پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں کاروباری سرگرمیوں میں ملوث تین لاکھ سے زائد افغان کاروباری مہاجرین کا ڈیٹا پشاور سے وفاق منتقل کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پشاور میں تین لاکھ سے زائد افغان کاروباری مہاجرین موجود ہیں جن میں زیادہ تر کے پاس پی او آر کارڈز ہیں، جبکہ افغانستان بزنس ویزے پر کاروباری مہاجرین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، صوبائی اور وفاقی حکام کیلیے بھیجے گئے ڈیٹا میں ان مہاجرین کی کاروباری نوعیت، بازاروں میں ان کی موجودگی اور ممکنہ غیر قانونی سرگرمیوں کی تفصیلات شامل ہیں۔
پشاور میں سب سے زیادہ افغان کاروباری مہاجرین یونیورسٹی روڈ، یونیورسٹی ٹاؤن، پشاور بورڈ اور حیات آباد کے علاقوں میں ہیں، جبکہ دیگر اہم تجارتی مراکز میں خیبر بازار، نمک منڈی، سبزی منڈی اور خوشحال بازار سمیت شہر کی مجموعی طور پر 64 بازار شامل ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ کچھ افغان مہاجرین نے غیر قانونی طور پر پاکستانی قومی شناختی کارڈ حاصل کیے ہیں جس کے خلاف کارروائی کیلیے محکمہ ریونیو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں، صوبائی انتظامیہ کے مطابق پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں افغان کاروباری مہاجرین کے خلاف آپریشن کا سلسلہ مربوط انداز میں جاری ہے تاکہ قانونی تقاضے اور سیکیورٹی خدشات پورے کیے جاسکیں۔
یاد رہے کہ ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں کاروباری سرگرمیوں میں ملوث تین لاکھ سے زائد افغان کاروباری مہاجرین کا ڈیٹا پشاور سے وفاق منتقل کردیا گیا ہے۔