سردیوں میں پیاس نہ لگنے کی وجہ جو آپ کی صحت کو متاثر کر رہی ہے

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں بھی جسم کو پانی کی ضرورت کم نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات مزید بڑھ جاتی ہے۔ لیکن پھر سردیوں میں ہمیں پیاس کم کیوں لگتی ہے؟
پانی، صحت، سردیاں
Getty Images

موسمِ گرما میں گرمی کی شدت کے باعث اکثر ہم گھر سے باہر بھی پانی ایک بوتل اپنے ساتھ رکھتے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر اپنی پیاس بجھا سکیں۔

لیکن سردیوں کا موسم آتے ہی ہماری یہ عادت ختم ہو جاتی ہے اور ہم پانی کی اس بوتل سے دور ہو جاتے ہیں۔ اس وقت ہم کسی گرم کمبل میں لپٹ کر چائے یا کافی پینا پسند کرتے ہیں اور پانی کو یکسر فراموش کر جاتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ سردیاں شروع ہوتے ہی ہماری پیاس کہاں غائب ہو جاتی ہے؟

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں بھی جسم کو پانی کی ضرورت کم نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات مزید بڑھ جاتی ہے۔ لیکن پھر سردیوں میں ہمیں پیاس کم کیوں لگتی ہے؟

کم پانی پینے سے آپ کو متعدد بیماریوں کا خدشہ بھی لاحق ہوسکتا ہے۔ ان بیماریوں کے حوالے سے معلومات کے لیے بی بی سی نے کچھ ڈاکٹروں سے گفتگو کی ہے۔

موسم گرما کی طرح سردی میں بھی جسم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے

دہلی کے رام منوہر لوہیا ہسپتال سے منسلک ڈاکٹر پولن کمار گپتا کہتے ہیں کہ ’سردی کے موسم میں چونکہ ہمیں پسینہ نہیں آتا اس لیے ہمیں یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ ہمارے جسم کو پانی کی ضرورت نہیں ہے۔ خاص طور پر ہمارے بزرگ اور باہر کام کرنے والے افراد سُستی کے سبب کم پانی پیتے ہیں کہ زیادہ پینے کے سبب بیت الخلا زیادہ جانا پڑے گا۔‘

Thirst
Getty Images

سردیوں میں جسم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ بات سائنس سے بھی ثابت ہے:

  • سردیوں میں گردے پیشاب کے ذریعے زیادہ پانی نکالتے ہیں۔
  • دفاتر اور گھروں میں چلنے والے ہیٹرز یا ڈرائرز کے سبب جِلد اور سانس کے ذریعے جسم کا پانی نکلتا رہا ہے۔
  • گرم کپڑے پہننے کے سبب آنے والا پسینہ شاید ہمیں نظر نہ آتا ہو لیکن وہ بھی جسم میں پانی کو کم کرتا ہے۔ اس کے سبب آپ کو ڈی ہائیڈریشن بھی ہو سکتی ہے۔

سنہ 2019 میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق جسم کو پانی سے محروم رکھنے سے گردوں کی بیماری، پتھری یا پیشاب کا انفیکشن بھی ہو سکتا ہے۔

سردیوں میں پیاس کم کیوں لگتی ہے؟

ماہرِ طب دویا پرکاش کہتی ہیں کہ ’جب سردی ہوتی ہے تو جسم اپنے اندر موجود رگوں کو سکڑ کر گرمی سمیٹتا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے خون کی روانی کی ساری توجہ صرف جسم کے مرکزی حصے میں رہتی ہے۔‘

’اس کے نتیجے میں دماغ کو یہ سگنل ملتا ہے کہ جسم میں پانی کی کوئی کمی نہیں۔‘

دویا کے مطابق: ’اس دوران پیاس 40 فیصد تک کم ہو جاتی ہے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ جسم کو ہمیشہ ڈھائی سے ساڑھے تین لیٹر پانی کی ضرورت رہتی ہے۔‘

پانی کم پینے کے نقصانات

ڈاکٹر پولن کمار گپتا کہتے ہیں کہ جسم کا 60 فیصد حصہ پانی سے بنا ہے اور اس کے خلیوں میں آکسیجن اور غذا خون کے ذریعے پہنچتی ہے۔

ڈاکٹر پولن کمار گپتا کہتے ہیں کہ:

  • جب جسم سے پانی کم ہوتا ہے تو خون گاڑھا ہوجاتا ہے اور دِل کے لیے اسے پمپ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے باعث بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
  • پانی کی کمی کے سبب نظامِ ہاضمہ بھی سست روی کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے سبب قبض یا بدہضمی کی شکایات ہو سکتی ہیں۔
  • پانی کی کمی کے سبب تھکاوٹ، سر درد، بوجھل پن یا اضطراب کی علامات بھی جسم میں جنم لے سکتی ہیں، جس کی بنیادی وجہ ڈی ہائیڈریشن ہے۔ ڈی ہائیڈریشن کے سبب کولیسٹرول کی سطح بھی بڑھ سکتی ہے۔

کن لوگوں کی صحت کو زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے؟

آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سے منسلک ڈاکٹر انو اگروال کہتی ہیں کہ ’ہمارا جسم پانی کی کمی کی علامات تھکاوٹ، کمزوری یا اضطراب کی صورت میں ظاہر کرتا ہے۔‘

Water
Getty Images

ان کے مطابق پانی کی کمی کے سبب بزرگوں، ذیابطیس اور دل کے مریضوں سمیت خون کے عارضے میں مبتلا افراد کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ:

  • خواتین میں 15 سے 40 برس کی عمر میں ہارمونل تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ ماہواری کے دوران ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس سے پیٹ میں درد یا گیس سے متعلق شکایات بڑھ سکتی ہیں۔
  • پانی کی کمی کے سبب ایسٹروجن اور تھائرائڈ جیسے ہارمونز کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، جو موڈ کی خرابی یا بے وقت ماہواری کا سبب بن سکتی ہے۔

سردیوں میں کتنا پانی پیا جائے؟

ڈاکٹر انو اگروال مشورہ دیتے ہیں کہ سردیوں میں بھی 10 سے 12 گلاس پانی لازمی پینا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں:

  • صبح نیند سے جاگنے کے دو سے تین گھنٹوں کے اندر دو سے چار گلاس پانی پینا چاہیے۔
  • رات میں پیشاب کی حاجت سے بچنے کے لیے شام پانچ بجے تک جسم کو درکار پانی کا بڑا حصہ پی لیں۔
  • دویا پرکاش کہتی ہیں کہ پانی کی جگہ چائے یا کافی نہ پیئیں۔ زیادہ گرم پانی پینے کے بجائے نیم گرم پانی پیئیں، جو آپ کہ جسم کے خلیوں میں جلدی جذب ہو سکتا ہے۔

News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US