حضرت محبوب الٰہی کی بارگاہ میں علاء الدین خلجی …!

(Waseem Ahmad Razvi, India)

از افادات:حضرت مولانا پیر محمد رضا ثاقب مصطفائی نقشبندی (بانی ادارۃ المصطفیٰ انٹرنیشنل)

علاء الدین خلجی ساری زندگی تڑپتا رہا کہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کی بارگاہ میں حاضری دوں۔حضرت محبوب الٰہی مانتے نہیں تھے؛ آپ کا مزاج ایسا تھا کہ شاہوں سے گریزاں تھے۔ اُس نے بڑا زور لگایا۔ خیر! اُس نے یہ ارادہ کر لیا کہ مَیں نے حاضر ہونا ہے تو آپ نے علاء الدین کو لکھا کہ فقیر کی خانقاہ کے دو دروازے ہیں۔ اگر تُو ایک سے آیا تو مَیں دوسرے سے باہر نکل جاؤں گا۔ اور اگر تُو نے زیادہ تنگ کیا تو تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا۔

بادشاہ نے ایک دن بغیر بتائے خانقاہ میں حاضری دی۔ شیخ کو پتا چلا تو انہوں نے دروازے پر پہرے دار کھڑے کر دیے؛ کہ بادشاہ کو اندر نہیں آنے دینا۔ بادشاہ نے ان فقیروں کے تیور پڑھے … یہ پیروں کے جو مرید ہوتے ہیں؛ ہوتے تو دیوانے ہی نا…! خلجی نے کہا کہ یہ تو مَر جائیں گے لیکن شیخ کے دروازے سے اندر نہیں جانے دیں گے۔

بادشاہ کو شرارت سوجھی؛ اس نے کاغذ کے ٹکڑے پہ لکھا کہ یہ کیا ہوا؟ کہ بادشاہوں کے دروازوں پہ بھی بَوّاب، چوکی دار اور فقیروں کے دروازے پہ بھی بَوّاب! … اندر سے شیخ نے اسی کاغذ کے ٹکڑے کی پشت پہ لکھ کے بھیجا کہ فرق یہ ہے کہ بادشاہوں کے دروازوں پہ جو بَوّاب ہوتے ہیں وہ فقیروں کو روکنے کے لیے ہوتے ہیں۔ اور جو فقیروں کی چوکھٹ پہ بَوّاب ہوتے ہیں وہ امیروں کو روکنے کے لیے ہوتے ہیں۔

بادشاہ کہنے لگا کہ مجھے حضرت کی خانقاہ تو دیکھنے کی اجازت ہوگی۔ خدام نے کہا کوئی حرج نہیں ہے۔ تو وہ خانقاہ، لنگرکھانے دیکھنے لگا۔ بہت بڑی خانقاہ تھی ۔ جب وہ اصطبل میں گیا تو کیا دیکھا کہ جو گھوڑے ہیں ان کی جو مینخیں ہیں وہ چاندی کی ہیں اور جو اُن کے پاؤں میں زنجیریں پڑی ہوئی ہیں جن سے وہ بندھے ہوئے ہیں وہ زنجیریں سونے کی ہیں… بادشاہ بڑا حیرت زدہ ہوا۔ اس نے پھر کاغذ کے ٹکڑے پہ لکھا کہ یہ کیا ہوا کہ بادشاہوں کے پاس بھی سونا چاندی اور فقیروں کے پاس بھی سونا چاندی… !فرق کیا ہوا؟ تو شیخ نے جواب میں لکھ کے دیا کہ فرق یہ ہے کہ بادشاہ خزانوں میں سنبھال کے رکھتے ہیں اور فقیر گھوڑوں کے قدموں میں ڈال کے رکھتے ہیں۔
(ماخوذ از افاداتِ مصطفائی، زیرِ ترتیب)
17-12-2017٭٭٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Waseem Ahmad Razvi

Read More Articles by Waseem Ahmad Razvi: 82 Articles with 67853 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Dec, 2017 Views: 487

Comments

آپ کی رائے