اندھا لڑکا اور آدمی

(Kamran Buneri, Karachi)
ایک اندھا لڑکا اپنی ٹوپی کو پاؤں کے قریب رکھ کے ساتھ عمارت کی سیڑھیوں میں بیٹھ گیا۔
اس نے کچھ لکھا ہوا بھی اٹھا رکھا تھا جو کچھ یوں تھا: میں اندھا ہوں میری مدد کیجیئے۔
ٹوپی میں کچھ ہی سکے پڑے تھے۔
ایک آدمی پاس سے گزرہا تھا اس نے اپنی جیب سے کچھ سکے لیے اور ٹوپی میں ڈال دیے۔
اس نے پھر وہ لکھائی والا کاغذ لیا،
اسکی دوسری طرف کچھ الفاظ لکھے۔
اس نے کاغذ واپس رکھ دیا تاکہ جو کوئی بھی گزرے وہ اسے دیکھ سکے۔
جلد ہی ٹوپی پیسوں سے بھرنے لگی۔
اب ذیادہ لوگ اندھے لڑکے کو پیسے دینے لگے۔
اس روز دن کے وقت وہ آدمی حالات دیکھنے کے لیے واپس آیا۔
لڑکے نے اس کے قدموں کی آواز کو بھانپ لیا اور پوچھا: کیا تم ہو وہی جس نے صبح میرے کاغذ پر کچھ لکھا تھا؟
تم نے کیا لکھا تھا؟
آدمی نے کہا میں نے صرف سچ لکھا،
میں نے وہی بات جو تم نے لکھ رکھی تھی،
ایک مختلف انداز میں لکھی۔
میں نے لکھا تھا: آج کا دن بہت پیارا ہے مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا۔
کیا آپکو لگتا ہے کہ دونوں باتوں میں ایک ہی بات کہی گئی تھی؟
جی ہا، بالکل۔
دونوں لکھائیوں نے لوگوں کو بتایا کہ لڑکا اندھا ہے۔
دوسری لکھائی نے لوگوں کو بتایا کہ وہ کتنے خوش نصیب ہیں کہ وہ دن کے اجالے کو دیکھ سکتے ہیں۔
ہمیں اس چیز کے لیے شکرگزار ہونا چاہیئے جو ہمیں ملی۔
تخلیقی بنیں،
موجد بنیں۔
سوچنے کا انداز انوکھا اور مثبت رکھیں۔
دوسروں کو اچھی راہ کی طرف سمجھداری سے بلائیں۔
اپنی زندگی کسی حجت یا بہانے کے تحت مت گزاریں بلکہ اسے دوسروں کی زندگی آسان اور اچھی کرنے میں بھی صرف کریں۔
اگر زندگی آپکو رونےکی سو وجوہات دیتی ہے تو آپ اسے باور کروائیں کہ آپ کے پاس مسکرانے کی ہزار وجوہات ہیں۔
اپنے حال سے اعتماد سے نمٹیں اور اپنے مستقبل کے لیے بغیر کسی خوف و خطر تیاری کریں۔ زندگی توڑ پھوڑ اور مرمت کے تسلسل کا نام ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kamran Buneri

Read More Articles by Kamran Buneri: 92 Articles with 175316 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Nov, 2017 Views: 4151

Comments

آپ کی رائے
bohat zabardast article likha ha ap ne..........is main samjhne walon k lia bohat sa sabak ha or na samjhne walon k lia ye serif ek article ha.......................hamay serif soch badalne ha halat o mamlat khud badal jaengy .............................
By: shohaib haneef , karachi on Feb, 16 2018
Reply Reply
0 Like
very impressive article,,,,, :)
By: Zeena, Lahore on Nov, 12 2017
Reply Reply
1 Like
zabrdast aticle... lekin insaan kbbi kbi halaat sy larrtay huay haar jata hai apny aap sy bhi or halaat sy bhi... mayoosi ghair leti hai mgr ALLAH hamesha raah dikhata hai apny bndo ko... very well-written article written by you... stay blessed!!!
By: Faiza Umair, Lahore on Nov, 09 2017
Reply Reply
1 Like
Shukriya
By: Kamran Buneri, Karachi on Dec, 14 2017
0 Like