شہر میں اک چراغ تھا، نہ رہا

(Habiba Talat, Saudi Arab)

 آہ! مسعود احمد برکاتی بھی چل بسے.
یوں تو اس دنیائے فانی میں جس ذی روح نے آنا ہے اس نے ایک مقررہ وقت پر جانا بھی ہے. لیکن کہا جاتا ہے کہ "ایک عالم کی موت کل عالم کی موت ہے."

اپنے لئے تو سب ہی جیتے آئے ہیں لیکن دوسروں کے لئے جینا اور کسی بھی نوع کا فلاحی مقصد بنا لینا ہی اصل جیون کی خوب صورتی ہے. پھر علم کی شمع روشن رکھنے والے اہل علم و قلم جن کا ایک زمانے پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ اپنا جیون اس طور سے گزارتے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد ان کا نام اور کام ان کو ہمیشہ زندہ رکھتا ہے۔ مسعود احمد برکاتی مرحوم گی پوری زندگی متانت کے ساتھ متحرک کار علم و عمل بلکہ ہر دم مصروف عمل گزری ہے۔
جن کو مقصد زندگی کا یاد ہے
یہ جہاں کیا وہ جہاں بھی شاد ہے

مسعود احمد برکاتی مؤرخہ 11 دسمبر اتوار کے روز تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کے علاوہ ہزاروں سوگواران کو اداس چھوڑ گئے. ان کی عمر 86 برس تھی اور وہ کافی عرصے سے علیل تھے. راجپوتانہ کی ریاست ٹونک میں 15 اگست 1931 میں ایک علمی و ادبی خانوادے میں جنم لیا. میلان و طبع پر ماحول کا گہرا اثر پڑا اور محض چودہ برس کی عمر میں ہی ' البرکات' کے نام سے اپنے دادا حکیم احمد برکات سے منسوب علمی رسالہ جاری کیا. اردو، عربی، فارسی اور طب کی تعلیم دارالعلوم خلیلیہ میں حاصل کی جب کہ انگریزی کی تعلیم کے لئے گھر پر ہی استاد متعین کیا گیا. کم ہی لوگ واقف ہیں کہ برکاتی صاحب اردو، عربی، فارسی، انگریزی کے ساتھ روسی زبان پر بھی دسترس رکھتے تھے. سولہ برس کی عمر میں انجمن ترقیء اردو کے رسالے معاشیات میں مضامین تحریر کرنے لگے جن کا سلسلہ تین برس تک جاری رہا. قیام پاکستان کے بعد ہجرت کر کے کراچی میں مقیم ہوئے۔

کراچی سے قبل جب وہ جامشورو اور حیدر آباد میں بھی کچھ عرصے قیام کیا. کراچی پہنچ کر ان کی ملاقات پاکستان کے مایہء ناز حکیم محمد سعید سے ہوئی. کچھ خاندانی اور پیشہ وارانہ روابط کے باعث یہ ملاقات ایک مضبوط رشتے میں ڈھل گئی. ان کے بڑے حکیم محمود احمد برکاتی بھی حکیم سعید کے قریبی ساتھی، مشہور حکیم اور ممتاز رہنماء رہے جن کو بعد میں علمی خدمات پر صدارتی ایوارڈ بھی ملا۔ ابتداء میں مسعود احمد برکاتی صاحب حکیم محمد سعید کی مختلف تقریبات کے لئے تقاریر کی نوک پلک سنوارا کرتے تھے. جلد ہی اپنی زبان و بیان کا لوہا منوا لیا اور ہمدرد فاؤنڈیشن سے جاری ہونے والے مختلف رسائل وجرائد کی ادارت کا کام ان کے سپرد کر دیا گیا.

برکاتی صاحب مرحوم لمبے قد کے دبلے پتلے ادمی تھے۔ زیادہ تر سفید کرتا پاجامہ علی گڑھ طرز کا ہی زیب تن رہتا۔ کبھی کالی شیروانی بھی پہن لیتے تھے مگر بٹن بند کرنے کی زحمت سے بے نیاز تھے۔ سر پر کھچڑی بال، گورا رنگ، کشادہ پیشانی، چشمے کے پیچھے سے جھانکتی موٹی آنکھین، کھڑی ناک کے ساتھ مسکراتے لب، جو ایک ملنسار اور خوش مزاج شخصیت کا پتا دیتے تھے۔ ویسے سبک رفتار تھے لیکن لہجہ بہت دھیما اور ٹھہر ٹھہر کر بولنا ان کا خاصہ رہا۔ پان کھانے کے از حد شوقین تھے۔ ان کا مخصوص انداز تکلم تھا اور " دیکھو میاں" تکیہء کلام رہا۔ ہمیشہ کلین شیو رہے البتہ کچھ برس سے داڑھی بھی رکھ لی تھی۔

ڈاکٹر جمیل جالبی اپنی تصنیف 'ادب، کلچر اور مسائل' میں لکھتے ہیں کہ
"پاکستان میں ایک مضبوط اور عظیم قوم بننے کے سارے امکانات موجود ہیں. یہ بات میری طرح آپ سب جانتے ہیں کہ قوم بننے کے لئے چار چیزیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں اور ضروری ہے کہ یہ چاروں چیزیں بیک وقت اس قوم کے اندر جاری و ساری ہوں.ایک یہ کہ اس کا جغرافیہ ہو جس کے مقررہ حدود ہوں. دوسرے اس ملک میں رہنے والی آبادی کی اکثریت کا ایک مذہب ہوـ تیسرے یہ کہ آبادی کی اپنی مشترکہ قومی تاریخ ہو اور چوتھے یہ کہ اس کی اپنی قومی زبان ہو. ایک ایسی زبان جسے سب بولتے اور سمجھتے ہوں اور جس کے زریعے مختلف زبانیں بولنے والے ایک دوسرے سے ابلاغ کرتے ہوں. یہ چاروں چیزیں بفضل تعالی ہمارے پاس موجود ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ آخر پھر ہم اب تک پورے طور پر ایک قوم نہیں بن سکے ہیں. اگر غور کیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہم نے ان چاروں عناصر کو پورے طور سے اپنی زندگیوں میں، اپنی روح میں نہیں اتارا ہے اور نئی نسلوں کی تربیت کرتے ہوئے ان کی فکر کو اپنے تہذیبی ورثے سے قریب لانے کے بجائے دور کیا ہے."

اس تناظر میں دیکھیں تو ہمدرد فاؤنڈیشن اور بالخصوص مسعود احمد برکاتی کی خدمات اور مساعی کو سمجھنا ممکن ہو سکے گا. جب پاکستان میں بچوں کے ادب کے نام پر شہزادے اور شہزادیوں کے قصے ہی موجود تھے یا جنوں اور بھوت پریت کی کہانیاں۔ ایسے میں ایک بھرپور اور دلچسپ میگزیں نونہال آیا جس نے نسلون تک نہونہالان وطن کی کی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھایا۔ مسعود احمد برکاتی بہ حیثیت مدیر ایک ہی رسالے یعنی نونہال کی مسند ادارت پر 65 برس تک فائز رہے یہ عالمی ریکارڈ ہے. 1996 کے اوائل میں اے پی این ایس نے پاکستان کے سب سے سینئر پروفیشنل مدیر کی حیثیت میں برکاتی صاحب کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے نشان سپاس پیش کیا. بچوں کے ادب میں برکاتی صاحب کا کردار بانی و مربی کے طور پر زندہ و جاوہد رہے گا. ساتھ ہی بچوں کی ذہن سازی کے لئے جدید سائینٹفک بنیادوں ہر سلیس مگر بامحاورہ اردو کو رواج دیا. جس میں ہر نوع کے مضامین شائع ہوتے تھے. کہانیاں، سوانحی خاکے، لطائف، پہیلیاں، نظمیں وغیرہ ہر قسم کی سستی تفریح اور آلائیشوں سے پاک تعلیم و تربیت اور ساتھ ہی صحتمند تفریح کے عظیم مقاصد لئے نونہال نے طویل عرصے تک ذہنوں کی آبیاری کی اور ادب، سائینس، سماج، اورتہذیب و تمدن، تاریخ اسلام کی زندہ و جاوید حکایات کے ساتھ ساتھ نظریہ ء پاکستان کو نونہالان وطن کے دلوں کی دھڑکن بنا دیا. حکیم محمد سعید کا مشہور مقولہ ہے کہ
پاکستان سے پیار کرو پاکستان کی تعمیر کرو

اس متحرک وژن کو لے کر مسعود احمد برکاتی نے بڑوں کے ساتھ ساتھ خصوصا بچوں کو تاریخ کی خوش کن داستانوں میں گم نہیں ہونے دیا بلکہ انہیں جدید زمانے کے رجحانات اور ایجادات سے بخوبی روشناس کرتے ہوئے سماج میں اپنا بھرپور، صحتمند اور تعمیری کرداد ادا کرنے کے قابل بنایا.

مسعود برکاتی حکیم محمد سعید کے بے حد قریبی ساتھی، ہمدرد فاؤنڈیشن کے بانی، وفا پرست جاں نثار انتظامی کارکن ثابت ہوئے. پیشہ وارانہ ترقی اور رقابت کے اس دور میں اب جب بھی سنتے یہ بات انوکھی سی معلوم ہوتی ہے بھلا کون اب وفا کی پاسداری کرتا ہے؟ کہنا تو بنتا ہے کہ اگلے زمانوں کے ہیں یہ لوگ جب کہ ھر دور میں ہی دولت اور شہرت کی طلب اہل قلم کو بھی صاحبان اقتدار کی گلیوں کا پھیرا لگانے پر مجبور کر دیتی ہے. کچھ نہیں تو نام کی طلب ہی کبھی اس کوچے اور کبھی اس کوچے تک خوار کرتی ہے مگر مسعود احمد برکاتی صاحب کمال وضعداری سے ایک ہی ادارے سے وابستہ رہے. ہمدرد فاؤنڈیشن نے ان کو جو ذمہ داریاں دیں کبھی ان سے ملنے والی نیک نامی کو بٹا نہیں لگایا. حکیم سعید کی زندگی میں بھی ان کے سفر و حضر کے ساتھی تھے، بعد میں بھی ادارے کو ایک متاع عزیز کے طور سے حرز جاں بنا لیا بہ قول فیض
واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا
تنہا نہیں لوٹی کبھی آواز جنوں کی
خیریت جاں، راحت تن، صحت داماں
سب بھول گئیں مصلحتیں اہل ہوس کی

ممتاز محقق، استاد اور کالم نگار ڈاکٹر رئیس صمدانی جنہوں نے اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ " حکیم محمد سعید کی علمی کتب سے محبت اور کتب خانوں کی ترقی" کے حوالے سے تیار کیا تھا بتاتے ہیں کہ "ادارہء ہمدرد نے بھی اپنے دیرینہ رفیق کار کی تعظیم میں کچھ فروگذاشت نہ کی۔ تاحیات انہیں ادارے کا معزز رکن ہی تصور کیا۔ سعدیہ راشد نے بھی ہمیشہ ان کی عزت و احترام میں کمی نہہیں آنے دی۔" مزید اپنی یاداشتوں کو کھنگالتے ہیں کہ " مسعود احمد برکاتی صاحب نہ صرف خوش مزاج تھے بلکہ از حد شفیق اور تعاون کرنے والے شخص تھے۔ نئے لکھاریوں اور طالبعلموں کی خاطر ہر قسم کی مدد و تعاون کے لئے تیار رہتے۔"حکیم محمد سعید کی شہادت کے بعد ہمدرد فاؤنڈیشن کے انتظامی معاملات کو حکیم سعید کی صاحبزادی سعدیہ راشد کے ساتھ اس طور سنبھالا کہ ہمدرد فاؤنڈیشن نے جو ملکی اور بین ااقوامی سطح پر ساکھ حکیم صاحب کی کاوشوں سے بن چکی تھی اس میں مزید چارچاند لگائے. ہمدرد صحت کے مدیر و منتظم، ہمدرد وقف پاکستان کے ٹرسٹی اور پبلی کیشنز ڈویژن کےسینئیر ڈائریکٹر کی حیثیت سے متعدد مختلف علمی و ادبی اور سماجی اداروں اور تنظمیوں کے رکن بھی رہے. بے شمار اداروں اور علمی و ادبی انجمنوں کے پروگرام میں شرکت و صدارت کر چکے. اس کے سوا وہ اپنے ساتھیوں کے اصرار یا علمی تعاون دینے کو ، کراچی سے نکلنے والے کئی ماہناموں کے اعزازی مدیر یا انتظامی مدیر رہے ہیں یونیسکو کے جریدے ' کورئیر' کے اردو ایڈیشن ' پیامی' کے شریک مدیر بھی رہے.

مگر اول و آخر اپنی شناخت ہمدرد فاؤنڈیشن سے ہی وابستہ رکھی. حکیم مسعود احمد برکاتی میڈیکل جرنسلٹ کے طور پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر معروف رہے. ہمدرد صحت کی کثیر الاشاعت پیشکش کے علاوہ بھی اہم ملکی اور بین الاقوامی اداروں اور کانفرنسوں میں اپنے سائنسی و تحقیقی مقالات لکھے اور پڑھے ہیں. عوام الناس کی صحت اور صحتماند ماحول کی تیاری کے لئے ہمیشہ سرگرم رہے۔

یوں تو حکیم سعید کے قافلے کے اس روح رواں نے تہذیب الاخلاق اور تعمیر کے لئے حکیم سعید شہید کے مکمل منشور کو آخری سانس تک بخوبی نبھایا ہے لیکن اگرمحض اس منشور کی دفعہ بارہ اور تیرہ پر نظر دوڑائیں جو کچھ ہوں ہے کہ؛
"دفعہ12: پاکستانی قومیت کے احساس اور لفظ حریت اور آزادی سے محبت کے جذبے کو فروغ دینا اور مستحکم بنانا، ملکی اتحاد و استحکام اور مکمل صوبائی و علاقائی ہم آھنگی کے لئے کوشش، طبقہ داری اور فرقہ واری تعصبات کا ازالہ، ہم قسم کی نا منصفی اور ناروائی کے خلاف اخلاقی مہم.
دفعہ 13: نونہالان وطن کے جملہ حقوق کی نگہداشت کرنا اور نونہالان وطن کی تعلیمی پسماندگی، تعلیم سے شدید محرومی کو دور کرانے کے لئے برسر عمل ہونا. اقوام متحدہ نے نونہالان کےجن مطالبات کا ذکر اپنے چارٹر میں کیا ہے. اس کا احترام اور نفاذ کرنا."

اب حکیم مسعود احمد برکاتی کی تمام تر زندگی کو ان دو نکات کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طور سے قلم و ادارت سنبھالے نظریاتی محاذ پر سرگرم عمل رہے ہیں. بغیر کسی تنقیدی مباحثے کے، جاہ و حشمت سے بے نیاز علمی متانت کے ساتھ تصنیف و ادارت اور اپنے پیشے حکمت کے ساتھ مخلص رہے.
قابل ذکر تصانیف و تالیفات اور تراجم حسب ذہل رہے
جوہر قابل... مولانا محمد علی جوہر کے بارے میں
ادبی مقالات سعید
صحت کی الف ب
حکیم سعید کے طبی مشورے
سفر نامہ دو مسافر دو ملک
ایک کھلا راز....مجموعہء مضامین
وہ بھی کیا دن تھے...ترتیب
چور پکڑو....مجموعہء مضامین
فرھنگ اصلاحات طب
مفید غذائیں قدیم و جدید تحقیقات کی روشنی میں وغیرہ وغیرہ

بچوں کے ادب کے لئے برکاتی صاحب نے درجنوں تراجم، سینکڑوں کہانیاں اور تقریبا بیس کتب تحریر کیں. بلکہ بچوں کے لئے پہلا سفر نامہ تحریر کرنے کا منفرد اعزاز بھی ان کے پاس ہے.

اگرچہ ہمدرد ادارے کا ایک مضبوط ستون گر گیا ہے، نونہالان وطن بھی اہنے مربی کے دست شفقت سے محروم ہو چکے ہیں لیکن اردو زبان و ادب کے شائقین ہوں یا ہمدرد فاؤنڈیشن کے ہزاروں قارئین اس مایہء ناز مدیر، صاحب اسلوب ادیب اور حکمت و دانائی کے منبع حکیم مسعود احمد برکاتی کو مدتوں فراموش نہیں کر سکیں گے کہ زندہ قومیں اپنے ہیروز کو کبھی فراموش نہیں کرتی ہیں. اس لئے ہم بھی پاکستان سے پیار کرنے والے اور پاکستان کی تعمیر کے لئے اپنا دھن، من اور تن نچھاور کرنے والوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے.
مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترا
نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہء نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Habiba Talat
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Dec, 2017 Views: 1210

Comments

آپ کی رائے