شرم و حیا ایمان کا حصہ

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: بنت عطاء ، کراچی
حیا انسان کی فطری صفت ہے چونکہ دین اسلام ایک فطری دین ہے اس لئے اس میں حیا کی بہت تعلیم دی گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: "حیا ایمان کا حصہ ہے" (بخاری)۔ یعنی جس شخص میں ایمان ہو اس میں حیا بھی ہو۔ فرمان نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم ہے: "ہر دین کی ایک امتیازی علامت ہوتی ہے اور اسلام کا امتیاز حیا ہے" (ابن ماجہ)۔مسلمان معاشرے اور کافر معاشرے میں جو سب سے نمایاں فرق ہے وہ حیا کا تصور ہے۔ ایمان کی حفاظت میں حیا کا بڑا عمل دخل ہے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: "حیا اور ایمان جڑواں ہیں اگر ایک اٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھ جاتا ہے" (بیہقی)۔ یعنی جس میں حیا نہ رہے اس میں ایمان بھی نہیں رہتا۔

شیطان نے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو بہکایا کہ اس درخت کا پھل کھا لو۔ جب انہوں نے کھا لیا تو بطور سزا وہ بے لباس ہوگئے۔ اس سے ثابت ہوا کہ روز اول سے شیطان کا یہی مقصد ہے کہ وہ انسان کی حیا پر وار کرے۔ اسی لئے دشمنان اسلام بھی اسلام ختم کرنے کے لئے سب سے پہلے مسلمانوں کی حیا پر وار کرتے ہیں ڈراموں، فلموں، اشتہارات، مارننگ شوز کے ذریعے معاشرے میں بے حیاء پھیلاتے ہیں۔ تاکہ جب مسلمانوں سے حیا چلی جائے گی تو ایمان خود ہی رخصت ہوجائے گا۔ان کی یہ سازش بالکل کامیاب جارہی ہے مسلمان بتدریج حیا اور ایمان سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔حیا کے دو درجے ہیں ایک درجہ یہ ہے کہ لوگوں سے حیا کرنا۔ مثلا اساتذہ، والدین، بزرگ وغیرہ۔ حیا کا یہ تصور جن میں پایا جائے اور وہ اس کی وجہ سے خود کو برے کاموں سے بچائیں اسلام نے ان کی قدر کی ہے۔

حیا کا دوسرا تصور اﷲ سے حیا کرنا ہے اور یہی حیا کا اصل مقصد ہے کیونکہ لوگوں سے حیا کا سبب بھی پس پردہ اﷲ سے حیا ہی ہے۔ اسی لئے احادیث میں اﷲ سے حیا کی تلقین کی گئی ہے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: "اﷲ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کی جائے" (بیہقی)۔مراد یہ ہے کہ مثلا آپ ٹی وی دیکھ رہے ہیں یا انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں آپ کے آس پاس کوئی نہیں ہے کسی کی آپ پر نگاہ نہیں ہے آپ جو چاہیں دیکھ سکتے ہیں۔ تب بھی اﷲ تو آپ کو دیکھ ہی رہا ہے۔ اس وقت اﷲ سے حیا ہی ایمان ہے اور یہی حیا ایک مومن سے مطلوب ہے۔

آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے: "لوگوں! اﷲ سے حیا کرو۔ لوگوں نے کہا ہم تو اﷲ سے حیا کرتے ہیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اﷲ سے حیا کا حق یہ ہے کہ تم اپنے سر کی اور جو کچھ اس میں ہے اس کی حفاظت کرو" (ترمذی) یعنی سر میں جو دماغ ہے اس سے جو کچھ تم سوچتے ہو، جو خیالات تمہیں آتے ہیں، جو منصوبے بناتے ہو اس کے بارے میں اﷲ سے حیا کرو۔ آنکھیں ہیں ان سے کیا دیکھتے ہو اس کی حفاظت کرو۔ کان ہیں ان سے کیا سنتے ہو اس کے بارے میں اﷲ سے حیا کرو۔ زبان ہے اس سے کیا باتیں کرتے ہو، تمہاری باتوں سے معاشرے میں جو فساد یا بھلائی پھیلتی ہے اس کے بارے میں اﷲ سے حیا کرو۔نیز آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: "پیٹ میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں اﷲ سے حیا کرو" (ترمذی)۔ یعنی پیٹ میں کیا ڈالتے ہو، کیا کماتے ہو، اپنی اولاد کو کیا کھلاتے ہو اس کے بارے میں اﷲ سے حیا کرو۔ "جس نے ایسا کیا اس نے درحقیقت اﷲ سے حیا کا حق ادا کردیا" (ترمذی)۔

اسلام صرف بے حیاء سے منع نہیں کرتا بلکہ حیا پھیلانا بھی چاہتا ہے۔ اسی لئے ستر کی بھی حدود دور دور مقرر کیں۔ قرآن میں بھی فرمایا اپنی نظروں کی حفاظت کرو تاکہ معاشرے میں حیا دار ماحول قائم ہو۔ حدیث مبارکہ ہے کہ: "آپ صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک نابینا صحابی تشریف لائے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ام المومنین سے فرمایا اندر جاو انہوں نے کہا اے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم! یہ تو نابینا ہیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا وہ نابینا ہیں تم تو نہیں ہو" (ترمذی)

اسی وجہ سے مرد و عورت کے اختلاط کو بھی اسلام نے ممنوع قرار دیا۔ یہ ہے اسلام میں حیا کا تصور۔ لاکھوں درود و سلام آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر کہ ان کی بتائی تعلیمات سے معاشرہ حیا دار ہوگا، بہنیں بیٹیاں اپنے بھائیوں اور والدین کے لئے رسوائی کا باعث نہیں بنیں گی۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: "پچھلے انبیاء کی تعلیمات سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر تم حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو" یعنی جس میں حیا نہیں اس سے کسی بھی برائی اور گناہ کی توقع کی جاسکتی ہے۔

بطور مثال حیا کی اہمیت کا اندازہ اس واقعے سے لگائیں کہ غزوہ احد کے موقعے پر ایک خاتون کا جوان بیٹا شہید ہوا وہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے اپنے بیٹے کے اخروی انجام کے بارے میں پوچھنے آئیں تو لوگوں نے کہا اس کا جوان بیٹا مرا اور یہ اس طرح لپٹی آئی ہیں تو ان خاتون نے جواب دیا میں نے اپنا بیٹا کھویا ہے ایمان نہیں۔

آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے حیاء جس چیز میں ہو اس کو عیب دار بنائے گی اور حیا جس چیز میں ہو اس کو خوبصورت بنائے گی(ترمذی)۔نیز فرمایا: "حیا ایمان سے ہے اور ایمان کا بدلہ جنت ہے اور بے حیاء برائی کی جڑ ہے اور برائی کا بدلہ ٹھکانہ ہے" (ترمذی)۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی دنیا خوبصورت بنانے کے لئے حیا کے کلچر کو عام کریں معاشرے میں اگر حیا ہوگی تو سکون ہوگا۔ حیا ہی ہماری آخرت بنائے گی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 518884 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Nov, 2017 Views: 1007

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ