حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کی تعلیمی خدمات

(Shoukat Ullah, Banu)

حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ خاندان بنو امیہ کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت عمر فاروق ؓ کی پوتی تھیں اور آپ کے والد عبد العزیز شاہی خاندان کے رکن تھے ،جو اکیس برس مصر کی گورنری پر فائزرہے۔اس لئے آپ کی پرورش بڑے نازو نعم کے ساتھ ہوئی۔جس کے اثرات آپ کے بچپن سے لیکر خلافت ملنے تک رہے۔آپ انتہائی عیش وعشرت کے ساتھ زندگی بسر کرتے۔خوش لباسی کا یہ عالم تھا کہ دن میں کئی مرتبہ لباس تبدیل کرتے اور جس لباس پر ایک مرتبہ کسی کی نظر پڑجاتی تو اسے دوبارہ نہیں پہنتے تھے۔آپ نہایت اعلیٰ قسم کی خوشبویات استعمال کیا کرتے اور جس بازار سے گزر جاتے، وہ ان کی خوشبو سے معطر ہوجاتا۔

آپ خاندان بنو امیہ کے چھٹے خلیفہ حضرت سلیمان بن عبدالملک کے بعد سن 99 ھجری میں خلافت کی مسند پر بیٹھے۔ خلافت ملنے پر آپ کی زندگی یکسر بدل گئی۔ اور جب حسب ِ روایت آپ کے سامنے شاہی سواری پیش کی گئی تو آپ نے یہ کہہ کر واپس کر دی ۔ ’’میرے لئے میرا خچر کافی ہے ‘‘۔خلافت کی بھاری ذمہ داری لیے پریشانی کی حالت میں گھر آئے تو لونڈی نے پریشانی کی وجہ دریافت کی۔آپ نے فرمایا کہ اس سے بڑی تشویش اور کیا ہوسکتی ہے کہ مشرق و مغرب میں اُمت محمدیہ کا کوئی ایسا فرد نہیں ہے جس کا مجھ پر حق نہ ہو اور بغیر مطالبہ اور اطلاع کے اس کا ادا کرنا مجھ پر فرض نہ ہو۔

اس کے بعد آپ نے لوگوں کو جمع کر کے کہا۔’’ لوگو! میری خواہش اور عوام الناس کی رائے معلوم کیے بغیر مجھے خلافت سونپ دی گئی ہے لہٰذا میں خود خلافت سے دستبردار ہوتا ہوں اور تم جسے چاہو اپنا خلیفہ منتخب کرلو ‘‘۔ مجمع میں موجود لوگوں نے جب آپ کے یہ الفاظ سنے تو اُنچی آواز میں یک زبان ہوکر بولے۔’’ ہم سب نے آپ کو خلیفہ مقرر کیا ہے اور ہم سب آپ کی خلافت پر راضی ہیں ‘‘۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ نے خلافت سنبھالتے ہی بنو امیہ کی تمام جائیدادیں قومی ملکیت میں دے دیں اور خود فقیرانہ زندگی اختیار کی۔عوام کی خدمت کو اپنا نصب العین بنایا اور ہمہ وقت مخلوق خدا کی بھلائی میں مصروف رہتے۔آپ نے سلطنت کے طول و عرض میں گرانقدر مذہبی اور سیاسی اصلاحات کیں۔یہاں تک کہ آپ نے دفتری اخراجات کی تخفیف کے احکامات صادر کرتے ہوئے ابوبکر بن حزم کو لکھا ۔’’قلم باریک اور سطریں قریب قریب لکھا کرو اور ضروریات میں خود شعاری سے کام لو ‘‘۔ غرض آپ نے اپنے عدل و انصاف ، روا داری اور جذبہ مساوات سے خلفائے راشدین کی یاد تازہ کی۔ اور اپنے طرز عمل سے ایسی مثال قائم کی کہ ’’ٌ عمر ثانی ‘‘ٌ کہلائے۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ علمی اعتبار سے اپنے امانے کے ایک جلیل القدر عالم تھے، اگر سیاسی حالات و واقعات آپ کو خلیفہ وقت نہ بناتے تو آپ علم و عرفان کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوتے۔ اس دور کے اکابر علماء آپ کے سامنے تلامذہ معلوم ہوتے تھے اور بعض علماء کا یہ حال تھا کہ وہ جب آپ کے پاس تدریس کے لئے آتے تو چند ہی دنوں میں خود ہی اُن کے شاگرد بن جاتے تھے۔آپ کی علمی فضیلت کا اعتراف حافظ ذہبی نے اپنی کتاب ’’تہذیب الاسماء‘‘ میں کیا ہے۔آپ علماء اور فقہاء کے بہت بڑے قدر دان تھے یہی وجہ ہے کہ آپ کے دربار میں علماء کی ایک کثیر تعداد موجود ہوا کرتی تھی اور جو امور ِ خلافت میں آپ کے مشیر ہوتے تھے۔جن میں میمون بن مہران ، رجاہ بن حیوہ ، ریاح بن عبیدہ ، سالم بن عبداﷲ ، محمد بن کعب قرظی اور سعید بن مسیب قابلِ ذکر ہیں۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ نے اپنے دور خلافت میں مذہبی تعلیمات کی اشاعت و ترویج پر خصوصی توجہ دی اور اہل علم و دانش کو حکم دیا کہ مسجدوں میں علم کی اشاعت کریں کیوں کہ حدیثیں مردہ ہو رہی ہیں۔آپ نے مدینہ کے گورنر قاضی ابوبکر بن حزم سے کہا ۔’’ لوگوں کو چاہیئے کہ وہ علم کی اشاعت و ترویج کریں، درس میں بیٹھا کریں تاکہ جو وہ نہیں جانتے وہ جان جائیں کیوں کہ علم اس وقت تک برباد و ضائع نہیں ہوتا جب تک اس کی اشاعت جاری رہے‘‘۔آپ نے تعلیم کی اشاعت سے منسلک تمام علماء کے بیت المال سے وظائف مقرر کیے تاکہ فکر معاش سے اُن کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔اسی طرح طلبہ کے لئے وظائف کا سلسلہ شروع کیا۔آپ نے حمص کے گورنر کو لکھا۔ ’’جن لوگوں نے اپنی زندگیاں فقہ کی تعلیم کے لئے وقف کی ہیں ، اُن کا بیت المال سے سو دینار کا وظیفہ مقرر کردو تاکہ وہ اپنے فرائض با احسن طریقے سے ادا کر سکیں‘‘۔اگرچہ آپ کا بنیادی مقصد مذہبی تعلیم کی ترویج و اشاعت تھا مگر آپ نے غیر اقوام کے علوم سے بھی استفادہ اُٹھایا۔مروان بن حکم کے دور کے ایک یونانی حکیم کی طب کی کتاب کے ترجمے کی نقلوں تیار کر کے ملک کے گوشے گوشے میں بھیجیں۔حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کا سب سے بڑا علمی و مذہبی کارنامہ احادیثِ مبارکہ ﷺ کی حفاظت اور اشاعت تھا۔آپ نے مدینہ کے گورنر اور تمام صوبوں کے منتظمین کو لکھا کہ احادیث نبویﷺ کی تلاش و جستجو کرکے انہیں لکھیں۔کیوں کہ مجھے علماء اور حفاظ ِ حدیث کے اُٹھ جانے کے ساتھ علم کے بھی مٹ جانے کا اندیشہ ہے لیکن یہ احتیاط ملحوظِ خاطر رہے کہ صرف رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی آحادیث قبول کی جائیں۔

جب حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آپ نے وفات سے قبل اپنے بچوں کو بلا کر فرمایا۔’’ یہ ٹھیک ہے کہ میں نے تم کو خالی ہاتھ چھوڑا ہے لیکن اﷲ کا شکر ہے کہ میں نے تم کو اچھی حالت میں چھوڑا، تم کو ایسا کوئی شخص نہیں ملے گا جس کا تم پر حق ہو۔ بچو! تمھارے باپ نے دو باتوں میں سے ایک بات اختیار کی تھی، ایک یہ کہ تم دولت مند ہوجاؤ اور تمھارا باپ دوزخ میں چلا جائے ، دوسرے یہ کہ تم خالی ہاتھ اور وہ جنت میں جائے۔بس خدا تم کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ‘‘۔ آپ نے دو سال اور پانچ ماہ خلافت کرنے کے بعد سن 101 ھجری میں وفات پائی اور ترکہ میں کل 17 دینار چھوڑے۔ جس میں 7 دینار تدفین پر خرچ ہوئے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 129381 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Dec, 2017 Views: 1258

Comments

آپ کی رائے