ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی المعروف امام نسائی رحمۃ اﷲ علیہ

(Hafiz Kareem Ullah Chishti Pai Khel, Mianwali)

ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی رحمتہ اﷲ علیہ بلند پایہ امام، محدث اور مقتدائے زمانہ تھے۔ آپ رحمتہ اﷲ علیہ خراسان کے شہر’’نسائی‘‘ میں پیداہوئے۔اسی نسبت سے آپ رحمتہ اﷲ علیہ کو’’نسائی‘‘ کہتے ہیں۔آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے ’’سنن نسائی‘ ‘کے نام سے صحیح احادیث کا ایک عظیم الشان مجموعہ ترتیب دیا۔ بیمثل قوت حافظہ اور قابل اعتماد احادیث نبوی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جمع کرنے کے لیے عرق ریزی سے کام کرنے پر آپ رحمتہ اﷲ علیہ کو ’’حافظ الحدیث‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔اس مقصدکیلئے آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے دُوردرازکے سفرکیے۔اوربہت سی تکالیف برداشت کیں۔ علمائے حدیث امام نسائی رحمتہ اﷲ علیہ کی جرح و تعدیل کو معتبر مانتے ہیں۔ آپ رحمتہ اﷲ علیہ نقدِ رجال میں انتہائی محتاط، معتدل اور اپنے معاصرین پر مقدم تھے۔ حدیث اور علل پر اپنی تصنیفات کی صورت میں آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے بہت سا علمی ذخیرہ چھوڑا ہے۔ اہلِ سنت کے ہاں آپ رحمتہ اﷲ علیہ کی بیان کردہ روایات مستند اور قابلِ اعتبار ہیں۔
صحاح ستہ(مستندچھ) اور اسکے مؤلفین حدیث کی چھ کتابیں انتہائی معتمد سمجھی گئی ہیں، انہیں ’’صحاحِ ستہ‘‘ کہتے ہیں ان میں پہلی دوکتابیں توکل کی کل صحیحین ہیں اور دوسری چار کتابیں ’’سنن‘‘ کہلاتی ہیں، یہ سنن اربعہ بیشتر صحیح روایات پر مشتمل ہیں، فن حدیث میں یہ چھ کتابیں انتہائی لائقِ اعتماد سمجھی جاتی ہیں۔امام ابو عبدالرحمن نسائی رحمتہ اﷲ علیہ کی کتاب کو ’’صحاحِ ستہ‘‘ میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ’’نسائی شریف ‘‘صحاح ستہ میں تیسرے نمبر پر شمار ہوتی ہے امام نسائی رحمتہ اﷲ علیہ نے بھی شیخین کی طرح صرف صحیح الاسناد روایات کو لیا ہے اور نسائی شریف بخاری ومسلم دونوں کے طریقوں کو جامع ہے۔ تنقیدِ رجال اور صحتِ اسناد کے بارے میں ’’نسائی ‘‘کی شرائط شیخین سے بھی زیادہ سخت ہیں ۔
معززقارئین کرام!دولت مندجوہوتے ہیں وہ اپنے پیچھے دولت کے انبارچھوڑجاتے ہیں۔صاحب اولاداپنے پیچھے اولادچھوڑجاتے ہیں۔لیکن جوصاحب علم ہوتے ہیں ان کی اورکوئی وراثت نہیں ہوتی بلکہ ان کی تحریریں ،تصانیف ان کی کتابیں ہی ان کی وراثت ہواکرتی ہیں ۔ جنہیں صاحب علم کی روحانی اولادعلم کی پیاس بجھانے کے لئے اپنے سینے سے لگاتی ہے۔امام نسائی رحمتہ اﷲ علیہ نے مجاہد و ریاضت اور زہد و ورع کے ساتھ ساتھ جہادجیسی مصرفیات کے باوجود متعدد کتب تصنیف کیں۔ایسی عظیم تصانیف کامطالعہ کرکے تشنگان علم اپنی پیاس بجھارہے ہیں ۔امام نسائی رحمتہ اﷲ علیہ کی تمام تصانیف میں سب سے مقبول اوراہم تصنیف’’سنن نسائی ‘‘ہے ۔علامہ سیوطی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ ذخیرہ احادیث میں یہ بہترین تصنیف ہے۔ اس سے قبل ایسی کتاب موجود نہ تھی۔علامہ سخاوی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں’’بعض علماء’’سنن نسائی‘‘ کو روایت و درایت کے اعتبار سے صحیح بخاری سے افضل گردانتے ہیں‘‘۔ ابن رشید تحریر کرتے ہیں’’جس قدر کتب حدیث سنن کے انداز پر مرتب کی گئی ہیں ، ان میں سے ’’سنن نسائی‘‘ صفات کے اعتبار سے جامع تر تصنیف ہے‘‘ کیونکہ امام نسائی رحمتہ اﷲ علیہ نے امام بخاری رحمتہ اﷲ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اﷲ علیہ کے انداز کو مجتمع کر دیا ہے۔آپ رحمتہ اﷲ علیہ کی تمام تصانیف کا اجمالی ذکرکچھ یوں ہے۔السنن الکبریٰ،المجتبیٰ،خصائص علی کرم اﷲ وجہہ الکریم‘، مسند علی،مسند مالک،کتاب التمیز،کتاب المدلسین،کتاب الضعفاء ،کتاب الاخوۃ،مسند منصور، مسیخۃالنسائی،اسماء الرواۃ،مناسک حج شامل ہیں۔آپ رحمتہ اﷲ کی تصنیف ’’خصائصِ علی کرم اﷲ وجہہ الکریم‘ قابلِ قدر اور بلند پایہ تصنیف ہے۔

آپ رحمتہ اﷲ علیہ کااصل نام احمد اور کنیت ابوعبدالرحمن ہے۔آپ رحمتہ اﷲ علیہ کاسلسلہ نسب کچھ یوں ہے: احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحر بن دینار بن نسائی الخراسانی رحمتہ اﷲ علیہ۔ ( طبقات الشافعیہ۳۸/۲،التذکرہ:۲/ ۱۴۲)آپ رحمتہ اﷲ علیہ کے سن پیدائش میں مؤرخین کااختلاف ہے۔لیکن خود امام نسائی رحمتہ اﷲ علیہ سے منقول ہے کہ میری پیدائش اندازاً ۲۱۵ہجری کی ہے، اس لیے کہ۲۳۰ہجری میں،میں نے پہلا سفر قتیبہ بن سعید کے لیے کیا اور ان کے پاس ایک سال دو مہینے اقامت کی۔ (تہذیب الکمال ۸۳۳/۱، سیر اعلام النبلاء ۵۲۱/۴۱)

آپ رحمتہ اﷲ علیہ کی پیدائش خراسان کے مشہور شہر’’ نساء‘‘ میں ہوئی۔ جو صرف نون اور سین کی فتح یعنی زبرکے ساتھ اور ہمزہ کے کسر اور مد کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ کبھی عرب اس ہمزہ کو واو بدل کر نسبت کرتے وقت ’’نسوی‘‘بھی کہا کرتے ہیں اور قیاس بھی یہی چاہتا ہے لیکن مشہور’’ نسائی ‘‘ہے۔ لیکن واضح رہے کہ امام نسائی رحمتہ اﷲ علیہ نے مصر میں سکونت اختیار کر لی تھی۔امام نسائی رحمتہ اﷲ علیہ نے طلب حدیث کے لئے پہلے اپنے شہر میں وقت کے درویش اساتذہ کرام سے علم حاصل کیا، پھر طلب حدیث کے لئے علمی مراکز کا سفر کیا، سب سے پہلے آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے خراسان میں بلخ کے ایک شہر بغلان کا۲۳۰ہجری کا رخ کیا، وہاں قتیبہ بن سعید رحمتہ اﷲ علیہ کے پاس ایک سال دو ماہ طلب علمی میں گزارا، اور ان سے بکثرت احادیث روایت کیں، نیز طالبان حدیث کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، طلب حدیث کے لیے دور دراز علاقوں کا قصد کیا، حجاز ( مکہ و مدینہ ) عراق ( کوفہ و بصرہ ) شام، جزیرہ، خراسان اور سرحدی علاقوں کے مراکز حدیث جن کو’’ثغور‘‘( سرحدی علاقے ) کہا جاتا ہے وغیرہ شہروں کا سفر کیا، اور مصر میں سکونت اختیار کی۔ (طبقات الشافعیہ ۴۸، تذکرۃ الحفاظ ۸۹۶/۲،مقدمہ تحفہ: ۶۶)

اہل علم نے امام نسائی رحمتہ اﷲ علیہ کی ممتاز دینی خدمات، علمی تبحر، تصنیف و تالیف میں شہرت اور مہارت کا اعتراف اس طور پر کیا ہے کہ آپ رحمتہ اﷲ علیہ کو مسلمانوں کے امام اور فن حدیث کے امام کے لقب سے ملقب کیاہے ۔اور آ پ رحمتہ اﷲ علیہ کو مسلمانوں کا مقتدیٰ و امام تسلیم کیاہے ۔گویا آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے دینی قیادت اور علمی سیادت دونوں وصف کے جامع تھے۔ حافظ ابن کثیررحمتہ اﷲ علیہ امام نسائی رحمتہ اﷲ علیہ کے علمی اسفار کے بارے میں لکھتے ہیں’’یعنی نسائی نے دور دراز کا سفر کیا۔ سماع حدیث میں وقت گزارا اور ماہر ائمہ سے ملاقاتیں کیں‘‘(البدایہ: ۳۲۱)

آپ رحمتہ اﷲ علیہ کے حالات زندگی کابغورمطالعہ کریں توپتاچلتاہے کہ آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے ۱۵برس کی عمر ہی سے تحصیل علم کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر کرنا شروع کر دیا تھا۔ آپ رحمتہ اﷲ علیہ کے نامور اساتذہ کرام میں سے امام بخاری رحمتہ اﷲ علیہ، امام ابوداؤدرحمتہ اﷲ علیہ، امام احمدرحمتہ اﷲ علیہ، امام قتیبہ بن سعیدرحمتہ اﷲ علیہ وغیرہ معروف ہیں۔ اس کے علاوہ امام بخاری رحمتہ اﷲ علیہ کے توسط سے آپ رحمتہ اﷲ علیہ کے اساتذہ کا سلسلہ سراج الائمہ، امام اعظم ، سرتاج الاولیاء ابوحنیفہ بن نعمان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے بھی جا ملتا ہے، جس کا تذکرہ یہاں باعث طوالت ہو گا۔

آپ رحمتہ اﷲ علیہ زہد وتقویٰ میں ضرب المثل تھے۔ساری زندگی صوم داؤدی کی پابندی کرتے رہے ہیں۔ دن اوررات کا بیشتر حصہ عبادت میں گزرتے تھے اور اکثر حج بیت اﷲ کی سعادت سے بہرہ ور ہوتے تھے۔ اُمراء و حکام کی محفلوں سے ہمیشہ گریزاں رہتے تھے۔ حسنِ سیرت کے ساتھ حسنِ صورت کے بھی مالک تھے۔چہرہ نہایت روشن، رنگ نہایت سرخ وسفید اور بڑھاپے میں بھی تروتازہ نظر آتے تھے۔ آپ رحمتہ اﷲ علیہ کی چار بیویاں اور دو باندیاں تھیں۔

آپ رحمتہ اﷲ علیہ کی عملی زندگی کا اندازہ محمد بن المظفرکے اس قول سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جسے علامہ ذہبی رحمتہ اﷲ علیہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے’’میں نے مصر میں اپنے شیوخ سے سنا ہے کہ وہ نسائی رحمتہ اﷲ علیہ کے بارے میں کہتے تھے کہ آپ رحمتہ اﷲ علیہ رات دن عبادت میں مشغول رہتے تھے، وہ جنگ میں امیر مصر کے ساتھ نکلے، اور اپنے وقار اور تیزی طبع اور مسلمانوں میں ماثور اور ثابت سنن پر عمل کرنے کرانے میں شہرت حاصل کی، اور نکلے تو سلطان کے ساتھ تھے۔لیکن ان کی مجالس سے دور رہتے تھے‘‘۔ (تذکرہ الحفاظ، تہذیب الکمال ۴۳۳/۱)

امام نسائی رحمۃ اﷲ علیہ کی وفات حسرت آیات کاواقعہ کچھ یوں ہے ۔آپ رحمتہ اﷲ علیہ جب رملہ سے دمشق پہنچے تو دیکھاکہ بنی امیہ کے زیراثرہونے کی وجہ سے پوراخطہ خارجی افکارونظریات کی زدمیں ہے۔اورحضرت علی المرتضی کرم اﷲ وجہہ الکریم وغیرہ کی کھلے عام تنقیص کی جاتی ہے۔یہ دیکھ کرآپ رحمتہ اﷲ علیہ کوبڑارنج ہوا۔آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے اسی موقع پرحضرت علی المرتضیٰ کرم اﷲ وجہہ الکریم کے مناقب میں ایک کتاب تصانیف فرمائی ۔پھرخیال ہواکہ اس کتاب کودمشق کے لوگوں میں سنائیں۔تاکہ لوگوں کی اصلاح ہواورخارجیت کے اثرات ختم ہوں۔ابھی آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے کتاب کاکچھ حصہ ہی سنایاتھاکہ ایک شخص نے کھڑے ہوکراعتراض کیاکہ آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت علی المرتضی کرم اﷲ وجہہ الکریم کوحضرت امیرمعاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے افضل قراردیاہے۔لوگوں نے اس جرم کی پاداش میں آپ رحمتہ اﷲ علیہ کو زدوکوب کرناشروع کردیا۔آپ رحمتہ اﷲ علیہ نیم بے ہوش ہوگئے۔آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے ان سے فرمایامجھے ابھی مکہ مکرمہ لے چلووہاں پہنچ کرمروں یاراستے میں موت آجائے ۔آپ رحمتہ اﷲ علیہ کامکہ مکرمہ پہنچ کرانتقال ہوا۔اورصفامروہ کے درمیان مدفون ہوئے۔بعض کاخیال ہے کہ راستے ہی میں انتقال ہوااورتدفین مکہ مکرمہ میں ہوئی۔تاریخ وفات ۱۳صفرالمظفر۳۰۳ہجری ہے۔(سیراعلام النبلاء،بستا ن المحدثین)

امام نسائی رحمۃ اﷲ علیہ سلسلہ محدثین کی اہم کڑی ہیں، آپ رحمۃ اﷲ علیہ نے حدیث کی حفاظت و تدوین کے ساتھ ساتھ جرح و تعدیل رواہ پر بھی بڑا سرمایہ چھوڑا اور فہم حدیث کے سلسلہ میں بھی آپ کی کوششوں سے مسلک سلف ہم تک پہنچا، صحیح اسلامی عقائد کو بھی آپ رحمۃ اﷲ علیہ نے امت تک پہنچایا، اسی وجہ سے’’ سنن نسائی‘‘ کی افادیت مسلم ہے۔ اور عقیدہ سلف کی اشاعت اور رد بدعت کی شہرت کی وجہ سے آپ رحمۃ اﷲ علیہ کو امام دین اور امام المسلمین کے لقب سے ملقب کیا گیا۔آپ رحمۃ اﷲ علیہ صرف محدث اور فقیہ ہی نہ تھے، بلکہ وہ عقائد و منہج کے باب میں بھی امام ہدایت، حامی سنت اور ماحی بدعت تھے، اور اصطلاحِ علماء میں آپ ’’صاحب سنت‘‘کے لقب یافتہ عالم تھے، جس کو علماء نے دین کی امامت سے بھی تعبیر کیا ہے، خلاصہ یہ کہ امام نسائی رحمۃ اﷲ علیہ عقائد کے باب میں بھی امام ہدیٰ تھے، چنانچہ آپ رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنے شیوخ کے نقش قدم پر صحیح اور سنی عقائد کا برملا اظہار کیا، اور اپنی کتابوں میں ان مسائل کو جگہ دی۔

خالق کائنات مالک ارض وسماوات اﷲ رب العالمین ابوعبدالرحمن المعروف امام نسائی رحمتہ اﷲ علیہ پر رحم فرمائے اور مسلمانوں کی طرف سے انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔اس کتاب سے پھوٹنے والی کرنیں باغ حدیث نبوی صلی اﷲ علیہ والہٖ وسلم کوتاقیامت روشن وتابندہ رکھے ۔

اﷲ پاک ہمیں سنت رسول صلی اﷲ علیہ والہٖ وسلم پرچلنے اورعمل پیراہونے کی توفیق عطافرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین طہ ویسین صلی اﷲ تعالیٰ علی محمد
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafiz kareem ullah Chishti

Read More Articles by Hafiz kareem ullah Chishti: 179 Articles with 180912 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Nov, 2017 Views: 976

Comments

آپ کی رائے