ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

(Haseeb Ejaz Aashir, Lahore)

شہید میجر اسحاق کی لازوال قربانی کو سلام

اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں
قوم کے مردمجاہد تجھے کیا پیش کروں
اِس کرہ عرض پر اسلام کے نام پر حاصل کی گئی دوسری سلطنت خداداد اپاکستان کے حصول اور بقاء کی تاریخ بے مثال قربانیوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے ۔ اِس دیس نے جب بھی قربانیوں کا تقاضا کیا ،اِس پاک مٹی کے فرزندوں نے تن من دھن قربان کرنے کیلئے لمحہ بھر کی بھی تاخیر نہ کی۔ماؤں کے لال نے باپ کے جگر گوشوں نے سر پر کفن باندھ کر رزمگاہ حق و باطل کا رخ کیا ۔اور اپنی لہو سے قوم و ملت کو ایک نئی زندگی سے نوازا۔اِ ن قربانیوں کی طویل اور لازوال داستانوں میں پاک فوج سرفہرست ہے ۔ جن کے جوش،بہادری ، صلاحیتوں اور جذبہ شہادت کی دنیا بھی معترف ہے۔شاعر نے انہیں کیلئے کہا ہے کہ
شہید کی جو موت ہے وو قوم کی حیات ہے ۔

بزدل اورمکار دشمن کو احساس ہوا کہ وہ ہم سے براہ راست جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا تو اس نے چھپ کر وار کرنے میں ہی عافیت جانی لیکن اس موقع پر پاکستانی عوام اور افواج پاکستان سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹ گئے ، اور نائن الیون کے بعد دہشت گردوں کے خلاف مسلط کی گئی جنگ میں ہم نے ملک وقوم کی سلامتی و بقاء کیلئے 70 ہزار جانوں کے نذرانے پیش کئے، 100 ارب ڈالر کا مالی نقصان برداشت کیا جبکہ 60 لاکھ سے زائد قبائلی بے گھر ہوئے۔ ہماری افواج پاکستان کے بہادرجوان ہماری بقاء کیلئے جامِ شہادت نوش کر کے امر ہو رہے ہیں ،غازی بن کر سرخرو ہو رہے ہیں اور وطن اپنی آزادی ،وقار اور علیحدہ تشخص برقرار رکھنے میں کامیابیوں کی جانب رواں دواں ہے ۔
خونِ دل دے کے نکھاریں گیرُخِ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی ناقابل فراموش کاوشوں پر سرسری جائزہ لیا جائے تواخبار میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سب سے بڑا آپریشن سوات میں 2007 میں شروع کیا جس کا نام آپریشن‘‘راہِ حق’’رکھا گیا۔ پاک فوج نے اس آپریشن میں بڑی کامیابیاں حاصل کر کے سوات میں امن بحال کیا لیکن بیرونی قوّتوں کی مدد سے دہشت گردوں نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا تو مئی 2009 میں پاک فوج نے ان دہشتگردوں کے خلاف آپریشن‘‘راہِ راست’’شروع کیا اور امن کو بحال کرنے کے لیے کئی قربانیاں پیش کیں۔جون 2009 میں پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف ایک اور منظم آپریشن شروع کیا جس کا نام آپریشن‘‘راہِ نجات’’رکھا گیا۔ پاک فوج نے اس آپریشن میں بھی بڑی کامیابیاں حاصل کیں اور دہشت گردوں کے ٹھکانے اور مراکز تباہ کئے اور قبائلی علاقوں میں امن قائم کیا۔ چند سال ملک میں امن و امان کی صورتحال قائم رہی لیکن پھر اس کے بعد دہشت گردوں نے ملک کے اند ر اچانک سیدوبارہ سر اٹھا لیا اور کئی محب وطن افراد، لیڈرز کا قتل عام کیا اور پھر سب سے بڑا حملہ آرمی پبلک اسکول کے معصوم طلباء پر کیا جو کہ پاکستان کے لیے ایک بہت ہی بڑا دھچکا تھا۔ اس حملے کے بعدپاکستان نے بھی دہشت گردی کے خلاف ملک بھرمیں سب سیبڑا آپریشن‘‘ضربِ عضب’’کیا۔ اس کامیاب آپریشن کا آغاز اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کیا۔اس آپریشن نے ملک میں مکمل امن و امان کی صورتحال قائم کردی۔اس آپریشن کے نتیجے میں پاک فوج نے دہشتگردوں کے 185 اہم کمانڈرز اور 3500 امن دشمنوں کو جہنم واصل کیا۔ملک میں امن و امان کی ایک فضاء قائم ہوگئی اور دوسا مکمل امن و سکون کے گزرے۔ یاد رہے کہ آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج کی کامیابیوں کو دنیا نے سراہا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جیت رہا ہے۔پاکستان نے آپریشن ضرب عضب میں کئی قیمتی جانوں کا نقصان بھی اٹھایا، جس میں عام شہری، طلبا اور پاک فوج کے فوجی، پولیس رینجرز و دیگر کے شہداء شامل ہیں۔ گزشتہ دنوں اچانک سیتحریک طالبان پاکستان کے نئے گروپ جماعت الاحرار نے سر اٹھا لیا اور پہلا خودکش حملہ لاہور میں کیا جس میں 18 سے زائد افراد کو زندگی کی بازی ہارنا پڑی اور پھر دہشت گردوں نے سندھ کے علاقے سیہون میں ایک درگاہ پر خودکش حملہ کیا جس میں کئی قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ لیکن ایک بار پھر قوم نے متحد ہوکر فوج سے مذمت نہیں بلکہ دہشت گردوں کی مرمت کا مطالبہ کیا اور پھر پاک فوج نے باضابطہ طور پر 22 فروری 2017 کو ملک بھر میں آپریشن‘‘ردالفساد’’کا آغاز کردیا۔آپریشن‘‘رد الفساد’’ان ملک دشمن عناصر کے خلاف ہے جنہوں نے ملک کا امن خراب کیا یا پھر دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ملک میں انتہا پسندی کو فروغ دینے والوں کے خلاف ہے۔اس آپریشن کا مقصد دشمن کو بلاتفریق نشانہ بنانا ہے. آپریشن میں پاک آرمی، پاک فضائیہ، پاک بحریہ، پولیس، رینجرز اور خفیہ ادارے بھرپور کردار ادا کریں گے۔آپریشن کے سلسلے میں پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی اور بارڈر پر سیکورٹی سخت کردی گئی ہے جبکہ ملک بھر میں سرچ آپریشن، چھاپے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر کے اب تک کئی دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے اور بہت سارے گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ ہمارے نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھنے کیلئے پُرعزم ہیں ، اور اِنکی قیادت میں پاک فوج کامیابیوں کی نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔
اُن شہیدوں کی ویت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر وقیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر

ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں سرچ آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے مقابلے میں میجر اسحاق کی شہادت بھی اُسی قربانیوں کا تسلسل ہے جس کی قسم افواج پاکستان نے کھائی ہے کہ وہ قربانیوں سے دریغ نہیں کرے گی اور پاکستان کو ہرآنچ سے محفوظ رکھے گی انشاء اللہ تعالی۔ 28 سالہ میجر اسحاق کا تعلق خوشاب سے ہے اور ان کے پسماندگان میں بیوہ اور ایک سال کی بیٹی فاطمہ شامل ہیں۔ میجر اسحق کا تعلق 118 لانگ کورس سے تھا اور انہوں نے اکتوبر 2008 میں کمیشن حاصل کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں کے ٹھکانے کی اطلاع پر سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کیا، دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں میجر اسحاق شہید ہو ئے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ آج ایک اور بہادر سپوت مادر وطن پر قربان ہوا، پاک فوج کی قربانیوں سے ملک سلامت رہے گا۔آخری دہشت گرد کے خاتمے تک فوج ذمہ داری نبھاتی رہے گی۔

میجر اسحاق کے جسد خاکی کولاہو رسی ایم ایچ منتقل کیا گیا جہاں سے میت انکے گھر واپڈا ٹاون میں پہنچائی گئی۔ اِس موقع پر کی اہلیہ کی اپنے شوہر کی میت کیساتھ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی،جس کو دیکھ کرہر آنکھ اشکبار ہے،ہر دل غمزدہ ہو گیا ۔میجر اسحاق کی نماز جنازہ ایوب سٹیڈیم میں ادا کی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی۔شہید کو پورے فوجی اعزاز و اکرام کے ساتھ کیولری گراونڈ آرمی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ صدر پاکستان اور چیف جسٹس کی جانب سے پھولوں کی چادر بھی چڑھائی گئی۔ نماز جنازہ میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، شہید کے عزیز و اقارب، فوجی جوانوں اور شہریوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

شہید کے ماموں اور بھائی کا کہنا ہے کہ میجر اسحاق مادی خواہشات سے بے پروا اور بلند مقصد رکھنے والے انسان تھے۔ خاندان کے بہترین فرد کو آرمی میں بھیجا، پاک آرمی پاکستان کی محافظ ہے۔صدر ممنون حسین نے میجر اسحاق کی شہادت پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے دہشت گردی پر قابو پانے کے بلند مقصد کے لیے شہادت کو گلے لگایا ہے۔ صدرمملکت نے میجر اسحاق کے والدین اورا ہلِ خانہ سے بھی اظہار تعزیت کیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میجر اسحاق کی شہادت پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی دفاع اور سلامتی کیلئے سکیورٹی فورسز کی قربانیاں قابل تحسین ہیں۔ وزیراعظم نے شہید میجر اسحاق کے خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا میجر اسحاق اور دیگر شہدا کی عظیم قربانیوں کے باعث آج وطن امن کا گہوارہ ہے۔ شہید میجر اسحاق کی لازوال قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی میجر اسحاق کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک کی خاطر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے لڑنے والے جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ملکی تحفظ کیلئے دی گئی پاک فوج کے جرات مند، محب وطن افسر میجر اسحاق کی شہادت پر فخر ہے دہشتگرد‘ انکے ہمدرد دنیا‘ آخرت میں رسوا کن انجام سے دوچار ہونگے۔وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے اس شہادت پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ قوم کو اپنے شہیدوں پر فخر ہے۔ میجر اسحاق کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔عمران خان، سینیٹر سراج الحق اور لیاقت بلوچ سمیت ہر سیاسی رہنما نے بھی شہید کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ شہید پر پوری قوم کو فخر ہے۔
اے راہ حق کے شہیدوں وفا کی تصویروں
تمھیں وطن کی ہوائیں سلام کرتی ہیں

ہمیں اپنی پاک افواج پر فخر ہے جنہوں کی قربانیوں سے دشمن ہماری ارض پاک پر میلی آنکھ ڈالنے تو کانپ رہا ہے اور کھُل کر وار کرنے کی ہمت نہیں کر رہا ہے ۔ہمارے پاک فوج کے جوانوں کے غیر متزلزل ارادے،پختہ عزم، بلندحوصلوں کو دیکھ کر یقین ہے کہ وہ دن دور نہیں جب دشمن پردے کے پیچھے سے بھی حملہ آور ہونے کی طاقت نہیں رکھے گا۔۔ شہید میجر اسحاق کی شہادت پر ملک بھر میں جذباتی تاثرات اس بات کے ترجمان ہے کہ حکومت اور پوری قوم اندرونی اور بیرونی سازشوں کے خلاف ہر محاز پر اپنی پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے ۔ دعا ہے کہ وہ ہمیں اور ہمارے اس پیارے پاکستان کو ہمیشہ کیلئے محفوظ رکھے۔ آمین
میرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثار
میںیہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایہ تن

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir

Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 113 Articles with 58342 views »
https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More
08 Dec, 2017 Views: 1205

Comments

آپ کی رائے