سیاسی کھیل تماشہ

(Salman Tariq Butt, )

محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا مشہور ِ زمانہ قول ہے کہ"جمہوریت بہترین انتقام ہے " جسے بی بی کی شہادت کے بعد سابق صدر آصف زرداری اور بلاول لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سا انتقام ؟ وہ انتقام جو جمہوری نظام کے ذریعے ووٹ کی طاقت استعمال کرتے ہوئے عوام لیتی ہے یاوہ انتقام جو اسی جمہوری نظام کے ذریعے عوام سے لیا جاتا ہے ؟جمہوریت میں انتخابات کی بہت اہمیت ہے۔ عوام کو مقررہ عرصے کے بعد یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ و ہ جس جماعت کو چاہیں اپنا ووٹ دے کر ایک معینہ مدت تک حکمرانی کا تاج پہنا دیں ۔حقیقی جمہوریت میں تو عوام جس کو چاہے اقتدار میں لے آئے اور جسے چاہے کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ نہ ڈال کر انتقام لیتے ہوئے اقتدار سے بے دخل کر دے ۔لیکن پاکستانی جمہوریت میں اس کا کچھ الٹ ہی تصور ہے ۔ عوامی نمائندے عوامی حق ِ رائے دہی سے منتخب ہو کر عوام ہی سے انتقام لیتے ہیں کہ مجھے کیوں لا بٹھایا ؟

اب یہ موضوع الگ ہے کہ کتنے فیصد عوامی نمائندے حقیقی معنوں میں عوامی رائے سے منتخب ہو کر ایوانوں میں براجمان ہوتے ہیں۔لیکن کچھ مثالیں ایسی بھی ہیں کہ جن سے عوامی طاقت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جیسا کہ 2008اور 2013کے انتخابات میں عوام نے ق لیگ کو اٹھا باہر مارا جو کسی دور میں اقتدار کی سیج سنبھالے ہوئے تھی۔ جس پر کہنے والے کہتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟ خیر ایوان میں جس جماعت کے منتخب نمائندگان کی تعداد زیادہ یعنی ایک تہائی ہو وہ اقتدار کی کرسی سے لپٹ جاتی ہے اور باقی رہ جانے والے حسب ِ اختلاف کی نشستوں کی زینت بنتے ہیں ۔ حکمرانی کے شرف سے محروم ہو جانے والی جماعتیں مجموعی طور پر قائد ِ حسب ِ اختلاف کا چُناؤ کر لیتی ہیں۔یہ سب نمبر گیم ہے ۔ان جماعتوں کے مابین اب یہ دوڑ چل پڑتی ہے کہ حسب ِ اختلاف کا قائد ان کی جماعت کا ہو۔ جس میں سو اُکھاڑ پچھاڑ ہوتا ہے ۔ الیکشن دور کے حریف ایوان میں حلیف بنے دکھائی دیتے ہیں اور عوام تماشائی بنے یہ سیاسی کھیل تماشہ دیکھتی ہی رہ جاتی ہے۔موجودہ قومی اسمبلی میں قائد ِ حسب ِ اختلاف آصف زرداری کی پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ ہیں جو 2013 کے الیکشن سے بننے والی اسمبلی میں اب تک برسرِ اختلاف ہیں ۔جن کو اس ایوان کے آخری سال میں ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ہمارے ہاں کچھ بھی ممکن ہے ، سیاسی دشمن جانے کب دوست بن جائے اور وہی جگری یار نہ جانے کب سیاسی دشمن بن جائے ۔کچھ کہا نہیں جا سکتا ۔

جانے نہ جانے "عوام ـــ"ہی نہ جانے"قاصد" تو سارا جانے ہے ۔۔۔۔۔خورشید شاہ کو ہٹانے کے لئے کل کے سیاسی دشمن آج کے دوست بن گئے ہیں ۔جو یہ بھی نہیں دیکھتے کہ کچھ ماہ بعد عوام میں کیا منہ لے کر جائیں گے ۔ شاہ سے شاہ کا تبادلہ چاہتے ہیں ۔جو ممکن نظر بھی آرہا ہے اگر مولانا آسمان سے اترتے ہوئے کجھور میں نہ اٹکے تو ۔۔۔!تحریک ِ انصاف کی 32 ، متحدہ کی24، جماعت کی 4، ق لیگ کی 2، شیخ رشید ، اعجاز الحق ، جمشید دستی ، عوامی جمہوری اتحاد اور آل پاکستان مسلم لیگ کی ایک ایک نشست ، کُل ملا کر 67 کا عدد بنتا ہے۔ جس میں باقی رہ جانے والے 9 عدد آزاد نمائندگان کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں اور 76 ارکان کے ووٹ حاصل کر کے متحدہ اپوزیشن با آسانی اپنا نیا قائد منتخب کر سکتی ہے ۔جس کے لئے متفقہ امیدرار کے طور پرتحریک ِ انصاف کے شاہ محمود قریشی کا نام سامنے آرہا ہے۔

اس ساری صورتحال میں آصف زرداری ایک بار پھر متحرک ہوتے نظر آرہے ہیں اور اس معاملے کو سمیٹنے کے لئے جمیعت علمائے اسلام (ف) سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کا گٹھ جوڑ آخری مراحل میں داخل ہوا تو مولانا فضل الرحمٰن اپنی 13 نشستیں لئے وقتی طور پر حکومت سے حسب ِ اختلاف کی نشستوں پر لینڈ کر جائیں گے ۔ایسے میں پیپلز پارٹی کی 47، جمیعت کی 13 ، اچکزئی کی 3 اے این پی کی 2 اور شیر پاؤ ، حاصل بزنجو ، بلوچستان نیشنل پارٹی کی ایک ایک نشست ، مجموعی طور پر 68 ووٹ بنتے ہیں۔

اسDo or Die کی صورتحال میں آزاد ارکان کی 9نشستیں الگ الگ ووٹ ہے۔ اب یہاں سیاسی خریدوفروخت کا بازار بھی گرم ہوگا اور تماشہ بھی لگے گا ۔ عوام اس سارے سیاسی کھیل تماشے میں بولیاں لگتے دیکھے گی مگر پھر بھی اپنا ووٹ انہی سرمایہ داروں ، جاگیرداروں ، وڈیروں اور مذہب کے علمبرداروں کو ہی دے گی۔جو روٹی کپڑا، رنگ و نسل ، ذات پات ، برادری، مذہب ، لسانیت ، صوبائیت، فرقہ بندی اور سیاست کے نام پر غریب عوام کا خون خُشک کر دیتے ہیں۔

موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو الیکشن سر پر ہیں ۔تمام سیاسی جماعتیں اب 2018 کے عام انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ِ عمل ہیں۔ جوڑ توڑ کی سیاست عروج پر ہے ۔ آصف زرداری کہتے ہیں کہ ہم نے چار سال سیاست نہیں کی ،اب آخری سال کریں گے ۔ تبدیلی کے دعویدار کہتے ہیں کہ ہمارا ایک سال دھرنا اور ایک سال عدالتوں میں گزر گیا ، دو سال میں بمشکل سسٹم کو سمجھے ہیں ،اب آخری سال ڈیلیور کریں گے۔ ملک سیاسی طور پر نازک صورتحال سے گزر رہاہے ۔معاشی حالات بھی بُحران کا شکار ہیں ۔ عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان کچھ تو گڑبڑ ہے ۔ایسے میں عوام اس کھیل تماشے کا اچھی طرح جائزہ لے رہے ہیں ۔

سیاسی نمائندگان کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ۔ سُرخ ٹماٹر کو سُرخاب کے پر لگ چکے ہیں ۔ لہسن پیاز پہلے ہی مہنگے داموں بِک رہے ہیں ۔ اشیائے خوردو نوش غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں ۔ ملاوٹ کا بازار گرم ہے ، کوئی پوچھنے والا نہیں، بلکہ سب ملے ہوئے ہیں ۔ علاج معالجے کی سہولیات ناپید ہوتی جارہی ہیں ۔غریب کو کورٹ کچہری کے دھکے کھاتے برسوں بیت گئے ۔ انصاف کا بول بالا کب ہوگا ؟ تعلیمی اداروں میں معیار ِ تعلیم ناقص اور غیر منصفانہ ہے ۔اس کاروبار کی روک تھام کون کرے گا؟ قتل و غارت گری کا جشن لگا ہوا ہے ۔ ارباب ِ اختیار خواب ِ غفلت کی پرسکون نیند سوئے ہوئے ہیں۔ بھلا عوام کو آپ کے سیاسی عزائم سے کیا سروکار ۔۔۔اور آپ کو بھی عوامی مسائل کا کیا ادراک ۔۔۔

اب کی بار اس ہجوم کو قوم بننا ہوگا ۔طاغوتی نظام کے پنجرے سے آزادی حاصل کرنا ہوگی ۔دھن، دھونس اور دھاندلی کو مُسترد کرنا ہوگا ۔حسبِ اقتدار اور حِسب ِ اختلاف پر عوام کو حِسب ِ احتساب کا کردار ادا کرنا ہوگا ۔قوم کو چاہئے کہ اب وہ جمہوریت کے ذریعے بہترین انتقام لے ۔ اپنے علاقے کے اچھی شہرت کے حامل افراد کو ہی اپنی نمائندگی کا حق دیں جو ایوان ِ اقتدار میں جاکرحقیقی معائنوں میں عوام کی نمائندگی کرے اورسیاسی وابستگی ، جوڑ توڑ ، انفرادی مفادات سے بالاتر ہوکر عوامی مسائل کو حل کرنے پر توجہ دیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salman Tariq Butt

Read More Articles by Salman Tariq Butt: 2 Articles with 866 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Nov, 2017 Views: 354

Comments

آپ کی رائے