جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں، مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے۔
لاہور میں کنونشن سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، کسی کے پیچھے لگ کر منفی بات ڈھونڈنا شریعت کے خلاف ہے، آپ کی ہر بات میں حقائق اور سچائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم زبردستی کسی کے دل میں اپنا اعتماد نہیں ڈال سکتے، سیاست بدلتی رہتی ہے، نظریات بھی بدلتے رہتے ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں کوئی منتخب حکومت نہیں، گالیوں کی سیاست اب بدبودار اور بدنام ہوچکی ہے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو بحث کے لیے پیش نہیں کیا جارہا۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ وزیرستان میں ایک سال میں ہمارے تین علما قتل کردیے گئے، ہم سفاک قاتلوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہاکہ دینی مدرسہ ضروری ہے، اگر کوئی غیر ضروری ہے تو وہ تم ہو، حکومت آج اپنے اسکولوں کو نجی سیکٹر میں دے رہی ہے، مدرسہ طالب علم کو کھانے سمیت سب کچھ مہیا کرتا ہے، یہ جو الٹی گنگا بہہ رہی ہے یہ دین اسلام کے خلاف ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ پاکستان اور افغانستان کے علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں، مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ مجھ پر جو تنقید ہوتی ہے تو میں اس میں اپنی کمزوری ڈھونڈتا ہوں۔