آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں زرعی ترقیاتی بینک میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں، قرضوں کی غیر متوازن تقسیم اور انتظامی امور میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بینک نے اپنے 577 ارب روپے کے مجموعی اثاثوں میں سے 414 ارب روپے یعنی 71 فیصد سرمایہ حکومتی سیکیورٹیز میں لگایا جس سے 81 ارب روپے کا منافع حاصل ہوا، جبکہ کسانوں کو فراہم کیے جانے والے قرضوں کا حجم صرف 29 ارب 50 کروڑ روپے رہا۔
آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تقسیم کیے گئے 364 ارب روپے کے قرضوں میں سے 307 ارب 50 کروڑ روپے صرف پنجاب میں جاری کیے گئے جبکہ سال 2024 میں دیے جانے والے 72 ارب روپے کے قرضوں کا 85 فیصد بھی پنجاب کو ملا۔ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کو مجموعی طور پر صرف 15 فیصد قرضے فراہم کیے گئے۔
رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ 78 سالہ شخص کو آئی ٹی کنسلٹنٹ کے طور پر 2 کروڑ 47 لاکھ روپے تنخواہ پر تعینات کیا گیا جبکہ مالیاتی، انتظامی اور بھرتیوں کے نظام میں بھی متعدد خامیاں پائی گئیں۔
آڈٹ کے مطابق قرضوں کی عدم ریکوری کی شرح 44 فیصد تک پہنچ چکی ہے جس کی مالیت 80 ارب 62 کروڑ روپے بنتی ہے جبکہ گزشتہ پانچ برسوں میں نادہندہ قرضوں کا حجم 53 ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔ رپورٹ میں جعلی دستاویزات، انشورنس کلیمز اور فیک کاغذات کی بنیاد پر قرضوں کی منظوری کے شواہد کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے کریڈٹ رسک مینجمنٹ کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی اور قومی خزانے کو ہونے والے نقصان کی ذمہ داری کا تعین کرنے کی سفارش کی ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ آڈٹ اعتراضات اور سفارشات پر زرعی ترقیاتی بینک کا باضابطہ مؤقف سامنے آنے کے بعد مزید وضاحت متوقع ہے۔