کراچی :پاکستان تحریک انصاف ورکن سندھ اسمبلی بلال غفار نے گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں اپنے اظہارِ خیال میں کہا سندھ حکومت کے 13 سالوں کی ایک نئی کہانی عوام کے سامنے آئی ہے محکمہ خزانہ سندھ نے 13 سالوں میں 2 کھرب زائد کی کرپشن کی سندھ کی پینشن کا پیسہ جعلی اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کیا گیا سارا پیسہ ایک ہی خاندان کے مختلف اکاؤنٹس میں ڈالا گیا تحقیقات کے بعد معلوم ہوا 147 جعلی بینک اکاؤنٹس کھلے گئے سندھ حکومت حقائق برادشت نہیں کرتی یہ وہ بینک اکاؤنٹس ہیں جو پاپڑ والے،چھاپڑی والوں اور رکشے والوں کے تھے سندھ حکومت نے پینشن کا پیسہ بھی اپنی کرپشن کی نظر کردیا 2012 سے 2017 تک کرپشن کی جاتی رہی 500 افراد نے مختلف محکموں میں پلی بارگین کا فائدہ اٹھایامحکمہ تعلیم،خزانہ اور دیگر محکموں کے گریڈ 19,20کے افسران نے پلی بارگین لی ہیانہوں نے سندھ اسمبلی کے جاری اجلاس میں اسپیکر اسمبلی سے مخاطب ہوکر کہا کہ سندھ حکومت بتائے ان افسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔