کوئی رکشہ چلا رہا تھا تو کوئی مایوس ہو کر بیٹھ گیا۔۔ جانیے اولمپکس کی شروعات سے اب تک پاکستان نے صرف 10 ہی میڈل کیوں حاصل کیے؟

image

اولمپکس کی دوڑ میں پاکستانی کھلاڑی اگرچہ ناکام ہوئے مگر اس ناکامی نے نہ صرف ان کھلاڑیوں کی شہرت میں، جذبہ میں اضافہ کردیا ہے بلکہ مزید ہمت اور حوصلہ بھی دیا ہے۔ مگر ان سب میں حکومتی عدم توجہی اور نااہلی کھل کر سامنے آئی ہے۔

جس ملک کے تعلیمی اداروں میں ہفتے ایک دن کھیل کا دن رکھا جاتا ہو، اس ملک کے کھلاڑی کس طرح کھیل کے میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتے ہیں۔ ہاں خود کی محنت اور لگن کامیابی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

ویٹ لفٹر طلحہ طالب کی مثال ہمارے سامنے ہیں۔ جس نے خود کی محنت، ہمت اور سہولیات کی مدد سے اپنی کامیابیوں کی راہ ہموار کی ہے۔ اگر طلحہ بھی حکومتی توجہ پر منحصر کرتا تو شاید آج پچھتا رہا ہوتا مگر ہمت لگن اور محنت نے اسے کامیاب بنا دیا ہے۔ حکومتی نااہلی کی ایک اور مثال موجود ہے، محمد عاشق، جنہوں نے 1960 کے اولمپکس میں پاکستان کا جھنڈا لہرا یا تھا، اور صرف 1960 ہی نہیں بلکہ 1964 میں بھی محمد عاشق نے اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔

آج یہ اولمپکس سائکلنگ ہیرو لاہور میں رکشہ ڈرائیور کے طور پر اپنی زندگی گزر بسر کر رہا ہے۔ 1948 میں پاکستان نے اولمپکس میں 10 میڈلز حاصل کیے تھے، جبکہ 1960 کا اولمپکس پاکستان کے لیے اچھا ثابت ہوا تھا جس میں ہاکی کے میدان میں پاکستان نے گولڈ میڈل اور ریسلنگ کے میدان میں برونز کا میڈل حاصل کیا تھا۔ پھر 2010 کے اولمپکس میں پہلے پاکستانی محمد عباس تھے جس جنہوں نے اسکائنگ کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔

2014 اور 2018 میں پاکستان نے ایک میڈل بھی اپنے نام نہیں کیا۔ شرم کی اور بے حسی کی بات یہ تھی کہ 1992 میں بارسیلونا میں ہونے والے اولمپکس میں آخری بار میڈل حاصل کیا تھا، اس کے بعد سے اب تک پاکستان نے کوئی میڈل حاصل نہیں کیا۔

اس بار بھی اولمپکس کے میدان سے کچھ اچھی خبر سامنے نہیں آرہی ہے۔ اگرچہ اس مٹی میں بہت طاقت ہے، حوصلہ ہے، جزبہ ہے مگر درپیش مسائل اس قدر ہیں کہ حوصلہ بھی ماند پڑ۔جاتا ہے۔

ان سب میں حکومتی عدم توجہی کامنہ بولتا ثبوت یہی کے کہ دعوے تو بہت ہوئے مگر اب تک کوئی خاطر خواہ اقدامات سامنے نہیں آئے۔ اسی بات سے اندازہ لگا لیں کہ 1992 سے اب تک کوئی ایک میڈل بھی پاکستانی نہیں جیتا۔

بلاشبہ اس سب میں زمہ داری حکومت وقت اور سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے موقع ملنے کے باوجود بھی کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیے۔ یہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کہتے ہیں کہ ارشد ندیم کو پانچویں پوزیشن ملنے پر پنجاب حکومت بھی تعریف کی حقدار ہے۔ لیکن انہیں یہ نہیں دکھتا ہے کہ صرف کامیاب ہونے پر ہی نہیں بات تو تب بنے گی جب آپ ان ہیروز کو مکمل سہولیات فراہم کریں، کھیل کو عام کریں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US