ کرخوف و دہشت پھیلانے،کرفیو، پابندیوں، مار دھاڑ، قتل عام، نسل کشی، پیلٹ گن اور زہریلی گیسوں سے معصوم کشمیریوں کو بینائی سے محروم کرنے کی تحریک ہی نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی اس کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا ہے۔ بھارت اپنے قبضے کے حق میں جو دلائل دے رہا ہے وہ سراسر گمراہ کُن ہیں۔ بھارت کشمیر پر اپنے فوجی قبضے کو چار بنیادوں پر جائز قرار دیتا ہے: (۱) مہاراجہ کشمیر کی جانب سے26؍اکتوبر1947ء کو دستاویزِ الحاق ہند (۲) 27؍اکتوبر1947ء کو گورنر جنرل انڈیا لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے دستاویزِ الحاق کو تسلیم کرنا (۳) 26؍اکتوبر1947ء کو مہاراجہ کشمیر کی جانب سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو خط جس میں بھارت سے الحاق کے بدلے بھارتی فوجی امداد کا مطالبہ اور شیخ محمد عبداﷲ ریاست کی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کرنا (۴) 27؍اکتوبر1947ء کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا مہاراجہ کشمیر کو خط کہ جس میں مندرجہ بالا امداد کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا ریاست میں معاملات کے تصفیہ اور امن و قانون کی بحالی کے بعد ریاست کے الحاق کا سوال عوام کی ریفرنس سے حل کیا جائے گا۔ یعنی بھارت کے کشمیر پر قبضہ کا سارا دارومدا ر مہاراجہ کشمیر کی الحاق ہند کی دستاویز پر ہے جس کے بارے میں بالکل عیاں ہوچکا ہے کہ دو دستاویز یعنی دستاویزِ الحاق اور ماؤنٹ بیٹن کو خط جس پر مہاراجہ نے26؍اکتوبر1947ء کو دستخط کئے تھے۔26؍اکتوبر کو سرینگر سے جموں کی 300کلومیٹر سے زیادہ لمبی سڑک کے ذریعے سفر کر رہے تھے۔ اتنی طویل شاہراہ پر سفر کے دوران بھارت سے دستاویز الحاق کیسے ہوئی جبکہ مہاراجہ کے وزیر اعظم مُہرچند مہاجن اور کشمیر معاملات سے متعلق بھارتی سینئر افسر وی پی مینن دہلی میں تھے۔ دہلی اور عازمِ سفر مہاراجہ کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ مہرچند مہاجن اور وی پی مینن 27؍ اکتوبر1947ء کی صبح10 بجے دہلی سے جموں بذریعہ ہوائی جہاز روانہ ہوئے اور مہاراجہ کو اسی دوپہر اُن دونوں کی زبانی اپنے وزیر اعظم کے بھارت سے مذاکرات کے نتیجہ کا پتہ چلا۔ یہاں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ جب بھارتی فوج نے سرینگر ہوائی اڈے پر قبضہ کیا اس کے بعد مہاراجہ کی مہاجن اور مینن سے ملاقات ہوئی تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متذکرہ بالا دستاویز پر مہاراجہ کشمیر کے دستخط نہیں تھے اور اگر کسی نام نہاد ستاویز پر دستخط کئے بھی گئے تو اُن پر26؍اکتوبر1947ء کی جعلی تاریخ رقم کی گئی۔ مہاراجہ اور ماؤنٹ بیٹن کے مابین خطوط کو28؍اکتوبر کو بھارت نے شائع کیا لیکن الحاق کی دستاویز کو شائع نہ کیا گیا جبکہ دونوں خطوط حکومتِ ہند نے تیار کئے تھے۔ دستاویزِ الحاق کی کاپی پاکستان کو بھی نہیں دی گئی اور نہ ہی اسے1947ء کے آغاز تک اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا۔1948ء میں حکومت ہند نے جو وائٹ پیپر شائع کیا اس میں دستاویز الحاق کو شامل نہیں کیا گیا کہ جس کی بنیاد پر بھارت کشمیر پر قبضہ جائز قرار دینے کا دعویٰ کرسکے۔ آج تک مہاراجہ کے دستخط شدہ دستاویز الحاق کا کوئی بھی اصل پیش نہیں کیا جاسکا۔ اگر اُن تمام دستاویزات کو جوکہ جعلی ہیں کو اصل قرار دیا بھی جائے تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے دستاویز الحاق کو مشروط طور پر تسلیم کرنا اور عوام کی رائے معلوم کرنے کی بات سے بھی بھارت نے آج تک عمل نہیں کیا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے خط میں عوام سے ریفرنس کا جو تذکرہ تھا وہ رائے شماری تھا۔ دستاویز الحاق کے جعلی ہونے پر یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ بھارت نے ایک خودمختار ریاست پر جبری فوجی قبضہ کیا تھا کیونکہ اس ریاست کے راجہ نے کسی بھی ایسی دستاویز پر دستخط نہیں کئے جن کا مقصد کشمیر کا بھارت سے الحاق ہو۔لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے مہاراجہ کو خط کے تناظر میں ہی جواہر لعل نہرو نے28؍اکتوبر1947ء کو وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو ٹیلی گرام بھیجا جس میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے الفاظ کو دہرایا گیا اور اس پالیسی پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔ "Consistently with that in the case of any state where the issue of accession has been the subject of dispute, the question of accession should be decided in accordance to the wishes of the people of the state, it is my governments wish that as soon as law and order have been restored in Kashmir and her soil cleared of the invaders the question of the state's accession should be settled by a referance to the people."
اس پالیسی نے بھی دستاویز الحاق کی نفی کردی کہ اگر عوام نے الحاقِ پاکستان کا فیصلہ کیا یا خودمختاری جاری رکھنے کے حق میں رائے دی تو پھر دستاویز الحاق کی اہمیت بھی ردّی کے کاغذ جیسی ہی ہوگی۔ یہ رائے شماری کانگریس کی حکومت کے انتظام میں صوبہ سرحد میں کی گئی جبکہ غیر مسلم اکثریتی صوبے آسام کے مسلم اکثریتی ضلع سلہٹ میں بھی رائے شماری کرالی گئی تھی۔ یہی نہیں بلکہ جب کشمیر کے بالکل برعکس جونا گڑھ کی ہندو اکثریت کے مسلمان حکمران نواب نے 15؍اگست1947ء کو الحاق پاکستان کیا تو بھارت نے اس کی مخالفت کی۔ تو جواہر لعل نہرو نے 30؍ستمبر1947ء کو کہا کہ ’’ہم اس مسئلے کا حل عوام کے ریفرنڈم یا رائے شماری سے چاہتے ہیں، ہم اس ریفرنڈم کے نتائج کو قبول کرلیں گے۔ پاکستان جونا گڑھ مسئلہ غیر جانبدارانہ ریفرنڈم سے حل کرے۔‘‘ اسی طرح جونا گڑھ میں فروری1948ء کو ریفرنڈم ہوا۔ ووٹ بھارت کے الحاق کو ملا۔ کشمیر میں بھارتی پالیسی کے تحت ریفرنڈم نہیں کرایا گیا۔ دستاویز الحاق کا سہارا لینے سے قبل نہرو نے 25؍اکتوبر1947ء کو وزیر اعظم برطانیہ کو لکھا کہ کشمیر کے الحاق کا مسئلہ عوام کی مرضی کے مطابق حل ہونا چاہئے۔8؍نومبر1947ء کو بھارت کی جانب سے وی پی مینن اور پاکستان کے چوہدری محمد علی نے ریفرنڈم کی تفصیلی سکیم پیش کی جس کی بھارتی نائب وزیر اعظم ولبھ بھائی پٹیل نے سرپرستی کی تھی۔ اس میں یہ اصول سامنے لایا گیا کہ حکومت پاکستان اور بھارت کسی بھی ریاست کا الحاق تسلیم نہیں کریں گے جس کے عوام اور حکمران کے مذاہب مختلف ہوں۔ اس اصول کے تحت مسلم اکثریتی جموں و کشمیر کے ہندو ڈوگرہ حکمران کے کسی نام نہاد الحاق کو بھارت کی جانب سے تسلیم کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی تھا بلکہ اسی اصول کے تحت الحاق کا فیصلہ بھی رائے شماری سے ہونا تھا۔ بھارت اپنے اُن وعدوں سے بالکل مُکر گیا ۔

27؍اکتوبر1947ء کو کشمیر پر بھارتی قبضے سے متعلق غیر جانبدار قلمکاروں نے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ سٹینلے وائپر اور السٹر لیمب نے تو اس پر کھل کر بات کی ہے جبکہ سابق امریکی عہدیدار رابن رائفل نے28؍اکتوبر1993ء کو واضح کر دیا کہ امریکا مہاراجہ کی دستاویز الحاق کو تسلیم نہیں کرتا اور تمام کشمیر متنازعہ ہے۔ اس کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے۔ الحاق کی دستاویز پاکستان یا اقوام متحدہ میں پیش نہیں کی گئی۔بعد ازا ں بھارت نے کہا کہ وہ گم ہوگئی ہے۔ جنیوا کی انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس نے ایک قرار داد کے ذریعے کہا کہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز بوگس اور جعلی ہے۔ یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ بھارت نے کشمیر پر قبضے کا منصوبہ ستمبر1947ء کو ہی بنا لیا تھا۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل کے مکتوبات سے بھی یہ بات ظاہر ہوگئی ہے۔ دوسری طرف جب گورنر جنرل پاکستان محمد علی جناح نے27؍اکتوبر1947ء کو پاکستانی فوج کو کشمیر میں داخل ہونے کا حکم دیا تو انگریز کمانڈ انچیف لیفٹننٹ جنرل سر ڈگلس گریسی نے اُس حکم کو ماننے سے انکار کردیا۔گریسی نے سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل ایکون لیک سے ہدایات کیلئے رجوع کیا، ایکون لیک28؍اکتوبر1947ء کو دہلی سے لاہور پہنچ گئے۔ جس کے بعد محمد علی جناح نے ماؤنٹ بیٹن اورنہرو کو اگلے روز لاہور بلا لیا۔ اس طرح بھارت نے کشمیر پر جعلی دستاویز کا بہانہ بناکر فوجی قبضہ کرلیا۔2بٹالین فوج ڈیکوٹا جہازوں پر سرینگرہوائی اڈے پر اتاردی۔ بھارت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فوجی قبضے کو مضبوط کرتا گیا۔ پاکستان نے کشمیر کو آزاد کرانے کی کوششیں کیں لیکن بھارت کے دباؤ پر عالمی برادری نے مداخلت کی اور پاکستان کو ایسے موقع پر سیز فائر کرانے پر مجبور کیا جب پاک فوج جنگ جیت رہی تھی۔ پاکستانی فوج کو محاذ پر سے واپس بلایا گیاتو وہ رو پڑے کہ اُن کی فتح کو شکست میں بدل دیا گیا۔ آج بھی کشمیری نوجوان تاریخ کا منفرد انتفادہ لڑ رہے ہیں، کشمیر میں ایک انقلاب برپاہے لیکن اس موقع پر بھی بھارت کے وفود دنیا بھر میں سرگرم ہیں اور پاکستان اور کشمیریوں کوبات چیت میں الجھانے اور بھارت کو سہولیت دینے کی کوششیں اور سازشیں کر رہے ہیں۔ اگر پاکستان نے اس وقت اقوام متحدہ ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورموں پر کشمیر کا مسئلہ مؤثر انداز میں جارحانہ طور پر اٹھانے میں کوتاہی یا کسی تساہل سے کام لیا تو شاید تاریخ پھر کبھی ایسا موقع نہ دے۔وزیراعظم چاہے شاہد خاقان عباسی ہوں یا کوئی اور، کشمیر کی آزادی پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ بھارت کو صرف زخمی کرنے سے مسلہ حل نہیں ہو سکتا۔ کسی بھی صورت میں سارا کشمیر اور پنجاب پاکستان کے لئے ناگزیر ہے۔ اس لئے اس کی آزادی کے لئے نئی منصوبہ بندی اور صف بندی کی ضرورت ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 221070 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
30 Oct, 2017 Views: 397

Comments

آپ کی رائے